مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

اہلحدیث مولوی کا اپنا نکاح خود پڑھنا: شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ صفحہ نمبر 437

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک گاؤں میں تین مولوی صاحبان ہیں، ایک اہلحدیث اور دو حنفی۔ اہلحدیث مولوی کی شادی ہوئی، نکاح کے وقت اہلحدیث مولوی نے کہا کہ حنفی مولوی کا پڑھا ہوا نکاح جائز نہیں ہے، اس لیے اہلحدیث مولوی نے اپنا نکاح خود پڑھا۔ طرفین کے گواہ موجود تھے۔ تو کیا مذکورہ نکاح صحیح ہوا یا نہیں؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ بات جان لینی چاہیے کہ اگر مذکورہ نکاح کتاب و سنت کی شرائط کے مطابق کیا گیا ہے تو بلا شبہ یہ نکاح درست اور صحیح ہے، اگرچہ اس خاص صورت پر براہِ راست غور نہیں کیا گیا۔ کیونکہ نکاح کا خطبہ ایک مسنون دعا ہے اور قرآن و حدیث نے اس دعا کو کسی مخصوص شخص کے ساتھ مقید نہیں کیا۔

اس لیے اگر کوئی شخص یہ دعا خود پڑھ لے تو یہ بھی جائز ہے، خواہ وہ شخص مجلس میں ہی موجود ہو۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔