سوال:
اگر مسجد میں جماعت مختار وقت سے مؤخر کی جائے، تو کیا حکم ہے؟
جواب:
نماز کو وقت پر ادا کرنا ضروری ہے اور مسلسل مختار وقت سے تاخیر جائز نہیں۔
❀ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”آپ کا ایسے لوگوں سے پالا پڑ سکتا ہے، جو اصل وقت سے ہٹ کر نماز ادا کریں گے، اگر ایسا ہو جائے تو آپ اصل وقت پر گھر میں نماز پڑھ لینا، پھر نفل کی نیت سے ان کے ساتھ بھی پڑھ لینا۔“
(مسند الإمام أحمد: 379/1، سنن ابن ماجه: 1255، وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ابن الجارود رحمہ اللہ (331ھ) اور امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1640) نے ”صحیح “کہا ہے۔
❀ سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اس وقت آپ کا طرز عمل کیا ہو گا، جب امرا نمازیں تاخیر سے ادا کریں گے؟ عرض کیا آپ ہی رہنمائی فرمائیں! فرمایا: نماز اپنے وقت پر ادا کر لیجیے، بعد میں ان کے ساتھ بھی ادا کر لینا، وہ آپ کے لیے نفل ہو جائے گی۔“
(صحیح مسلم: 648)
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
”نماز کو مردہ کرنے سے مراد نماز کی تاخیر ہے، یعنی وہ نماز کو بے روح کر دیں گے، تاخیر وقت کا مطلب مختار وقت سے مؤخر کرنا ہے نہ کہ نماز کا کل وقت ضائع کر کے پڑھنا، کیونکہ ہر دور کے حکمران نماز کو مختار وقت سے لیٹ کرتے آئے ہیں، ایسا نہیں تھا کہ کل وقت کو ضائع کر کے پڑھتے ہوں۔“
❀ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”میرے بعد جلد ہی امور حکومت ان لوگوں کے ہاتھوں چڑھ جائیں گے، جو سنتوں کو مٹائیں گے اور بدعات زیر عمل لائیں گے، نماز تاخیر سے ادا کریں گے، عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر میرا ان سے واسطہ پڑ جائے، میرا طرز عمل کیا ہونا چاہیے؟ فرمایا: ام عبد کی اولاد! مجھ سے پوچھتے ہو! آپ بتلائیں کہ خود کیا کرو گے؟ یا درکھیو! اللہ کے نافرمان کی اطاعت نہیں ہے۔“
(مسند الإمام أحمد وزوائده: 399/1، سنن ابن ماجه: 2865، وسنده حسن)
اس مرفوع صحیح حدیث سے ثابت ہوا کہ نمازوں کو ان کے اوقات سے لیٹ کر کے پڑھنے والا اللہ کا نافرمان ہے، تو نافرمانوں کی اقتدا میں نماز لیٹ نہیں کرنی چاہیے، بلکہ بروقت ادا کرنی چاہیے۔