امام شافعی رحمہ اللہ اور مسئلہ تدلیس
الحمد لله رب العالمين والصلوٰة والسلام على رسوله الأمين، أما بعد:
روایت حدیث میں تدلیس یعنی تدلیس فی الاسناد کے بارے میں محدثین کرام کا مشہور مسلک و مذہب یہ ہے کہ جس راوی سے سند میں تدلیس کرنا ثابت ہو تو اُس کی «عن» والی روایت ضعیف ہوتی ہے، مثلاً شیخ ارشاد الحق اثری صاحب نے لکھا ہے:
«اور محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ قتادہ مدلس ہے جیسا کہ آئندہ اس کی تفصیل آرہی ہے۔ اور اس پر بھی اتفاق ہے کہ مدلس کا عنعنہ موجب ضعف ہے۔ لہٰذا اس کی سند کو صحیح کہنا محل نظر ہے۔» (توضیح الکلام ج1 ص130، دوسرا نسخہ ص137)
اثری صاحب نے مزید فرمایا: «اور یہ طے شدہ اصول ہے کہ مدلس کی معنعن روایت قبول نہیں۔» (توضیح الکلام ج2 ص765، دوسرا نسخہ ص1030)
محترم اثری صاحب نے کئی مدلس راویوں کی معنعن (عن والی) روایات پر جرح کی اور ان روایات کو غیر صحیح قرار دیا۔ مثلاً:
➊ ابوالزبیر المکی (توضیح الکلام ج2 ص558، دوسرا نسخہ ص889)
➋ قتادہ بن دعامہ (توضیح الکلام ج2 ص283، دوسرا نسخہ ص688)
➌ سلیمان بن مہران الأعمش (توضیح الکلام ج2 ص765، دوسرا نسخہ ص1030)
➍ ابراہیم بن یزید النخعی (توضیح الکلام ج2 ص758-759، دوسرا نسخہ ص1026)
➎ محمد بن عجلان (توضیح الکلام ج2 ص331، دوسرا نسخہ ص725)
ان میں سے ابراہیم نخعی اور سلیمان الأعمش دونوں حافظ ابن حجر العسقلانی کی طبقاتی تقسیم کے مطابق طبقہ ثانیہ میں سے تھے۔ دیکھیے الفتح المبین (2/55، 2/35)
حافظ ابن حجر کی یہ طبقاتی تقسیم صحیح نہیں ہے اور نہ اسے تلقی بالقبول حاصل ہے۔ نیز دیکھئے الحدیث حضرو: 67 ص 21-23
تدلیس کے بارے میں مفصل تحقیق کے لئے دیکھئے میری کتاب بتحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات ( ج 1 ص 251 – 290، ج 3 ص 218_612،223-614)
مدلس راوی کثیر التدلیس ہو یا قلیل التدلیس، ساری زندگی میں اُس نے صرف ایک دفعہ تدلیس الاسناد کی ہو اور اُس کا اس سے رجوع و تخصیص ثابت نہ ہو یا معتبر محدثین کرام نے اسے مدلس قرار دیا ہو تو صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے علاوہ دوسری کتابوں میں ایسے مدلس کی غیر مصرح بالسماع اور معنعن روایت ضعیف ہوتی ہے الا یہ کہ اس کی معتبر متابعت، تخصیص روایت یا شاہد ثابت ہو۔ تخصیص روایت کا مطلب یہ ہے کہ بعض شیوخ سے مدلس کی معنعن روایت صحیح ہو یا اس کے بعض تلامذہ کی روایات سماع پر محمول ہوں۔
یہی وہ اصول ہے جس پر اہل حدیث، حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، دیوبندی، بریلوی اور دیگر لوگ فریق مخالف کی روایات پر جرح کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں، لیکن عصر حاضر میں بعض جدید علماء مثلاً حاتم الشریف العونی وغیرہ نے بعض شاذ اقوال لے کر کثیر التدلیس اور قلیل التدلیس کا شوشہ چھوڑ دیا ہے، جس سے انھوں نے اصول حدیث کے اس مشہور مسئلے کو تارپیڈو مار کر غرق کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہمارے اس مضمون میں ان بعض الناس کا رد پیش خدمت ہے:
① امام ابو عبد اللہ محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ (متوفی 204ھ) نے فرمایا:
ومن عرفناه دلس مرة فقد أبان لنا عورته فى روايته
جس کے بارے میں ہمیں معلوم ہو گیا کہ اُس نے ایک دفعہ تدلیس کی ہے تو اُس نے اپنی پوشیدہ بات ہمارے سامنے ظاہر کر دی۔ (الرسالہ: 1033)
اس کے بعد امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا:
فقلنا: لا نقبل من مدلس حديثا حتى يقول فيه: حدثني أو سمعت
پس ہم نے کہا: ہم کسی مدلس سے کوئی حدیث قبول نہیں کرتے حتیٰ کہ وہ حدثنی یا سمعت کہے۔ (الرسالہ: 1035)
امام شافعی کے بیان کردہ اس اصول سے معلوم ہوا کہ جس راوی سے ساری زندگی میں ایک دفعہ تدلیس کرنا ثابت ہو جائے تو اُس کی «عن» والی روایت قابل قبول نہیں ہوتی۔
ایک غالی حنبلی ابن رجب (متوفی 795ھ) نے لکھا ہے:
ولم يعتبر الشافعي أن يتكرر التدليس من الراوي ولا أن يغلب على حديثه بل اعتبر ثبوت تدليسه ولو بمرة واحدة
اور شافعی نے اس کا اعتبار نہیں کیا کہ راوی بار بار تدلیس کرے اور نہ انھوں نے اس کا اعتبار کیا ہے کہ اس کی روایات پر تدلیس غالب ہو، بلکہ انھوں نے راوی سے ثبوت تدلیس کا اعتبار کیا ہے اور اگرچہ (ساری زندگی میں) صرف ایک مرتبہ ہی ہو۔ (شرح علل الترمذی ج1 ص353، طبع دار الملاح للطبع والنشر)
امام شافعی اس اصول میں اکیلے نہیں بلکہ جمہور علماء ان کے ساتھ ہیں، لہٰذا زرکشی کا وهو نص غريب لم يحكمه الجمهور (النکت ص188) کہنا غلط ہے۔
اگر کوئی شخص اس پر بضد ہے کہ اس منہج اور اصول میں امام شافعی رحمہ اللہ اکیلے تھے یا جمہور کے خلاف تھے (!) تو وہ درج ذیل حوالوں پر ٹھنڈے دل سے غور کرے:
② امام ابوقتادہ عبید اللہ بن فضالہ النسائی (ثقہ مأمون) سے روایت ہے کہ (امام) اسحاق بن راہویہ نے فرمایا: میں نے احمد بن حنبل کی طرف لکھ کر بھیجا اور درخواست کی کہ وہ میری ضرورت کے مطابق (امام ) شافعی کی کتابوں میں سے (کچھ) بھیجیں تو انھوں نے میرے پاس کتاب الرسالہ بھیجی۔ (کتاب الجرح والتعدیل ج7 ص204 وسندہ صحیح، تاریخ دمشق لابن عساکر ج54 ص291-292، نیز دیکھیے مناقب الشافعی للبیہقی 1/234 وسندہ صحیح)
اس اثر سے معلوم ہوا کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کتاب الرسالہ سے راضی (متفق) تھے اور تدلیس کے اس مسئلے میں اُن کی طرف سے امام شافعی پر رد ثابت نہیں، لہٰذا اُن کے نزدیک بھی مدلس کی «عن» والی روایت ضعیف ہے، چاہے قلیل التدلیس ہو یا کثیر التدلیس۔
امام ابوزرعہ الرازی رحمہ اللہ نے کہا: احمد بن حنبل نے شافعی کی کتابوں میں نظر فرمائی تھی یعنی انھیں بغور پڑھا تھا۔ (کتاب الجرح والتعدیل 7/204 وسندہ صحیح)
امام احمد بن حنبل نے اپنے شاگرد عبدالملک بن عبدالحمید المیمونی سے کہا:
انظر فى كتاب الرسالة فإنه من أحسن كتبه کتاب الرسالہ دیکھو! کیونکہ یہ اُن کی سب سے اچھی کتابوں میں سے ہے۔ (تاریخ دمشق لابن عساکر 54/291 وسند صحیح)
تنبیہ: اس تصریح کے مقابلے میں امام احمد کا قول (مجھے معلوم نہیں) سوالات ابی داود ص199 سے پیش کرنا بے فائدہ اور مرجوح ہے۔
مسائل الامام احمد (روایۃ ابی داود ص322) سے استدلال کرتے ہوئے ایک شخص نے لکھا ہے: مگر اس کے باوجود امام احمد رحمہ اللہ نے ہشیم کے عنعنہ پر توقف بھی کیا ہے۔
عرض ہے کہ اگر امام ہشیم (جنھیں تدلیس کرنے میں مزہ آتا تھا) کا عنعنہ مضر نہیں تھا تو اُن کی عن والی روایت میں توقف کرنے کا کیا مطلب تھا؟ کسی روایت میں توقف کرنا اس کی دلیل ہے کہ وہ روایت قابل حجت نہیں ہے۔ کیا کسی صحیح حدیث کے بارے میں بھی صحیح کہنے سے توقف کیا جا سکتا ہے؟!
علمائے کرام جب کسی روایت کو مدلس کے عنعنے کی وجہ سے ضعیف کہتے ہیں تو اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ راوی مدلس ہے اور روایت مذکورہ میں سماع ثابت نہیں ہے۔ جب سماع ثابت ہو جائے تو فوراً رجوع کیا جاتا ہے اور روایت کو بغیر کسی توقف کے صحیح تسلیم کر لیا جاتا ہے۔
فائدہ: امام اسحاق بن راہویہ نے کہا کہ (امام) احمد بن حنبل نے کتاب الرسالہ کے بارے میں فرمایا:
هذا كتاب أعجب به عبد الرحمن بن مهدي
یہ کتاب عبدالرحمن بن مہدی کو پسند تھی۔ (الطیوریات 761/2 ح681 وسندہ صحیح)
③ امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ کے پاس امام شافعی کی کتاب الرسالہ پہنچی لیکن انھوں نے تدلیس کے اس مسئلے پر کوئی رد نہیں فرمایا، جیسا کہ کسی روایت سے ثابت نہیں ہے، لہٰذا معلوم ہوا کہ وہ تدلیس کے مسئلے میں امام شافعی رحمہ اللہ کے موافق تھے۔
④ امام اسماعیل بن یحیی المزنی رحمہ اللہ نے فرمایا:
كتبت كتاب الرسالة منذ زيادة على أربعين سنة و أنا أقرأه و أنظر فيه و يقرأ على فما من مرة قرأت أو قرئ على إلا استفدت منه شيئا لم أكن أحسنه.
میں نے چالیس سال سے زیادہ عرصہ پہلے کتاب الرسالہ( نقل کر کے) لکھی اور میں اسے پڑھتا ہوں، اس میں (غور وفکر کے ساتھ) دیکھتا ہوں اور میرے سامنے پڑھی جاتی ہے، پھر ہر بار پڑھنے یا پڑھے جانے سے مجھے ایسا فائدہ ملتا ہے جسے میں پہلے اچھی طرح نہیں سمجھتا تھا۔ (مقدمہ الرسالہ ص73 روایتہ ابن الاکفانی 54 وسندہ حسن، تاریخ دمشق 54/292، مناقب الشافعی للبیہقی 236/1 بحوالہ مناقب الآبری العاصمی)
چالیس سال پڑھنے پڑھانے کے باوجود امام مزنی کو تدلیس کے مذکورہ مسئلے کا غلط ہونا معلوم نہیں ہوا جیسا کہ کسی صحیح روایت میں اُن سے ثابت نہیں، لہٰذا ظاہر یہی ہے کہ وہ بھی ایک مرتبہ تدلیس کرنے والے راوی کی معنعن روایت کو صحیح نہیں سمجھتے تھے۔
⑤ امام شافعی کی کتاب الرسالہ میں تدلیس والے مذکورہ قول کو مشہور محدث بیہقی نے نقل کر کے کوئی جرح نہیں کی بلکہ خاموشی کے ذریعے سے تائید فرمائی۔ (معرفۃ السنن والآثار 1/76)
معلوم ہوا کہ امام بیہقی کا بھی یہی مسلک ہے۔
محمد بن عبد اللہ بن بہادر الزرکشی (متوفی 794ھ) نے کہا:
وقد حكم البيهقي بعدم قبول قول من دلس مرة. جو شخص ایک دفعہ تدلیس کرے تو اس کے بارے میں بیہقی نے یہ فیصلہ کیا کہ اس کی روایت (معنعن) غیر مقبول ہے۔ (النکت علی مقدمہ ابن الصلاح ص191)
⑥ خطیب بغدادی نے امام شافعی کے قول مذکور کو روایت کیا اور کوئی رد نہیں کیا۔ (دیکھیے الکفایہ فی علم الروایہ ص292)
بلکہ تدلیس کے بارے میں الغالب على حديثه لم تقبل رواياته والا قول نقل کر کے خطیب نے فرمایا: وقال آخرون: خبر المدلس لا يقبل إلا أن يورده على وجه مبين غير محتمل لإيهام فإن أورده على ذلك قبل، وهذا هو الصحيح عندنا اور دوسروں نے کہا: مدلس کی خبر (روایت) مقبول نہیں ہوتی الا یہ کہ وہ وہم کے احتمال کے بغیر صریح طور پر تصریح بالسماع کے ساتھ بیان کرے، اگر وہ ایسا کرے تو اس کی روایت مقبول ہے اور ہمارے نزدیک یہی بات صحیح ہے۔ (الکفایہ ص361)
⑦ غالی شافعی حافظ ابن الصلاح الشهرزوری (متوفی 643ھ) نے کہا:
والحكم بأنه لا يقبل من المدلس حتى يبين، قد أجراه الشافعي رضى الله عنه فيمن عرفناه دلس مرة. والله أعلم
اور حکم (فیصلہ) یہ ہے کہ مدلس کی روایت تصریح سماع کے بغیر قبول نہ کی جائے، اسے شافعی رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے بارے میں جاری فرمایا ہے جس نے ہماری معلومات کے مطابق صرف ایک دفعہ تدلیس کی ہے۔ واللہ اعلم (مقدمہ ابن الصلاح مع التقييد والایضاح ص99، دوسرا نسخہ ص161)
معلوم ہوا کہ امام شافعی کی طرح ابن الصلاح بھی ایک دفعہ تدلیس کرنے والے مدلس کی معنعن روایت کو صحت حدیث کے منافی سمجھتے تھے۔
ابن الصلاح کے اس قول کو اصول حدیث کی بعد والی کتابوں میں بھی نقل کیا گیا ہے اور تردید نہیں کی گئی، لہٰذا اسے جمہور کی تلقی بالقبول حاصل ہے۔
⑧ علامہ یحیی بن شرف النووی (متوفی 677ھ) نے مدلس کے بارے میں فرمایا:
فما رواه بلفظ محتمل لم يبين فيه السماع فمرسل… و هذا الحكم جار فيمن دلس مرة
پس وہ (مدلس راوی) ایسے لفظ سے روایت بیان کرے جس میں احتمال ہو، سماع کی تصریح نہ ہو تو وہ مرسل (یعنی غیر مقبول/ضعیف) ہے… اور یہ حکم اس کے بارے میں جاری ہے جو (صرف) ایک دفعہ تدلیس کرے۔ (التقريب للنووی فی اصول الحدیث ص9 نوع12، مع تدریب الراوی للسیوطی 1/229-230، دوسرا نسخہ ص201)
معلوم ہوا کہ امام شافعی کی طرح نووی بھی مدلس کی عن والی روایت کو ضعیف و مردود سمجھتے تھے، چاہے اُس نے ساری عمر میں صرف ایک دفعہ ہی تدلیس کی ہو۔
⑨ مشہور صوفی حافظ سراج الدین عمر بن علی بن احمد الانصاری ابن الملقن (متوفی 804ھ) نے ابن الصلاح کا قول: والحكم بأنه لا يقبل من المدلس حتى يبين أجراه الشافعي فيمن عرفناه دلس مرة نقل کیا اور کوئی رد نہیں کیا، لہٰذا یہ ان کی طرف سے امام شافعی اور ابن الصلاح دونوں کی موافقت ہے۔ دیکھیے المقتع فی علوم الحدیث (1/158 تحقیق عبداللہ بن یوسف المجدیع)
⑩ مشہور ثقہ محدث و مفسر حافظ ابن کثیر الدمشقی رحمہ اللہ (متوفی 774ھ) نے تدلیس کے بارے میں امام شافعی کا قول نقل کیا اور کوئی جرح یا مخالفت نہیں کی۔ دیکھیے اختصار علوم الحدیث (1/174، نوع12)
⑪ حافظ ابوالفضل عبد الرحیم بن الحسین العراقی الاثری رحمہ اللہ (متوفی 806ھ) نے فرمایا: والشافعي أثبته بمرة اور شافعی نے (تدلیس کو) اس کے لئے ثابت قرار دیا ہے جو ایک دفعہ (تدلیس) کرے ۔ (الفیۃ العراقی مع تعلیقات الشیخ محمد رفیق الاثری ص32 شعر160)
معلوم ہوا کہ اس مسئلے میں عراقی بھی امام شافعی کے موافق تھے۔
⑫ مشہور صوفی سخاوی (متوفی 902ھ) نے عراقی کے قول أثبته بمرة کی تشریح میں کہا:
وبيان ذلك أنه بثبوت تدليسه مرة صار ذلك هو الظاهر من حاله فى معنعناته كما إنه ثبوت اللقاء مرة صار الظاهر من حاله السماع، وكذا من عرف بالكذب فى حديث واحد صار الكذب هو الظاهر من حاله وسقط العمل بجميع حديثه مع جواز كونه صادقا فى بعضه اور اس کی تشریح یہ ہے کہ اس کی ایک دفعہ تدلیس کے ثبوت سے اُس کی (تمام) معنعن روایات میں اس کا ظاہر حال یہی بن گیا (کہ وہ مدلس ہے) جیسا کہ ایک دفعہ ملاقات کے ثبوت سے (غیر مدلس کا) ظاہر حال یہ ہوتا ہے کہ اُس نے (اپنے استاد سے) سنا ہے، اور اسی طرح اگر کسی آدمی کا (صرف) ایک حدیث میں جھوٹ معلوم ہو جائے تو اس کا ظاہر حال یہی بن جاتا ہے (کہ وہ جھوٹا ہے) اور اس کی تمام احادیث پر عمل ساقط ہو جاتا ہے، اس جواز کے ساتھ کہ وہ اپنی بعض روایات میں سچا ہوسکتا ہے۔ (فتح المغیث شرح الفية الحديث ج1 ص193)
دو اہم دلیلیں بیان کر کے سخاوی نے امام شافعی کی تائید کر دی اور ان لوگوں میں شامل ہو گئے جو مدلس کی عن والی روایت نہیں مانتے، چاہے اُس نے ساری زندگی میں صرف ایک دفعہ تدلیس کی ہو۔
⑬ زکریا بن محمد الانصاری (متوفی 926ھ) نے بھی عراقی کے مذکورہ قول ( دیکھئے فقرہ : 11) کو نقل کر کے اس کی دلیل بیان کی اور کوئی مخالفت نہیں کی۔
دیکھیے فتح الباقی بشرح الفية العراقی (تحقیق حافظ ثناء اللہ الزاہدی ص169-170)
معلوم ہوا کہ اس مسئلے میں وہ بھی امام شافعی رحمہ اللہ سے متفق تھے۔
⑭ جلال الدین سیوطی (متوفی 911ھ) نے بھی امام شافعی کا قول نقل کر کے کوئی مخالفت نہیں کی لہٰذا یہ ان کی طرف سے تائید ہے۔ دیکھیے تدریب الراوی (1/230)
بلکہ سیوطی نے ولو بمرة وضح کہہ کر تدلیس کو صراحتاً جرح قرار دیا ہے۔
دیکھیے الفیۃ السیوطی فی علم الحدیث (ص131 بتحقیق احمد محمد شاکر)
⑮ حافظ ابن حبان البستی (متوفی 354ھ) نے فرمایا:
الجنس الثالث: الثقات المدلسون الذين كانوا يدلسون فى الأخبار مثل قتادة ويحيى بن أبى كثير والأعمش وأبو إسحاق وابن جريج وابن إسحاق والثوري وهشيم ومن أشبههم ممن يكثر عددهم من الأئمة المرضيين وأهل الورع فى الدين كانوا يكتبون عن الكل ويروون عمن سمعوا منه فربما دلسوا عن الشيخ بعد سماعهم عنه عن أقوام ضعفاء لا يجوز الإحتجاج بأخبارهم، فما لم يقل المدلس وإن كان ثقة: حدثني أو سمعت فلا يجوز الإحتجاج بخبره، وهذا أصل أبى عبد الله محمد بن إدريس الشافعي -رحمه الله- ومن تبعه من شيوخنا
تیسری قسم وہ ثقہ مدلسین جو روایات میں تدلیس کرتے تھے مثلاً قتادہ، یحیی بن ابی کثیر، اعمش، ابو اسحاق، ابن جریج، ابن اسحاق، ثوری، ہشیم اور جو ان کے مشابہ تھے جن کی تعداد زیادہ ہے، وہ پسندیدہ اماموں اور دین میں پرہیزگاروں میں سے تھے، وہ سب سے (روایات) لکھتے اور جن سے سنتے تو ان سے روایتیں بھی بیان کرتے تھے، بعض اوقات وہ شیخ یعنی استاد سے سننے کے بعد ضعیف لوگوں سے سنی ہوئی روایات اس (شیخ) سے بطور تدلیس بیان کرتے تھے، ان کی (معنعن) روایات سے استدلال جائز نہیں ہے۔ پس جب تک مدلس اگر چہ ثقہ ہو حدثنی یا سمعت نہ کہے (یعنی سماع کی تصریح نہ کرے) تو اس کی روایت سے استدلال جائز نہیں ہے اور یہ ابو عبد اللہ محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ کی اصل (یعنی اصول) ہے اور ہمارے اساتذہ نے اس میں اُن کی اتباع (یعنی موافقت) کی ہے۔ (كتاب المجروحين ج1 ص92، دوسرا نسخہ ص86)
اس عظیم الشان بیان میں حافظ ابن حبان نے تدلیس کے مسئلے میں امام شافعی کی مکمل موافقت فرمائی بلکہ ”منهج المتقدمین“ کے نام سے ”کثیر التدلیس“ اور” قلیل التدلیس“ کی عجیب و غریب، شاذ اور ناقابل عمل اصطلاحات کے رواج کے ذریعے سے مسئلہ تدلیس کو تارپیڈو کرنے والوں کے شبہات کے پرخچے اڑا دیئے ہیں۔
حافظ ابن حبان نے دوسری جگہ فرمایا:
وأما المدلسون الذين هم ثقات وعدول فإنا لا نحتج بأخبارهم إلا ما بينوا السماع فيما رووا مثل الثوري والأعمش وأبي إسحاق وأضرابهم من الأئمة المتقين (المتقنين) وأهل الورع فى الدين لأنا متى قبلنا خبر مدلس لم يبين السماع فيه -وإن كان ثقة- لزمنا قبول المقاطيع والمراسيل كلها لأنه لا يدرى لعل هذا المدلس دلس هذا الخبر عن ضعيف يهي الخبر بذكره إذا عرف، اللهم إلا أن يكون المدلس يعلم أنه ما دلس قط إلا عن ثقة فإذا كان كذلك قبلت روايته وإن لم يبين السماع وهذا ليس فى الدنيا إلا سفيان بن عيينة وحده فإنه كان يدلس ولا يدلس إلا عن ثقة متقن ولا يكاد يوجد لسفيان بن عيينة خبر دلس فيه إلا وجد ذلك الخبر بعينه قد بين سماعه عن ثقة مثل نفسه والحكم فى قبول روايته لهذه العلة -وإن لم يبين السماع فيها- كالحكم فى رواية ابن عباس إذا روى عن النبى صلى الله عليه وسلم مالم يسمع منه
اور مگر وہ مدلسین جو ثقہ اور عادل ہیں تو ہم ان کی بیان کردہ روایات میں سے صرف ان روایات سے ہی استدلال کرتے ہیں جن میں انھوں نے سماع کی تصریح کی ہے، مثلاً ثوری، اعمش، ابو اسحاق اور ان جیسے دوسرے ائمہ متقین (ائیمہ متقنین) اور دین میں پرہیزگاری والے امام، کیونکہ اگر ہم مدلس کی وہ روایت قبول کریں جس میں اُس نے سماع کی تصریح نہیں کی۔ اگر چہ وہ ثقہ تھا، تو ہم پر یہ لازم آتا ہے کہ ہم تمام منقطع اور مرسل روایات قبول کریں، کیونکہ یہ معلوم نہیں کہ ہوسکتا ہے اس مدلس نے اس روایت میں ضعیف سے تدلیس کی ہو، اگر اس کے بارے میں معلوم ہوتا تو روایت ضعیف ہو جاتی، سوائے اس کے کہ اللہ جانتا ہے، اگر مدلس کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ اس نے صرف ثقہ سے ہی تدلیس کی ہے، پھر اگر اس طرح ہے تو اس کی روایت مقبول ہے اور اگر چہ وہ سماع کی تصریح نہ کرے، اور یہ بات (ساری) دنیا میں سوائے سفیان بن عیینہ کیلئے کے کسی اور کے لئے ثابت نہیں ہے، کیونکہ وہ تدلیس کرتے تھے اور صرف ثقہ متقن سے ہی تدلیس کرتے تھے، سفیان بن عیینہ کی ایسی کوئی روایت نہیں پائی جاتی جس میں انھوں نے تدلیس کی ہو مگر اسی روایت میں انھوں نے اپنے جیسے ثقہ سے تصریح سماع کر دی تھی، اس وجہ سے ان کی روایت کے مقبول ہونے کا حکم اگر چہ وہ سماع کی تصریح نہ کریں۔ اسی طرح ہے جیسے ابن عباس رضی اللہ عنہما اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی روایت بیان کریں جو انھوں نے آپ سے سنی نہیں تھی، کا حکم ہے۔ (صحیح ابن حبان، الاحسان ج1 ص161، دوسرا نسخہ ج1 ص90)
اس حوالے میں بھی حافظ ابن حبان نے مدلس راوی کی اس روایت کو غیر مقبول قرار دیا ہے جس میں سماع کی تصریح نہ ہو اور امام شافعی رحمہ اللہ کی معناً تائید فرمائی ہے۔
حافظ ابن حبان کے اس بیان سے درج ذیل اہم نکات واضح ہیں:
➊ جس راوی کا مدلس ہونا ثابت ہو، اس کی عدم تصریح سماع والی روایت غیر مقبول ہوتی ہے۔
➋ امام شافعی کا بیان کردہ اصول صحیح ہے۔
➌ امام شافعی اپنے اصول میں منفرد نہیں بلکہ ابن حبان اور اُن کے شیوخ (نیز عبد الرحمن بن مہدی، احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ، مزنی، بیہقی اور خطیب بغدادی وغیرہم جیسا کہ ہمارے اس مضمون سے ثابت ہے) نے امام شافعی کی تائید فرمائی ہے۔
➍ کثیر اور قلیل تدلیس میں فرق کرنے والا منہج صحیح نہیں بلکہ مرجوح ہے۔
➎ اگر مدلس کی عن والی روایت مقبول ہے تو پھر منقطع اور مرسل روایات کیوں غیر مقبول ہیں؟
➏ مدلسین مثلاً امام سفیان ثوری رحمہ اللہ وغیرہ کی معنعن اور سماع کی صراحت کے بغیر والی روایات غیر مقبول ہیں، اگر چہ بعض متاخر علماء نے انھیں طبقہ ثانیہ یا طبقہ اولیٰ میں ذکر کر رکھا ہو۔
➐ حافظ ابن حبان کے نزدیک امام سفیان بن عیینہ صرف ثقہ سے ہی تدلیس کرتے تھے۔ ہمیں اس آخری شق سے دو دلیلوں کے ساتھ اختلاف ہے:
● بعض اوقات سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ غیر ثقہ سے بھی تدلیس کر لیتے تھے۔ مثلاً دیکھیے تاریخ یحییٰ بن معین (روایۃ الدوری: 979)، کتاب الجرح والتعدیل (7/191) اور میری کتاب: توضیح الاحکام (ج2 ص149)
لہٰذا یہ قاعدہ کلیہ نہیں بلکہ قاعدہ اغلبیہ ہے۔
● امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ بعض اوقات ثقہ مدلس (مثلاً ابن جریج) سے بھی تدلیس کرتے تھے۔ دیکھیے الکفایہ (ص359-360 وسند صحیح) اور توضیح الاحکام (ج2 ص148)
میں نے یہ کہیں بھی نہیں پڑھا کہ سفیان بن عیینہ ثقہ مدلس راویوں سے بطور تدلیس صرف وہی روایات بیان کرتے تھے جن میں انھوں نے سفیان کے سامنے سماع کی تصریح کر رکھی ہوتی تھی، لہٰذا کیا بعید ہے کہ ثقہ مدلس نے ایک روایت تدلیس کرتے ہوئے بیان کی ہو اور سفیان بن عیینہ نے اس ثقہ مدلس کو سند سے گرا کر روایت بیان کر دی ہو، لہٰذا اس وجہ سے بھی ان کی معنعن روایت نا قابل اعتماد ہے۔ واللہ اعلم
⑯ حسین بن عبداللہ الطیبی (متوفی 743ھ) نے اپنے اصول حدیث والے رسالے میں امام شافعی رحمہ اللہ کے اصول کو درج فرمایا ہے اور کوئی تردید نہیں کی، لہٰذا اس مسئلے میں وہ بھی شافعی سے متفق تھے۔
دیکھیے الخلاصۃ فی اصول الحدیث (ص2 تحقیق صبجی سامرائی)
⑰ ابوبکر الصیرفی (متوفی 330ھ) نے (کتاب الرسالہ کی شرح) کتاب الدلائل والاعلام میں فرمایا: كل من ظهر تدليسه عن غير الثقات لم يقبل خبره حتى يقول: حدثني أو سمعت ہر وہ شخص جس کی تدلیس غیر ثقہ راویوں سے ظاہر ہو جائے تو اس کی روایت قبول نہیں کی جاتی، الا یہ کہ وہ حدثنی یا سمعت کہے یعنی سماع کی تصریح کرے۔ (النکت علی مقدمة ابن الصلاح للزرکشی ص184)
تنبیہ: چونکہ کتاب الدلائل والاعلام میرے پاس موجود نہیں اور نہ مجھے اس کے وجود کا کوئی علم ہے، لہٰذا یہ حوالہ مجبوراً زرکشی سے لیا ہے اور دوسرے کئی علماء نے بھی صیرفی سے اس حوالے کو نقل کیا ہے (مثلاً دیکھیے شرح الفیة العراقي بالتبصرة والتذكرة ج1 ص183-184) نیز یہ کہ کتاب سے روایت جائز ہے الا یہ کہ اصل کتاب میں ہی طعن ثابت ہو تو پھر جائز نہیں ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ ضعیف راوی سے ایک دفعہ بھی تدلیس کرنے والے ثقہ راوی کے بارے میں صیرفی کا یہ موقف تھا کہ اس کی صرف وہی روایت مقبول ہوتی ہے جس میں سماع کی تصریح ہو، لہٰذا امام شافعی کے اصول سے صیرفی بھی متفق تھے۔
⑱ حافظ ابن حجر العسقلانی نے تدلیس الاسناد کے بارے میں کہا:
وحكم من ثبت عنه التدليس إذا كان عدلا، أن لا يقبل منه إلا ما صرح فيه بالتحديث على الأصح
صحیح ترین بات یہ ہے کہ جس راوی سے تدلیس ثابت ہو جائے، اگر چہ وہ عادل ہو تو اُس کی صرف وہی روایت مقبول ہوتی ہے جس میں وہ سماع کی تصریح کرے۔ (نزہۃ النظر شرح نخبۃ الفکر ص66، ومع شرح الملاعلی القاری ص419)
اس سے معلوم ہوا کہ ایک دفعہ تدلیس ثابت ہو جانے پر بھی حافظ ابن حجر مدلس کا عنعنہ صحت کے منافی سمجھتے تھے۔
حافظ ابن حجر نے اپنے نزدیک طبقہ ثانیہ کے ایک مدلس اعمش کے بارے میں کہا:
کیونکہ کسی سند کے راویوں کا ثقہ ہونا صحیح ہونے کو لازم نہیں ہے، چونکہ اعمش مدلس ہیں اور انھوں نے عطاء سے (اس حدیث میں) اپنے سماع کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (التلخیص الحبیر 3/19 ح1181، السلسلۃ الصحیحہ 1/165 ح104)
⑲ محمد بن اسماعیل الیمانی (متوفی 1182ھ) نے بھی حافظ ابن حجر کے مذکورہ قول (فقرہ 18)کو بطور جزم اور بغیر کسی تردید کے نقل کیا ہے۔ دیکھیے اسبال المطر علیٰ قصب السكر (تحقیق الشیخ محمد رفیق الاثری ص116-117)
⑳ شیخ الاسلام سراج الدین عمر بن رسلان البلقینی (متوفی 805ھ) نے مقدمہ ابن الصلاح کی شرح میں امام شافعی کا قول نقل کیا اور کوئی تردید نہیں کی، لہٰذا یہ ان کی طرف سے اصول مذکور کی موافقت ہے۔
دیکھیے محاسن الاصطلاح (ص235 تحقیق عائشہ عبدالرحمن بنت شاطی)
㉑ برہان الدین ابو اسحاق ابراہیم بن موسیٰ بن ایوب الابناسی (متوفی 802ھ) نے بھی امام شافعی کے مذکورہ اصول کو نقل کیا اور کوئی مخالفت نہیں کی، لہٰذا یہ ان کی طرف سے اصول مذکور کی تائید ہے۔ دیکھیے الشذی الفیاح (ج1 ص177)
ان کے علاوہ اور بھی کئی حوالے ہیں۔ مثلاً دیکھیے النکت علی ابن الصلاح لابن حجر (2/634) وغیرہ۔
اصول حدیث کے اس بنیادی مسئلے کے خلاف عرب ممالک میں حاتم شریف العونی، ناصر بن حمد الفہد اور عبداللہ بن عبد الرحمن السعد وغیرہم نے منہج المتقدمین (والمتاخرین) کے نام سے ایک نیا اصول متعارف کرانے کی کوشش شروع کر دی ہے اور وہ یہ ہے کہ مدلسین کی دو قسمیں ہیں:
◈ کثیر التدلیس مثلاً بقیہ بن الولید، حجاج بن ارطاۃ اور ابو جناب الکلبی وغیرہم
◈ قلیل التدلیس مثلاً قتادہ، اعمش، ہشیم، ثوری، ابن جریج اور ولید بن مسلم وغیرہم۔
دیکھیے منہج المتقدمین في التدليس لناصر بن حمد الفهد (ص155-156)
ان لوگوں کا خیال یہ ہے کہ قلیل التدلیس راوی کی صرف وہی روایت ضعیف ہوتی ہے جس میں اُس کا تدلیس کرنا ثابت ہو، ورنہ صحیح اور مقبول ہوتی ہے۔ یہ لوگ اپنے منہج کی تائید میں درج ذیل دلیل پیش کرتے ہیں:
⋆ یعقوب بن شیبہ نے کہا: میں نے علی بن المدینی سے پوچھا: جو شخص تدلیس کرتا ہے کیا وہ حدثنا کہے تو حجت ہوتا ہے؟ انھوں نے فرمایا: إذا كان الغالب عليه التدليس فلا حتى يقول: حدثنا اگر اس پر تدلیس غالب ہو تو جب تک حدثنا نہ کہے حجت نہیں ہوتا۔ (الکفایہ ص362 سند صحیح، منہج المتقدمین ص23 مقدمہ بقلم الشیخ عبداللہ بن عبد الرحمن السعد)
عرض ہے کہ یہ قول آٹھ (8) وجہ سے مرجوح اور نا قابل حجت ہے:
➊ یہ جمہور کے خلاف یعنی شاذ ہے جیسا کہ ہم نے ہمیں سے زیادہ علمائے کرام کے حوالوں سے ثابت کر دیا ہے اور باقی حوالے آگے آرہے ہیں ان شاء اللہ۔
یاد رہے کہ اس قول یعنی الغالب علیہ التدلیس کو جمہور کا موقف قرار دینا غلط ہے۔
➋ اس قول کے راوی خطیب بغدادی نے روایت کے باوجود خود اس قول کی عملاً مخالفت کی۔ دیکھیے یہی مضمون فقرہ نمبر 6
➌ محدثین متقدمین مثلاً تیسری صدی ہجری (300ھ) تک تدلیس کرنے والے عام راویوں کے بارے میں محدثین کرام سے قلیل التدلیس اور کثیر التدلیس کی صراحتیں ثابت نہیں ہیں۔
➍ یہ مفہوم مخالف ہے اور نص صریح کے مقابلے میں مفہوم مخالف حجت نہیں ہوتا۔
➎ یہ قول منسوخ ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ خود امام ابن المدینی نے سفیان ثوری کے بارے میں فرمایا:
والناس يحتاجون فى حديث سفيان إلى يحيى القطان لحال الإخبار يعنى على أن سفيان كان يدلس وأن يحيى القطان كان يوقفه على ما سمع مما لم يسمع لوگ سفیان کی حدیث میں یحیی القطان کے محتاج ہیں کیونکہ وہ مصرح بالسماع روایات بیان کرتے تھے۔ علی بن المدینی کا خیال ہے کہ سفیان تدلیس کرتے تھے اور یحیی القطان ان کی صرف مصرح بالسماع روایتیں ہی بیان کرتے تھے۔ (الکفایہ ص362 وسندہ صحیح)
یاد رہے کہ منہج المتقدمین والے امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کو کثیر التدلیس نہیں سمجھتے بلکہ بہت سے علماء انھیں قلیل التدلیس سمجھتے ہیں، لہٰذا اگر سفیان ثوری کی عن والی اور غیر مصرح بالسماع روایتیں (جن میں صراحتاً تدلیس ثابت نہیں ہے) صحیح و مقبول ہوتیں تو پھر لوگ ان کی روایات میں امام یحیی بن سعید القطان کے محتاج کیوں تھے؟
جب قلیل التدلیس راوی کی معنعن روایت میں سماع کی تصریح ضروری نہیں تو پھر یہاں لوگوں کا محتاج ہو کر یحیی القطان کی طرف رجوع کرنا نا قابل فہم ہے۔
یہاں پر بطور فائدہ عرض ہے کہ امام یحیی بن سعید القطان نے فرمایا:
ما كتبت عن سفيان شيئا إلا ما قال: حدثني أو حدثنا إلا حديثين…
میں نے سفیان (ثوری) سے صرف وہی کچھ لکھا ہے جس میں وہ حدثنی یا حدثنا کہتے تھے، سوائے دو حدیثوں کے۔ (کتاب العلل ومعرفۃ الرجال للامام احمد 207/1 ت1130، وسندہ صحیح) یاد رہے کہ ان دو روایتوں کہ یحیی القطان نے بیان کر دیا تھا۔
معلوم ہوا کہ یحیی القطان اس جدید منہج المتقدمین کے قائل نہیں تھے بلکہ اپنے استاذ امام سفیان ثوری کے عنعنے اور عدم تصریح سماع کو صحت کے لئے منافی سمجھتے تھے، ورنہ اتنی تکلیف کی ضرورت کیا تھی؟
➏ ابن المدینی کے اس قول کو نہ اہل حدیث نے قبول کیا ہے (مثلاً شیخ ارشاد الحق اثری صاحب نے ابوالزبیر، قتادہ، اعمش، ابراہیم نخعی اور محمد بن عجلان وغیرہم کی روایات پر تدلیس کی وجہ سے جرح کی ہے) اور نہ حنفیہ، شافعیہ، دیوبندیہ، بریلویہ اور دیگر لوگ اسے تسلیم کرتے ہیں، مثلاً سرفراز خان صفدر دیوبندی اور احمد رضا خان بریلوی وغیرہم نے کئی مدلس یا تدلیس کی طرف منسوب راویوں کی روایات پر تدلیس کی جرح کی ہے، جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ نیز دیکھیے میری کتاب علمی مقالات (ج3 ص221-612)
عام کتب اصول حدیث میں بھی اس قول کو بطور حجت نقل نہیں کیا گیا بلکہ اس سے اغماض اس بات کی دلیل ہے کہ یہ قول غلط اور مرجوح ہے۔
➐ کون کثیر التدلیس تھا اور کون قلیل التدلیس تھا، اس مسئلے کو متقدمین سے ثابت کرنا اور عام مسلمانوں کو اس پر متفق کرنے کی کوشش کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔
➑ اختلافی مسائل کی کتابوں اور مناظرات علمیہ میں یہ اصول غیر مقبول ہے بلکہ اس کے برعکس ثابت ہے۔
⋆ امام یحیی بن معین رحمہ اللہ نے مدلس راوی کے بارے میں فرمایا: لا يكون حجة فيما دلس
وہ جس میں تدلیس کرے تو حجت نہیں ہوتا۔ (الکفایہ ص362 وسندہ صحیح)
اس قول کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ وہ جو روایت عن سے بیان کرے تو حجت نہیں ہوتا۔ فی الحال اس مطلب کی تائید میں چار حوالے پیش خدمت ہیں:
➊ امام ابونعیم الفضل بن دکین الکوفی (متوفی 218ھ) نے سفیان ثوری کے بارے میں فرمایا: إذا دلس عنه يقول: قال عمرو بن مرة اور جب آپ اُن (عمرو بن مرہ) سے تدلیس کرتے تو فرماتے: عمرو بن مرہ نے کہا۔ (تاریخ ابی زرعہ الدمشقی 1193، وسندہ صحیح علمی مقالات ج1 ص287)
معلوم ہوا کہ امام ابونعیم غیر مصرح بالسماع روایت کو دلس کہتے تھے۔
➋ طحاوی نے کہا: اور اس حدیث کو زہری نے عروہ سے نہیں سنا، انھوں نے تو اس کے ساتھ تدلیس کی ہے۔ (شرح معانی الآثار 1/72 علمی مقالات ج1 ص288)
یہاں زہری کی عن عروہ والی روایت کو دلس به قرار دیا گیا ہے۔
➌ محمد بن اسحاق بن بیسار امام المغازی نے ایک حدیث امام زہری سے فذكر کہہ کر سماع کی تصریح کے بغیر بیان کی تو امام ابن خزیمہ نے ان صح الخبر کی صراحت کے ساتھ روایت کی صحت میں شک کیا اور فرمایا: أنا استثنيت صحة هذا الخبر لأني خائف أن يكون محمد بن إسحاق لم يسمع من محمد بن مسلم وإنما دلسه عنه میں نے اس روایت کی صحت کا استثنا اس لئے کیا کہ مجھے ڈر ہے کہ محمد بن اسحاق نے محمد بن مسلم (الزہری) سے (اس روایت کو) نہیں سنا اور انھوں نے تو اس میں تدلیس کی ہے۔ (صحیح ابن خزیمہ ج1 ص71 ح137)
اس قول میں عدم تصریح سماع والی روایت پر تدلیس کا اطلاق کیا گیا ہے۔
➍ جریر بن حازم نے ابن ابی نجیح سے ایک روایت عن کے ساتھ بیان کی تو بیہقی نے فرمایا: وهذا إسناد صحيح إلا أنهم يرون أن جرير بن حازم أخذه من محمد بن إسحاق ثم دلسه فإنه بين فيه سماع جرير من ابن أبى نجيح صار الحديث صحيحا. والله أعلم
اور یہ سند (بظاہر) صحیح ہے الا یہ کہ وہ لوگ (علماء) سمجھتے ہیں کہ جریر نے اسے محمد بن اسحاق سے لیا اور پھر اس میں تدلیس کر دی (یعنی بطور عن بیان کر دیا) پس اگر اس میں جریر کا ابن ابی نجیح سے سماع واضح ہو جائے تو حدیث صحیح ہو جائے گی۔ واللہ اعلم (السنن الکبری ج5 ص230، کتاب الحج باب جواز الذکر والانثی فی الہدایا)
[متعدد علماء نے مدلس کی عن والی روایت کو ضعيف لتدليس کہہ کر ضعیف قرار دیا ہے، مثلاً سنن ابن ماجہ (4253) کی ایک روایت الوليد بن مسلم عن ابن ثوبان عن أبيه عن مكحول عن جبير بن نفير عن عبد الله بن عمرو عن النبى صلى الله عليه وسلم کے بارے میں بوصیری نے کہا:
هذا إسناد ضعيف، فيه الوليد بن مسلم وهو مدلس وقد عنعنه وكذلك مكحول الدمشقي… یہ سند ضعیف ہے، اس میں ولید بن مسلم مدلس ہیں اور انھوں نے عن سے روایت کی ہے، اور اسی طرح مکحول الدمشقی (مدلس ہیں اور انھوں نے عن سے روایت کی ہے) (زوائد سنن ابن ماجه ص553ح 1449)
روایت مذکورہ میں ولید بن مسلم کا خاص طور پر تدلیس کرنا ثابت نہیں، بلکہ اُن کے عن کی وجہ سے ہی بوسیری نے اسے تدلیس قرار دیا ہے، حالانکہ وہ اس روایت میں منفرد نہیں بلکہ ایک جماعت نے اُن کی متابعت کی ہے، جیسا کہ بوصیری کے بقیہ کلام سے بھی ظاہر ہے۔ امام مکحول کا مدلس ہونا ثابت نہیں، کجا یہ کہ وہ کثیر التدلیس ہوں اور خاص اس روایت میں ان کا تدلیس کرنا بھی ثابت نہیں، لہٰذا بوصیری کا اس روایت کو مکحول کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف قرار دینا اس بات کی دلیل ہے کہ مدلس کی عن والی روایت کو علماء تدلیس قرار دیتے ہیں اور یہ شرط نہیں لگاتے کہ اگر کسی خاص روایت میں مدلس نے صراحت کے ساتھ تدلیس کی ہوگی تو اسے تدلیس قرار دیں گے، ورنہ نہیں۔
ثابت ہوا کہ عنعنه کو دلسه قرار دینا بالکل صحیح ہے۔
منہاج المتقدمین والی پارٹی کا یہ کہنا : مدلس کی عن والی ہر روایت صحیح ہوتی ہے الا یہ کہ کسی خاص روایت میں تصریح ثابت ہو جائے کہ یہ روایت اُس نے اپنے استاد سے نہیں سنی تھی، تو صرف یہ روایت ضعیف ہوگی۔ اصول حدیث کی رُو سے غلط ہے، ورنہ مدلس اور غیر مدلس کی عن والی روایات میں فرق ہی باقی نہیں رہتا۔
اگر ثقہ غیر مدلس راوی کی کسی خاص روایت میں یہ ثابت ہو جائے کہ انھوں نے اس روایت کو اپنے استاد سے نہیں سنا تھا تو معلول ہونے کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہوتی ہے۔
فائدہ: سنن ابن ماجہ کی روایت مذکورہ میں امام مکحول پر تدلیس کا اعتراض غلط ہے اور عبدالرحمن بن ثابت بن ثوبان جمہور کے نزدیک موثق ہونے کی وجہ سے حسن الحدیث تھے، لہٰذا یہ روایت حسن لذاتہ ہے اور اس کے شواہد بھی ہیں۔ والحمد للہ]
ان حوالوں سے معلوم ہوا کہ دلس کا لفظ غیر مصرح بالسماع روایت بیان کرنے پر بھی بولا جا سکتا ہے، لہٰذا یہ ضروری ہے کہ امام ابن معین کے مذکورہ قول کا وہی مفہوم لیا جائے جو جمہور محدثین وعلماء کی تحقیق کے مطابق ہے۔
یعقوب بن سفیان الفارسی رحمہ اللہ کے قول و حديث سفيان و أبى إسحاق و الأعمش ما لم يعلم أنه مدلس يقوم مقام الحجة (اور سفیان، ابو اسحاق اور اعمش کی حدیث، جب معلوم نہ ہو کہ اس میں تدلیس کی گئی ہے تو حجت کے مقام پر قائم یعنی حجت ہے) کا بھی یہی مطلب ہے جو امام ابن معین رحمہ اللہ کے قول کا بیان کیا گیا ہے۔
یہ کیسے معلوم ہوگا کہ سفیان ثوری، ابو اسحاق السبیعی اور اعمش نے فلاں حدیث میں تدلیس کی ہے یا نہیں؟ تو اس کا جواب آسان ہے کہ اگر ان کے سماع کی تصریح ثابت ہو جائے تو قطعی فیصلہ ہو گیا کہ انھوں نے تدلیس نہیں کی اور اگر تصریح ثابت نہ ہو تو پھر اس بات کا قوی خوف اور ڈر ہے کہ ہو سکتا ہے انھوں نے اس روایت میں تدلیس کی ہو، کسی غیر ثقہ سے روایت مذکورہ کو سن کر اسے گرا دیا ہو جیسا کہ سفیان ثوری نے ایک حدیث اپنے نزدیک غیر ثقہ سے سنی تھی جس نے اسے عاصم سے بیان کیا تھا، پھر اسی روایت کو ثوری نے بغیر تصریح سماع کے عاصم سے بیان کر دیا تو اُن کے شاگرد ابو عاصم نے کہا: ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سفیان ثوری نے اس حدیث میں … سے تدلیس کی ہے۔
دیکھیے سنن الدارقطنی (3/201 ح3423) اور علمی مقالات (ج1 ص252-253)
⋆ منہج المتقدمین کے شیخ عبداللہ بن عبد الرحمن السعد حفظہ اللہ نے امام شافعی کے اصول تدلیس کو «کلام نظری» کہہ کر یہ عجیب و غریب دعوی کیا: بلکہ ہوسکتا ہے کہ شافعی نے اس (اصول پر) خود عمل نہیں کیا، کیونکہ انھوں نے اپنی کتابوں میں بعض جگہ ابن جریج کی معنعن روایات سے حجت پکڑی اور شافعی نے یہ ذکر نہیں کیا کہ ابن جریج نے یہ روایات اپنے اساتذہ سے سنی ہیں۔
دیکھیے کتاب الرسالہ (890، 498، 903) اور برائے ابوالزبیر (الرسالہ: 889، 498)!!
عرض ہے کہ یہ کلام کئی وجہ سے باطل ہے:
➊ امام شافعی کا” اسنادہ صحیح“ وغیرہ کہنے کے بغیر مجرد روایت بیان کرنا حجت پکڑنا نہیں ہے۔
➋ یہ ضروری نہیں ہے کہ مدلس کے سماع کی تصریح خود امام شافعی سے صراحنا ثابت ہو بلکہ دوسری کتاب میں اس کی صراحت کافی ہے جیسا کہ صحیح بخاری و صحیح مسلم کے مدلسین کی مرویات کے بارے میں علمائے کرام کا عمل جاری وساری ہے۔
➌ روایات مذکورہ کی تفصیل درج ذیل ہے:
● (الرسالہ: 498) اس میں سماع کی تصریح کتاب الام (1/84) میں موجود ہے۔ دیکھیے الرسالہ کا حاشیہ ص178 نمبر9
● (الرسالہ: 890) ابن جریج کی عطاء سے روایت قوی ہوتی ہے، لہٰذا سماع کی یہاں ضرورت نہیں، دوسرے یہ کہ یہ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ صحیح حدیث (السنن الصغری للنسائی 1/284 ح586 ترقیم تعلیقات سلفیہ) کی تائید میں ہے۔
● (الرسالہ: 903) روایت مذکورہ موقوف ہے اور اس میں ابن جریج کے ابن ابی ملیکہ سے سماع کی تصریح اخبار مکہ للفاکہی (ج1 ص257 ح496 وسندہ حسن لذاتہ) میں موجود ہے۔
● (الرسالہ: 498) ابوالزبیر کے سماع کی تصریح سنن النسائی (1/284 ح586) میں موجود ہے۔
● (الرسالہ: 889) اس میں ابوالزبیر کے سماع کی تصریح سنن النسائی (586) میں موجود ہے۔
● ایک شخص نے کتاب الرسالہ کے فقرہ: 1220، کا حوالہ بھی امام شافعی کے اصول کے خلاف بطور رد پیش کیا ہے، حالانکہ اسی حوالے میں أخبره کے ساتھ سماع کی تصریح موجود ہے۔ ثابت ہوا کہ شیخ عبداللہ السعد کا امام شافعی پر معارضہ پیش کرنا باطل ہے۔
منہج المتقدمین کے نام سے بعض جدید علماء نے یہ دعوی کیا ہے کہ ثقہ مدلس کی غیر مصرح بالسماع (عن والی) ہر روایت صحیح و مقبول ہوتی ہے الا یہ کہ کسی خاص روایت میں صراحتاً تدلیس ثابت ہو تو وہ ضعیف ہو جاتی ہے۔!!
اس مرجوح اور غلط منہج کی تردید کے لئے ہمارے ذکر کردہ اکیس (21) حوالے کافی ہیں، تاہم مزید حوالے بھی پیش خدمت ہیں:
㉒ امام بخاری رحمہ اللہ نے قتادہ عن ابی نضرہ والی ایک روایت کے بارے میں فرمایا:
ولم يذكر قتادة سماعا من أبى نضرة فى هذا
اور قتادہ نے ابو نضرہ سے اس روایت میں اپنے سماع کا ذکر نہیں کیا۔ (جزء القراءة: 104)
معلوم ہوا کہ امام بخاری کے نزدیک مدلس کا سماع کی تصریح نہ کرنا صحت حدیث کے منافی ہے۔
㉓ اعمش عن حبیب بن ابی ثابت عن عطاء بن ابی رباح عن (ابن) عمر والی ایک روایت پر جرح کرتے ہوئے امام ابن خزیمہ نے فرمایا: دوسری بات یہ ہے کہ اعمش مدلس ہیں، انھوں نے حبیب بن ابی ثابت سے اپنے سماع کا ذکر نہیں کیا۔ الخ (کتاب التوحید ص38 علمی مقالات ج3 ص220)
㉔ امام شعبہ بن الحجاج رحمہ اللہ (متوفی 160ھ) نے فرمایا: میں قتادہ کے منہ کو دیکھتا رہتا، جب آپ کہتے: میں نے سنا ہے یا فلاں نے ہمیں حدیث بیان کی، تو میں اسے یاد کر لیتا اور جب آپ کہتے: فلاں نے حدیث بیان کی، تو میں اسے چھوڑ دیتا تھا۔ (تقدمة الجرح والتعديل ص169، وسندہ صحیح)
معلوم ہوا کہ امام شعبہ بھی مدلس کی عدم تصریح سماع والی روایت کو حجت نہیں سمجھتے تھے۔ نیز دیکھیے علمی مقالات (ج1 ص261-262)
㉕حافظ ابن عبدالبر نے کہا: اور انھوں (محدثین) نے فرمایا: اعمش کی تدلیس (یعنی عن والی روایت) غیر مقبول ہے، کیونکہ انھیں جب (معنعن روایت کے بارے) پوچھا جاتا تو غیر ثقہ کا حوالہ دیتے تھے۔ الخ (التمہید ج1 ص30 علمی مقالات ج1 ص270)
ابن عبدالبر سے اس کے علاوہ تاسف والا ایک گول مول قول بھی موجود ہے۔ (دیکھیے التمہید 19/287)
لیکن وہ قول جمہور کے خلاف ہونے کی وجہ سے مرجوح ہے۔
㉖ محمد بن فضیل بن غزوان (متوفی 195ھ) نے کہا: مغیرہ (بن مقسم) تدلیس کرتے تھے، پس ہم اُن سے صرف وہی روایت لکھتے جس میں وہ حدثنا ابراہیم کہتے تھے۔ (مسند علی بن الجعد 430/1 ح663 وسندہ حسن، دوسرا نسخہ 644 علمی مقالات ج1 ص287)
معلوم ہوا کہ محمد بن فضیل بھی مدلس کی وہ روایت، جس میں سماع کی تصریح نہ ہو ضعیف و مردود سمجھتے تھے۔
㉗ابن القطان الفاسی (متوفی 628ھ) نے کہا: ومعنعن الأعمش عرضة لتبين الإنقطاع فإنه مدلس اور اعمش کی معنعن (عن والی) روایت انقطاع بیان کرنے کا نشانہ اور ہدف ہے کیونکہ وہ مدلس ہیں۔ (بیان الوہم والایہام 2/435-441)
اگر مدلس کی عن والی روایت مطلقاً صحیح ہوتی ہے تو پھر انقطاع کے ہدف اور نشانہ ہونے کا کیا مطلب؟!
㉘ زہری عن عروہ والی ایک روایت کے بارے میں امام ابو حاتم الرازی نے فرمایا:
الزهري لم يسمع من عروة هذا الحديث فلعله دلسه
زہری نے عروہ سے یہ حدیث نہیں سنی، لہٰذا ہو سکتا ہے کہ انھوں نے اس میں تدلیس کی ہو۔ (علل الحدیث 1/324 ح968)
㉙امام یحیی بن سعید القطان بھی مدلس کی تصریح سماع نہ ہونے کو صحت حدیث کے منافی سمجھتے تھے، جیسا کہ اُن کے عمل سے ثابت ہے۔
مثلاً دیکھیے یہی مضمون (فقرہ: 21) ابن المدینی رحمہ اللہ کے قول کا رد نمبر 4
㉚ ابن الترکمانی حنفی نے ایک روایت پر جرح کرتے ہوئے کہا:
اس میں تین علتیں (وجہ ضعف) ہیں: ثوری مدلس ہیں اور انھوں نے یہ روایت عن سے بیان کی ہے…. (الجوہر النقی ج8 ص262، الحدیث حضرو: 67 ص17)
معلوم ہوا کہ ابن الترکمانی کے نزدیک بھی ہر روایت میں مدلس راوی کے سماع کی تصریح کا ثبوت ضروری ہے اور مطلقاً عدم تصریح سماع والی روایت معلول یعنی ضعیف ہوتی ہے۔ان کے علاوہ اور بھی بہت سے حوالے ہیں، مثلاً عینی حنفی نے کہا: اور سفیان ثوری مدلسین میں سے تھے اور مدلس کی عن والی روایت حجت نہیں ہوتی الا یہ کہ اس کی تصریح سماع دوسری سند سے ثابت ہو جائے۔ (عمدۃ القاری 3/112، الحدیث حضرو: 66 ص27، عدد 67 ص16)
اب عصر حاضر کے بعض اہل حدیث علماء کے دس حوالے پیش خدمت ہیں:
㉛مولانا ارشاد الحق اثری صاحب نے حافظ ابن حجر کے نزدیک طبقہ ثالثہ وطبقہ ثانیہ کے مدلسین کی معنعن اور غیر مصرح بالسماع روایات کو غیر صحیح اور ضعیف قرار دیا ہے، جیسا کہ اس مضمون کے بالکل شروع میں باحوالہ بیان کر دیا گیا ہے۔
㉜ مولانا محمد داود ارشد صاحب نے امام سفیان ثوری کو مدلس قرار دینے کے بعد لکھا:
جب یہ بات متحقق ہو گئی کہ سفیان ثوری مدلس ہیں، تو اب سنئے کہ زیر بحث احادیث میں امام سفیان ثوری نے تحدیث کی صراحت نہیں کی بلکہ معنعن مروی ہے، اور مدلس راوی کی روایت سماع کی صراحت کے بغیر ضعیف ہوتی ہے۔ الخ (حدیث اور اہل تقلید ج1ص723)
㉝ذہبی عصر حقاً شیخ عبد الرحمن بن یحی المعلمی الیمانی المکی رحمہ اللہ نے سفیان ثوری کی ایک معنعن روایت کو معلول قرار دیتے ہوئے پہلی علت یہ بیان کی کہ سفیان تدلیس کرتے تھے اور کسی سند میں اُن کے سماع کی تصریح نہیں ہے۔ دیکھیے التنکیل بمافی تانیب الکوثری من الاباطیل (ج2 ص20) اور الحدیث حضرو: 67 ص18
㉞محترم مبشر احمد ربانی صاحب نے اعمش کی ایک روایت پر دوسری جرح درج ذیل الفاظ میں لکھی:
اعمش مدلس ہیں اور ضعفاء ومجاہیل سے تدلیس کر جاتے ہیں اور اس روایت میں انھوں نے سماع کی تصریح نہیں کی۔ (احکام و مسائل کتاب وسنت کی روشنی میں ج1 ص176 طبع اول 2008ء)
نیز دیکھیے آپ کے مسائل اور ان کا حل (ج3 ص53، ج3 ص57-58)
معلوم ہوا کہ ربانی صاحب کے نزدیک مدلس کی معنعن روایت (غیر صحیحین میں) ضعیفہ ہوتی ہے اور اس سلسلے میں اُن سے رابطہ کر کے مزید معلومات بھی حاصل کی جاسکتی ہیں۔
㉟ مولانا عبد الرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب جرابوں پر مسح والی ایک روایت کو ضعیف قرار دیا اور فرمایا: في سنده الأول الأعمش وهو مدلس ورواه عن الحكم بالعنعنة ولم يذكر سماعه منه… اس کی پہلی سند میں اعمش ہیں اور وہ مدلس ہیں، انھوں نے اسے حکم (بن عتیبہ) سے عن کے ساتھ روایت کیا ہے اور اُن سے سماع کا ذکر نہیں کیا۔ الخ (تحفۃ الاحوذی ج1 ص101 تحت ح99 باب فی المسح على الجوربین والنعلين)
㊱حافظ ابن حجر کی طبقات المدلسین کے نزدیک طبقہ ثانیہ کے مدلس یحیی بن ابی کثیر کے بارے میں سعودی عرب کے مشہور شیخ عبدالعزیز ابن باز رحمہ اللہ نے فرمایا:
ويحيى مدلس والمدلس إذا لم يصرح بالسماع لم يحتج به إلا ما كان فى الصحيحين اور یحیی مدلس ہیں اور مدلس اگر سماع کی تصریح نہ کرے تو اس سے حجت نہیں پکڑی جاتی الا یہ کہ جو کچھ صحیحین میں ہے تو وہ حجت ہے۔ (مجموع فتاوی ابن باز ج26 ص236 بحوالہ مکتبہ شاملہ)
نیز دیکھیے حافظ عبدالمنان نورپوری صاحب کی کتاب: احکام و مسائل (ج1 ص246، 247)
㊲ مولانا محمد یحیی گوندلوی رحمہ اللہ نے مدلس کی عن والی روایت کے بارے میں عام اصول بیان فرمایا کہ مدلس کی معنعن روایت نا قابل قبول ہے۔ (ضعیف اور موضوع روایات ص68، کتاب الایمان سے تھوڑا پہلے، دوسرا نسخہ ص66)
گوندلوی صاحب نے سفیان ثوری کی تدلیس (عنعنے) کو روایت کی علت (وجہ ضعف) قرار دیا ہے۔ دیکھیے صحیح سنن الترمذی مترجم (ج1 ص192)
اور فرمایا: اس روایت کے ضعف کی وجہ سفیان ثوری کی تدلیس ہے۔ سفیان مدلس ہیں اور مدلس جب عن سے روایت کرے تو قابل حجت نہیں اور مذکورہ روایت بھی عن سے ہے، جس وجہ سے اس روایت کو صحیح قرار نہیں دیا جاسکتا۔ (صحیح سنن الترمذی مترجم ج1 ص193)
گوندلوی صاحب نے اپنی ایک سابقہ بات سے رجوع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ راقم نے خیر البراہین میں لکھا تھا کہ سفیان کی تدلیس مضر نہیں مگر (صح وفی الاصل: بگر) بعد ازاں تحقیق سے معلوم ہوا کہ مضر ہے۔ (ضعیف اور موضوع روایات ص259 کا حاشیہ طبع ثانی ستمبر 2006ء)
㊳ ملک عبد العزیز مناظر ملتانی رحمہ اللہ (سابق ) مہتمم مدرسہ عربیہ دارالحدیث محمدیہ ملتان نے قتادہ کی ایک روایت کے بارے میں فرمایا:
قتادہ چونکہ مدلس اور معنعن سے روایت کرتا ہے، ایسی حدیث قابل حجت نہیں ہوتی۔ (فیصلہ رفع الیدین تبرید العینین فی اثبات رفع الیدین ص34، استیصال التقلید و دیگر رسائل ص90)
㊴مولانا محمد ابو القاسم سیف بن محمد سعید البنارسی رحمہ اللہ نے ایک روایت پر جرح کرتے ہوئے لکھا:
خود معلوم اور قابل حجت و تسلیم نہیں کیونکہ اس کا ایک راوی سفیان ثوری مدلس ہے اور عن سے روایت کرتا ہے.. الخ (تذکرة المناظرین از قلم محمد معتقدی اثری عمری ص335)
㊵ حافظ ابن حجر کے نزدیک طبقہ ثانیہ کے مدلس زکریا بن ابی زائدہ کے بارے میں مولانا خواجہ محمد قاسم رحمہ اللہ نے لکھا ہے: گزارش ہے کہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ والی سند میں زکریا بن ابی زائدہ مدلس ہے جو عن سے روایت کرتا ہے۔ (حدیث اور غیر اہل حدیث بجواب حدیث اور اہلحدیث ص72)
منہج المنتقد میں والے نہ تو امام شافعی رحمہ اللہ کے بیان کردہ اصول کو مانتے ہیں اور نہ حافظ ابن حجر کی طبقاتی تقسیم پر یقین رکھتے ہیں، لہٰذا عرض ہے کہ حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ (سابق) شیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ نے ایک روایت پر جرح کرتے ہوئے لکھا ہے:
اس حدیث کی سند میں امام قتادہ ہیں۔ جو تیسرے طبقے کے مدلسین سے ہیں۔ اور وہ عن کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ یعنی یہ نہیں کہتے کہ میں نے یہ حدیث سنی۔ اور ایسی حدیث حجت نہیں ہوتی۔ الخ (خیر الکلام ص159، دوسرا نسخہ ص123)
نیز دیکھیے توضیح الکلام (ج2 ص295، دوسرا نسخہ ص700 بلفظ مختلف)
ان کے علاوہ اور بھی بہت سے حوالے ہیں اور عصرِ حاضر میں مسلک حق کا دفاع کرنے والے مناظرین مثلاً محترم ابوالحسن مبشر احمد ربانی، محترم مولانا محمد داود ارشد، محترم ابوالاسجد محمد صدیق رضا اور محترم حافظ عمر صدیق حفظہم اللہ وغیرہم اس منہج پر قائم ہیں کہ صحیح بخاری و صحیح مسلم کے علاوہ دوسری کتابوں میں مدلس کی عن والی روایت حجت نہیں ہوتی اور یہی مفتی بہ قول ہے اور اسی پر عمل ہے۔
ان چالیس حوالوں کے بعد بریلویوں اور دیوبندیوں کے دس حوالے پیش خدمت ہیں:
㊶احمد رضا خان بریلوی نے عبد اللہ بن ابی نجیح المکی المفسر (طبقہ ثالثہ عند ابن حجر) کی ایک روایت کے بارے میں لکھا ہے: اس کا مدار ابن ابی نجیح پر ہے وہ مدلس تھا اور یہاں روایت میں عنعنہ کیا اور عنعنہ مدلس جمہور محدثین کے مذہب مختار و معتمد میں مردود و نامستند ہے۔ (فتاوی رضویہ مع تخریج و ترجمه عربی عبارات ج5 ص245)
شریک القاضی (طبقہ ثانیہ عند ابن حجر) پر بھی احمد رضا خان نے تدلیس والی جرح بطور رضامندی نقل کی ہے۔ دیکھیے فتاوی رضویہ (ج24 ص239)
㊷ بریلویوں کے مناظر محمد عباس رضوی بریلوی رضا خانی نے سفیان ثوری کی ایک روایت کے بارے میں لکھا ہے: یعنی سفیان مدلس ہے اور یہ روایت انہوں نے عاصم بن کلیب سے عن کے ساتھ کی ہے اور اصول محدثین کے تحت مدلس کا عنعنہ غیر مقبول ہے جیسا کہ آگے انشاء اللہ بیان ہوگا۔ (مناظرے ہی مناظرے ص249)
عباس رضوی نے سلیمان الاعمش کی ایک معنعن روایت کے بارے میں کہا:
اس روایت میں ایک راوی امام اعمش ہیں جو کہ اگر چہ بہت بڑے امام ہیں لیکن مدلس ہیں اور مدلس راوی جب عن سے روایت کرے تو اس کی روایت بالاتفاق مردود ہوگی۔ (واللہ آپ زندہ ہیں ص351)
㊸ غلام مصطفیٰ نوری بریلوی نے سعید بن ابی عروبہ (طبقہ ثانیہ عند ابن حجر) کی روایت کے بارے میں لکھا ہے: لیکن اس کی سند میں ایک تو سعید بن ابی عروبہ ہیں جو کہ ثقہ ہیں لیکن مدلس ہیں اور یہ روایت بھی انہوں نے قتادہ سے لفظ عن کے ساتھ کی ہے اور جب مدلس عن کے ساتھ روایت کرے تو وہ حجت نہیں ہوتی۔ (ترک رفع یدین ص425 مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ گلبرگ اے۔ فیصل آباد)
㊹محمد شریف کوٹلوی بریلوی نے سفیان ثوری کی ایک روایت پر جرح کرتے ہوئے لکھا: اور سفیان کی روایت میں تدلیس کا شبہ ہے۔ (فقہ الفقیہ ص134)
㊺ محمود احمد رضوی بریلوی نے کہا: اور یہ بھی مسلم ہے کہ مدلس جب لفظ عن سے روایت کرے تو روایت متصل نہیں قرار پائے گی.. لہٰذا یہ روایت منقطع ہوگی اور قابل حجت نہ رہے گی۔ (فیوض الباری فی شرح صحیح البخاری حصہ سوم ص406، دیکھیے علمی مقالات ج3 ص613-614)
㊻حسین احمد مدنی ٹانڈوی دیوبندی نے امام سفیان ثوری کی روایت پر جرح کرتے ہوئے کہا: اور سفیان تدلیس کرتا ہے۔ (تقریر ترمندی ص391 کتب خانه مجید یہ ملتان)
㊼ سرفراز خان صفدر دیوبندی نے کہا: مُدلِّس راوی عن سے روایت کرے تو وہ حجت نہیں الا یہ کہ وہ تحدیث کرے یا اس کا کوئی ثقہ متابع ہو مگر یہ یادر ہے کہ صحیحین میں تدلیس مضر نہیں۔ وہ دوسرے طرق سے سماع پر محمول ہے۔ (مقدمہ نووی ص18، فتح المغیث ص77 وتدریب الراوی ص144) ( خزائن السنن ج 1ص1)
㊽فقیر اللہ دیوبندی نے لکھا ہے:
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
حكم من ثبت عنه التدليس اذا كان عدلا ان لا يقبل منه الا ما صرح فيه بالتحديث على الاصح
عادل راوی سے جب ایک مرتبہ تدلیس ثابت ہو جائے تو اس کا حکم یہ ہے کہ اس کی وہی روایت مقبول کی جائے گی جس میں تحدیث کی تصریح ہوگی۔ (نزهة النظر شرح نخبۃ الفکر ص45)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا بیان کردہ یہ حکم تمام علماء اصول کے ہاں متفق علیہ ہے علامہ عراقی رحمہ اللہ، علامہ ابن عبد البر رحمہ اللہ کے مقدمہ تمہید سے مدلس کا یہی حکم نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
فهذا ما لا اعلم فيه ايضا خلافا (التقييد والايضاح ص)
اس حکم میں علماء اصول کا کوئی اختلاف میرے علم میں نہیں ہے۔ (خاتمة الکلام ص476)
㊾ایک غالی دیوبندی امداد اللہ انور تقلیدی نے ایک روایت کے بارے میں کہا:
اس کی سند میں اعمش راوی مدلس ہیں۔ اس نے عنعن سے روایت کی ہے اور اس کا سماع حکم سے ثابت نہیں ہے۔ (مستند نماز حنفی ص35)
㊿ محمد الیاس فیصل دیوبندی نے لکھا ہے:
اس کی سند میں اعمش راوی مدلس ہے۔ اس نے عنعن سے روایت کی ہے اور اس کا سماع حکم سے ثابت نہیں ہے۔ (نماز پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ص85)
ان حوالوں سے یہ ثابت ہو گیا کہ جمہور محدثین کرام اور علمائے حق کے نزدیک مدلس راوی کی عن والی روایت (غیر صحیحین میں) حجت نہیں ہے، اور اسے ”سرتا سر حقیقت کے منافی “قرار دینا غلط ہے نیز اہل حق کے علاوہ دوسرے فرقوں سے بھی یہی اصول و منہج ثابت ہے، لہٰذا منہج المتقدمین والوں کا بعض شاذ اقوال لے کر کثیر التدلیس اور قلیل التدلیس کا شوشہ چھوڑ کر مسئلہ تدلیس کا انکار باطل و مردود ہے۔
اس تحقیقی مضمون میں بیان کردہ پچاس حوالوں کے مذکورین کے نام علی الترتیب الہجائی درج ذیل ہیں:
ابن الترکمانی حنفی (30)
ابن الصلاح (7)
ابن القطان الفاسی (27)
ابن الملقن (9)
ابن باز (36)
ابن حبان (15)
ابن حجر العسقلانی (18)
ابن عبد البر (25)
ابناسی (21)
ابن خزیمہ (23)
ابن کثیر (10)
ابوالقاسم بنارسی (39)
ابوبکر الصیرفی (17)
احمد بن حنبل (2)
ارشاد الحق اثری (31)
اسماعیل بن یحیی المزنی (4)
بخاری (22)
بیہقی (5)
حسین الطیبی (16)
خواجہ محمد قاسم (40)
ابوحاتم الرازی (28)
احمد رضا خان بریلوی (41)
اسحاق بن راہویہ (3)
امداد اللہ انور (49)
بلقینی (20)
حسین احمد مدنی (46)
خطیب بغدادی (6)
داود ارشد (32)
زکریا الانصاری (13)
سخاوی (12)
سرفراز خان صفدر (47)
شافعی (1)
سیوطی (14)
شعبہ (24)
عباس رضوی (42)
عبدالرحمن بن مہدی (2)
عبدالرحمن مبارکپوری (35)
عبد العزیز ملتانی (38)
عراقی (11)
فقیر اللہ دیوبندی (48)
محمد الیاس فیصل (50)
محمد بن فضیل بن غزوان (26)
محمد یحیی گوندلوی (37)
معلمی (33)
غلام مصطفی نوری (43)
مبشر ربانی (34)
محمد بن امیر الصنعانی (19)
محمد شریف کوٹلوی (44)
محمود احمد رضوی (45)
نووی (8)
یحیی القطان (29)
⋆ محمد امام مسلم رحمہ اللہ نے فرمایا:
وإنما كان تفقد من تفقد منهم سماع رواة الحديث ممن روى عنهم -إذا كان الراوي ممن عرف بالتدليس فى الحديث وشهر به فحينئذ يبحثون عن سماعه فى روايته ويتفقدون ذلك منه كي تنزاح عنهم علة التدليس
جس نے بھی راویان حدیث کا سماع تلاش کیا ہے تو اس نے اس وقت تلاش کیا ہے جب راوی حدیث میں تدلیس کے ساتھ معروف (معلوم) ہو اور اس کے ساتھ مشہور ہو تو اس وقت روایت میں اس کا سماع دیکھتے ہیں اور تلاش کرتے ہیں تا کہ راویوں سے تدلیس کا ضعف دور ہو جائے۔ (مقدمہ صحیح مسلم طبع دار السلام ص22)
اس عبارت کی تشریح میں ابن رجب حنبلی نے لکھا ہے:
وهذا يحتمل أن يريد به كثرة التدليس فى حديثه ويحتمل أن يريد [به] ثبوت ذلك عنه وصحته فيكون كقول الشافعي
اور اس میں احتمال ہے کہ اس سے حدیث میں کثرت تدلیس مراد ہو، اور (یہ بھی) احتمال ہے کہ اس سے تدلیس کا ثبوت مراد ہو، تو یہ شافعی کے قول کی طرح ہے۔ (شرح علل الترمذی ج1 ص354)
عرض ہے کہ اس سے دونوں مراد ہیں یعنی اگر راوی کثیر التدلیس ہو تو بھی اس کی معنعن روایت (اپنی شروط کے ساتھ) ضعیف ہوتی ہے، اور اگر راوی سے (ایک دفعہ ہی) تدلیس ثابت ہو جائے تو پھر بھی اس کی معنعن روایت (اپنی شروط کے ساتھ) ضعیف ہوتی ہے۔
⋆ بعض الناس نے الکفایہ (ص374، دوسرا نسخہ 2/409 رقم 1190) سے معنعن روایت کے بارے میں امام حمیدی کا ایک قول پیش کیا ہے۔
عرض ہے کہ اس عبارت میں تدلیس کا لفظ یا معنی موجود نہیں بلکہ عمرو بن دینار عن عبید بن عمیر میں یہ اشارہ ہے کہ اس سے غیر مدلس کی معنعن روایات مراد ہیں۔
⋆ بطور لطیفہ عرض ہے کہ ہمارے علاقے میں ایک مشہور قصہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک شخص ایک درخت کی ٹہنی پر بیٹھا ہوا آری کے ساتھ اُسے کاٹ رہا تھا ، جس حصے کو وہ کاٹ رہا تھا وہ درخت کی طرف تھا اور یہ خود دوسری طرف بیٹھا ہوا تھا، پھر نتیجہ کیا ہوا؟ دھڑام سے نیچے آرہا اور ایسی” پھکی“ ملی کہ دن میں بھی تارے نظر آگئے۔
بالکل یہی معاملہ اُس شخص کا ہے جو ایک طرف منج المتقدمین کے نام سے تدلیس کے دو حصے ( کثیر و قلیل ) بنا کر مدلسین کی معنعن روایات کو صحیح سمجھتا ہے اور دوسری طرف اعمش وغیره مدلسین ( جن کا کثیر التدلیس ہونا متقدمین سے صراحتاً ثابت نہیں ) کی معنعن روایات کو ضعیف سمجھتا ہے۔ یہ شخص اگر نیچے نہ گرے تو کیا آسمان میں اُڑے گا؟!
آخر میں عرض ہے کہ تدلیس کے مسئلے میں دو باتوں کی تحقیق انتہائی ضروری ہے:
⟐ کیا راوی واقعی مدلس تھا یا نہیں ؟ اگر مدلس نہیں تھا تو بری من التدلیس ہے، مثلاً ابو قلابہ الجرمی اور بخاری و غیر ہما، لہذا اُن کی معنعن روایت ( اپنی شروط کے ساتھ ) مقبول ہے۔
⟐ ارسال خفی اور ارسال جلی کی تحقیق کر کے مسئلہ واضح کر دیا جائے۔
کاش کہ اپنے قلم کو تناقضات کی وادیوں میں دوڑانے والے صحیح تحقیق کا راستہ اختیار کر کے اس طرف بھی اپنی توجہ مبذول فرمائیں۔
(2/ اگست 2010ء)