امام کے پیچھے ”اقرأ بها في نفسك“ کا صحیح مفہوم

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

(اقرأ بها فى نفسك) سے کیا مراد ہے؟

جواب:

پہلے مکمل روایت ملاحظہ ہو:
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من صلى صلاة لم يقرأ فيها بأم القرآن فهي خداج ثلاثا غير تمام، فقيل لأبي هريرة: إنا نكون وراء الإمام؟ فقال: اقرأ بها فى نفسك
”جس نے سورت فاتحہ کے بغیر نماز پڑھی، وہ نماز ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، مکمل نہیں ہے۔ تو سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں؟ فرمایا: سورت فاتحہ آہستہ سے پڑھیں۔“
(موطأ الإمام مالك: 84/1، صحيح مسلم: 395)
اقرأ بها فى نفسك کا معنی:
احادیث محدثین کی ہیں۔ وہی ان کے الفاظ و معانی کے امین ہیں۔ عافیت اسی میں ہے کہ محدثین کے معانی و مفاہیم پر اکتفا کیا جائے۔
محدثین کرام اس حدیث سے مقتدی پر سورت فاتحہ کی قرآت کو لازم قرار دیتے ہیں۔ اس کے برعکس بعض لوگ محدثین کی روایات کو اپنا معنی پہناتے ہیں، یہ کسی طرح درست نہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ الفاظ منفرد کے بارے میں ہیں، یا سری نمازوں کے بارے میں ہیں، یا تدبر و تفکر پر محمول ہیں۔ ذیل میں ہم ثابت کریں گے کہ یہ تمام مفاہیم مبنی بر خطا ہیں اور درست معنی وہی ہے جو ائمہ و محدثین نے لیا ہے۔
① جب سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں، کیا ہم فاتحہ پڑھیں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ فاتحہ آہستہ آواز میں پڑھیں۔ جب سوال ہی مقتدی کے بارے میں ہے، تو پھر جواب بھلا منفرد کے بارے میں کیونکر ہو سکتا ہے؟ ظاہر بات ہے کہ ان الفاظ کا تعلق مقتدی کے ساتھ ہی ہے۔ ائمہ حدیث کا فہم اس کی تائید کرتا ہے۔
② ان الفاظ کا تعلق سری نمازوں سے جوڑنا درست نہیں، کیونکہ بعض روایات میں ہے:
إني أسمع قراءة الإمام
”میں امام کی قرآت سن رہا ہوتا ہوں۔“
(مسند الحميدي: 1004، صحيح أبي عوانة: 1680)
یہ تو ظاہر سی بات ہے کہ امام کی قرآت سری نمازوں میں نہیں سنی جاتی، لہذا اس اثر کو صرف سری نمازوں پر محمول کرنا درست نہ ہوا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جہری نمازوں میں امام کے پیچھے قرآت کے قائل تھے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا فتویٰ آپ نے ملاحظہ فرمالیا۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
إذا قرأ الإمام بأم القرآن فاقرأ بها واسبقه
”جب امام سورت فاتحہ پڑھے تو آپ بھی پڑھیے اور امام سے سبقت لے جائیے۔“
(جزء القراءة للبخاري: 146، وسنده حسن)
❀ علامہ نیموی حنفی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ”حسن “کہا ہے۔
(آثار السنن: 358)
اسی طرح سیدنا امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی جہری نماز میں امام کے پیچھے قرآت کرنے کا فتویٰ دیتے تھے۔
❀ یزید بن شریک تیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
سألت عمر بن الخطاب عن القراءة خلف الإمام، فقال لي: اقرأ، قلت: وإن كنت خلفك؟ قال: وإن كنت خلفي، قال: وإن قرأت
”میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے امام کے پیچھے قرآت کے بارے میں سوال کیا، فرمایا: آپ قرآت کیجیے، میں نے عرض کیا: اگرچہ میں آپ کے پیچھے (مقتدی) ہوں؟ فرمایا: جی ہاں، اگرچہ آپ میری اقتدا میں ہوں اور میں قرآت کر رہا ہوں۔ “
(مصنف ابن أبي شيبة: 3748، شرح معاني الآثار: 218/1، وسنده صحيح)
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فتویٰ ہے:
اقرأ خلف الإمام بفاتحة الكتاب.
”آپ امام کے پیچھے سورت فاتحہ پڑھیے۔“
(الأوسط لابن المنذر: 1324، وسنده صحيح)
احناف بتائیں کہ وہ سری نمازوں میں امام کے پیچھے سورت فاتحہ کیوں نہیں پڑھتے؟
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بیان کردہ روایت ترک کرنے کی وجہ؟
❀ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
كنا نقرأ فى الظهر والعصر خلف الإمام فى الركعتين الأوليين بفاتحة الكتاب وسورة وفي الأخريين بفاتحة الكتاب.
”ہم (صحابہ) ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں امام کے پیچھے سورت فاتحہ اور مزید کوئی سورت پڑھتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں صرف سورت فاتحہ پڑھتے تھے۔“
(سنن ابن ماجه: 843، وسنده صحيح)
اسی طرح سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بھی ظہر وعصر میں امام کے پیچھے قرآت کرتے تھے۔
(شرح معاني الآثار للطحاوي: 219/1، وسنده صحيح)
❀ امام ابونضرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
سألت أبا سعيد، عن القراءة خلف الإمام فقال: فاتحة الكتاب.
”میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا مقتدی امام کے پیچھے قرآت کرے گا؟ فرمایا: سورت فاتحہ پڑھے گا۔“
(القراءة خَلفَ الإمام للبخاري: 27، القراءة للبيهقي: 224، وسنده حسن)
کسی صحابی سے سری نمازوں میں امام کے پیچھے قرآت ترک کرنا ثابت نہیں۔
اقرأ بها فى نفسك کا معنی تدبر اور غور وفکر کرنا بھی کسی طور درست نہیں، اہل علم نے اس کا معنی کچھ یوں بیان کیا ہے:
❀ امام بیہقی رحمہ اللہ (458ھ) فرماتے ہیں:
”سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول: اِقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ سے مراد یہ ہے کہ سورت فاتحہ کو سراً پڑھا جائے، اونچی آواز سے نہ پڑھا جائے۔ ان الفاظ کو دل میں فاتحہ پڑھنے اور زبان سے ادا نہ کرنے پر محمول نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اہل لغت کا اجماع ہے کہ دل میں پڑھنے کو قرآت نہیں کہا جاتا، نیز اہل علم کا اجماع ہے کہ فاتحہ کو دل سے پڑھنا اور زبان سے ادا نہ کرنا نہ (نماز کی شرائط میں سے کوئی) شرط ہے اور نہ ہی مسنون عمل ہے، لہذا اس روایت کو ایسے معنی پر محمول کرنا جائز نہیں، جس کا نہ کوئی قائل ہو اور نہ لغت عرب اس کا ساتھ دے۔“
(كتاب القراءة خلف الإمام، ص 31)
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
”یہ روایت امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ کی دلیل ہے، (جو کہتے ہیں:) امام، مقتدی اور منفرد پر فاتحہ پڑھنا واجب ہے۔ مقتدی کے لیے وجوب کی دلیل سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ فتویٰ بھی ہے اِقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ "آہستہ آواز میں سورت فاتحہ پڑھیے۔” اس کا معنی ہے کہ اتنی مخفی آواز میں پڑھیے کہ آپ خود کو سنا سکیں۔ بعض مالکیہ وغیرہ نے ان الفاظ سے مراد تدبر کرنا اور یاد دہانی لیا ہے، یہ معنی قبول نہیں، کیونکہ قرآت کا اطلاق تب ہی ہو سکتا ہے، جب زبان کو اتنی حرکت دی جائے کہ خود کو آواز سنائی دے۔ اسی طرح اہل علم کا اتفاق ہے کہ جنبی شخص اگر قرآن میں دل سے تدبر کرے اور زبان کو حرکت نہ دے، تو اسے قرآن پڑھنے والا اور حالت جنابت میں قرآت کرنے پر گناہ کا مرتکب قرار نہیں دیا جاتا۔
(شرح مسلم: 103/4)
❀ علامہ انورشاہ کاشمیری رحمہ اللہ کہتے ہیں:
أما ما قال المدرسون من أن المراد بالقراءة فى نفسه التدبر والتفكر فلا يوافقه اللغة.
”(بعض حنفی) مدرسین کا کہنا کہ القراءة فى نفسه سے مراد تدبر اور تفکر ہے، (درست نہیں، کیونکہ) اس معنی کی لغت موافقت نہیں کرتی۔“
(العرف الشذي: 78/1)
صاحب ہدایہ لکھتے ہیں کہ جب امام دوران خطبہ سورت الاحزاب کی آیت نمبر 56 پڑھے، تو:
يصلي السامع فى نفسه
”سننے والا آہستہ سے درود پڑھے۔“
(الهداية: 123/1)
اس کا مفہوم ”الکفایہ شرح ہدایہ“ میں یوں بیان ہوا ہے:
أى فيصلي بلسانه خفيا.
”یعنی زبان سے مخفی آواز میں درود پڑھے۔“
(تحفة الأحوذي: 206/2، مرعاة المفاتيح: 113/3)
❀ علامہ مظہری حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
في نفسك کا مطلب ہے کہ اتنی آواز میں پڑھیں کہ آپ اپنے آپ کو سنا سکیں، اتنا اونچا نہ پڑھیں کہ ساتھ والے نمازی کو تشویش میں ڈال دیں۔ جو اپنی قرآت نہ سن سکے، اس کی قرآت درست نہیں۔“
(المفاتيح شرح المصابيح: 126/2)
❀ علامہ سندھی حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
قوله: (في نفسك) أى سرا.
”سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا فرمان: فى نفسك کا معنی ہے: سراً قرآت کرنا۔“
(حاشية السندهي على سنن ابن ماجه: 277/1)
❀ علامہ عبدالحق بن سیف الدین دہلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
قوله: (قال: اقرأ بها فى نفسك) أى سرا بحيث تسمع نفسك.
”سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے فرمان: (اقرأ بها فى نفسك) کی مراد ہے کہ اتنی آہستہ قرآت کریں کہ خود کو سنائی دے۔“
(لمعات التنقيح فى شرح المصابيح: 583/2)
❀ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اقرأ خلف الإمام فى كل ركعة بفاتحة الكتاب فى نفسك.
”امام کے پیچھے ہر رکعت میں چپکے چپکے سورت فاتحہ پڑھے۔“
(مصنف ابن أبى شيبة: 374/1، وسنده صحيح)
❀ امام اوزاعی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے:
”امام کو چاہیے کہ جیسے شروع نماز میں تکبیر اولیٰ کے بعد سکتہ کرے اور سورت فاتحہ کی قرآت کے بعد بھی سکتہ کرے، تا کہ مقتدی سورت فاتحہ پڑھ لے۔ اگر امام سکتہ نہ کرے، تو مقتدی کو چاہیے کہ امام کے ساتھ ساتھ ہی سورت فاتحہ پڑھ لے اور جلدی پڑھ لے، پھر غور سے امام کی قرآت سنے۔“
(القراءة خلف الإمام للبيهقي، ص 71، وسنده صحيح)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️ 💾