سوال :
میں اپنے خاندان میں اکیلا اہل حدیث ہوں، باقی سب شرک و بدعت میں مبتلا ہیں تو میں ان کے ساتھ اپنے معاملات کیسے رکھوں؟ ان کی رسومات تیجہ، ساتواں، دسواں اور چالیسواں وغیرہ اور ان کی شادی بیاہ میں شرکت کا کیا حکم ہے؟
جواب :
آپ اپنے عزیز و اقارب سے حسن سلوک سے پیش آئیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ان کے مشرکین رشتہ داروں سے صلہ رحمی کا حکم فرمایا تھا، جیسا کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”میری ماں جو مشرکہ تھیں، اس وقت آئیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش مکہ کے ساتھ معاہدہ کیا ہوا تھا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: ”میری ماں تشریف لائی ہیں اور وہ رغبت رکھنے والی ہیں، کیا میں اس سے صلہ رحمی کروں؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔“
(بخاري، كتاب الهبة وفضلها والتحريض عليها، باب الهداية للمشركين ح 2620)
اور قرآن حکیم میں بھی ارشاد خداوندی ہے:
﴿وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا﴾
(لقمان: 15)
”اپنے والدین کے ساتھ دنیا میں اچھے طریقے سے پیش آئیں۔“
لہذا آپ اپنے والدین اور عزیز و اقارب سے صلہ رحمی کریں، اچھے طریقے سے پیش آئیں، ان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ حسن سلوک کریں اور انھیں حکمت کے ساتھ عقیدہ توحید اور کتاب وسنت کی دعوت دیتے رہیں، اگر وہ کوئی سخت کلمات بھی کہہ دیں تو برداشت کریں، اس میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے خیر ہے۔ البتہ ان کی رسومات اور خلاف شرع امور میں شرکت سے اجتناب کریں، خوشی کے موقع پر ضرور جائیں لیکن ایسے مواقع پر ڈھول، گانا بجانا، بے پردگی اور شادی کی غیر شرعی رسومات ہوں تو ان امور میں ان سے علیحدہ رہیں۔ اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق بخشے۔ (آمین!)