مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

امام کے پیچھے قراءت والی روایت – سند باطل ہے

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال :

درج ذیل روایت کی سند کیسی ہے؟
❀ سیدناعلی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :
قال رجل للنبي صلى الله عليه وسلم : أقرأ خلف الإمام أو أنصت؟ قال : بل أنصت فإنه يكفيك.
” ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: کیا میں امام کے پیچھے قرآت کروں یا خاموش رہوں؟ فرمایا : خاموش رہیے ، امام کی قرآت آپ کو کفایت کرے گی ۔“
(سنن الدار قطنیی : 330/1)

جواب :

اس کی سند باطل ہے۔
① غسان بن ربیع ضعیف ہے۔
② قیس بن ربیع ضعیف ہے۔
③ محمد بن سالم ہمدانی ضعیف و متروک ہے۔
④ حارث بن عبد اللہ اعور ضعیف ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔