اگر میاں بیوی لاعلمی میں دو ماہ تک غیر فطری مجامعت کرتے رہیں، تو کیا حکم ہے ؟

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

اگر میاں بیوی لاعلمی میں دو ماہ تک غیر فطری مجامعت کرتے رہیں، تو کیا حکم ہے ؟

جواب :

علم ہو جانے کے بعد غیر فطری مجامعت کرنا جائز نہیں ، جب تک علم نہ تھا، معافی ہے۔ البتہ اس سے نکاح پر کچھ اثر نہیں پڑتا۔ اللہ نے جہاں سے وطی کرنے کا حکم دیا ہے، وہی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
❀ اللہ تعالیٰ کا فرمانِ گرامی ہے:
فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ
﴿البقرة: 222﴾
” جب عورتیں (حیض سے ) پاک ہو جائیں تو ان سے اس طرح جماع کرو، جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے ۔“
❀ اس آیت کریمہ کا مفہوم واضح کرتے ہوئے اور اس فعل بد کی ہیں کے قریب قباحتیں بیان کرتے ہوئے علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:
یہ آیت دو طرح عورتوں سے وطی کی حرمت بیان کرتی ہے، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کی کھیتی میں جماع کو جائز قرار دیا ہے اور کھیتی بچہ پیدا ہونے کی جگہ ہے ، نہ کہ گندگی والی جگہ، فرمانِ باری تعالى : ﴿ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ الله ﴾ (البقرۃ : 222 ) ( جہاں سے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ) سے مراد یہی کھیتی والی جگہ ہی ہے، نیز فرمایا: فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ (البقرة :223) ( تم اپنی کھیتی کو جہاں سے چاہو ، آؤ )، اس آیت سے عورت کی پچھلی جانب سے اس کی اگلی شرمگاہ میں جماع کی دلیل بھی نکلتی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم جہاں سے چاہو ، جماع کرو، یعنی آگے سے یا پیچھے سے ۔ سید نا ابن عباس یا الجھا فرماتے ہیں کہ کھیتی سے مراد اگلی شرمگاہ ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے عارضی طور پر لاحق ہونے والی گندگی ( حیض) کی وجہ سے اگلی شرمگاہ میں جماع کو حرام قرار دیا ہے تو اس سوراخ کے بارے میں کیا خیال ہے، جو مستقل طور پر گندگی کی جگہ ہے ، ساتھ ساتھ اس میں جماع کے اور بھی مفاسد ہیں ، ان میں ایک انقطاع نسل ہے اور دوسرا یہ کہ عورتوں کی پشتوں میں جماع کرنا بچوں کی پشتوں میں جماع (لواطت ) کا بڑا سبب ہے۔ اسی طرح جماع میں عورت کا بھی مرد پر حق ہوتا ہے، جو کہ دبر میں جماع کرنے سے ادا نہیں ہوتا عورت کی خواہش پوری نہیں ہوتی اور اس کا مقصود حاصل نہیں ہوتا۔ اسی طرح دبر اس مقصد کے لیے نہیں بنائی گئی ، بلکہ اس کے لیے فرج بنائی گئی ہے، چنانچہ اس کو چھوڑ کر دبر کی طرف جانے والے اللہ تعالیٰ کی حکمت اور شریعت سے بغاوت کرنے والے ہیں ۔ یہ مرد کے لیے بھی نقصان دہ ہے ، اسی لیے عقل مند اطباء اور فلاسفہ وغیر ہم اس سے منع کرتے ہیں ، کیونکہ فرج میں بہنے والے پانی کو جذب کرنے اور مردکو راحت دینے کی صلاحیت ہوتی ہے، جبکہ دبر میں جماع کرنا پانی کو جذب کرنے پر مدد نہیں دیتا اور طبعی امر کی مخالفت کی وجہ سے پانی مکمل طور پر خارج نہیں ہوتا۔ یہ ایک اور طرح سے بھی نقصان دہ ہے کہ اس میں خلاف طبع حرکات کرنا پڑتی ہیں، جو کہ تھکا دینے والی ہوتی ہیں ۔ اسی طرح دبر گندگی اور نجاست کی جگہ ہوتی ہے ، اس کی طرف آدمی متوجہ ہوتا اور اس کو استعمال کرتا ہے۔ اسی طرح یہ عورت کے لیے بھی سخت نقصان دہ ہے، کیونکہ یہ طبع کے بہت خلاف اور منافرت والا کام ہے ۔ اسی طرح یہ کام غم و دکھ اور فاعل و مفعول سے نفرت کا باعث بنتا ہے۔ یہ کام چہرے کو سیاہ کرتا ہے، سینے میں اندھیر اور دل کا نورختم کرتا ہے۔ اس سے چہرے پر سراسیمگی چھا جاتی ہے اور وہ واضح نشانی بن جاتی ہے ، جسے ادنی سی فراست والا شخص بھی پہچان سکتا ہے ۔ اسی طرح یہ کام ضروری طور پر فاعل ومفعول کے درمیان نفرت سخت عداوت اور قطع تعلقی کا سبب بنتا ہے ۔اسی طرح یہ فاعل اور مفعول کی حالت اتنی خراب کر دیتا ہے کہ اس کی اصلاح ممکن نہیں رہتی ، الا یہ کہ سچی توبہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی توفیق شاملِ حال ہو جائے ۔ یہ فعل فاعل ومفعول دونوں سے خوبصورتی کو ختم کر دیتا ہے اور انہیں بدصورت بنا دیتا ہے،جیسا کہ ان کی باہم محبت نفرت وعداوت میں بدل جاتی ہے۔ اسی طرح یہ کام نعمتوں کے چھن جانے اور مصیبتوں کے چھا جانے کا بڑا سبب ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی لعنت ، اس کی ناراضی ، اس کے اعراض اور بنظر رحمت نہ دیکھنے کا سبب بنتا ہے ۔ اس کے بعد ایسا شخص کس خیر کی امید کرے گا اور کس شر سے محفوظ ہو سکے گا، جس شخص پر اللہ تعالیٰ کا غضب اور اس کی لعنت ہو، وہ اس سے اعراض کر لے اور اس کو بنظر رحمت نہ دیکھے ، اس کی زندگی کیسی ہوگی؟ اسی طرح یہ کر توت حیا کو مکمل طور پر خاتمہ کر دیتا ہے اور حیا ہی دلوں کی حیات ہے، جب دل اسے گم کر بیٹھے تو غلط کو درست اور درست کو غلط سمجھنے لگتا ہے ، اس وقت خرابی اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے۔ اسی طرح یہ کام طبیعتوں کو اس طریقے سے پھیر دیتا ہے ،جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی تخلیق کی ہے۔ یہ الٹی طبع ہے طبع الٹ جائے تو دل اور طور طریقہ بھی الٹ جاتا ہے۔ تب وہ برے اعمال و حالات کو اچھا خیال کرتا ہے اور اس کی حالت ، عمل اور کلام بلا اختیار خراب ہو جاتی ہے ۔ فعل بدایسی بے غیرتی اور جرأت پیدا کرتا ہے، جو کسی اور کام سے پیدا نہیں ہوتی ۔ نیز اس سے وہ رسوائی ، ذلت اور حقارت پیدا ہوتی ہے، جو کسی اور کام سے نہیں ہوتی ۔ یہ بندے کو غصے اور کینے کا لباس پہنا دیتی ہے اور لوگ اس کو ذلیل و حقیر سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ مشاہدات ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس نبی پر درود وسلام کرے، جس کی اتباع و پیروی میں دنیا و آخرت کی سعادت ہے اور جس کی مخالفت و نافرمانی میں دنیا و آخرت کی بربادی ہے۔
(زاد المعاد : 257/4)
❀ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ
(2-البقرة:223)
”تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں ، اپنی کھیتیوں کو جیسے چاہو، آؤ۔ “
❀ سید نا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
قالت اليهود : إنما يكون الحول إذا أتى الرجل امرأته من خلفها فأنزل الله : نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم من قدامها ومن خلفها ولا يأتيها إلا فى المأتى
” یہود کا خیال تھا کہ بیوی کی پچھلی جانب سے وطی کرنے سے بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿ ‏ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ ﴾ (البقرۃ:223) مرد، عورت سے اگلی اور پچھلی دونوں جانب سے جماع کر سکتا ہے لیکن جماع ہو گا صرف اگلی شرمگاہ میں ۔“
(صحيح ابن حبان : 4197، وسنده صحيح)
نیز دیکھیں (صحیح مسلم : 1435)
❀ عکرمہ رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
إنما هو الفرج
” اس سے مراد اگلی شرمگاہ ہی ہے۔“
(سنن الدارمي : 1164، وسنده صحيح)
❀ نیز فرماتے ہیں:
يأتيها كيف شاء، قائم وقاعد وعلى كل حال، يأتيها ما لم يكن فى دبرها .
”مرد اپنی عورت سے کھڑے، بیٹھے اور ہر حالت میں جماع کر سکتا ہے، لیکن پچھلی شرمگاہ میں نہیں ۔“
(مصنف ابن أبي شيبة : 228/4، وسنده صحيح)
❀حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
یہودی مسلمانوں کو ستانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے ، کہتے کہ اے اصحاب محمد ! اللہ کی قسم ! تمہارے لیے عورتوں سے جماع کی صرف ایک صورت جائز ہے۔
اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمادی :
‏ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ
(2-البقرة:223)
” اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں اور ان کی ضرورت کے درمیان آڑختم کر دی۔ “
(سنن الدارمي : 1165، وسنده صحيح)
یہودیوں کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص اپنی عورت کے پیچھے سے اس کا اگلا حصہ استعمال کرے، تو بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے۔ وہ اپنے نظریے کے مطابق صحابہ کرام کو طعنے دیتے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر یہودیوں کا رد کر دیا کہ جیسے چاہو اپنی بیویوں کے پاس آؤ، لیکن اس حصہ کو استعمال کرنا ہے، جس سے بچے کی ولادت ہوتی ہے۔
اس آیت کی یہی تفسیر مرہ بن شراحبیل ہمدانی رحمہ اللہ نے بیان کی ہے۔
(مصنف ابن أبي شيبة : 230/4، وسنده صحيح)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے