سوال:
ایک عورت انگریزی لباس پہنتی ہے، اگر وہ یہ لباس پہنا نہ چھوڑے، تو کیا اسے طلاق دینا لازم ہے یا نہیں؟
جواب:
انگریزی (مغربی) لباس اگر نیم برہنہ، فیشن ایبل، تنگ، شفاف یا غیر شرعی ہو (جس سے جسم کی خطوط ظاہر ہوں، ستر کھل جائے یا غیر محرم کے سامنے فتنہ کا باعث بنے)، تو ایک متشرع مسلمان کے لائق نہیں کہ وہ ایسی عورت سے شادی جاری رکھے، ورنہ وہ دیوث (بیوی کی حفاظت میں کوتاہی کرنے والا) قرار پائے گا۔
❀ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”تین قسم کے لوگ جنت میں داخل نہ ہوں گے اور نہ اللہ تعالیٰ ان کی طرف (نظر رحمت سے) دیکھے گا: والدین کا نافرمان، مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورت، اور دیوث۔“
(مسند الإمام أحمد : 6180، وسنده حسن)
اس لیے شوہر کو چاہیے کہ بیوی کو سمجھائے، نصیحت کرے، اگر وہ سمجھ جائے اور لباس ترک کر دے تو درست، ورنہ طلاق دے دے۔ اسے جاری رکھنا گناہ اور دیوثی ہے۔