سوال
علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ حاجی یونس (والد) نے اپنی زندگی میں کچھ بیٹوں اور بیٹیوں کے نام جائیداد کر دی اور چند بیٹوں اور بیٹیوں کو کچھ بھی نہیں دیا۔ اب وضاحت فرمائیں کہ کچھ اولاد کو دینا اور کچھ کو محروم رکھنا شریعت محمدیہ کے مطابق صحیح ہے یا نہیں؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
حدیث شریف میں آیا ہے:
((عن ابن عباس رضى الله عنه أن النبى صلى الله عليه وسلم قال: سووا بين أولادكم فى العطية…الخ.))
یعنی:
‘‘حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہبہ کرنے میں اپنی اولاد کے مابین برابری کرو۔’’
وضاحت
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مذکورہ تقسیم اور ہبہ درست نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنی ملکیت اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو اسے لازم ہے کہ بیٹیوں اور بیٹوں کو برابر برابر دے۔ اس کے علاوہ کوئی بھی تقسیم کا طریقہ درست نہیں ہے۔
لہٰذا مرحوم کی زندگی میں جو جائیداد تقسیم کی گئی تھی، اس میں سب بہن بھائی برابر کے وارث بنیں گے۔
ایک اور حدیث مبارکہ
((عن النعمان بن بشير أن أباه نحله غلاما وأنه جاء إلى النبى صلى الله عليه وسلم يشهده فقال أكل ولدك نحلته قال لا قال فاردده.))
(رواه ابن ماجه)
یعنی:
‘‘نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے انہیں ایک غلام بطور ہبہ دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تاکہ اس پر آپ ﷺ کو گواہ بنائیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا سب بچوں کو ہبہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں اس ہبہ کو رد کرتا ہوں۔’’
نتیجہ
✿ اولاد میں ہبہ کرتے وقت سب کے ساتھ برابری ضروری ہے۔
✿ کسی کو دینا اور کسی کو محروم رکھنا شریعت کے مطابق درست نہیں۔
✿ زندگی میں کی گئی ایسی تقسیم باطل شمار ہوگی اور تمام بہن بھائی برابر کے وارث ہوں گے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب