مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

اَدَامَ اللّٰهُ اَيَّامَك کہنا کیسا ہے؟ شرعی حکم و دلائل

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاویٰ ارکان اسلام

سوال

’’اَدَامَ اللّٰهُ اَيَّامَك‘‘ یا ’’اَطَالَ اللّٰهُ بَقَاءَك‘‘ کے الفاظ کہنے کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ان الفاظ کا استعمال جن میں کسی کو دنیا میں ہمیشہ باقی رہنے کی دعا دی جائے، جیسے:

اَدَامَ اللّٰهُ اَيَّامَك (اللہ تعالیٰ تمہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندہ رکھے)
◈ یا اس جیسے دیگر الفاظ جیسے اَطَالَ اللّٰهُ بَقَاءَك (اللہ تعالیٰ آپ کی زندگی دراز فرمائے)

ان کے استعمال میں فرق ہے، اس لیے ہر ایک کا الگ حکم ہے۔

1. ’’اَدَامَ اللّٰهُ اَيَّامَك‘‘ کہنا کیسا ہے؟

اس عبارت میں دعاء کے طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ:

"اللہ تعالیٰ تمہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندہ رکھے”

یہ دعا شرعاً محلِ اعتراض ہے، کیونکہ دنیا کی زندگی میں دوام اور ہمیشگی ناممکن ہے۔ انسان کی دنیاوی زندگی محدود ہے اور یہ حقیقت قرآن مجید میں وضاحت سے بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ اس قسم کی دعا کرنا ایسی بات کی تمنا کے مترادف ہے جو اللہ کے بنائے ہوئے نظامِ فطرت کے خلاف ہے۔

قرآنِ مجید کی واضح ہدایات:

﴿كُلُّ مَن عَلَيها فانٍ ﴿٢٦﴾ وَيَبقى وَجهُ رَبِّكَ ذُو الجَلـلِ وَالإِكرامِ ﴿٢٧﴾
’’جو (مخلوق) زمین پر ہے، سب کو فنا ہونا ہے، اور تمہارے پروردگار، جو صاحب جلال و عظمت ہے، کا چہرہ باقی رہے گا۔‘‘
سورۃ الرحمٰن: 26-27

یہ آیات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ کائنات کی ہر مخلوق کو فانی بنایا گیا ہے، اور دوام صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔
﴿وَما جَعَلنا لِبَشَرٍ مِن قَبلِكَ الخُلدَ أَفَإِي۟ن مِتَّ فَهُمُ الخـلِدونَ ﴿٣٤﴾
’’اور (اے پیغمبر!) ہم نے تم سے پہلے کسی انسان کو ہمیشہ کی زندگی نہیں دی۔ بھلا اگر تم مر جاؤ تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے؟‘‘
سورۃ الأنبياء: 34

اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ کسی بشر کو دنیاوی طور پر دائمی زندگی نہیں دی گئی، اور نہ ہی دی جا سکتی ہے۔

نتیجہ:

لہٰذا اَدَامَ اللّٰهُ اَيَّامَك کہنا مناسب نہیں، کیونکہ اس میں ایک ایسی دعا کی گئی ہے جو قرآنِ مجید کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ دنیا کی زندگی فانی ہے، اور کسی بشر کو دوام حاصل نہیں ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔