سوال :
اگر عورت مہر کی رقم شوہر کو ہبہ کر دے، تو کیا دوبارہ مطالبہ کر سکتی ہے؟
جواب :
جو چیز ایک بار ہبہ کر دی، اسے واپس نہیں لیا جا سکتا ، صرف والد اپنی اولاد کو دی ہوئی چیز واپس لے سکتا ہے، اس کے علاوہ کوئی نہیں ۔ اس پر وعید آئی ہے۔
❀ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
”میرے والد بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تا کہ ان تحائف پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنائیں، جو انہوں نے مجھے دیے تھے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا آپ نے اپنے تمام بیٹوں کو یہ تحائف دیے ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں! فرمایا : تو پھر یہ بھی واپس لے لیں۔“
(صحيح البخاري : 2586، صحیح مسلم : 1623)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
العائد فى هبته كالعائد فى قيئه
”ہبہ کرنے کے بعد واپس لینے والا اس شخص کی طرح ہے، جو قے کرنے کے بعد دوبارہ نگل لے۔“
(صحيح البخاري : 2621 ، صحیح مسلم : 1622)
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی کو تحفہ دے کر اس سے واپس لے لے، بجز والد کے، جو وہ اپنے بیٹے کو دیتا ہے۔ جو تحفہ دے کر واپس لیتا ہے، اس کی مثال کتے جیسی ہے، جو کھاتا ہے، جب سیر ہو جاتا ہے، تو قے کرتا ہے، پھر اسے چاٹ لیتا ہے۔“
(مسند الإمام أحمد : 27/78 ، سنن أبي داود : 3539، سنن النسائي : 3720 ، سنن الترمذي : 2132 ، سنن ابن ماجه : 2377 ، وسنده صحيح)
اسے امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح ، امام ابن الجارود رحمہ اللہ (994) نے صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ (46/2) نے صحیح الاسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔