مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

امام عبداللہ بن المبارکؒ اور ترکِ رفع یدین والی روایت کا تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
مرتب کردہ: ابو حمزہ سلفی
مضمون کے اہم نکات

الحمد للہ وحدہ، والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ۔

اس مضمون کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ امام المحدثین عبداللہ بن المبارک رحمہ اللہ اور جمہور محدثین نے رفع یدین کے ترک والی روایت کو ثابت قرار نہیں دیا، بلکہ اس پر صریح جرح کی ہے۔ دوسری طرف رفع یدین کے اثبات والی روایات کو صحیح اور مستند مانا گیا ہے، جنہیں صحاح ستہ اور دیگر معتبر کتب حدیث میں نقل کیا گیا ہے۔

❀ اس مقالے میں ہم ایک ایک کر کے محدثین کی تصریحات اصل عربی متن، اردو ترجمہ اور حوالہ کے ساتھ ذکر کریں گے۔
❀ اس سے واضح ہوگا کہ ترکِ رفع یدین والی روایت ضعیف ہے جبکہ رفع یدین کے اثبات پر واضح دلائل موجود ہیں۔

✦ محدثین کی تصریحات

امام ترمذی رحمہ اللہ

عربی متن:
«وَلَمْ يَثْبُتْ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَرْفَعْ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ»
(الجامع الكبير – سنن الترمذی)

اردو ترجمہ:
ابن مسعودؓ کی یہ حدیث کہ نبی ﷺ نے صرف پہلی مرتبہ ہاتھ اٹھائے، ثابت نہیں ہے۔

امام بیہقی رحمہ اللہ

عربی متن:
«سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُبَارَكِ يَقُولُ: لَمْ يَثْبُتْ عِنْدِي حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ … وَقَدْ ثَبَتَ عِنْدِي حَدِيثُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ»
(السنن الكبرى)

اردو ترجمہ:
میں نے عبداللہ بن المبارک کو کہتے ہوئے سنا: میرے نزدیک ابن مسعودؓ کی وہ حدیث ثابت نہیں کہ نبی ﷺ نے صرف پہلی مرتبہ رفع یدین کیا، البتہ رفع یدین کی حدیث میرے نزدیک ثابت ہے۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ

عربی متن:
«قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: لَمْ يَثْبُتْ عِنْدِي»
(التلخيص الحبير)

اردو ترجمہ:
ابن مبارک رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث میرے نزدیک ثابت نہیں ہے۔

امام ابن عبدالہادی المقدسی رحمہ اللہ

عربی متن:
«وَأَمَّا أَحَادِيثُ الْمُعَارَضَةِ: فَحَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ الْأَوَّلُ، قَالَ فِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: لَا يَثْبُتُ هَذَا»
(تنقيح التحقيق)

اردو ترجمہ:
ابن مسعودؓ کی پہلی حدیث کے بارے میں عبداللہ بن المبارک نے کہا: یہ حدیث ثابت نہیں۔

امام ابن الجوزی رحمہ اللہ

عربی متن:
«فَحَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ الْأَوَّلُ قَالَ فِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ لَا يَثْبُتُ هَذَا الْحَدِيثُ»
(التحقيق في أحاديث الخلاف)

اردو ترجمہ:
ابن مسعودؓ کی پہلی حدیث کے بارے میں عبداللہ بن المبارک نے فرمایا: یہ حدیث ثابت نہیں۔

امام بغوی رحمہ اللہ

عربی متن:
«قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: لَمْ يَثْبُتْ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ»
(شرح السنة)

اردو ترجمہ:
عبداللہ بن المبارک نے کہا: ابن مسعودؓ کی حدیث ثابت نہیں ہے۔

امام ابو علی الطوسی رحمہ اللہ

عربی متن:
«وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ قَدْ ثَبَتَ حَدِيثُ مَنْ يَرْفَعُ … وَلَمْ يُثْبِتْ حَدِيثَ ابْنِ مَسْعُودٍ»
(مختصر الأحكام)

اردو ترجمہ:
عبداللہ بن المبارک نے فرمایا: رفع یدین کرنے والوں کی حدیث ثابت ہے، لیکن ابن مسعودؓ کی حدیث کو انہوں نے ثابت نہیں مانا۔

امام ابن قدامہ المقدسی رحمہ اللہ

عربی متن:
«فَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: لَمْ يَثْبُتْ»
(المغنی لابن قدامہ)

اردو ترجمہ:
ابن مسعودؓ کی حدیث کے بارے میں عبداللہ بن المبارک نے کہا: یہ ثابت نہیں ہے۔

✦ خلاصہ

❀ ان تمام تصریحات سے واضح ہوا کہ جمہور محدثین کے نزدیک ابن مسعودؓ کی ترکِ رفع یدین والی روایت نبی کریم ﷺ سے ثابت نہیں۔
❀ اس کے مقابلے میں رفع یدین کے اثبات والی روایت کو امام ابن المبارک سمیت ائمہ محدثین نے صحیح اور معتبر قرار دیا ہے۔
❀ اس طرح رفع یدین کے ترک پر اصرار کرنے والی دلیل کمزور ہے، جبکہ رفع یدین کے اثبات پر اجماعِ محدثین قائم ہے۔

امام عبداللہ بن المبارک کی روایت اور صحیح بخاری کی شہادت

✦ امام ترمذی کی نقل

عربی متن:
«وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: قَدْ ثَبَتَ حَدِيثُ مَنْ يَرْفَعُ، وَذَكَرَ حَدِيثَ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ يَثْبُتْ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَرْفَعْ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ»
(الجامع الكبير – سنن الترمذی)

اردو ترجمہ:
عبداللہ بن المبارک نے فرمایا: رفع یدین کرنے والی حدیث میرے نزدیک ثابت ہے، اور وہ حدیث زہری → سالم → ابن عمرؓ کی سند سے ہے۔ لیکن ابن مسعودؓ کی روایت میرے نزدیک ثابت نہیں کہ نبی ﷺ نے صرف پہلی مرتبہ ہاتھ اٹھائے۔

✦ صحیح بخاری کی روایت (ابن المبارک کے طریق سے)

عربی متن:
«حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ حِينَ يُكَبِّرُ لِلرُّكُوعِ، وَيَفْعَلُ ذَلِكَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَيَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَلَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ»
(صحيح البخاري، حديث 735)

اردو ترجمہ:
عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھاتے۔ رکوع کے وقت بھی ایسا کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت بھی ایسا کرتے اور فرماتے: سمع الله لمن حمده۔ البتہ سجدہ میں ایسا نہ کرتے۔

✦ اہم نکتہ

❀ اس صحیح روایت کے مرکزی راوی عبداللہ بن المبارک خود ہیں۔
❀ یہی وہ روایت ہے جسے امام ترمذی نے بطور صحیح اور ثابت نقل کیا ہے۔
❀ اس طرح یہ بات قطعی ہو جاتی ہے کہ عبداللہ بن المبارک نے ترکِ رفع یدین والی روایت کو غیر ثابت قرار دیا اور اثبات والی روایت کو صحیح مان کر نقل کیا۔

✦ خلاصہ

① ترکِ رفع یدین والی روایت کو امام ابن المبارک سمیت جمہور محدثین نے غیر ثابت کہا۔
② اثباتِ رفع یدین والی روایت کو انہوں نے اپنی سند سے بیان کیا جو صحیح بخاری میں موجود ہے۔
③ اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ رفع یدین کا عمل نبی کریم ﷺ سے صحیح اور ثابت سنت ہے۔

امام ابن دقیق العید سے منسوب قول کا تحقیقی جائزہ

بعض حضرات نے یہ بات ذکر کی ہے کہ امام ابن دقیق العیدؒ نے گویا عبداللہ بن المبارکؒ کی جرح پر کلام کیا اور کہا کہ:

عربی متن (منسوب):
«وَعَدَمُ ثُبُوتِ الْخَبَرِ عِنْدَ ابْنِ الْمُبَارَكِ لَا يَمْنَعُ مِنَ النَّظَرِ فِيهِ، وَهُوَ يَدُورُ عَلَى عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ»
(نصب الراية، ج۱ ص۳۹۵ بحوالہ "الإمام فی معرفۃ أحادیث الأحکام” اور فتح الملہم)

اردو ترجمہ:
ابن المبارک کے نزدیک حدیث کا ثابت نہ ہونا اس پر غور کرنے سے مانع نہیں، اور یہ روایت عاصم بن کلیب پر موقوف ہے، جنہیں امام یحییٰ بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے۔

✦ تحقیقِ سند

❀ یہ قول براہِ راست امام ابن دقیق العیدؒ کی اصل تصانیف میں موجود نہیں۔
❀ اسے سب سے پہلے زیلعی حنفی نے اپنی کتاب نصب الراية میں بطور نقل ذکر کیا، مگر اس کی کوئی سند یا اصل ماخذ ذکر نہیں کیا۔
❀ بعد میں بعض مصنفین (مثلاً شارحین اور متاخرین) نے محض تقلیداً اس عبارت کو دہرا دیا، لیکن کوئی معتبر سند پیش نہ کرسکے۔

✦ درست مفہوم

اگر اس عبارت کو بطورِ احتمال مان بھی لیا جائے تو اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ:
❀ کسی حدیث کے غیر ثابت ہونے کے حکم کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے متن اور سند پر غور ہی نہ کیا جائے۔
❀ محدثین کا کام یہی ہے کہ ہر روایت پر علمی تحقیق کریں، خواہ ابتدائی درجہ میں وہ ضعیف ہی کیوں نہ قرار پائے۔

لیکن اس سے یہ بات بالکل بھی ثابت نہیں ہوتی کہ ابن المبارکؒ کی جرح مردود ہے یا انہوں نے ترک رفع یدین کی روایت کو معتبر مان لیا تھا۔

✦ نتیجہ

① امام ابن دقیق العیدؒ سے منسوب یہ قول سنداً ثابت نہیں، بلکہ محض ایک منقولہ عبارت ہے جس کا اصل ماخذ غیر واضح ہے۔
② اس عبارت کا مفہوم اگر تسلیم بھی کرلیا جائے تو یہ ابن المبارکؒ کی صریح جرح کے خلاف نہیں، بلکہ صرف ایک عمومی علمی اصول بیان ہے۔
③ لہٰذا اس بنیاد پر ترکِ رفع یدین کی روایت کو تقویت دینا درست نہیں۔

ابو حنیفہ کی جانب سے رفع یدین کی سنت کا مذاق اڑانے پر امام عبداللہ بن المبارک کا جواب

امام ابو محمد ابن قتیبہ الدینوریؒ (276ھ) نے اپنی معروف کتاب تأویل مختلف الحديث میں ایک اہم واقعہ ذکر کیا ہے جس سے رفع یدین کے بارے میں امام عبداللہ بن المبارکؒ کا موقف مزید واضح ہوتا ہے۔

✦ اصل روایت

عربی متن:
«قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ (ابن راهويه، المتوفى 238هـ) قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ (ابن الجراح، المتوفى 196هـ) أَنَّ أَبَا حَنِيفَةَ قَالَ: مَا بَالُهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ عِنْدَ كُلِّ رَفْعٍ وَخَفْضٍ؟ أَيُرِيدُ أَنْ يَطِيرَ؟ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: إِنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَطِيرَ إِذَا افْتَتَحَ، فَإِنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَطِيرَ إِذَا خَفَضَ وَرَفَعَ»
(تأويل مختلف الحديث لابن قتيبة، ص 93)

✦ اردو ترجمہ

ابن قتیبہ لکھتے ہیں:
اسحاق بن راہویہ نے روایت کیا، وہ کہتے ہیں کہ وکیع بن الجراح نے بیان کیا: ابو حنیفہ نے کہا: "یہ شخص رکوع کرتے اور رکوع سے اٹھتے وقت بار بار ہاتھ کیوں اٹھاتا ہے؟ کیا وہ اڑنے کا ارادہ رکھتا ہے؟”

اس پر عبداللہ بن المبارکؒ نے جواب دیا:
"اگر نماز کی ابتداء میں ہاتھ اٹھانا اڑنے کا ارادہ ہے تو پھر رکوع اور قیام کے وقت ہاتھ اٹھانا بھی اڑنے کا ارادہ ہوگا۔”

✦ علمی نکتہ

یہ واقعہ چند اہم پہلو اجاگر کرتا ہے:

❀ امام ابن المبارکؒ کے نزدیک رفع یدین ایک ثابت شدہ سنت تھی، جس کا انکار یا مذاق اڑانا درست نہیں۔
❀ ان کا جواب نہایت حکیمانہ اور علمی تھا، جس سے یہ ظاہر ہوا کہ رفع یدین صرف تکبیر تحریمہ تک محدود نہیں، بلکہ رکوع اور قیام کے مقامات پر بھی ثابت ہے۔
❀ یہ شہادت اس بات کو مزید تقویت دیتی ہے کہ ترکِ رفع یدین کی روایت غیر معتبر اور ضعیف ہے، جبکہ اثبات کی روایات قوی اور متواتر عمل کے ساتھ ثابت ہیں۔

✦ خلاصہ و نتیجہ

اس تحقیقی مضمون میں یہ بات تفصیل کے ساتھ واضح کی گئی کہ ترکِ رفع یدین والی روایت، جو حضرت ابن مسعودؓ سے منسوب ہے، نبی کریم ﷺ سے صحیح طور پر ثابت نہیں۔

❀ امام عبداللہ بن المبارکؒ سمیت جمہور محدثین نے اس روایت پر صریح جرح کی اور فرمایا کہ یہ روایت قابلِ حجت نہیں۔
❀ اس کے برعکس، رفع یدین کے اثبات والی روایات کو صحیح اور ثابت قرار دیا گیا ہے۔ ان میں سے سب سے اہم روایت حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی ہے، جو امام ابن المبارکؒ کی سند سے صحیح بخاری میں موجود ہے۔
❀ امام ابن المبارکؒ نے صاف الفاظ میں کہا کہ رفع یدین کی روایت ثابت ہے جبکہ ترکِ رفع یدین والی روایت ثابت نہیں۔
❀ ترک والی روایت کے دفاع میں جو اقوال منسوب کیے گئے (مثلاً امام ابن دقیق العیدؒ کی طرف نسبت) وہ سنداً ثابت نہیں اور محض منقولہ ہیں۔
❀ مزید برآں، ابن قتیبہ نے ذکر کیا کہ جب رفع یدین پر اعتراض کیا گیا تو ابن المبارکؒ نے نہایت علمی اور حکیمانہ انداز میں اس کا جواب دیا، جو اس سنت کے اثبات پر ان کے عملی و فکری اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔

✦ نتیجہ

① ترکِ رفع یدین والی روایت ضعیف ہے اور محدثین کے نزدیک غیر ثابت ہے۔
② اثباتِ رفع یدین کی روایت صحیح بخاری اور دیگر کتب میں صحیح سند کے ساتھ موجود ہے۔
③ امام عبداللہ بن المبارکؒ سمیت جمہور محدثین نے رفع یدین کو سنتِ رسول ﷺ قرار دیا ہے۔
④ اس طرح رفع یدین ایک متواتر اور ثابت شدہ سنت ہے جس کا انکار علمی طور پر درست نہیں۔

اہم حوالاجات کے سکین

امام عبداللہ بن المبارکؒ اور ترکِ رفع یدین والی روایت کا تحقیقی جائزہ – 01 امام عبداللہ بن المبارکؒ اور ترکِ رفع یدین والی روایت کا تحقیقی جائزہ – 02 امام عبداللہ بن المبارکؒ اور ترکِ رفع یدین والی روایت کا تحقیقی جائزہ – 03 امام عبداللہ بن المبارکؒ اور ترکِ رفع یدین والی روایت کا تحقیقی جائزہ – 04 امام عبداللہ بن المبارکؒ اور ترکِ رفع یدین والی روایت کا تحقیقی جائزہ – 05 امام عبداللہ بن المبارکؒ اور ترکِ رفع یدین والی روایت کا تحقیقی جائزہ – 06 امام عبداللہ بن المبارکؒ اور ترکِ رفع یدین والی روایت کا تحقیقی جائزہ – 07 امام عبداللہ بن المبارکؒ اور ترکِ رفع یدین والی روایت کا تحقیقی جائزہ – 08 امام عبداللہ بن المبارکؒ اور ترکِ رفع یدین والی روایت کا تحقیقی جائزہ – 09 امام عبداللہ بن المبارکؒ اور ترکِ رفع یدین والی روایت کا تحقیقی جائزہ – 10

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔