امانت کی تعریف، شرائط اور ضائع ہونے کا حکم: فقہی مسائل مع دلائلِ قرآن و حدیث

فونٹ سائز:
قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل مزارعت، مساقات اور اجارہ وغیرہ کے احکام:جلد 02: صفحہ 136
مضمون کے اہم نکات

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
امانتوں کے احکام

جواب

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 ◈ امانت کی تعریف

امانت اس چیز کو کہا جاتا ہے جو کسی شخص کے پاس اس طور پر رکھی جائے کہ وہ بغیر کسی معاوضے کے اس کی حفاظت کرے، اور مالک جب چاہے اپنی چیز واپس لے سکے۔

◈ مال کی حفاظت میں امانت دار کی حیثیت وکیل جیسی ہوتی ہے، اس لیے اس کا عاقل، بالغ اور سمجھ دار ہونا ضروری ہے۔

◈ امانت کی ذمہ داری وہی شخص قبول کرے جسے اپنے اوپر مکمل اعتماد ہو کہ وہ اس کی صحیح حفاظت کرسکے گا۔ یہ نہایت عظیم اجر و ثواب کا کام ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ”
"اللہ تعالیٰ بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرنے میں مصروف رہتا ہے۔” [صحیح مسلم الذکر والدعاء باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن وعلی الذکر حدیث 2699، ومسند احمد 2/296]

◈ چونکہ لوگوں کی ضرورت بھی اس سے وابستہ ہے، اس لیے جس شخص کو یقین ہو کہ وہ امانت کی حفاظت نہیں کرسکے گا، اسے ہرگز یہ ذمہ داری قبول نہیں کرنی چاہیے۔

① امانت کے ضائع ہونے کی صورت میں حکم

اگر امانت ضائع ہوجائے اور امانت دار نے حفاظت میں کوئی کوتاہی نہ کی ہو تو وہ ضامن نہیں ہوگا۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے اس کا اپنا مال ضائع ہوجائے۔ اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

"من أودع وديعة فلا ضمان عليه "
"امانت جس کے حوالے کی گئی اس پر ضمان نہیں۔” [(ضعیف) سنن ابن ماجہ الصدقات باب الودیعۃ حدیث 2401]

ایک اور روایت میں ہے:

"لاضمان على مؤتمن”
"امین پر (امانت ضائع ہونے کی) ذمہ داری نہیں۔” [(ضعیف) سنن الدارقطنی 3/40 حدیث 2938]

مزید ایک روایت میں ہے:

"لا على المُسْتَوْدَع غير المُغِلّ ضمَان”
"خیانت نہ کرنے والے امین پر تاوان نہیں۔” [(ضعیف) سنن الدارقطنی 3/40 حدیث 2939]

◈ اس میں حکمت یہ ہے کہ امانت دار ثواب کی نیت سے حفاظت کرتا ہے۔ اگر بلاوجہ اس پر تاوان لازم کردیا جائے تو لوگ یہ ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کریں گے، جس سے معاشرتی نقصان ہوگا اور لوگوں کے مفادات متاثر ہوں گے۔

◈ البتہ اگر اس نے حفاظت میں کوتاہی کی ہو تو وہ ضامن ہوگا، کیونکہ اس کی غلطی سے مال ضائع ہوا ہے۔

◈ امانت دار پر لازم ہے کہ امانت کو محفوظ جگہ پر اسی طرح رکھے جیسے اپنا مال رکھتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے امانت ادا کرنے کا حکم دیا ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ يَأمُرُكُم أَن تُؤَدُّوا الأَمـٰنـٰتِ إِلىٰ أَهلِها…﴿٥٨﴾… سورة النساء
"اللہ تمھیں تاکیدی حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انھیں پہنچاؤ۔” [النساء:4/58]

درست ادائیگی اسی وقت ممکن ہے جب امانت کو محفوظ رکھا جائے۔ جب کسی نے امانت قبول کرلی تو اس پر لازم ہے کہ پوری ذمہ داری کے ساتھ اس کی حفاظت کرے۔

② اگر امانت جانور ہو

اگر امانت جانور کی صورت میں ہو تو امانت دار پر لازم ہے کہ اسے چارہ اور پانی دے۔

◈ اگر اس نے کھلانے پلانے میں کوتاہی کی حتیٰ کہ جانور مر گیا یا بیمار ہوگیا تو وہ ضامن ہوگا۔
◈ اسے گناہ بھی ہوگا، کیونکہ جانور کا حق اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر لازم تھا، چاہے مالک نے خاص ہدایت نہ بھی کی ہو۔

③ امانت کو آگے رکھوانا

امانت دار عرف و عادت کے مطابق امانت کسی ایسے شخص کے پاس رکھ سکتا ہے جس کے پاس وہ عموماً اپنی چیزیں رکھتا ہے، جیسے:

✔ اپنی بیوی
✔ غلام
✔ خزانچی
✔ خادم

اگر ان میں سے کسی کے پاس امانت ضائع ہوجائے تو امانت دار ضامن نہیں ہوگا، بشرطیکہ نقصان اس کی کوتاہی سے نہ ہوا ہو۔ کیونکہ اسے اختیار ہے کہ خود حفاظت کرے یا حسبِ معمول کسی قابلِ اعتماد فرد کے سپرد کرے۔

④ اجنبی شخص کے حوالے کرنا

اگر امانت دار نے بلاوجہ کسی اجنبی شخص کے حوالے امانت کردی اور وہ ضائع ہوگئی تو پہلا امانت دار ضامن ہوگا۔

البتہ اگر مجبوری ہو، مثلاً:

✔ موت کا وقت قریب ہو
✔ سفر کا ارادہ ہو اور ساتھ لے جانا مناسب نہ ہو

تو ایسی صورت میں اجنبی کے حوالے کرنا جائز ہے اور ضائع ہونے کی صورت میں وہ ضامن نہ ہوگا۔

⑤ سفر یا خوف کی حالت میں

اگر امانت دار سفر پر جارہا ہو یا خطرہ لاحق ہو تو:

① امانت مالک یا اس کے وکیل کے حوالے کرے۔
② یا خود ساتھ لے جائے بشرطیکہ خطرہ نہ ہو۔
③ اگر خطرہ ہو تو حاکم کے حوالے کرے۔
④ اگر دیانت دار حاکم دستیاب نہ ہو تو کسی بااعتماد شخص کے سپرد کرے جو اصل مالک تک پہنچا دے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے موقع پر لوگوں کی امانتیں ام ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حوالے کیں اور سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ انہیں ان کے مالکوں تک پہنچادیں۔ [المغنی والشرح الکبیر 7/280]

⑥ موت کی صورت میں

اگر کسی شخص کی وفات قریب ہو اور اس کے پاس لوگوں کی امانتیں ہوں تو اس پر واجب ہے کہ:

✔ انہیں مالکان کو واپس کرے۔
✔ اگر مالکان نہ ملیں تو حاکم کے سپرد کرے۔
✔ یا کسی بااعتماد شخص کے حوالے کرے۔

⑦ تعدی یا کوتاہی کی صورت

اگر امانت دار نے کوتاہی یا زیادتی کی جس سے امانت ضائع ہوگئی تو وہ ضامن ہوگا۔ مثالیں:

◈ امانت کے طور پر رکھے گئے جانور پر بلااجازت سواری کرنا۔
◈ امانت کے کپڑے کو غیرضروری استعمال میں لانا۔
◈ دراہم کو تھیلی سے نکال لینا۔
◈ تھیلی کا تسمہ کھول دینا۔

اگر ان حالات میں امانت ضائع ہوئی تو وہ ضامن ہوگا، کیونکہ اس کی تعدی سبب بنی۔

⑧ امانت دار کا دعویٰ

اگر امانت دار دعویٰ کرے کہ:

✔ اس نے امانت مالک یا اس کے قائم مقام کو واپس کردی ہے، یا
✔ امانت کے ضائع ہونے میں اس کی کوتاہی شامل نہیں تھی

تو اس کی بات قسم کے ساتھ قبول کی جائے گی، کیونکہ وہ امین ہے اور اصل یہی ہے کہ انسان کو سچا سمجھا جائے جب تک اس کے خلاف دلیل نہ ہو۔

یہ چیز اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ يَأمُرُكُم أَن تُؤَدُّوا الأَمـٰنـٰتِ إِلىٰ أَهلِها…﴿٥٨﴾… سورة النساء
"اللہ تمھیں تاکیدی حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انھیں پہنچاؤ۔” [النساء:4/58]

البتہ اگر وہ دعویٰ کرے کہ امانت آگ لگنے یا کسی حادثے میں ضائع ہوئی ہے تو اسے اس واقعے کے گواہ پیش کرنا ہوں گے۔

⑨ مطالبہ پر فوری ادائیگی

جب بھی مالک اپنی امانت کا مطالبہ کرے تو امانت دار پر لازم ہے کہ فوراً ادا کرے۔

اگر اس نے تاخیر کی اور اسی دوران امانت ضائع ہوگئی تو وہ ضامن ہوگا، کیونکہ اس نے مطالبہ کے باوجود ادائیگی میں تاخیر کرکے حرام کام کیا۔

واللہ اعلم بالصواب