انبیاء و رسل کی کل تعداد کتنی ہے؟ حدیث کی روشنی میں
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

انبیاء و رسل کی کل تعداد کتنی ہے؟

جواب :

اللہ تبارک و تعالی نے قرآن حکیم میں انبیاء ورسل علیہ السلام کی تعداد معین بیان نہیں فرمائی، مطلق طور پر انبیاء و رسل پر ایمان لانے کا حکم فرمایا ہے۔ چند ایک انبیاء ورسل کا تفصیلاً ذکر فرمائے ہیں اور اختصار کے ساتھ ان کے احوال بیان کر دیے ہیں، اس طرح رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بھی صحیح حدیث میں ان کی تعداد بیان نہیں ہوئی۔
عام طور پر یہ مشہور ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اس دنیا میں تشریف لائے، 313 ان میں سے رسول تھے۔ اس معنی کی چند ایک ضعیف روایات ہیں، جیسے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء ہیں اور ان میں سے 313 رسول ہیں۔ یہ روایت صحیح ابن حبان (361) میں ہے اور حلیۃ الاولیاء (551) والی روایت میں ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کا ذکر ہے، لیکن اس کی سند ابراہیم بن ہشام بن یحیی الغسانی کی وجہ سے موضوع ہے۔ (میزان الاعتدال 378/4، 73/1) یہ روایت ایک دوسرے طریق سے مسند احمد (: 21879، 31885 ح: 179 ، 178/5) اور مسند ابی داؤد الطیالسی (383/1، 385، ح: 480) وغیرہ میں موجود ہے، اس کی سند عبید بن خشخاش کی جہالت اور ابو عمر الدمشقی کے ضعف کی وجہ سے ناقابلِ حجت ہے اور مستدرک حاکم (597/2، ح: 3166)، مسند احمد اور مسند بزار میں بھی موجود ہے، اس میں یحیی بن سعید السعدی البصری ضعیف ہے۔
تعداد انبیاء والی روایت ابو امامہ الباہلی کی سند سے بھی ہے، جسے امام احمد نے مسند احمد (226/5، 265/5، ح: 22644) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں علی بن یزید الہلوانی ضعیف ہے۔ انبیاء کی تعداد والی کئی ایک ضعیف روایات مستدرک حاکم (597/2، 598/2) میں مذکور ہیں لیکن ناقابلِ حجت ہیں۔
الغرض صحیح تعداد کسی بھی صحیح حدیث میں موجود نہیں ہے۔ ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی نبی اور رسول بھیجے ہیں ہم سب پر ایمان لائے ہیں۔ ہم ایمان لانے میں ان کے درمیان تفریق نہیں کرتے کہ بعض کو مان لیں اور بعض کا انکار کر دیں۔ ایک پیغمبر کا بھی انکار کرنے سے آدمی کافر ہو جاتا ہے۔

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے