مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

امام کے قراءت کے دوران قراءت کا حکم: ایک ضعیف روایت کا تجزیہ

فونٹ سائز:
ماخذ: فتاویٰ علمیہ، جلد 1، کتاب الصلاة، صفحہ 310

سوال: ’’جب امام خاموش ہو تو تم پڑھو‘‘

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ: "جب امام خاموش ہو تو تم پڑھا کرو اور جب وہ پڑھے تو تم خاموش ہو جایا کرو۔”

الجواب :

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس روایت کی سند نہایت کمزور بلکہ موضوع (من گھڑت) ہے۔

تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: القراءة للبیہقی، صفحات 79، 80

اس روایت کی سند میں اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہ نامی راوی شامل ہے جو:

◈ کذاب (جھوٹا)
◈ متروک (رد کیا گیا راوی) ہے

اس بنا پر ایسی موضوع اور جھوٹی روایتیں بیان کرنا جائز نہیں۔

شہادت: مارچ 2000ءھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔