اہل بدعت کے اجماع کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال :

اہل بدعت کے اجماع کا کیا حکم ہے؟

جواب:

اجماع صرف اہل ایمان کا حجت ہے، جن کے عقائد اہل سنت والجماعت کے ہیں۔ اہل شرک وکفر اور اہل بدعت کا کوئی اعتبار نہیں۔
ارشاد باری تعالی ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾
(النساء: 59)
”اہل ایمان والو! اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے ولی الامر کی اطاعت کرو۔“
❀ علامہ رازی رحمہ اللہ (606ھ) فرماتے ہیں:
دل هذا على أن العبرة بإجماع المؤمنين، فأما سائر الفرق الذين يشك فى إيمانهم فلا عبرة بهم.
”یہ آیت دلیل ہے کہ مؤمنوں کے اجماع کا اعتبار ہوگا، دیگر فرقے، جن کے ایمان میں شک کیا گیا ہے، ان کا (اجماع میں) اعتبار نہیں۔“
(تفسير الرازي: 118/10)