مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

امام مسجد کے کردار کی خرابی اور اس کی امامت کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاویٰ علمائے حدیث، کتاب الصلاۃ، جلد 1، ص 222

سوال

ایک امام مسجد کا سالا ایک عورت کو اغوا کر کے اپنے ساتھ لے آیا ہے، اور امام مذکور بھی اس معاملے میں شریک ہے۔ وہ دونوں اس عورت کے ساتھ رہتے ہیں اور امام نے ان کی رہائش کا بھی انتظام کیا ہے۔ کیا ایسا امام امامت کے لائق ہے؟

جواب

اگر یہ واقعہ درست ہے اور امام صاحب اس جرم میں شریک ہیں، تو وہ سخت گناہ گار اور فاسق ہیں۔ ایسا شخص ہرگز لائق امامت نہیں ہے۔ اسلام میں امام کا کردار نہایت پاکیزہ اور دیانت دار ہونا چاہیے، اور جو شخص ایسے سنگین گناہوں میں ملوث ہو، اسے فوراً امامت سے ہٹا دینا واجب ہے۔

جب تک امام صاحب سچے دل سے توبہ نہ کریں اور عورت کو اس کے حق دار (خاوند) کے پاس واپس نہ کریں، اور ان کی اصلاح کے واضح آثار نہ دکھائی دیں، تب تک انہیں دوبارہ امامت کے منصب پر مقرر نہیں کیا جا سکتا۔

حوالہ: (فقیر محمد یوسف دہلوی، مدرسہ امینیہ دہلی)
(محمد کفایت اللہ، دہلی)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔