اگر بیوہ نکاح کر لے، تو پہلے خاوند کے ترکہ اور مہر کی مستحق رہتی ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال :

اگر بیوہ نکاح کر لے، تو پہلے خاوند کے ترکہ اور مہر کی مستحق رہتی ہے؟

جواب:

بیوہ آگے نکاح کرے یا نہ کرے، پہلے خاوند سے ترکہ اور مہر کی مستحق رہتی ہے، نیز کوئی بیوہ کو نکاح سے نہیں روک سکتا، بلکہ وہ ولی کی اجازت سے آگے نکاح کر لے، یہی اس کی آئندہ زندگی کے لیے بہتر ہے، ورنہ وہ زندگی بھر دوسروں کے سہارے کی محتاج رہے گی اور خوش حال زندگی بسر نہیں کر سکے گی ۔
❀ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
”جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بیٹی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے خاوند سیدنا خنیس بن حذافہ رضی اللہ عنہ جو کہ بدری صحابی تھے ، مدینہ میں فوت ہو گئے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان کو پیشکش کی ، میں نے کہا : اگر آپ چاہیں، تو میں حفصہ کا نکاح آپ سے کر دوں ، انہوں نے فرمایا : میں غور وفکر کروں گا، (پھر بتاؤں گا)، میں کچھ راتیں ٹھہر گیا ، پھر عثمان والا مجھے ملے اور فرمایا : میری سمجھ میں یہ بات آئی ہے کہ میں اس وقت شادی نہ کروں ۔ عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے ملے اور کہا: اگر آپ چاہیں تو میں حفصہ کا نکاح آپ سے کر دوں (آخر ان کا نکاح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا )۔“
(صحيح البخاري : 5129)