مسعود احمد خان دیوبندی صاحب کے تراویح سے متعلق جھوٹ

یہ اقتباس محدث العصر شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب تعداد رکعات قیام رمضان کا تحقیقی جائزہ سے ماخوذ ہے۔

موضوعات صاحب ضیاء المصابیح :۔

مسعود احمد خان دیوبندی کاملپوری نے ایک کتاب ”ضیاء المصابیح فی مسئلۃ التراویح“ نامی لکھی ہے۔ جس پر غلام حبیب صاحب پیری مماتی دیوبندی وغیرہ کی تقریظات بھی ہیں ، ہمارے نزدیک مسعود احمد خان ایک ”عامی“ ہے مگر غلام حبیب صاحب ”مدظلہ“ فرماتے ہیں : ”محترم دوست حضرت مولانا مسعود احمد صاحب کاملپوری“ (تقریظ ضیاء المصابیح : ص 4)
چونکہ مذکورہ کتاب میں کذب وافتراءات کے ذریعے سادہ لوح لوگوں کو دھوکا دینے کی کوشش کی جارہی ہے اس لئے راقم الحروف یہ کھلا خط لکھ رہا ہے ، ورنہ مسعود احمد جیسے اشخاص کسی جواب کے مستحق نہیں ہیں ، کیونکہ ایسے اشخاص کا جواب بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے ، ان لوگوں کی ”نہ مانوں“ اور ”کوا سفید ہے“ والی پالیسی آخر کس سے پوشیدہ ہے؟
جھوٹ بولنا انتہائی بُری بات اور گناہ کبیرہ ہے، تمام شریعتوں میں اس کی مذمت موجود ہے۔ رب العالمین فرماتا ہے :
اِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ (سورة النحل : 105)
جھوٹ تو وہ لوگ بناتے ہیں جن کو یقین نہیں اللہ کی آیتوں پر اور وہی لوگ جھوٹے ہیں۔
اس کے باوجود بے شمار لوگ دن رات مسلسل جھوٹ بولتے رہتے ہیں تاکہ سفید کو سیاہ اور سیاہ کو سفید ثابت کر دیں۔
ان اشخاص میں سے ایک مولانا مسعود احمد خان صاحب ہیں ، اب آپ کے سامنے اس مولانا کے چند سفید جھوٹ پیش کئے جاتے ہیں۔

اکاذیب مسعود

جھوٹ نمبر 1 :۔

مسعود احمد خان صاحب لکھتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ نماز جس سے تم سوتے ہو (تہجد) وہ اس نماز تراویح سے جس کا تم قیام کرتے ہو، افضل ہے۔ (بخاری، قیام رمضان ، ضیاء المصابیح ص : 20)
خود ساختہ بریکٹوں اور غلط ترجمہ سے درگزر کرتے ہوئے عرض ہے کہ صحیح بخاری یا امام بخاری رحمہ اللہ کی کسی کتاب میں سیدنا ومحبوبنا امامنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی کوئی حدیث موجود نہیں ہے جس کا ذکر مسعود احمد صاحب نے کیا ہے، بلکہ یہ عبارت سیدنا الامام المجاہد، خلیفہ راشد عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ (دیکھئے صحیح بخاری مع عمدۃ القاری : 125/11 ح 2010)
جسے اس نام نہاد مولانا نے مرفوع بیان کر دیا ہے، حالانکہ دیوبندیوں کے مستند مولانا انور شاہ کشمیری دیوبندی بھی اسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں : فجعل الصلاة واحدة یعنی عمر رضی اللہ عنہ نے تہجد اور تراویح کو ایک نماز قرار دیا ہے۔ (فیض الباری 420/2)

جھوٹ نمبر 2 :۔

مسعود صاحب فرماتے ہیں : اس حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سلام سے چار رکعات پڑھتے تھے۔ (ضیاء المصابیح ص : 58)
حالانکہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں ایک سلام کا قطعا کوئی ذکر نہیں ہے اور یہ حدیث ایک سلام کے الفاظ کے بغیر مسعود صاحب نے اپنی اسی کتاب کے ص : 56 ، 57 پر نقل کی ہے، اگر نام نہاد مولانا صاحب صحیح بخاری وغیرہ کی اس حدیث میں (ایک سلام) کا لفظ صراحتاً دکھا دیں تو انھیں صحیح بخاری کا ایک سیٹ بطور انعام دیا جائے گا۔ ان شاء اللہ ، اور اگر نہ دکھا سکیں تو … ؟

جھوٹ نمبر 3 :۔

دیوبندیوں کے مولانا اور محترم دوست مزید لکھتے ہیں : اس لئے کہ دور فاروقی میں خود ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیس رکعات تراویح پڑھاتے تھے۔ (بیہقی : جلد دوم ص 694 ، ضیاء المصابیح ص 63)
بیہقی کی السنن الکبریٰ میں محولہ بالا صفحہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے ، بلکہ مجھے باوجود سخت تلاش کے السنن الکبری جلد اول تا جلد دہم کہیں بھی یہ حوالہ نہیں ملا ہے، لہذا مسعود احمد صاحب کا درج بالا بیان سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور بیہقی رحمہ اللہ دونوں پر سفید جھوٹ ہے۔ غالباً اسی قسم کے اکاذیب کی بنیاد پر حضرت مولانا غلام حبیب صاحب وغیرہ ایک عامی شخص کی تعریف میں رطب اللسان ہیں ، اس قسم کے متہم بالکذب اور متروک الحدیث قسم کے لوگوں کی کتابیں بعض لوگ میرے پاس لے آتے ہیں کہ جواب لکھیں۔
آپ خود فیصلہ کریں کہ جو لوگ وضع الحدیث کے نامسعود کاروبار میں سرتا پا غرق ہوں ، اللہ عز وجل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کذب و افترا سے باز نہ آتے ہوں ان کا جواب کہاں کہاں تک لکھا جائے گا ؟ آخر ایک دن خالق کائنات کے دربار میں بھی پیش ہونا ہے، اس دن وہ لوگ کس طرح اپنے آپ کو بچائیں گے جو دنیا میں جھوٹ بولتے تھے؟
◈ مسعود احمد خان صاحب کے ممدوح قاری چن محمد صاحب دیوبندی نے ایک رسالہ قراءت خلف الامام شائع کیا ہے، جس میں بعض مقامات پر صریحاً جھوٹے حوالے دیئے ہیں۔ مثلا وہ لکھتے ہیں :
کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔
من كان له امام فقراة الامام له قراة
(موطا مالک ، قراءت خلف الامام ص 32)
جس کا امام ہو تو امام کی قراءت ہی اس کی قراءت ہے۔
حالانکہ یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ موطا امام مالک میں قطعاً موجود نہیں ہے۔
◈ قاری صاحب لکھتے ہیں :
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
لا صلوة إلا بفاتحة الكتاب وما تيسر
(ابوداود : 118/1 ، قراءت خلف الامام ص : 32)
حالانکہ سنن ابی داود میں یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ قطعاً اور یقیناً موجود نہیں ہے۔
◈ قاری صاحب ”جریر بن سلیمان التیمی“ الخ ایک روایت بحوالہ (صحیح مسلم ص : 174) نقل کرتے ہیں اور متن حدیث میں ایک اضافہ کرنے کے بعد فرماتے ہیں : (النسائی ص : 146 ، قراءت خلف الامام ص : 11)
حالانکہ ”جریر بن سلیمان التیمی“ کی یہ روایت سرے سے سنن النسائی میں موجود ہی نہیں ہے، ابو محمد علی بن احمد بن سعید بن حزم الاندلسی رحمہ اللہ (متوفی 456ھ) سچ فرماتے ہیں :
وأما الوضع فى الحديث فباق مادام إبليس وأتباعه فى الأرض
(المحلی : 9/ 13 مسئلہ نمبر : 1514)
یعنی وضع حدیث (کا فتنہ) اس وقت تک باقی رہے گا جب تک ابلیس اور اس کے پیروکار زمین پر موجود ہیں۔
تفصیل کے لئے ہمارے استاد محترم مولانا بدیع الدین الراشدی السندھی رحمہ اللہ کی کتاب ”الطوام المرعشة في تحريفات أهل الرأي المدهشة“ اور راقم الحروف کی کتاب ”اکاذیب آل دیوبند“ کا مطالعہ انتہائی مفید ہے۔
یہاں پر بطور تنبیہ عرض ہے کہ مولانا مسعود احمد صاحب اور قاری چن محمد صاحب کے یہ اکاذیب کتابت کی غلطیاں نہیں ہیں کیونکہ طارق بن تسلیم الشافعی الحضروی رحمہ اللہ نے مسعود احمد صاحب کو ان کے بعض اکاذیب کی اس کتاب ”ضیاء المصابیح“ کے چھپنے سے پہلے اطلاع دے رکھی تھی ، اور قاری صاحب کو راقم الحروف نے ”نور الظلام فی مسئلۃ الفاتحہ خلف الامام“ میں متنبہ کر دیا تھا، مگر اس کے باوجود انھوں نے اپنی کذب بیانیوں سے رجوع نہیں کیا ۔
باقی رہا سنجیدہ لوگوں کا علمی جواب تو اس کے لئے جماعت اہل الحدیث حاضر ہے، حبیب الرحمن اعظمی دیوبندی نے تراویح پر ایک کتابچہ لکھا ہے جس کا مولانا نذیر احمد رحمانی اعظمی رحمہ اللہ نے ”انوار مصابیح“ کے نام سے جواب دیا ہے، اس جواب کے جواب کا قرض ان لوگوں پر باقی ہے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ صرف اور صرف بیس رکعات تراویح ، رمضان میں جماعت کے ساتھ سنت مؤکدہ ہے۔ اس سے کم پڑھنے والا سنت مؤکدہ کا تارک ہے اور اس کا مستحق ہے کہ اسے شفاعت نصیب نہ ہو ، بیس سے زیادہ کی جماعت ثابت نہیں وغیرہ وغیرہ۔ تفصیل کے لئے ”انوار مصابیح“ ص : 28 تا 32 کا مطالعہ فرمائیں۔ مسعود احمد صاحب اینڈ پارٹی کے تمام رسالے حنفیوں کے مذکورہ بالا دعاوی کو ثابت نہیں کر سکے ہیں لہذا ان کی حیثیت هَبَآءً مَّنْثُوْرًا سے زیادہ نہیں ہے۔ والحمد لله على ذلك
فاتحہ کے مسئلہ پر آپ میری کتاب ”الکواکب الدریہ فی وجوب الفاتحہ خلف الامام فی صلوۃ الجبریہ“ دیکھ سکتے ہیں۔ وما علينا إلا البلاغ

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️

اکاذیبِ مسعود احمد خان: ایک تحقیقی جائزہ