مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

امام کے پیچھے قراءت کے متعلق ایک صحیح اثر تابعی سے

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی علمیہ، جلد 1، کتاب الصلاة، صفحہ 310

سوال

عبد اللہ بن عثمان بن خثیم رحمہ اللہ نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ تابعی سے سوال کیا:”کیا میں امام کے پیچھے قراءت کروں؟”

جواب

الحمد للہ، والصلاة والسلام علی رسول اللہ، أما بعد:

انہوں نے فرمایا: "ہاں، اگرچہ تم اس کی قراءت سنو۔”

مزید فرمایا: "بیشک ان لوگوں نے بدعت نکال لی ہے (کہ سکتہ نہیں کرتے)، سلف یہ کام نہیں کرتے تھے۔”

وضاحت کرتے ہوئے کہا:
"بیشک سلف (یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) میں سے جب کوئی لوگوں کی امامت کرتا تھا تو ‘اللہ اکبر’ کہہ کر خاموش ہو جاتا۔ یہاں تک کہ جب اسے یقین ہو جاتا کہ اب ہر مقتدی نے سورۃ الفاتحہ پڑھ لی ہو گی، تو پھر وہ قراءت شروع کرتا تھا، اور اس وقت مقتدی خاموش ہو جایا کرتے تھے۔”

شرعی حکم

اس روایت کی سند حسن ہے۔

تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:
جزء القراءت للبخاری مع نصر الباری، صفحات 83-84
مصنف عبد الرزاق، جلد 2، صفحہ 134
(شہادت: مارچ 2000ء)

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔