اگر بیوی شوہر سے نفرت کرتی ہو، تو کیا حکم ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

اگر بیوی شوہر سے نفرت کرتی ہو، تو کیا حکم ہے؟

جواب:

بلا وجہ بیوی کا شوہر سے نفرت کرنا گناہ ہے۔ البتہ اگر طبعی طور پر بیوی شوہر کو پسند نہیں کرتی ، تو اسے چاہیے کہ شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے، اگر شوہر طلاق نہ دے، تو وہ خلع کے ذریعے نکاح فسخ کر سکتی ہے، کیونکہ نفرت کے ساتھ اکھٹے رہنے سے کہیں بہتر ہے کہ وہ دونوں جدا ہو جائیں، اسی میں ان کی دنیوی و اخروی فلاح ہے، ورنہ وہ زوجہ رہتے ہوئے جب اپنے فرائض کو کما حقہ ادا نہ کرے گی ، تو آخرت میں جواب دہ ہوگی۔
❀سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگی : میں ثابت کے دین اور اخلاق پر کوئی عیب نہیں لگاتی ، لیکن اسلام میں کفر (شوہر کی نافرمانی کرنے سے) ڈرتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کیا آپ ان کا باغ واپس کر دیں گی؟ کہا: جی ہاں! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا: ان (ثابت) کا باغ انہیں لوٹا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان جدائی کر دی۔
(صحيح البخاري : 5276)
❀سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تؤذي امرأة زوجها فى الدنيا إلا قالت زوجته من الحور العين لا تؤذيه قاتلك الله فإنما هو عندك دخيل يوشك أن يفارقك إلينا
”جب بھی دنیاوی بیوی اپنے شوہر کو تکلیف پہنچاتی ہے، تو اس کی حور بیوی کہتی ہے : اللہ تجھے ہلاک کرے، تو اسے تکلیف مت دے، یہ تیرے پاس مہمان ہے، بہت جلد تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آنے والا ہے۔“
(مسند أحمد : 242/5 ، سنن الترمذي : 1174 ، سنن ابن ماجه : 2014، وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن غریب کہا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو صحیح متصل کہا ہے۔
(سير أعلام النبلاء : 47/4)
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”تین آدمیوں کی دعا قبول نہیں ہوتی؛ جس کی بیوی بداخلاق اور بدتمیز ہو، وہ اسے طلاق نہ دے۔ جو کسی کو قرض دے لیکن اس پر گواہ نہ بنائے۔ جو اپنا مال (بغرض تجارت) کسی نا سمجھ کے حوالے کر دے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمْ﴾ (النساء : 5) اپنے مال نا سمجھ لوگوں کے سپرد مت کرو ۔“
(المستدرك للحاكم : 331/2 ، السنن الكبرى للبيهقي : 146/10 ، وسنده صحيح)
اسے امام حاکم رحمہ اللہ نے بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے موافقت کی ہے۔
جس کی بیوی بد اخلاق ہے، وہ اسے طلاق نہیں دیتا، تو اس کی دعا قبول نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بیوی اسے پریشان کرتی ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے کہ اللہ یہ پریشانی دور کر دے، تو اس کی یہ دعا قبول نہیں ہوتی ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے رخصت دی ہے کہ وہ ایسی بداخلاق بیوی کو طلاق دے کر خلاصی پالے، لیکن وہ اسے طلاق نہیں دیتا، ایسا شخص اگر بیوی کی اذیتوں پر اللہ تعالیٰ سے دعا کرے، تو اس کی دعا رد ہو جاتی ہے۔ اس سے مطلق دعا مراد نہیں ہے۔