ائمہ کرام اور رفع الیدین
اصل حجت قرآن، حدیث اور اجماع ہے، ائمہ کرام کے اقوال بطور فہم سلف صالحین، بطور استشہاد اور ان کے پیروکاروں کی تسلی کے لئے پیش کئے جا رہے ہیں تا کہ ان لوگوں پر یہ ثابت کر دیا جائے کہ صحیح احادیث پر عمل کرتے ہوئے جلیل القدر ائمہ کرام رحمہم اللہ بھی رفع الیدین کرتے رہے ہیں۔
① امام مالک بن انس رحمہ اللہ
➊ جامع ترمذی مع عارضتہ الاحوذی (57/2) جامع ترمذی مع تخریج احمد شاکر [37/2 تحت ح256]
➋ طرح التثريب للعراقی (254،253/2)
➌ التمہید لابن عبد البر (213/9،222،223)
➍ الموضوعات لابن الجوزی [98/2]
➎ الاستذكار [124/2]
➏ شرح صحیح مسلم للنووی (95/4)
➐ المجموع شرح المہذب [399/3]
➑ المغنی لابن قدامہ (294/1)
➒ بدایۃ المجتہد لابن رشد [133/1]
➓ نیل الاوطار [180/4،180/2]
⓫معالم السنن للخطابي [193/1]
⓬ شرح السنة للبغوی [23/3]
⓭ المحلى لابن حزم [87/4]
⓮ المفهم للقرطبي [19/2]
ان تمام کتابوں میں امام مالک کے رفع الیدین کرنے کا ذکر ہے۔
عبداللہ بن وہب نے فرمایا: رأيت مالك بن أنس يرفع يديه إذا افتتح الصلوة وإذا ركع وإذا رفع من الركوع میں نے (امام) مالک بن انس کو دیکھا، آپ نماز شروع کرتے وقت، رکوع سے پہلے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کرتے تھے۔ (تاریخ دمشق لابن عساکر ج 55 ص 34 وسنده حسن]
ابو عبد اللہ محمد بن جابر بن حماد المروزی الفقیہ رحمہ اللہ نے کہا: میں نے محمد بن عبد اللہ بن عبد الحکم سے یہ ذکر کیا تو انھوں نے فرمایا: هذا قول مالك وفعله الذى مات عليه وهو السنة وأنا عليه وكان حرملة على هذا
یہ (امام) مالک کا (آخری) قول اور فعل ہے جس پر وہ فوت ہوئے ہیں اور یہی سنت ہے۔ میں اسی پر عامل ہوں اور حرملہ (بن یحیی) بھی اسی پر عامل ہے۔ [تاریخ دمشق 133/55 دسندہ حسن]
معلوم ہوا کہ امام مالک آخری دور میں وفات تک رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع یدین کرتے تھے۔ رحمہ اللہ
امام خطابی اور امام بغوی نے اس کی تصریح کی ہے کہ امام مالک کا آخری عمل رفع الیدین کا تھا۔ (معالم السنن ج 1 ص 67 تحت ح236 شرح السنة 23/3 561]
بلکہ ابو العباس القرطبي نے کہا کہ ان الرفع فى المواطن الثلاثة هو آخر أقواله وأصحها (طرح التثريب ج 1 ص 254 واللفظ له، المفهم 19/2]
یعنی ان تینوں جگہوں پر رفع الیدین کرنا امام مالک کا آخری اور سب سے صحیح قول ہے۔
اس کے مقابلے میں (کہا جاتا ہے کہ) صرف سحنون نے امام مالک سے ترک رفع الیدین روایت کیا ہے۔
لہذا یہ روایت شاذ و مردود ہے۔
② امام محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ
➊ کتاب الام للشافعی (ج 1 ص104]
➋ جامع ترمذی [37/2 تحت حدیث 256]
➌ شرح صحیح مسلم للنووی [95/4]
➍ احکام الاحکام شرح عمدة الاحکام، لابن دقیق العید (ج 1 ص 220]
رفع الیدین امام شافعی سے متواتر ثابت ہے۔
③ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ
➊ سنن ترمذی (ج 2 ص 37 تحت حدیث 256)
➋ مسائل امام احمد [ص70]
➌ الاستذکار [ج 2 ص 126]
➍ ذکر محنتہ الامام احمد بن حنبل بن الحق (ص 110،111)
امام ابوداود فرماتے ہیں:
رأيت أحمد يرفع يديه عند الركوع وعند الرفع من الركوع كرفعه عند افتتاح الصلوة يحاذيان أذنيه وربما قصر عن رفع الإفتتاح قال: وسمعت أحمد، قيل له: رجل سمع هذه الأحاديث عنه صلی اللہ علیہ وسلم ثم لا يرفع هو تام الصلوة؟ قال: تمام الصلوة لا أدري ولكن هو فى نفسه منقوص.
میں نے امام احمد کو دیکھا ہے وہ رکوع سے پہلے اور بعد بھی شروع نماز کی طرح رفع الیدین کانوں تک کرتے تھے اور بعض اوقات شروع نماز والے رفع الیدین سے ذرا تقصیر کر کے رفع الیدین کرتے تھے۔
اور میں نے امام احمد کو کہتے ہوئے سنا جب ان سے کہا گیا کہ ایک شخص رفع الیدین کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ احادیث سنتا ہے اور پھر بھی رفع الیدین نہیں کرتا، کیا اس کی نماز پوری ہو جاتی ہے؟
تو آپ نے فرمایا: پوری نماز ہونے کا تو مجھے معلوم نہیں ہے، ہاں وہ فی نفسہ نقص والی نماز ہے (ناقص نماز والا ہے)۔ (مسائل احمد روایۃ ابی داود ص 33]
جو لوگ رفع الیدین نہیں کرتے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے ان کی نماز کو ناقص قرار دیا ہے۔ (نیز دیکھئے المنہج الاحمد ج 1ص 159)
④ امام اوزاعی رحمہ اللہ
امام ابوعمر وعبد الرحمن بن عمر والاوزاعی (جو کہ الفقیہ ثقہ جلیل تھے) نے کہا:
بلغنا أن من السنة فيما أجمع عليه علماء الحجاز والبصرة والشام أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يرفع يديه حذو منكبيه حين يكبر لإستفتاح الصلوة وحين يكبر للركوع ويهوي ساجدا وحين يرفع رأسه من الركوع إلا أهل الكوفة فإنهم خالفوا فى ذلك أمتهم.
ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ جس سنت پر علمائے حجاز، علمائے بصرہ اور علمائے شام کا اجماع ہے وہ شروع نماز، رکوع کے وقت تکبیر کہتے وقت سجدہ کو جھکتے وقت (مراد ر کوع ہی ہے کیوں کہ اس کے بعد رکوع سے سر اُٹھانے کا ذکر ہے) اور رکوع سے سر اُٹھاتے وقت رفع الیدین کا کرنا ہے۔ صرف کوفیوں نے امت (مسلمہ) کی اس مسئلہ میں مخالفت کی ہے۔
اوزاعی سے کہا گیا: فإن نقص من ذلك شيئا پس اگر کوئی اس رفع الیدین میں سے کچھ کمی کرے تو انھوں نے فرمایا:
ذلك نقص من صلاته (حوالہ مذکورہ)
یہ اس کی نماز میں نقص ہے۔ (الطبری بحوالہ التمہید 226/9 وسند الطبری صحیح]