سوال:
اگر کوئی غلام اسلام سے مرتد ہو جائے، تو اس کی کیا سزا ہے؟
جواب:
جو شخص مذہب اسلام چھوڑ کر مرتد ہو جائے، تو اس کی سزا قتل ہے، یہ مرتد کی شرعی حد ہے، اس میں آزاد، غلام، مرد اور عورت سب برابر ہیں۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من بدل دينه فاقتلوه
جو اپنے دین (اسلام) کو بدلے، اسے قتل کر دیں۔
(صحيح البخاري: 3017)
یہ حدیث عام ہے، اس میں غلام اور لونڈی بھی داخل ہیں، اسے بغیر کسی شرعی دلیل کے خاص نہیں کیا جا سکتا۔
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:
إن الإجماع انعقد على أن العبد والحر فى الردة سواء
اس پر اجماع منعقد ہو چکا ہے کہ غلام اور آزاد دونوں ارتداد (کی سزا) میں برابر ہیں۔
(فتح الباري: 203/12)
یاد رہے کہ سزاؤں کا نفاذ ریاست اسلامیہ کی ذمہ داری ہے، کسی فرد بشر کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں، یہ فساد فی الارض ہے، اسلام اس کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔ اگر کسی شرعی حد کا نفاذ ریاست نہیں کرتی، تو قیامت کے دن ریاست کے ذمہ داران ہی جواب دہ ہوں گے، لہذا عوام کا فرض صرف حدود اللہ کے نفاذ کا مطالبہ کرنا ہے، حدود قائم کرنا ان کا وظیفہ نہیں۔