سوال:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما ينبغي لعبد أن يقول: أنا خير من يونس بن متى
کسی بندے کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ میں (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) سیدنا یونس بن متیٰ علیہ السلام سے بہتر ہوں۔
(صحیح البخاری: 4631، صحیح مسلم: 2376)
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کو سیدنا یونس علیہ السلام سے بہتر کہنے سے منع کیا، جبکہ دوسری حدیث میں خود کو سید ولد آدم کہا؟
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أنا سيد ولد آدم يوم القيامة، وأول من ينشق عنه القبر، وأول شافع وأول مشفع
روز قیامت اولاد آدم کا سردار میں ہوں گا، سب سے پہلے میری قبر کھولی جائے گی، سب سے پہلے میں شفاعت کروں گا اور سب سے پہلے میری شفاعت ہی قبول ہوگی۔
(صحیح البخاری: 4712، صحیح مسلم: 2278، واللفظ له)
اس اشکال کا کیا جواب ہے؟
جواب:
بلاشبہ محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف سیدنا یونس علیہ السلام سے بلکہ تمام اولو العزم انبیائے کرام اور رسل عظام علیہم السلام میں افضل ہیں، روز قیامت سب سے بڑے شافع بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے۔ سب سے افضل امت بھی محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خود کو سیدنا یونس علیہ السلام سے افضل اور بہتر کہنے سے منع کیا ہے، وہ عاجزی و انکساری کے طور پر ہے، نیز لوگوں کو غلو اور تقصیر سے روکنا بھی مقصود تھا، کیونکہ ہمیشہ سے امت کے بعض لوگ اپنے نبی کو افضل کہتے ہوئے دوسرے انبیاء کی شان میں کمی کے مرتکب ہوئے ہیں، بلکہ اپنے نبیوں کی شان میں غلو کا شکار ہوئے ہیں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نسبت یہ فرمایا کہ کوئی مجھے یونس علیہ السلام سے بھی افضل نہ کہے، کیونکہ وہ اولو العزم رسولوں میں سے نہ تھے، اس لیے جب یونس علیہ السلام سے بھی افضل کہنے سے منع کر دیا، تو یونس علیہ السلام سے بڑے نبیوں اور رسولوں پر فضیلت کی ممانعت بدرجہ اولیٰ شامل ہوگئی۔
گویا کسی نبی کو دوسرے نبی پر اس لیے فضیلت نہیں دینی چاہیے کہ دوسرے کی شان میں تنقیص لازم آئے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ نے بعض رسولوں کو بعض پر فضیلت دی ہے۔
❀ فرمان باری تعالیٰ ہے:
تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۖ مِّنْهُم مَّن كَلَّمَ اللَّهُ ۖ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ
(البقرہ: 253)
ہم نے بعض رسولوں کو بعض پر فضیلت دی ہے، بعض نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کلام کیا اور اللہ تعالیٰ نے بعض کے بعض پر درجات بلند کیے ہیں۔
اہل علم نے ان دونوں قسم کی احادیث میں تطبیق اور جمع و توفیق کی مختلف صورتیں بیان کی ہیں۔
❀ امام عبد اللہ بن مسلم بن قتیبہ دینوری رحمہ اللہ (276ھ) فرماتے ہیں:
نحن نقول: إنه ليس ههنا اختلاف ولا تناقض، وإنما أراد أنه سيد ولد آدم يوم القيامة، لأنه الشافع يومئذ، والشهيد، وله لواء الحمد والحوض، وهو أول من تنشق عنه الأرض، وأراد بقوله: لا تفضلوني على يونس ، طريق التواضع، وكذلك قول أبى بكر رضي الله عنه: وليتكم، ولست بخيركم ، وخص يونس لأنه دون غيره من الأنبياء، مثل إبراهيم وموسى، وعيسى صلى الله عليهم وسلم أجمعين، يريد فإذا كنت لا أحب أن أفضل على يونس، فكيف غيره، ممن هو فوقه، وقد قال الله تعالى: ﴿فاصبر لحكم ربك ولا تكن كصاحب الحوت﴾، أراد أن يونس، لم يكن له صبر كصبر غيره من الأنبياء، وفي هذه الآية، ما دلك على أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أفضل منه، لأن الله تعالى يقول له: لا تكن مثله، وذلك على أن النبى صلى الله عليه وسلم أراد بقوله: لا تفضلوني عليه طريق التواضع. ويجوز أن يريد: لا تفضلوني عليه فى العمل، فلعله أكثر عملا مني، ولا فى البلوى والامتحان، فإنه أعظم مني محنة، وليس ما أعطى الله تعالى نبينا صلى الله عليه وسلم يوم القيامة من السؤدد، والفضل على جميع الأنبياء والرسل بعمله، بل بتفضيل الله تعالى إياه، واختصاصه له
ہم کہتے ہیں کہ یہاں (دونوں احادیث میں) کوئی اختلاف اور تناقض نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روز قیامت بنو آدم کے سردار ہوں گے، کیونکہ اس دن آپ شفاعت کریں گے، آپ گواہ ہوں گے، حمد کا جھنڈا اور حوض آپ کے پاس ہوگا اور سب سے پہلے آپ کے لیے زمین (قبر) کھلے گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا کہ مجھے یونس علیہ السلام پر فضیلت مت دیں، تو یہ عاجزی و انکساری کے طور پر فرمایا ہے۔ جیسے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: مجھے آپ پر خلیفہ نامزد کیا گیا ہے، جبکہ میں آپ میں سب سے بہتر نہیں ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص سیدنا یونس علیہ السلام کا ذکر اس لیے کیا، کیونکہ وہ دیگر انبیاء مثلاً ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے (مقام و مرتبہ میں) کم تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ جب میں یونس علیہ السلام پر خود کو فضیلت دینا پسند نہیں کرتا، تو ان سے بڑے نبیوں پر فضیلت دینا کیسے پسند کروں گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوتِ
(القلم: 48)
(اے نبی!) آپ اپنے رب کے حکم پر صبر کیجئے اور مچھلی والے (یونس علیہ السلام) کی طرح مت ہوئیے۔
یہاں مچھلی والے سے اللہ تعالیٰ کی مراد یونس علیہ السلام ہیں، ان میں وہ صبر و استقلال نہیں تھا، جو دیگر انبیائے کرام علیہم السلام میں تھا۔ اس آیت میں ہی دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا یونس علیہ السلام سے افضل ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا: آپ یونس کی مثل مت ہوئیے۔ نیز یہ دلیل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: مجھے یونس علیہ السلام پر فضیلت مت دیں، تواضع و انکساری کی بنا پر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ بھی ہو سکتی ہے کہ مجھے عمل میں یونس علیہ السلام پر فضیلت مت دیں، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ مجھ سے عمل میں زیادہ ہوں۔ نہ مجھے آزمائش اور امتحان میں یونس علیہ السلام سے فضیلت دیں، کیونکہ انہیں مجھ سے زیادہ آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو روز قیامت سرداری اور دیگر تمام انبیائے کرام اور رسل عظام علیہم السلام پر فضیلت حاصل ہوگی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال کی بدولت نہیں ہوگا، بلکہ وہ اس لیے ہوگا کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (اپنی رحمت سے) فضیلت دے گا اور خصوصیت بخشے گا۔
(تأویل مختلف الحدیث، ص 182-183، المسائل والأجوبة، ص 60-61)