اگر کوئی شخص جماعت پر تہمت لگائے
(احناف ، مالکیہ ) جب کوئی جماعت کو تہمت لگائے تو اسے ایک ہی حد لگائی جائے گی ۔
(شافعیؒ ، زفرؒ ) اس پر ہر شخص کی علیحدہ علیحدہ حد لگائی جائے گی ۔
(حنابلہ ) اگر وہ جماعت کو ایک ہی کلمہ سے تہمت لگائے تو اسے ایک حد لگائی جائے گی لیکن اگر وہ زیادہ کلمات سے تہمت لگائے تو پھر ہر ایک کے لیے اس پر حد قائم کی جائے گی کیونکہ قذف آدمی کا حق ہے اور ایک آدمی کا حق ادا کرنے سے دوسروں کا حق ادا نہیں ہو گا مثلاً قرض اور قصاص وغیرہ ۔
[المبسوط: 111/9 ، بدائع الصنائع: 42/7 ، القوانين الفقهية: ص / 358 ، بداية المجتهد: 433/2 ، الشرح الكبير: 327/4 ، المهذب: 275/2 ، المغني: 233/8]
(راجح ) امام شافعیؒ کا مؤقف زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے کیونکہ ایک کلمہ بھی پوری جماعت پر تہمت لگانے کے لیے کافی ہے ۔