سوال
کیافرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ حاجی عبداللہ اور منشی غلام محمد میں سے ہر ایک کو اپنی اپنی کپاس کی رقم کا چیک سیٹھ عبدالشکور کی طرف سے ملا۔ دونوں چیک لے کر وہ بینک میں آئے اور کل 18000 روپے وصول کیے۔ غلام محمد مصطفی اور حاجی عبداللہ نے ایک ایک ہزار روپے لے لیے۔
منشی غلام محمد کے پاس کھلے پیسے موجود تھے، اس نے دو دو ہزار والی دستیاں حاجی عبداللہ کے رومال میں باندھ دیں اور باقی رقم اپنے پاس رکھ لی۔
اس کے بعد دونوں سیٹھ جمیل کی دکان پر گئے۔ اسی دوران حاجی عبداللہ کا ایک گاہک آیا اور اس سے رقم طلب کی۔ حاجی عبداللہ نے اپنے رومال میں سے ایک ہزار والی دستی نکال کر دے دی اور باقی کھلے پیسے بھی دے دیے۔ اس پر منشی غلام محمد نے کہا کہ میں حاجی صاحب کو مزید کھلے پیسے دیتا ہوں۔ چنانچہ اس نے پانچ ہزار روپے حاجی عبداللہ کو دے دیے۔
اب دونوں وہیں بیٹھے رہے۔ رومال میں بندھی ہوئی رقم، جس میں چار ہزار روپے حاجی عبداللہ کے اور سات ہزار روپے منشی غلام محمد کے تھے، دونوں کے درمیان سے چوری ہوگئی۔ تلاش و تحقیق کے باوجود یہ رقم واپس نہ مل سکی۔
سوال یہ ہے کہ شریعت کی رو سے یہ چوری شدہ رقم کس پر لازم آئے گی اور کس کو ادا کرنی پڑے گی؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ یہ معاملہ امانت کا تھا۔ اگر امانت چوری ہوجائے تو شریعت کی رو سے اس کا تاوان یا بھرپائی نہیں کی جاتی۔
جیسا کہ روایت میں ہے:
((وروي عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده ان النبي صلي الله عليه وسلم قال من اودع وديعة فلاضمان عليه.))
(رواه ابن ماجه، كتاب الصدقات، باب الوديعة، رقم الحديث: 1012)
اسی طرح ایک اور حدیث میں امام بیہقی رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((لا ضمان علي مؤتمن.))
(دارقطني، كتاب البيوع)
یعنی جس کے پاس امانت رکھی جائے، اگر وہ دیانت داری کے ساتھ حفاظت کرے اور اس کے باوجود امانت ضائع یا چوری ہوجائے، تو اس پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی اور نہ ہی اس سے تاوان لیا جائے گا۔
لہٰذا منشی غلام محمد اور حاجی عبداللہ میں سے کسی پر بھی اس چوری شدہ رقم کی ادائیگی لازم نہیں آتی۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب