ایسے شخص کی شہادت جائز ہے جو اپنے قول یا فعل کو ثابت کرنے کے لیے شہادت دے جب کہ اس کی صورت تہمت کی نہ ہو
➊ پہلی بات تو یہ ہے کہ شریعت میں اس کی کوئی ممانعت نہیں ہے ۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پلانے والی عورت کی گواہی قبول کر لی اور حرمت کا حکم لگا دیا جیسا کہ حدیث میں ہے کہ حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک عورت سے شادی کی تو ایک عورت نے آ کر کہا:
إني قد أرضعتكما
”میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے ۔“
پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس عورت (بیوی) کو چھوڑنے کا حکم دے دیا ۔
[بخاري: 2660 ، كتاب الشهادات: باب شهادة المرضعة]
(راجح) راجح یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ماتن کا مؤقف درست نہیں کیونکہ حدیث میں عورت نے صرف ایک خبر دی تھی اور پھر اسے قاعدہ کلیہ بنا لینا اور ہر ایک کے لیے جائز قرار دینا کیسے درست ہو سکتا ہے؟ جب کہ قرآن میں واضح حکم موجود ہے کہ :
”دو عادل گواہ مقرر کرو ۔“ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی کوئی ایسا مسئلہ منقول نہیں ۔