مضمون کے اہم نکات
اس مضمون میں ہم امام عبداللہ بن المبارکؒ (181ھ) اور امام ابو حنیفہؒ (150ھ) کے تعلقات پر ہونے والی بحث کا جائزہ لیں گے۔
حنفی کتب میں جیسے الجواهر المضية (عبدالقادر القرشی حنفی، متوفی 775ھ) اور متعصّب احناف مثلاً انور شاہ کشمیری نے یہ دعویٰ کیا کہ:
-
ابن المبارکؒ امام ابو حنیفہ کے شاگرد اور ان کے علم پر فخر کرنے والے تھے۔
-
ابن المبارکؒ کو طبقہ حنفیہ میں شمار کیا گیا۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خود امام ابن المبارکؒ نے متعدد مواقع پر امام ابو حنیفہ پر سخت جرح کی، ان سے کنارہ کشی کی اور آخر عمر میں ان کی روایات کو ترک کرنے کی وصیت کی۔
اس مضمون میں ہم ایک ایک حوالہ پیش کریں گے، عربی متن کے ساتھ، اور پھر اس کی سند و درجہ کو بیان کریں گے۔ اس طرح قارئین پر واضح ہوگا کہ ابن المبارکؒ کے بارے میں حنفی کتب میں کی جانے والی "توثیق” دراصل ضعیف و موضوع روایات پر مبنی ہے، جبکہ ان کی صحیح اقوال ابو حنیفہ کے خلاف ہیں۔
ابو حنیفہ کی کتاب "الحیل” پر ابن المبارکؒ کی جرح
النص:
قال عبد الله بن المبارك:
مَنْ نَظَرَ فِي كِتَابِ الْحِيَلِ لِأَبِي حَنِيفَةَ أَحَلَّ مَا حَرَّمَ اللَّهُ، وَحَرَّمَ مَا أَحَلَّ اللَّهُ.
(تاريخ بغداد، للخطيب 13/379)
ترجمہ:
ابن المبارکؒ نے فرمایا: "جو شخص ابو حنیفہ کی کتاب الحیل کو دیکھے گا وہ حرام کو حلال اور حلال کو حرام کر لے گا۔”
راویوں کا حکم:
-
محمد بن عبيد الله الحنائى: ثقة مأمون
-
محمد بن عبد الله الشافعي: ثقة
-
محمد بن إسماعيل السلمي: ثقة حافظ
-
الربيع بن نافع: ثقة حجة (سیر اعلام النبلاء)
🔴 یہ سند صحیح ہے۔
ابن المبارکؒ کی ابو حنیفہ کے علمِ حدیث پر جرح
النص:
سَمِعْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ يَقُولُ: كَانَ أَبُو حَنِيفَةَ مِسْكِينًا فِي الْحَدِيثِ.
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم 2/450)
ترجمہ:
ابن المبارکؒ فرماتے ہیں: "ابو حنیفہ حدیث کے باب میں مسکین تھے۔”
تخریج:
اسے عبد الرحمن بن أبي حاتم نے اپنی صحیح سند سے روایت کیا۔
امام البانیؒ نے بھی اس کی تصحیح کی ہے:
بِسَنَدٍ صَحِيحٍ. (إرواء الغليل 1/207)
"ابو حنیفہ حدیث میں یتیم تھے”
النص:
سَمِعْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ يَقُولُ: كَانَ أَبُو حَنِيفَةَ فِي الْحَدِيثِ يَتِيمًا.
(المجروحين لابن حبان 3/66، الكامل لابن عدي 7/13)
ترجمہ:
ابن المبارکؒ نے فرمایا: "ابو حنیفہ حدیث کے باب میں یتیم تھے۔”
سند:
-
علی بن خشرم: ثقة
-
علی بن إسحاق السمرقندي: ثقة، صاحب ابن المبارک
-
اسحاق بن راہویہ نے بھی یہی روایت نقل کی۔
🔴 یہ روایت متعدد صحیح اسانید سے ثابت ہے۔
ابو حنیفہ کی احادیث کو ترک کرنے کی وصیت
النص:
سَمِعْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ، يَقُولُ: اضْرِبُوا عَلَى حَدِيثِ أَبِي حَنِيفَةَ.
(الضعفاء الكبير للعقيلي 3/432، السنة لأحمد 1/230)
ترجمہ:
ابن المبارکؒ نے فرمایا: "ابو حنیفہ کی بیان کردہ احادیث کو چھوڑ دو۔”
📌 اور امام احمد بن حنبلؒ روایت کرتے ہیں کہ ابن المبارکؒ نے اپنی وفات سے چند دن پہلے یہ نصیحت کی کہ "ابو حنیفہ کی روایات کو ترک کر دو۔”
ابو حنیفہ پر بدعت (ارجاء) کا الزام
النص:
سَمِعْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ – وَذُكِرَ أَبُو حَنِيفَةَ – فَقِيلَ: هَلْ كَانَ فِيهِ مِنَ الْهَوَى شَيْءٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، الْإِرْجَاءُ.
(المعرفة والتاريخ للفسوي 2/790)
ترجمہ:
ابن المبارکؒ سے پوچھا گیا: "کیا ابو حنیفہ میں کوئی بدعت تھی؟”
انہوں نے فرمایا: "ہاں، وہ مرجئی تھا۔”
سند:
-
احمد بن خلیل: ثقة
-
عبدة بن سلیمان المروزی: ثقة
-
یعقوب الفسوی: امام ثقة
🔴 یہ سند صحیح ہے۔
ابن المبارکؒ کا فتویٰ – "ابو حنیفہ عالم نہ تھا”
النص:
قِيلَ لِابْنِ الْمُبَارَكِ: أَكَانَ أَبُو حَنِيفَةَ عَالِمًا؟ قَالَ: مَا كَانَ بِخَلِيقٍ لِذَاكَ، تَرَكَ عَطَاءً وَأَقْبَلَ عَلَى أَبِي الْعَطُوفِ.
(المجروحين لابن حبان 2/67)
ترجمہ:
ابن المبارکؒ سے پوچھا گیا: "کیا ابو حنیفہ عالم تھا؟”
انہوں نے فرمایا: "نہیں! وہ عالم نہیں تھا، اگر ہوتا تو عطاء بن ابی رباح (ثقہ تابعی) کو چھوڑ کر ابو العطوف (جراح بن منہال: متروک و کذاب، شرابی) کی طرف متوجہ نہ ہوتا۔”
قیاس و رائے پر سخت تبصرہ
النص:
سَمِعْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ يَقُولُ فِي مَسْأَلَةٍ لِأَبِي حَنِيفَةَ: قَطْعُ الطَّرِيقِ أَحْيَانًا أَحْسَنُ مِنْ هَذَا.
(السنة للإمام أحمد 1/259)
ترجمہ:
ابن المبارکؒ نے ابو حنیفہ کے ایک مسئلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا:
"بسا اوقات ڈاکہ ڈال لینا اس (قیاس و رائے والے قول) سے بہتر ہے۔”
ابو حنیفہ کی مجلس کا حال
النص:
قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: مَا رَأَيْتُ مَجْلِسًا يُذْكَرُ فِيهِ النَّبِيُّ ﷺ فَلَا يُصَلَّى عَلَيْهِ إِلَّا مَجْلِسَ أَبِي حَنِيفَةَ.
(تاريخ بغداد 13/396)
ترجمہ:
ابن المبارکؒ نے فرمایا: "میں نے کوئی ایسی مجلس نہیں دیکھی جس میں نبی کریم ﷺ کا ذکر کیا جائے اور درود نہ بھیجا جائے، سوائے ابو حنیفہ کی مجلس کے۔”
ابو حنیفہ کو چھوڑنے کا اعلان
النص:
سُئِلَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: النَّاسُ يَقُولُونَ: إِنَّكَ تَذْهَبُ إِلَى قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ؟ قَالَ: لَيْسَ كُلُّ مَا يَقُولُ النَّاسُ يُصِيبُونَ فِيهِ، قَدْ كُنَّا نَأْتِيهِ زَمَانًا وَنَحْنُ لَا نَعْرِفُهُ، فَلَمَّا عَرَفْنَاهُ تَرَكْنَاهُ.
(الانتقاء لابن عبد البر ص 149)
ترجمہ:
ابن المبارکؒ سے پوچھا گیا: "لوگ کہتے ہیں کہ آپ ابو حنیفہ کے اقوال پر چلتے ہیں؟”
انہوں نے فرمایا: "لوگوں کی ہر بات درست نہیں ہوتی۔ ہم ایک زمانے تک اس کے پاس جاتے رہے جبکہ ہم اسے پہچانتے نہ تھے، لیکن جب پہچان گئے تو اسے چھوڑ دیا۔”
امام عبداللہ بن المبارکؒ کا ابو حنیفہ سے مکمل انقطاع
🔴 قاضی عیاض مالکی (المتوفى: 544هـ) نے نقل کیا:
النص:
قال الشيرازي: تفقه بمالك والثوري، وكان أولاً من أصحاب أبي حنيفة ثم تركه ورجع عن مذهبه. قال ابن وضاح: ضرب آخراً في كتبه على أبي حنيفة ولم يقرأه للناس.
(ترتيب المدارك وتقريب المسالك 1/157)
ترجمہ:
شیرازی نے کہا: "ابن المبارک نے امام مالک اور ثوری سے فقہ حاصل کی، اور ابتداء میں ابو حنیفہ کے اصحاب میں سے تھے، پھر ان کو چھوڑ دیا اور ان کے مذہب سے رجوع کرلیا۔”
ابن وضاح نے کہا: "آخر میں ابن المبارک نے اپنی کتابوں میں ابو حنیفہ کے اقوال پر قلم پھیر دیا اور لوگوں کے سامنے ان کو بیان نہیں کرتے تھے۔”
خلاصہ و نتیجہ
① امام ابن المبارکؒ نے ابو حنیفہ کی کتاب الحیل پر شدید تنقید کی کہ اس سے حلال و حرام کا کھیل کھیلا جاتا ہے۔
② انہوں نے ابو حنیفہ کو مسکین و یتیم فی الحدیث قرار دیا۔
③ فرمایا کہ ابو حنیفہ کی روایت کردہ احادیث کو چھوڑ دو۔
④ ان کے بارے میں واضح کیا کہ وہ مرجئی (بدعتی) تھے۔
⑤ قیاس و رائے پر مبنی مسائل پر سخت جملے کہے، حتیٰ کہ کہا: ڈاکہ ڈال لینا اس سے بہتر ہے۔
⑥ ابن المبارک نے خود اعلان کیا: ہم ابو حنیفہ کے پاس آتے تھے، جب پہچان گئے تو چھوڑ دیا۔
⑦ آخر میں اپنی کتابوں سے ابو حنیفہ کے اقوال مٹا دیے اور ان کو بیان کرنا بھی ترک کردیا۔
عبداللہ ابن المبارک کی طرف منسوب ابو حنیفہ کی توثیق کا جواب
① پہلی منسوب روایت
النص:
وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّد بن أَحْمَد بن يَعْقُوب، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّد بن نعيم الضبي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سعيد مُحَمَّد بن الفضل المذكر، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عبد الله مُحَمَّد بن سعيد المروزي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حمزة يَعْلَى بن حمزة، قال: سمعت أبا وهب مُحَمَّد بن مزاحم، يقول: سمعت عبد الله بن المبارك، يقول:
وأما أفقه الناس: فأبو حنيفة، ثم قال: ما رأيت في الفقه مثله
(تاريخ بغداد للخطيب، 13/ 333)
ترجمہ:
ابن المبارک نے کہا: "لوگوں میں سب سے زیادہ فقیہ ابو حنیفہ تھے، میں نے فقہ میں ان جیسا نہیں دیکھا۔”
الجواب:
یہ روایت باطل ہے کیونکہ اس کا مرکزی راوی محمد بن سعيد البورقي المروزي سخت کذاب اور وضاع تھا۔
-
خطیب بغدادی فرماتے ہیں:
"محمد بن سعيد البورقي كذاب، حدث بغير حديث وضعه.”
(تاريخ بغداد 3/111)
ترجمہ: "یہ کذاب تھا اور اپنی گھڑی ہوئی روایات بیان کرتا تھا۔”
-
خطیب مزید لکھتے ہیں:
"ما كان أجرأ هذا الرجل على الكذب! كأنه لم يسمع حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم: من كذب علي متعمداً فليتبوأ مقعده من النار.”
(تاريخ بغداد 3/112)
ترجمہ: "اس آدمی میں جھوٹ بولنے کی کتنی جرات تھی! گویا اس نے رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث نہیں سنی کہ جو مجھ پر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے۔”
-
حافظ ذہبی فرماتے ہیں:
"محمد بن سعيد البورقي، كان أحد الوضاعين بعد الثلثمائة.”
(ميزان الاعتدال 4/26)
ترجمہ: "محمد بن سعید البورقی ان وضاعین میں سے تھا جو تین سو ہجری کے بعد ظاہر ہوئے۔”
پس یہ روایت موضوع (گھڑی ہوئی) ہے۔
② دوسری منسوب روایت
النص:
وَعَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: لَوْلا أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَدْرَكَنِي بِأَبِي حَنِيفَةَ وَسُفْيَانَ لَكُنْتُ بِدْعِيًّا
(مناقب الإمام أبي حنيفة وصاحبيه للذهبي، ص: 48)
ترجمہ:
ابن المبارک نے کہا: "اگر اللہ نے مجھے ابو حنیفہ اور سفیان (ثوری) کی معرفت نہ دی ہوتی تو میں بدعتی ہوتا۔”
الجواب:
یہ روایت بھی غیر ثابت ہے۔
-
حافظ ذہبی نے خود اسے بغیر سند اور صیغۂ تمریض سے نقل کیا ہے:
"ويروى عن ابن المبارك…”
علم مصطلح الحدیث میں یہ قاعدہ ہے کہ صیغہ تمریض (يُروى، يُذكر، يُحكى) ضعیف یا غیر ثابت روایت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
امام ابن حجر عسقلانی وضاحت کرتے ہیں:
"التعليق إذا ورد بصيغة التمريض فهو دليل على ضعف الأثر.”
(شرح نخبة الفكر للقاري، ص: 86)
ترجمہ: "جب کوئی قول صیغۂ تمریض کے ساتھ منقول ہو تو یہ اس کے ضعیف اور غیر ثابت ہونے کی علامت ہے۔”
لہٰذا یہ قول ابن المبارک کی طرف منسوب کرنا جھوٹ ہے۔
③ تیسری منسوب روایت
النص:
أَخْبَرَنَا الحسين بن علي بن مُحَمَّد المعدل، قَالَ: حَدَّثَنَا علي بن الحسن الرازي، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّد بن الحسين الزعفراني، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَد بن زهير، قَالَ: حَدَّثَنَا الوليد بن شجاع، قَالَ: حَدَّثَنَا علي بن الحسن بن شقيق، قال: كان عبد الله بن المبارك، يقول: إذا اجتمع هذان على شيء فذاك قوي، يعني: الثوري، وأبا حنيفة.
(تاريخ بغداد 13/338)
ترجمہ:
ابن المبارک نے کہا: "جب یہ دونوں (سفیان ثوری اور ابو حنیفہ) کسی بات پر جمع ہوجائیں تو وہ بات مضبوط ہوتی ہے۔”
الجواب:
یہ روایت بھی باطل ہے کیونکہ اس کا راوی علي بن الحسن الرازي سخت کذاب تھا۔
-
حافظ ذہبی لکھتے ہیں:
"علي بن الحسن الرازي، كذبه عبيد الله الأزهري.”
(ميزان الاعتدال 3/124)
ترجمہ: "علی بن حسن الرازی کو عبید اللہ ازہری نے کذاب قرار دیا۔”
-
خطیب بغدادی فرماتے ہیں:
"كذاب، لا يسوى كعبا.”
(تاريخ بغداد 11/393)
ترجمہ: "یہ کذاب تھا، اس کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔”
-
ابن ابی الفوارس فرماتے ہیں:
"كان ابن الرازي ذاهب الحديث لا يسوى قليلا ولا كثيرا.”
(تاريخ بغداد 11/394)
ترجمہ: "یہ شخص بالکل دروغ گو اور ناقابل اعتبار تھا۔”
لہٰذا یہ قول بھی ابن المبارک کی طرف جھوٹ منسوب کیا گیا ہے۔
④ چوتھی منسوب روایت
النص:
نَا عبد الوارث بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: نَا قَاسِمُ بْنُ أَصْبَغَ، قَالَ: نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ، قَالَ: نَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، قَالَ: نَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: كَانَ عبد الله بْنُ الْمُبَارَكِ يَقُولُ: إِذَا اجْتَمَعَ هَذَانِ عَلَى شَيْءٍ فَتَمَسَّكْ بِهِ، يَعْنِي الثَّوْرِيَّ وَأَبَا حَنِيفَةَ.
(الانتقاء في فضائل الثلاثة الأئمة، ص: 149)
ترجمہ:
ابن المبارک نے کہا: "جب سفیان ثوری اور ابو حنیفہ کسی بات پر متفق ہوں تو اس پر عمل کرو۔”
الجواب:
اس روایت کا راوی الوليد بن شجاع السكوني ضعیف ہے۔
-
امام ابو حاتم الرازی فرماتے ہیں:
"يكتب حديثه ولا يحتج به.”
(الجرح والتعديل 9/27)
ترجمہ: "اس کی روایت لکھی تو جاتی ہے مگر حجت کے طور پر نہیں لی جاتی۔”
-
امام عجلی فرماتے ہیں:
"رأيته يأخذ الحديث أخذا رديئا.”
(معرفة الثقات 2/359)
ترجمہ: "میں نے دیکھا کہ یہ حدیث کو بہت خراب طریقے سے لیتا تھا۔”
لہٰذا یہ روایت بھی حجت نہیں ہے۔
⑤ پانچویں منسوب روایت
النص:
قَالَ ونا أَبُو عبد الله مُحَمَّد بن حرَام الْفَقِيه، قَالَ: نَا قَاسم ابْن عَبَّادٍ، قَالَ: نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّرَّاجُ، قَالَ: نَا عَبْدَانِ، قَالَ: سَمِعت عبد الله ابْن الْمُبَارك وَقد طعن رجل فى مَجْلِسه فى أَبِي حَنِيفَةَ، فَقَالَ لَهُ: اسْكُتْ، وَاللَّهِ لَوْ رَأَيْتَ أَبَا حَنِيفَةَ لَرَأَيْتَ عَقْلًا وَنُبْلًا.
(الانتقاء في فضائل الثلاثة، ص: 150)
ترجمہ:
ابن المبارک نے کہا: "چپ رہ، اگر تو ابو حنیفہ کو دیکھتا تو عقل و بزرگی دیکھتا۔”
الجواب:
یہ روایت بھی ضعیف ہے کیونکہ اس کا شیخ أبو عبد الله محمد بن حرام الفقيه مجہول ہے، اور اس کے بعد آنے والا راوی القاسم بن عباد بھی غیر معروف ہے۔
کتاب کے محقق نے بھی تصریح کی کہ دونوں کا کوئی قابل اعتماد ترجمہ نہیں ملا۔
لہٰذا یہ قول بھی صحیح نہیں ہے۔
✅ خلاصہ:
امام عبداللہ ابن المبارک سے جو چند "مدح” کی روایات گھڑی گئی ہیں، ان کی سندوں میں یا تو کذاب (محمد بن سعید البورقی، علی بن الحسن الرازی) ہیں یا ضعیف راوی (الولید بن شجاع) یا مجہول رواۃ۔
لہٰذا یہ سب روایات باطل ہیں، جبکہ ابن المبارک کی طرف سے ابو حنیفہ پر موجود جرح مفسر اور صریح اقوال بالکل صحیح اسناد سے ثابت ہیں۔
اہم حوالاجات کے سکین
























