مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کے قول لا أعرفه کا کیا مطلب ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کے قول لا أعرفه کا کیا مطلب ہے؟

جواب:

جس راوی کے متعلق امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ لا أعرفه کہیں، وہ مجہول ہوتا ہے۔ اس کی ثقاہت یا ضعف ثابت نہیں ہوتا۔
❀ امام عبدالرحمن بن ابی حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
يعني لا أعرف تحقيق أمره
امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کی مراد یہ ہے کہ میں اس کے معاملہ کی حقیقت (ثقہ یا ضعیف) کو نہیں جانتا۔
(الجرح والتعديل: 311/5)
❀ نیز فرماتے ہیں:
يعني لأنه مجهول
امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کی مراد یہ ہے کہ یہ راوی مجہول ہے۔
(الجرح والتعديل: 15/8)
❀ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إذا قال مثل ابن معين لا أعرفه فهو مجهول غير معروف، وإذا عرفه غيره لا يعتمد على معرفة غيره لأن الرجال بابن معين تسبر أحوالهم
جب یحییٰ بن معین رحمہ اللہ جیسا (امام) لا أعرفه کہہ دے تو وہ مجہول غیر معروف راوی ہوتا ہے۔ اگر کوئی دوسرا اس راوی کو پہچان جائے، تو اس کی معرفت پر اعتماد نہیں کیا جائے گا، کیونکہ راویوں کے حالات یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کے ذریعے جانچے جاتے ہیں۔
(الكامل في ضعفاء الرجال: 485/5)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔