امتِ محمدیہ کے فضائل اور عظمت قرآن، حدیث اور آثارِ سلف کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخذ: خطبات حافظ محمد اسحاق زاہد، مرتب کردہ: توحید ڈاٹ کام
مضمون کے اہم نکات

اللہ رب العزت کے انسانوں پر بے شمار احسانات اور ان گنت نعمتیں ہیں، جن کا شکر ادا کرنا بندوں کے بس میں نہیں۔ انہی عظیم نعمتوں میں سے ایک سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کی امت میں شامل فرمایا۔ یہ امت تمام امتوں میں سب سے افضل، معتدل اور بہترین امت ہے۔
زیرِ نظر مضمون میں امتِ محمدیہ کی اسی فضیلت و برتری کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے، اور واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو دنیا اور آخرت دونوں میں کن کن خصوصی امتیازات سے نوازا ہے۔ اس مضمون میں امتِ محمدیہ کی دینی حیثیت، اس کے تشریعی امتیازات، اور اس کے بلند مقام کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا جائے گا۔

امتِ محمدیہ کی فضیلت قرآن کی روشنی میں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿ وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا ﴾
(البقرۃ: 143)

ترجمہ:
’’اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک معتدل اور بہترین امت بنایا ہے۔‘‘

یہ آیت اس بات کی صریح دلیل ہے کہ امتِ محمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے اعتدال، عدل اور فضیلت کے ساتھ نوازا ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّٰهِ ﴾
(آل عمران: 110)

ترجمہ:
’’تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کے لیے پیدا کیا گیا ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘

اس آیت میں امتِ محمدیہ کی خیرِ امت ہونے کی بنیادی وجہ بیان کر دی گئی ہے، یعنی امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور کامل ایمان باللہ۔

حدیثِ نبوی ﷺ میں امت کی فضیلت

رسول اکرم ﷺ نے اسی آیت کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا:

(( أَنْتُمْ تُتِمُّونَ سَبْعِينَ أُمَّةً، أَنْتُمْ خَيْرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللّٰهِ ))
جامع الترمذی: 3001، سنن ابن ماجہ: 4288، وحسنہ الألبانی

ترجمہ:
’’تم امتوں کی تعداد کو ستر تک پورا کرنے والے ہو، اور تم ان سب میں بہترین اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز ہو۔‘‘

اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا:

(( خَيْرُ النَّاسِ لِلنَّاسِ، تَأْتُونَ بِهِمْ فِي السَّلَاسِلِ فِي أَعْنَاقِهِمْ حَتَّى يَدْخُلُوا فِي الْإِسْلَامِ ))
صحیح البخاری: 4557

ترجمہ:
’’تم لوگوں کے لیے بہترین لوگ ہو، تم انہیں (جہاد کے ذریعے) اس حال میں لاتے ہو کہ ان کی گردنوں میں طوق ہوتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اسلام میں داخل ہو جاتے ہیں۔‘‘

یعنی جب وہ اسلام قبول کر لیتے ہیں تو ذلت و غلامی کے طوق خود بخود اتر جاتے ہیں۔

نبی ﷺ کو عطا کی گئی خصوصی فضیلتیں

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(( أُعْطِيتُ مَا لَمْ يُعْطَ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ))

“مجھے وہ چیزیں عطا کی گئی ہیں جو کسی اور نبی کو عطا نہیں کی گئیں۔”

صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کیا ہیں؟
تو آپ ﷺ نے فرمایا:

(( نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ، وَسُمِّيتُ أَحْمَدَ، وَجُعِلَ التُّرَابُ لِي طَهُورًا، وَجُعِلَتْ أُمَّتِي خَيْرَ الْأُمَمِ ))
مسند احمد: 763، 1361، وحسنہ الأرنؤوط

ترجمہ:
’’میری مدد رعب و دبدبہ کے ساتھ کی گئی، مجھے زمین کی کنجیاں عطا کی گئیں، میرا نام احمد رکھا گیا، میرے لیے مٹی کو پاکیزگی کا ذریعہ بنایا گیا، اور میری امت کو سب امتوں میں سب سے بہتر بنایا گیا۔‘‘

ان تمام دلائل سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ امتِ محمدیہ سابقہ تمام امتوں سے افضل ہے۔

افضلیت کی اصل بنیاد: دینِ اسلام

یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ امتِ محمدیہ کی افضلیت کسی نسلی یا خاندانی بنیاد پر نہیں، بلکہ اس کے دین کی وجہ سے ہے۔ یہ امت اللہ، اس کے رسول ﷺ اور قرآنِ مجید پر ایمان رکھتی ہے، جبکہ دیگر اقوام نے اس نعمت کو قبول نہیں کیا۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿ وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ ﴾
(المنافقون: 8)

ترجمہ:
’’عزت تو صرف اللہ، اس کے رسول ﷺ اور مومنوں کے لیے ہے، لیکن منافق لوگ نہیں جانتے۔‘‘

اسی حقیقت کو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا:

(( إِنَّا كُنَّا أَذَلَّ قَوْمٍ فَأَعَزَّنَا اللّٰهُ بِهٰذَا الدِّينِ، فَمَهْمَا نَبْتَغِ الْعِزَّةَ فِي غَيْرِهِ أَذَلَّنَا اللّٰهُ ))

ترجمہ:
’’ہم سب سے زیادہ ذلیل قوم تھے، اللہ نے ہمیں اس دین کے ذریعے عزت دی، پس جب بھی ہم اس کے علاوہ کسی اور چیز میں عزت تلاش کریں گے، اللہ ہمیں ذلیل کر دے گا۔‘‘

یہود و نصاریٰ کا باطل دعویٰ اور اس کی تردید

یہود و نصاریٰ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب لوگ ہیں اور وہی سب سے افضل امت ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے اس جھوٹے دعوے کو واضح طور پر رد فرما دیا۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿ وَقَالَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى نَحْنُ أَبْنَاءُ اللّٰهِ وَأَحِبَّاؤُهُ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوبِكُمْ بَلْ أَنْتُمْ بَشَرٌ مِمَّنْ خَلَقَ يَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَلِلّٰهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ ﴾
(المائدۃ: 18)

ترجمہ:
’’یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں۔ آپ کہہ دیجئے: پھر وہ تمہیں تمہارے گناہوں پر عذاب کیوں دیتا ہے؟ بلکہ تم بھی انہی انسانوں میں سے ہو جنہیں اس نے پیدا کیا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے معاف کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے عذاب دیتا ہے۔ اور آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، سب کا مالک اللہ ہی ہے، اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔‘‘

چونکہ یہود و نصاریٰ نے دینِ اسلام کو قبول نہ کیا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہود کو مغضوب علیہم اور نصاریٰ کو ضالین قرار دیا، اور وہ اس عظیم فضیلت سے محروم رہے جو امتِ محمدیہ کو حاصل ہوئی۔

امتِ محمدیہ کی خصوصیات (قرآن و حدیث کی روشنی میں)

اب ہم امتِ محمدیہ کی وہ خصوصیات ذکر کرتے ہیں جو اس کے افضل ترین امت ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔

دین کا مکمل ہونا

امتِ محمدیہ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا دین مکمل اور کامل ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ﴾
(المائدۃ: 3)

ترجمہ:
’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی، اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کر لیا۔‘‘

دین کا مکمل ہونا اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے، ورنہ اگر دین کو نامکمل چھوڑ دیا جاتا تو ہر شخص اپنی مرضی سے اس میں کمی بیشی کرتا اور یوں دین لوگوں کے ہاتھوں کھلونا بن جاتا۔

اس آیت کی عظمت کا اندازہ اس واقعے سے ہوتا ہے کہ ایک یہودی عالم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا:
’’اے امیر المؤمنین! اگر یہ آیت ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے۔‘‘

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ آیت عرفات کے دن، جمعہ کے روز نازل ہوئی تھی۔
صحیح البخاری: 45، صحیح مسلم: 3017

دین میں آسانی اور تنگی کا نہ ہونا

امتِ محمدیہ کی ایک عظیم خصوصیت یہ ہے کہ اس کا دین آسان ہے اور اس میں سختی نہیں رکھی گئی۔

(1) قرآن سے دلیل

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿ هُوَ اجْتَبَاكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ ﴾
(الحج: 78)

ترجمہ:
’’اس نے تمہیں چن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔‘‘

(2) تیمم کی اجازت

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿ مَا يُرِيدُ اللّٰهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ حَرَجٍ وَلٰكِنْ يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴾
(المائدۃ: 6)

ترجمہ:
’’اللہ تم پر تنگی نہیں کرنا چاہتا بلکہ وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور تم پر اپنی نعمت پوری کرے تاکہ تم شکر گزار بنو۔‘‘

(3) تخفیف کا ارادہ

﴿ يُرِيدُ اللّٰهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْكُمْ وَخُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا ﴾
(النساء: 28)

ترجمہ:
’’اللہ چاہتا ہے کہ تم سے بوجھ ہلکا کرے، اور انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔‘‘

(4) روزے میں آسانی

﴿ يُرِيدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ ﴾
(البقرۃ: 185)

ترجمہ:
’’اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لیے تنگی نہیں چاہتا۔‘‘

پہلی امتوں سے بوجھ ہٹانا

اللہ تعالیٰ نے رسول ﷺ کے ذریعے امتِ محمدیہ سے وہ بوجھ ہٹا دیے جو پہلی امتوں پر تھے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ ﴾
(الأعراف: 157)

ترجمہ:
’’اور وہ ان سے وہ بوجھ اور طوق اتار دیتے ہیں جو ان پر تھے۔‘‘

اس کی چند مثالیں:

❀ بنو اسرائیل میں اگر پیشاب لگ جاتا تو کپڑا یا جلد قینچی سے کاٹنی پڑتی تھی۔
صحیح البخاری: 226، صحیح مسلم: 273، مسند احمد: 19729

❀ حیض والی عورت کو الگ کر دیا جاتا تھا، جبکہ امتِ محمدیہ میں اس کے ساتھ کھانا پینا اور رہنا جائز ہے، سوائے جماع کے۔
صحیح مسلم: 302

❀ بنو اسرائیل میں قتل کے بدلے قتل تھا، جبکہ اسلام میں دیت کی اجازت ہے۔

❀ گناہ کرنے والے کے دروازے پر اس کا گناہ لکھ دیا جاتا تھا، جبکہ اس امت پر پردہ رکھا گیا۔

❀ پہلے روزے میں سونے کے بعد کھانا پینا حرام تھا، جبکہ اس امت کو فجر تک اجازت ہے۔
غنیمت کا مال حلال ہونا
مٹی کو پاکیزگی (طہارت) کا ذریعہ بنایا جانا
پوری زمین کو سجدہ گاہ بنایا جانا

یہ تینوں عظیم خصوصیات نبی کریم ﷺ نے ایک جامع حدیث میں بیان فرمائیں:

(( أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي: كَانَ كُلُّ نَبِيٍّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً، وَبُعِثْتُ إِلَى كُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تُحَلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَيِّبَةً طَهُورًا وَمَسْجِدًا، فَأَيُّمَا رَجُلٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ صَلَّى حَيْثُ كَانَ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ بَيْنَ يَدَيْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ ))
صحیح البخاری: 438، صحیح مسلم: 521 (واللفظ لمسلم)

ترجمہ:
’’مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں:
ہر نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا، جبکہ مجھے ہر گورے اور کالے کی طرف بھیجا گیا۔
میرے لیے غنیمت کا مال حلال کر دیا گیا، جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں تھا۔
میرے لیے زمین کو پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ اور مسجد بنا دیا گیا، لہٰذا جہاں کہیں نماز کا وقت آ جائے، وہیں نماز ادا کر لے۔
ایک ماہ کی مسافت پر دشمن کے دل میں میرا رعب ڈال دیا جاتا ہے۔
اور مجھے شفاعت عطا کی گئی ہے۔‘‘

وضاحت:

❀ پہلی امتوں میں غنیمت کا مال حلال نہ تھا، بلکہ وہ مال جمع کر کے چھوڑ دیتے، اگر آسمان سے آگ آ کر اسے کھا لیتی تو قبولیت کی علامت ہوتی۔
❀ امتِ محمدیہ کے لیے مٹی کو ذریعۂ طہارت بنایا گیا، یعنی پانی نہ ملنے یا ضرر کے وقت تیمم کی اجازت دی گئی۔
❀ پوری زمین کو سجدہ گاہ بنا دیا گیا، اس لیے مسلمان جہاں ہو نماز ادا کر سکتا ہے، مسجد شرط نہیں۔

بھول چوک، وسوسے اور جبر و اکراہ معاف

اللہ تعالیٰ نے اس امت پر خصوصی رحمت فرماتے ہوئے بھول چوک، دل کے خیالات اور جبر کے تحت کیے گئے اعمال کو معاف کر دیا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

(( إِنَّ اللّٰهَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَتَكَلَّمْ ))
صحیح البخاری: 5269

ترجمہ:
’’اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دل کے خیالات اور وسوسوں کو معاف کر دیا ہے جب تک وہ ان پر عمل نہ کرے یا انہیں زبان سے بیان نہ کرے۔‘‘

اور فرمایا:

(( إِنَّ اللّٰهَ قَدْ تَجَاوَزَ لِي عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ ))
سنن ابن ماجہ: 2043، وصححہ الألبانی

ترجمہ:
’’اللہ تعالیٰ نے میری امت کی غلطی، بھول چوک اور جس کام پر انہیں مجبور کیا گیا ہو، اسے معاف کر دیا ہے۔‘‘

امتِ محمدیہ پوری کی پوری ہلاک نہیں ہوگی

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

(( سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا ثَلَاثَ خِصَالٍ، فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً ))

“میں نے اس (امت) کے بارے میں اپنے ربِ عزوجل سے تین چیزیں مانگیں، تو اس نے مجھے دو عطا فرما دیں اور ایک سے مجھے روک دیا۔”

پھر آپ ﷺ نے تفصیل بیان فرمائی:

(( سَأَلْتُ رَبِّي أَنْ لَا يُهْلِكَنَا بِمَا أَهْلَكَ بِهِ الْأُمَمَ قَبْلَنَا فَأَعْطَانِيهَا ))
(( وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْنَا عَدُوًّا مِنْ غَيْرِنَا فَأَعْطَانِيهَا ))
(( وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْبِسَنَا شِيَعًا فَمَنَعَنِيهَا ))
سنن النسائی: 1638، مسند احمد: 21091 (وصححہ الأرنوؤط)

ترجمہ:
’’میں نے اپنے رب سے تین دعائیں مانگیں، دو قبول ہوئیں اور ایک قبول نہ ہوئی۔
میں نے دعا کی کہ میری امت کو پہلی امتوں کی طرح مکمل ہلاک نہ کیا جائے، تو قبول ہو گئی۔
اور یہ دعا کی کہ ہماری پوری امت پر باہر کا دشمن غالب نہ آئے، یہ بھی قبول ہو گئی۔
اور یہ دعا کی کہ ہمیں فرقوں میں تقسیم نہ کیا جائے، تو یہ دعا قبول نہ ہوئی۔‘‘

اسی مضمون کی ایک روایت صحیح مسلم میں بھی ہے۔
صحیح مسلم: 2890

امتِ محمدیہ پوری کی پوری گمراہی پر جمع نہیں ہو سکتی

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

(( إِنَّ اللّٰهَ قَدْ أَجَارَ أُمَّتِي أَنْ تَجْتَمِعَ عَلَى ضَلَالَةٍ ))
صحیح الجامع: 1786، الصحیحۃ: 1331

ترجمہ:
’’اللہ تعالیٰ نے میری امت کو اس بات سے پناہ دے دی ہے کہ وہ پوری کی پوری گمراہی پر جمع ہو جائے۔‘‘

اسی امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا:

(( لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ… ))
صحیح مسلم: 1920

ترجمہ:
’’میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر غالب رہے گا، ان کی مخالفت کرنے والے انہیں نقصان نہ پہنچا سکیں گے، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے۔‘‘

ائمۂ سلف جیسے امام احمد، امام بخاری اور امام ابن المبارک رحمہم اللہ کے نزدیک اس گروہ سے مراد اہلِ حدیث ہیں۔

امتِ محمدیہ امتِ مرحومہ ہے

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(( أُمَّتِي هٰذِهِ أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ، لَيْسَ عَلَيْهَا عَذَابٌ فِي الْآخِرَةِ، عَذَابُهَا فِي الدُّنْيَا الْفِتَنُ وَالزَّلَازِلُ وَالْقَتْلُ ))
سنن ابی داود: 4278، الصحیحۃ: 959

ترجمہ:
’’میری امت ایک ایسی امت ہے جس پر رحم کیا گیا ہے، اس پر آخرت میں عذاب نہیں ہوگا، دنیا میں اس کا عذاب فتنوں، زلزلوں اور قتل و قتال کی صورت میں ہوگا۔‘‘

امتِ محمدیہ کی آخرت سے متعلق خصوصیات

دوسرے حصے میں اب ہم وہ خصوصیات ذکر کرتے ہیں جو قیامت کے دن اور آخرت میں امتِ محمدیہ کو حاصل ہوں گی، جن سے اس امت کی عظمت اور فضیلت مزید واضح ہوتی ہے۔

امتِ محمدیہ کی صفیں فرشتوں کی صفوں کی مانند ہوں گی

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(( فُضِّلْنَا عَلَى النَّاسِ بِثَلَاثٍ: جُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ، وَجُعِلَتْ لَنَا الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدًا، وَجُعِلَتْ تُرْبَتُهَا لَنَا طَهُورًا إِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَاءَ ))
صحیح مسلم: 522

ترجمہ:
’’ہمیں لوگوں پر تین باتوں میں فضیلت دی گئی ہے:
ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح بنائی گئی ہیں،
پوری زمین کو ہمارے لیے مسجد بنا دیا گیا ہے،
اور جب ہمیں پانی نہ ملے تو زمین کی مٹی کو ہمارے لیے پاکیزگی کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔‘‘

مسند احمد کی روایت میں ایک مزید فضیلت کا اضافہ ہے:

(( وَأُعْطِيتُ هٰذِهِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ الْبَقَرَةِ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ يُعْطَهَا نَبِيٌّ قَبْلِي ))
مسند احمد: 23299، وصححہ الأرنؤوط، الصحیحۃ: 1482

ترجمہ:
’’اور مجھے سورۃ البقرہ کی آخری آیات عرش کے نیچے کے خزانے سے عطا کی گئیں، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔‘‘

کم عمل پر زیادہ اجر و ثواب

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(( إِنَّمَا أَجَلُكُمْ فِي أَجَلِ مَنْ خَلَا مِنَ الْأُمَمِ مَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغْرِبِ الشَّمْسِ ))

ترجمہ:
’’تمہاری مدت سابقہ امتوں کی مدت کے مقابلے میں ایسے ہے جیسے عصر سے مغرب تک کا وقت۔‘‘

پھر آپ ﷺ نے مزدوروں کی مثال دے کر فرمایا کہ امتِ محمدیہ کو کم وقت میں دوگنا اجر دیا جاتا ہے۔
صحیح البخاری: 3459

یہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کا عظیم فضل ہے کہ عمر کم ہونے کے باوجود اجر کئی گنا زیادہ عطا کیا جاتا ہے۔

یومِ جمعہ کی خصوصی ہدایت

امتِ محمدیہ کو خاص طور پر جمعہ کے دن کی ہدایت دی گئی، جبکہ پچھلی امتیں اس میں اختلاف کا شکار رہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(( نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ … ))
صحیح البخاری: 3486، صحیح مسلم: 855

ترجمہ:
’’ہم دنیا میں سب سے آخر میں آئے، مگر قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے۔ جمعہ کا دن ہم سے پہلے امتوں پر فرض کیا گیا، مگر وہ اس میں اختلاف کر گئے، اور اللہ نے ہمیں اس کی ہدایت دی۔‘‘

آخری امت لیکن قیامت میں سب سے آگے

صحیح مسلم میں ہے:

(( نَحْنُ الْآخِرُونَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا وَالْأَوَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمَقْضِيُّ لَهُمْ قَبْلَ الْخَلَائِقِ ))
صحیح مسلم: 856

ترجمہ:
’’ہم دنیا میں سب سے آخر میں آئے، لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے ہمارا فیصلہ ہوگا۔‘‘

قیامت کے دن اعضائے وضو چمک رہے ہوں گے

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(( فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ ))
صحیح مسلم: 249

ترجمہ:
’’میرے امتی قیامت کے دن وضو کی وجہ سے چمکتے ہوئے آئیں گے، اور میں حوض پر ان کا استقبال کروں گا۔‘‘

سب سے پہلے امتِ محمدیہ کا حساب ہوگا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

(( نَحْنُ آخِرُ الْأُمَمِ وَأَوَّلُ مَنْ يُحَاسَبُ ))
سنن ابن ماجہ: 4290، وصححہ الألبانی

ترجمہ:
’’ہم امتوں میں آخری ہیں لیکن سب سے پہلے ہمارا حساب ہوگا۔‘‘

انبیاء علیہم السلام کے حق میں گواہی

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن امتِ محمدیہ تمام انبیاء کی دعوت پہنچانے پر گواہی دے گی۔

پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:

﴿ وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ ﴾
(البقرۃ: 143)

ترجمہ:
’’اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک عادل امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو۔‘‘

حوالہ: سنن ابن ماجہ: 4284
پلِ صراط سب سے پہلے نبی ﷺ اور امتِ محمدیہ عبور کرے گی

نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:

(( وَيُضْرَبُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَيْ جَهَنَّمَ فَأَكُونُ أَنَا وَأُمَّتِي أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُهَا ))
صحیح البخاری: 7437، صحیح مسلم: 182

ترجمہ:
’’جہنم کے اوپر پلِ صراط رکھا جائے گا، پھر میں اور میری امت سب سے پہلے اس پر سے گزرنے والے ہوں گے۔‘‘

یہ امت کے لیے ایک عظیم اعزاز ہے کہ قیامت کے ہولناک مراحل میں بھی اسے سبقت عطا کی جائے گی۔

جنت میں داخل ہونے والوں کی اکثریت امتِ محمدیہ سے ہوگی

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(( أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبْعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ ))
پھر فرمایا:
(( أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ ))
پھر فرمایا:
(( إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ))
صحیح البخاری: 6528، صحیح مسلم: 221 (واللفظ لمسلم)

ترجمہ:
’’کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تم اہلِ جنت کا چوتھائی حصہ ہو؟
کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تم اہلِ جنت کا تہائی حصہ ہو؟
میں امید کرتا ہوں کہ تم اہلِ جنت کا آدھا حصہ ہو گے۔‘‘

اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے:

(( أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفٍّ، ثَمَانُونَ مِنْ هٰذِهِ الْأُمَّةِ وَأَرْبَعُونَ مِنْ سَائِرِ الْأُمَمِ ))
سنن ابن ماجہ: 4289، وصححہ الألبانی

ترجمہ:
’’اہلِ جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی، ان میں سے اسی صفیں اسی امت کی ہوں گی اور چالیس باقی امتوں کی۔‘‘

امتِ محمدیہ میں سے بے شمار لوگ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(( عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ … فَقِيلَ لِي هٰذِهِ أُمَّتُكَ، وَمَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ))
صحیح البخاری: 3410، 5705، 5752، صحیح مسلم: 220

ترجمہ:
’’مجھ پر امتیں پیش کی گئیں… پھر مجھ سے کہا گیا: یہ آپ کی امت ہے، اور ان میں ستر ہزار ایسے ہوں گے جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔‘‘

ان لوگوں کی صفات نبی ﷺ نے یوں بیان فرمائیں:

(( هُمُ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَلَا يَكْتَوُونَ، وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ))
صحیح مسلم: 218

ترجمہ:
’’یہ وہ لوگ ہوں گے جو دم نہیں کرواتے، بدشگونی نہیں لیتے، آگ سے داغ نہیں لگواتے اور صرف اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔‘‘

ایک اور روایت میں ہے:

(( مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا، وَثَلَاثُ حَثَيَاتٍ مِنْ حَثَيَاتِ رَبِّي ))
سنن ابن ماجہ: 4286، وصححہ الألبانی

ترجمہ:
’’ہر ایک ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے، اور اس کے علاوہ میرے رب کی تین چُلّو مزید ہوں گی۔‘‘

نتیجہ

امتِ محمدیہ پر اللہ تعالیٰ کے یہ عظیم احسانات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہم دینِ اسلام کو مضبوطی سے تھامے رکھیں، قرآن و سنت کی پیروی کریں، اور اپنے اعمال کو درست کریں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سچے معنی میں اس امت کے شایانِ شان بنا دے، دین پر ثابت قدم رکھے، اور ہمیں ان خوش نصیب لوگوں میں شامل فرمائے جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔
آمین یا رب العالمین