ام المومنین سیدہ عائشہؓ کی برأت پر شک کرنے کا حکم قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

جو لوگ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر واقعہ افک کے حوالے سے زنا کی تہمت لگائیں ، ان کا کیا حکم ہے؟

جواب:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر منافقین نے زنا کی تہمت لگائی تو اللہ تعالیٰ نے قرآنی نصوص میں سیدہ کی پاکدامنی بیان فرمائی۔ اللہ تعالیٰ کی صفائی کے بعد اگر کوئی سیدہ پر واقعہ افک کے حوالے سے زنا کی تہمت لگائے ، تو وہ کافر ہے، اس پر امت کا اتفاق ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا :
أنزل الله براءتك من فوق سبع سماوات
”اللہ نے آپ کی برأت سات آسمانوں کے اوپر سے نازل کی ہے۔“
(مسند الإمام أحمد : 276/1، 349 ، الرد على الجهمية للدارمي، ص 57، المستدرك على الصحيحين للحاكم : 8/4 ، وسنده حسن)
اس روایت کو امام حاکم رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
❀ایک روایت کے الفاظ ہیں:
نزل عذرك من السماء
”آپ کی برأت آسمانوں (کے اوپر) سے اتری ہے۔“
(صحيح البخاري : 4753)
❀حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”اللہ تعالیٰ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی اسی لیے بنایا کہ وہ پاکدامن تھیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں میں زیادہ پاکدامن ہیں ۔ سیدہ ناپاک ہوتیں ، تو شرعی طور پر آپ کی زوجہ نہ ہوتیں، نہ آپ کے شایان شان ہوتیں ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿أُولَئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ﴾ ”لوگوں کے الزامات سے یہ ہستیاں بری ہیں ۔ یعنی یہ اہل افک اور دشمنوں کی باتوں سے کوسوں دور ہیں ۔“
(تفسير ابن كثير : 35/6)
❀اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾
(النور : 23)
”جو لوگ پاک دامن، بھولی بھالی مومن خواتین پر تہمت لگاتے ہیں، وہ دنیا اور آخرت میں ملعون ہیں، نیز ان کے لیے بہت بڑا عذاب تیار ہے۔“
❀عالم اہل بیت سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
نزلت فى عائشة خاصة
”یہ آیت خاص سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ۔“
(تفسير ابن أبي حاتم : 2556/8، وسنده صحيح)
❀شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728 ھ) فرماتے ہیں:
”سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے واضح کر دیا ہے کہ یہ آیت (النور : 23) سیدہ عائشہ اور دوسری امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن پر تہمت لگانے والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، کیونکہ یہ درحقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر طعن ہے۔ بیوی پر تہمت شوہر کے لیے تکلیف دہ ہوتی ہے، جیسا کہ بیٹے کے لیے ہوتی ہے، کیونکہ یہ اس کے گھٹیا پن اور بدنسل ہونے کی دلیل ہے۔ بیوی زنا کی مرتکب ہو ، تو خاوند کے لیے رسوائی ہے۔ عین ممکن ہے کہ خود آدمی پر تہمت لگے، تو اسے اتنی رسوائی نہ ہو، جتنی اس کی بیوی پر تہمت لگنے سے ہوتی ہے۔“
(الصارم المسلول على شاتم الرسول : 45/1)
❀عباسی علما کا اجماعی عقیدہ ہے:
من سب سيدتنا عائشة رضي الله عنها فلا حظ له فى الإسلام
”جس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو برا بھلا کہا، اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔“
(المنتظم في تاريخ الملوك والأمم لابن الجوزي : 281/15 ، وسنده صحيح)
❀علامہ ابو اسحاق شیرازی رحمہ اللہ (476ھ) فرماتے ہیں:
قد أجمع المسلمون على عموم آية القذف وإن كانت نزلت فى شأن عائشة رضي الله عنها خاصة
”مسلمانوں کا اجماع ہے کہ تہمت والی آیت عام ہے، گو کہ خصوصی طور پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق ہی نازل ہوئی ہے۔“
(التبصرة في أصول الفقه، ص 146)
❀ علامہ قرطبی رحمہ اللہ (671 ھ) فرماتے ہیں:
”اللہ تعالیٰ کے فرمان : ﴿يَعِظُكُمُ اللَّهُ أَنْ تَعُودُوا لِمِثْلِهِ أَبَدًا﴾ (النور: 17) سے مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں، کیونکہ مثلیت تب ہی ہوگی جب کسی کے بارے میں اسی طرح کی بات کی گئی ہو یا وہ ازواج مطہرات کے ہم پلہ ہو۔ کیونکہ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت و ناموس اور اہل بیت کے حوالے سے ایذا و تکلیف ہوتی ہے اور یہ کفریہ حرکت ہے۔“
(تفسير القرطبي : 205/12)
❀قاضی ابو یعلی حنبلی رحمہ اللہ (458ھ) فرماتے ہیں:
من قذف عائشة بما برأها الله منه كفر بلا خلاف
”جس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر وہی تہمت لگائی، جس سے اللہ تعالیٰ نے انہیں بری کر دیا ہے، تو اس کے کافر ہونے میں کوئی اختلاف نہیں۔“
(الصارم المسلول لابن تيمية، ص 566)
❀شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728 ھ) فرماتے ہیں:
”اس پر کئی اہل علم نے اجماع نقل کیا ہے اور بے شمار ائمہ نے اس حکم کی صراحت بھی کی ہے۔“
(الصارم المسلول على شاتم الرسول، ص 566)
❀علامہ ابن جزی غرناطی رحمہ اللہ (741 ھ) فرماتے ہیں:
”واقعہ افک میں پانچ اعتبار سے خیر تھی ؛ ام المومنین کی برأت کر دی گئی، اللہ تعالیٰ نے سیدہ کی شان میں وحی نازل کر کے ان کی عزم افزائی فرمائی، اس جھوٹے الزام پر (صبر کرنے سے) سیدہ کو بہت بڑا اجر ملا، مومنوں کو وعظ و نصیحت کی گئی، جھوٹے الزام لگانے والوں سے انتقام لیا گیا۔“
(تفسير ابن جزي : 63/2)
❀حافظ ابن حزم رحمہ اللہ (456 ھ) فرماتے ہیں:
هي ردة تامة، وتكذيب لله تعالى فى قطعه ببراءتها
”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانا مکمل ارتداد ہے اور اللہ تعالیٰ کو سیدہ کی قطعی برأت کرنے میں جھٹلانا ہے۔“
(المحلى بالآثار : 440/12)
❀علامہ عبد الخالق بن عیسیٰ ہاشمی حنبلی رحمہ اللہ (470ھ) فرماتے ہیں:
”جس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بنا پر وہ الزام لگایا، جس سے اللہ تعالیٰ نے انہیں بری کر دیا ہے، تو وہ دین سے نکل گیا (کافر ہو گیا)۔ اس کا مسلمان خاتون سے نکاح منعقد نہ ہوگا، الا کہ وہ اعلانیہ توبہ کر لے۔“
(الصارم المسلول لابن تيمية ، ص 568)
❀علامہ ابن العربی رحمہ اللہ (543ھ) فرماتے ہیں:
إن أهل الإفك رموا عائشة المطهرة بالفاحشة، فبرأها الله، فكل من سبها بما برأها الله منه فهو مكذب لله، ومن كذب الله فهو كافر
”اہل افک نے پاکدامن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر برائی کی تہمت لگائی ، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بری کر دیا۔ لہذا جس نے بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر وہ الزام لگایا، جس سے اللہ تعالیٰ نے انہیں بری کر دیا ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ کو جھٹلانے والا ہے اور جس نے اللہ تعالیٰ کو جھٹلایا، وہ کافر ہے ۔“
(أحكام القرآن : 366/3)
❀حافظ ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ (620 ھ) فرماتے ہیں:
من قذفها بما برأها الله منه فقد كفر بالله العظيم
”جس نے سیدہ پر وہ تہمت لگائی ، جس سے اللہ تعالیٰ نے انہیں بری کر دیا ہے، تو اس نے اللہ عظیم کے ساتھ کفر کیا۔“
(لمعة الاعتقاد، ص 40)
❀حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
”واقعہ افک میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت ہو چکی ہے، یہ برأت قطعی ہے، جس پر قرآنی نص ہے، لہذا اللہ معاف کرے! جس انسان نے اس میں شک کیا، تو اس کے کافر اور مرتد ہونے پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔“
(شرح النووي : 17/117)
❀حافظ ذہبی رحمہ اللہ (748 ھ) فرماتے ہیں:
إياك يا رافضي أن تلوح بقذف أم المؤمنين بعد نزول النص فى براءتها، فتجب لك النار
”اے رافضی ! ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے سے باز آجاؤ، بعد اس کے کہ ان کی برأت پر نص آ چکی ہے، ورنہ تجھ پر جہنم واجب ہو جائے گی۔“
(سير أعلام النبلاء : 188/1)
❀ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:
اتفقت الأمة على كفر قاذفها
”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے والے کے کفر پر امت کا اتفاق ہے۔“
(زاد المعاد في هدي خير العباد : 103/1)
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774 ھ) فرماتے ہیں:
”تمام علمائے کرام کا اس شخص کے کافر ہونے پر اجماع ہے، جو برأت کے بعد بھی آپ رضی اللہ عنہا کو برا بھلا کہے اور اسی تہمت کے ساتھ متہم کرے، جس کے بعد یہ آیات نازل ہوئیں، کیونکہ وہ قرآن مجید کا واضح دشمن ہے۔“
(تفسير ابن كثير : 31/6-32)
❀ علامہ زرکشی رحمہ اللہ (794 ھ) فرماتے ہیں:
إن من قذفها فقد كفر لتصريح القرآن الكريم ببراءتها
”جس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی ، وہ کافر ہے، کیونکہ قرآن کریم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت صراحت کے ساتھ ہو چکی ہے۔“
(الإجابة لإيراد ما استدركته عائشة على الصحابة، ص 52)
❀ حافظ عراقی رحمہ اللہ (806ھ) فرماتے ہیں:
”واقعہ افک میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت ہو چکی ہے، یہ برأت قطعی ہے، جس پر قرآنی نص ہے، لہذا اللہ معاف کرے! جس انسان نے اس میں شک کیا، تو اس کے کافر اور مرتد ہونے پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔“
(طرح التثريب : 69/8 ، عمدة القاري للعيني : 235/13)
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:
”یہ حدیث دلیل ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت میں شک کرنا حرام ہے۔“
(فتح الباري : 481/8)
❀حافظ سیوطی رحمہ اللہ (911ھ) فرماتے ہیں:
”آیت مبارکہ: ﴿إِنَّ الَّذِينَ جَاؤُوا بِالْإِفْكِ﴾ جو لوگ بہت بڑا بہتان باندھ لائے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگائی گئی تہمت کی برأت کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اہل علم کہتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانا کفر ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس تہمت کا ذکر کرتے وقت اپنی تسبیح بیان کی ہے، فرمایا: ﴿سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ﴾ اللہ پاک ہے، یہ بہت بڑا بہتان ہے۔ جب مشرکوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے بیوی اور اولاد کا اثبات کیا، تو اس کو ذکر کرتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی تسبیح و تقدیس بیان کی ۔“
(الإكليل ، ص 190)
❀علامہ بحرق شافعی رحمہ اللہ (930ھ) فرماتے ہیں:
”حدیث افک ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگائی گئی تہمت کی برأت کے بارے میں ہے۔ یہ برأت قطعی ہے اور اس پر قرآن نص ہے، یہاں تک کہ اگر کوئی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت میں شک کرے، وہ بالا جماع کافر ہے۔“
❀علامہ ابن نجیم حنفی رحمہ اللہ (970ه) فرماتے ہیں:
”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے سے انسان کافر ہو جاتا ہے۔“
(البحر الرائق : 131/5 ، مجمع الأنهر لشيخي زاده : 692/1)
❀علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ (1252ھ) فرماتے ہیں:
”اگر کوئی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگاتا ہے، تو اس کے کفر میں کوئی شک نہیں ۔“
(فتاوی شامی : 70/4)
❀نیز فرماتے ہیں:
”اس شخص کے کفر میں کوئی شک نہیں ، جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگاتا ہے۔“
(فتاوی شامی : 237/4)
❀علمائے احناف کا متفقہ فتویٰ ہے:
”جس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر زنا کا الزام لگایا ، اس نے اللہ کے ساتھ کفر کیا۔“
(فتاوی عالمگیری : 264/2)
❀محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ (1206ھ) فرماتے ہیں:
”دنیا و آخرت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ طیبہ زوجہ پر تہمت لگانے والا منافقین کے سردار عبد اللہ بن اُبی کی نسل سے ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زبان حال سے فرما رہے ہیں: مسلمانو! مجھے میری بیوی کے متعلق ایذا دینے والے کے خلاف میری مدد کون کرے گا؟ فرمان باری تعالی ہے :
﴿إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا، وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا﴾
(الأحزاب : 57-58)
اللہ اور اس کے رسول کو ایذا پہنچانے والے دنیا و آخرت میں ملعون ہیں اور ان کے لیے رسوا کن عذاب تیار ہے اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو ناحق ایذا پہنچاتے ہیں، وہ بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اٹھاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے دین کے مددگار کہاں گئے؟ جو یہ کہیں : اللہ کے رسول! ہم آپ کا دفاع کریں گے ۔
(رسالة في الرد على الرافضة ص 25-26)