سوال:
امام کے بالکل قریب کھڑے ہونے کا حق کسے ہے؟
جواب:
پہلی صف میں امام کے بالکل پیچھے اہل علم، اہل تقویٰ، اہل صلاح اور بالغ و عاقل کھڑے ہوں، تا کہ امام کو غلطی پر متنبہ کر سکیں، اگر امام کا وضو ٹوٹ جائے یا کوئی اور مسئلہ درپیش ہو، تو امام کی نیابت کر سکیں، مگر افسوس سے لکھنا پڑ رہا ہے کہ اس کی کوئی پرواہ ہی نہیں کی جاتی۔ ہمارے ہاں غیر سنجیدہ لوگ، مثلاً داڑھی منڈوانے والے یا علم دین سے جاہل لوگ بھی امام کے پیچھے آ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔
❀ سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ليلني منكم أولو الأحلام والنهى، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم
”میرے قریب عقل و بینش والے کھڑے ہوں، پھر جو ان سے کم ہوں، پھر جو ان سے کم ہوں۔“
(صحیح مسلم: 432)
❀ علامہ خطابی رحمہ اللہ (388ھ) لکھتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ امام کے قریب اہل دانش کھڑے ہوں تا کہ وہ امام کی نماز کو سمجھ سکیں، نیز امام کو نماز میں کوئی مسئلہ درپیش ہو، تو اس کی نیابت کر سکیں۔ اسی طرح امام کو غلطی لگے، تو اس کی اصلاح کر سکیں، یا اس طرح کا کوئی اور معاملہ پیش آئے، تو سنبھال لیں۔“
(معالم السنن: 184/1)