مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

اونٹ کی قربانی: دس یا سات حصے جائز؟ حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

اونٹ کی قربانی میں کتنے حصے ہو سکتے ہیں؟

جواب :

اونٹ کی قربانی میں دس حصے ہو سکتے ہیں اور سات بھی۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے کہ قربانی کا وقت آگیا، ہم اونٹ میں دس آدمی شریک ہوئے اور گائے میں سات ۔ “
(انسائی، کتاب لضحايا، باب ما يحرى عنه البقرة في الضحايا 1387، ابن ماجه، كتاب الأضاحي، باب عن كم تحرى البدنة والبقرة 3131)
علامہ عبید اللہ محدث مبارکپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس حدیث میں دلیل ہے کہ اونٹ کی قربانی میں دس آدمیوں کا شریک ہونا جائز ہے اور یہی قول امام اسحاق بن راہویہ اور امام ابن خزیمہ کا ہے اور یہی حق ہے ۔“(مرعاۃ المفاتح 102/5) امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”مال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی حدیث کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر قرار دیا، اس مسئلہ کے صحیح ہونے پر دلیل ہے۔“ صحیح ابن خزیمہ (391/3، ح : 2909) جس حدیث کی طرف امام ابن خزیمہ نے رہنمائی کی ہے اسے امام بخاری نے صحیح بخاری، كتاب الشركة، باب من عدل عشرة من الغنم بحزور في القسم (2507) میں اور امام مسلم نے کتاب الاضاحی (1968) میں بیان کیا ہے۔ لہذا اونٹ کی قربانی میں دس افراد کی شرکت شرح جائز ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔