مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

امام کا وضو ٹوٹنے پر جماعت کا حکم

فونٹ سائز:
فتاویٰ علمائے حدیث کتاب الصلاۃ جلد 1 ص 247

سوال

اگر امام جماعت کروا رہا ہو اور اس کا وضو ٹوٹ جائے تو کیا کرنا چاہیے؟ کیا وہ وضو کرنے کے بعد واپس آ کر وہیں سے نماز جاری رکھے؟

جواب

اگر امام کا وضو ٹوٹ جائے تو دو صورتیں ہو سکتی ہیں:

➊ اگر کوئی دوسرا شخص امامت کے فرائض سرانجام دینے کے قابل ہو تو وہ آگے بڑھ کر امامت مکمل کر سکتا ہے۔

➋ اگر کوئی دوسرا امامت کے لیے موجود نہ ہو تو امام سمیت تمام مقتدی سلام پھیر دیں۔ اس کے بعد امام وضو کر کے دوبارہ سے نماز شروع کرے اور جماعت از سر نو قائم کی جائے۔

(حوالہ: اہل حدیث سوہدرہ، جلد نمبر ۹، شمارہ نمبر ۴۱)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔