امام سفیان ثوری کی تدلیس اور طبقہ ثانیہ؟
[یہ مضمون اصل میں فیصل خان بریلوی کی کتاب ”رفع یدین کے موضوع پر … نور العینین کا محققانہ تجزیہ “کے جواب میں لکھا گیا ہے۔]
الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على رسوله الأمين ، أما بعد:
حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ نے امام سفیان بن سعید الثوری رحمہ اللہ کو مدلسین کے طبقہ ثانیہ میں ذکر کیا ہے۔ (دیکھئے طبقات المدلسین : 2/51، افتح المبین ص 39)
حافظ ابن حجر کی یہ تحقیق کئی لحاظ سے غلط ہے، جس کی فی الحال تیسں (30) دلیلیں اور حوالے پیش خدمت ہیں:
① امام ابو حنیفہ نے عاصم عن ابی رزین عن ابن عباس کی سند سے ایک حدیث بیان کی کہ مرتدہ کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ دیکھئے سنن دار قطنی (201/3 ح 3422) الکامل لابن عدی (2472/7) السنن الکبری للبیہقی (203/8) کتاب الام للشافعی (167/6) اور مصنف ابن ابی شیبه (10 / 140 ح 28985) وغیره
امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے فرمایا: ابو حنیفہ پر اس کی بیان کردہ ایک حدیث کی وجہ سے (سفیان ) نوری نکتہ چینی کرتے تھے جسے ابو حنیفہ کے علاوہ کسی نے بھی عاصم عن ابی رزین ( کی سند ) سے بیان نہیں کیا۔ (سنن دار قطنی 200/3 ح3420 وسندہ صحیح)
امام عبد الرحمن بن مہدی نے فرمایا: میں نے سفیان ( ثوری ) سے مرتدہ کے بارے میں عاصم کی حدیث کا پوچھا تو انھوں نے فرمایا: یہ روایت ثقہ سے نہیں ہے۔ (الانتقاء لابن عبدالبرص 148، وسندہ صحیح)
یہ وہی حدیث ہے جسے خودسفیان ثوری نے ”عن عاصم عن أبى رزين عن ابن عباس“ کی سند سے بیان کیا تو اُن کے شاگرد امام ابو عاصم ( الضحاک بن مخلد النبیل ) نے کہا: ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سفیان ثوری نے اس حدیث میں ابوحنیفہ سے تدلیس کی ہے لہذا میں نے دونوں سندیں لکھ دی ہیں۔ (سنن دار قطنی 201/3 ،ح3423 وسندہ صحیح)
اس سے معلوم ہوا کہ امام سفیان ثوری اپنے نزدیک غیر ثقہ (ضعیف) راوی سے بھی تدلیس کرتے تھے۔ حافظ ذہبی نے لکھا ہے: وہ (سفیان ثوری ) ضعیف راویوں سے تدلیس کرتے تھے ۔ الخ (میزان الاعتدال 169/2، نیز دیکھئے سیر اعلام النبلاء 242/7، 274)
اصولِ حدیث کا ایک مشہور قاعدہ ہے کہ جو راوی ضعیف راویوں سے تدلیس کرے تو اُس کی عن والی روایت ضعیف ہوتی ہے۔ حافظ ذہبی نے لکھا ہے:
ثم إن كان المدلس عن شيخه ذا تدليس عن الثقات فلا بأس، و إن كان ذا تدليس عن الضعفاء فمردود
پھر اپنے استاذ سے تدلیس کرنے والا اگر ثقہ راویوں سے تدلیس کرے تو (اس کی روایت میں ) کوئی حرج نہیں ہے اور اگر ضعیف راویوں سے تدلیس کرے تو (اُس کی روایت ) مردود ہے۔ (الموقظه فی علم مصطلح الحدیث للذہبی ص 45، مع شرحہ کفایة الحفظه ص 199)
ابو بکر الصيرفی ( محمد بن عبدالله البغدادی الشافعی / متوفی 330ھ) نے اپنی کتاب الدلائل میں کہا: كل من ظهر تدليسه عن غير الثقات لم يقبل خبره حتى يقول : حدثني أو سمعت ہر وہ شخص جس کی ، غیر ثقہ راویوں سے تدلیس ظاہر ہو جائے تو اس کی حدیث قبول نہیں کی جاتی الا یہ کہ وہ حدثنی یا سمعت کہے/ یعنی سماع کی تصریح کرے۔ (النكت للزرکشی ص 184، نیز دیکھئے التبصره والتذكرة شرح الفية العراقی 184،183/1)
أصولِ حدیث کے اس قاعدے سے صاف ثابت ہے کہ امام سفیان ثوری ( اپنے طرز عمل کی وجہ سے ) طبقہ ثانیہ کے نہیں بلکہ طبقہ ثالثہ کے مدلس تھے۔
② امام علی بن عبداللہ المدینی نے فرمایا: لوگ سفیان ( ثوری ) کی حدیث میں یحیی القطان کے محتاج ہیں، کیونکہ وہ مصرح بالسماع روایات بیان کرتے تھے۔ (الكفاية لخطيب ص 362 وسنده صحیح علمی مقالات ج 1ص264)
اس قول سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں:
اول: سفیان ثوری سے یحیی بن سعید القطان کی روایت سفیان کے سماع پر محمول ہوتی ہے۔
دوم: امام ابن المدینی امام سفیان ثوری کو طبقہ اولیٰ یا ثانیہ میں سے نہیں سمجھتے تھے، ورنہ یحیی القطان کی روایت کا محتاج ہونا کیا ہے؟!
③ امام یحی بن سعید القطان نے فرمایا: میں نے سفیان (ثوری) سے صرف وہی کچھ لکھا ہے، جس میں انھوں نے حدثنی اور حدثنا کہا ،سوائے دو حدیثوں کے۔ (کتاب العلل و معرفۃ الرجال للامام احمد 1/207 ت 1130، وسنده صحیح ، دوسرا نسخه ج 1ص 242 رقم 318) ، اور وہ دو حدیثیں درج ذیل ہیں:
سفيان عن سماك عن عكرمة ومغيرة عن إبراهيم ﴿وإِن كَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّۢ لَّكُمْ﴾ قالا : هو الرجل يسلم فى دار الحرب فيقتل فليس فيه دية فيه كفارة (کتاب العلل ج 1ص 242)
یعنی عکرمہ اور ابراہیم نخعی کے دو آثار جنھیں اوپر ذکر کر دیا گیا ہے، ان کے علاوہ یحیی القطان کی سفیان ثوری سے ہر روایت سماع پر محمول ہے۔ یحییٰ القطان کے قول سے ثابت ہوا کہ وہ سفیان ثوری کو طبقہ ثانیہ سے نہیں سمجھتے تھے ورنہ حدیثیں نہ لکھنے کا کیا فائدہ؟
④ حافظ ابن حبان البستی نے فرمایا: وہ مدلس راوی جو ثقہ عادل ہیں، ہم اُن کی صرف ان مرویات سے ہی حجت پکڑتے ہیں جن میں وہ سماع کی تصریح کریں۔ مثلاً سفیان ثوری ، ائمش اور ابو اسحاق وغیر ہم جو کہ زبر دست ثقہ امام تھے…الخ (الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان 1/90، دوسرا نسخه 161/1، تیسرا نسخہ: ایک جلد والاص 36 علمی مقالات ج 1 ص 266)
معلوم ہوا کہ حافظ ابن حبان سفیان ثوری اور اعمش کو طبقہ ثانیہ میں سے نہیں بلکہ طبقہ ثالثہ میں سے سمجھتے تھے۔
حافظ ابن حبان نے مزید فرمایا: وہ ثقہ راوی جو اپنی احادیث میں تدلیس کرتے تھے مثلا قتادہ، یحیی بن ابی کثیر ، اعمش ، ابو اسحاق، ابن جریج، ابن اسحاق ، ثوری اور ہشیم ، بعض اوقات اپنے جس شیخ سے احادیث سنی تھیں ، وہ روایت بطور تدلیس بیان کر دیتے جسے انھوں نے ضعیف ونا قابل حجت لوگوں سے سنا تھا، لہذا جب تک مدلس اگر چہ ثقہ ہی ہو، یہ نہ کہے: حدثني يا سمعت (یعنی جب تک سماع کی تصریح نہ کرے ) اس کی خبر (حدیث) سے حجت پکڑنا جائز نہیں ہے۔ (المجروحین ج 1ص 92 علمی مقالات ج 1ص 267)
اس گواہی سے دو باتیں ظاہر ہیں:
اول: حافظ ابن حبان سفیان ثوری وغیرہ مذکورین کی وہ روایات حجت نہیں سمجھتے تھے جن میں سماع کی تصریح نہ ہو۔
دوم: حافظ ابن حبان کے نزدیک سفیان ثوری وغیرہ مذکورین بالا ضعیف راویوں سے بھی بعض اوقات تدلیس کرتے تھے۔
⑤ حاکم نیشاپوری نے مدلسین کے پہلے طبقے کا ذکر کیا جو ثقہ راویوں سے تدلیس کرتے تھے، پھر انھوں نے دوسری جنس (طبقہ ثانیہ) کا ذکر کیا، پھر انھوں نے تیسری جنس (طبقہ ثالثہ) کا ذکر کیا جو مجہول راویوں سے تدلیس کرتے تھے۔ (دیکھئے معرفة علوم الحدیث ص 103، 104، 105)
حاکم نیشاپوری نے امام سفیان بن سعید الثوری کو مدلسین کی تیسری قسم میں ذکر کر کے بتایا کہ وہ مجہول راویوں سے روایت کرتے تھے۔ (معرفة علوم الحدیث ص 106 فقرہ: 353)
اس عبارت کو حافظ العلائی نے درج ذیل الفاظ میں بیان کیا ہے:
والثالث: من يدلس عن أقوام مجهولين لا يدرى من هم كسفيان الثوري
اور تیسرے وہ جو مجہول نامعلوم لوگوں سے تدلیس کرتے تھے، جیسے سفیان ثوری… (جامع التحصیل في أحكام المراسيل ص 99)
یہ عرض کر دیا گیا ہے کہ ضعیف راویوں سے تدلیس کرنے والے کی معنعن روایت مردود ہوتی ہے۔
تنبیہ: صحیحین میں مدلسین کی تمام روایات سماع یا متابعات و شواہد پر محمول ہونے کی وجہ سے صحیح ہیں۔ والحمد لله
⑥ فقرہ نمبر1 میں امام ابو عاصم النبیل کا قول گزر چکا ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے استاذ امام سفیان ثوری کو طبقہ اولیٰ یا ثانیہ میں سے نہیں سمجھتے تھے، ورنہ ان کی معنعن روایت کو سماع پر محمول کرتے۔
⑦ امام سفیان ثوری نے اپنے استاذ قیس بن مسلم الجدلی الکوفی سے ایک حدیث بیان کی، جس کے بارے میں امام ابو حاتم الرازی نے فرمایا: ولا أظن الثوري سمعه من قيس، آراه مدلسا میں نہیں سمجھتا کہ ثوری نے اسے قیس سے سنا ہے، میں اسے مدلس (یعنی تدلیس شدہ) سمجھتا ہوں۔ (علل الحدیث 2/254، 2255)
معلوم ہوا کہ امام ابو حاتم الرازی امام سفیان ثوری کو طبقہ ثانیہ میں سے نہیں بلکہ طبقہ ثالثہ میں سے سمجھتے تھے۔
⑧ طبقہ ثالثہ کے مشہور مدلس امام ہشیم بن بشیر الواسطی سے امام عبد اللہ بن المبارک نے کہا: آپ کیوں تدلیس کرتے ہیں حالانکہ آپ نے (بہت کچھ) سنا بھی ہے؟ تو انھوں نے کہا: دو بڑے (بھی) تدلیس کرتے تھے یعنی اعمش اور (سفیان) ثوری۔ (العلل الکبیر للترمذی 2/966 وسندہ صحیح، التمہید 25/1علمي مقالات 1/275)
امام ابن المبارک نے ہشیم پر کوئی رد نہیں کیا کہ یہ دونوں تو طبقہ ثانیہ کے مدلس ہیں اور آپ طبقہ ثالثہ کے مدلس ہیں بلکہ ان کا خاموش رہنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انھوں نے ہشیم کی طرح سفیان ثوری اور اعمش کا مدلس ہونا تسلیم کر لیا تھا۔ دوسرے الفاظ میں وہ سفیان ثوری اور اعمش کو بھی طبقہ ثالثہ میں سے سمجھتے تھے ورنہ ہشیم کا رد ضرور کرتے۔
⑨ یہ حقیقت ہے کہ امام ہشیم بن بشیر طبقہ ثالثہ کے مدلس تھے اور یہ بھی ثابت ہے کہ وہ سفیان ثوری اور اعمش کو اپنی طرح مدلس سمجھتے تھے لہذا ثابت ہو گیا کہ سفیان ثوری اور اعمش دونوں ہشیم کے نزدیک طبقہ اولیٰ یا طبقہ ثانیہ کے مدلس نہیں تھے۔
⑩ امام یعقوب بن شیبہ رحمہ اللہ نے فرمایا: فأما من دلس عن غير ثقة و عمن لم يسمع هو منه فقد جاوز حد التدليس الذى رخص فيه من رخص من العلماء پس اگر غیر ثقہ سے تدلیس کرے یا اس سے جس سے اس نے نہیں سنا تو اس نے تدلیس کی حد کو پار (عبور) کر لیا جس کے بارے میں (بعض) علماء نے رخصت دی ہے۔ (الکفایة للخطیب ص 361، 362 وسندہ صحیح، النکت للزركشي ص 188)
امام یعقوب بن شیبہ کے اس قول سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں:
اول: ضعیف راویوں سے تدلیس کرنے والے کی غیر مصرح بالسماع روایت مردود ہے۔
دوم: مرسل اور منقطع روایت مردود ہے۔
چونکہ سفیان ثوری کا ضعیف راویوں سے تدلیس کرنا ثابت ہے لہذا اس قول کی روشنی میں بھی ان کی معنعن روایت مردود ہے۔
⑪ علامہ نووی شافعی نے سفیان ثوری کے بارے میں کہا:
منها أن سفيان رحمه الله تعالى من المدلسين وقال فى الرواية الأولى عن علقمة والمدلس لا يحتج بعنعنته بالاتفاق إلا أن ثبت سماعه من طريق آخر…
اور ان میں سے یہ فائدہ بھی ہے کہ سفیان (ثوری) رحمہ اللہ مدلسین میں سے تھے اور انھوں نے پہلی روایت میں عن علقمه کہا اور مدلس کی عن والی روایت بالاتفاق حجت نہیں ہوتی الا یہ کہ دوسری سند میں سماع کی تصریح ثابت ہو جائے۔ (شرح صحیح مسلم درسی نسخہ ج 1 ص 136 تحت ح 277، دوسرا نسخہ ج 3 ص 178، باب جواز الصلوات كلها بوضوء واحد)
معلوم ہوا کہ علامہ نووی حافظ ابن حجر کی طبقاتی تقسیم کو تسلیم نہیں کرتے تھے بلکہ سفیان ثوری کو طبقہ ثالثہ کا مدلس سمجھتے تھے جن کی عن والی روایت ضعیف ہوتی ہے الا یہ کہ سماع کی تصریح یا معتبر متابعت ثابت ہو۔
⑫ عینی حنفی نے کہا: اور سفیان( ثوری) مدلسین میں سے تھے اور مدلس کی عن والی روایت حجت نہیں ہوتی الا یہ کہ اس کی تصریح سماع دوسری سند سے ثابت ہو جائے۔ (عمدة القاري 3/112، نور العینین طبع جدید ص 136، ماہنامہ الحدیث حضرو: 66 ص 27)
⑬ ابن الترکمانی حنفی نے ایک روایت پر جرح کرتے ہوئے کہا:
فيه ثلاث علل: الثوري مدلس و قد عنعن… اس میں تین علتیں (وجہ ضعف) ہیں: ثوری مدلس ہیں اور انھوں نے یہ روایت عن سے بیان کی ہے… (الجوہر النقی ج 8 ص 262)
معلوم ہوا کہ ابن الترکمانی کے نزدیک سفیان ثوری طبقہ ثالثہ کے مدلس تھے اور ان کا عنعنہ علت قادحہ ہے۔
⑭ کرمانی حنفی نے شرح صحیح بخاری میں کہا:
بے شک سفیان ثوری مدلسین میں سے ہیں اور مدلس کی عن والی روایت حجت نہیں ہوتی الا یہ کہ دوسری سند سے سماع کی تصریح ثابت ہو جائے… (شرح الکرمانی ج 3 ص 62 تحت ح 214)
⑮ قسطلانی شافعی نے کہا: سفیان (ثوری) مدلس ہیں اور مدلس کا عنعنہ قابل حجت نہیں ہوتا الا یہ کہ اس کے سماع کی تصریح ثابت ہو جائے۔ (ارشاد الساري شرح صحیح البخاري ج 1 ص 286، نور العینین طبع جدید ص 136)
⑯ حافظ ذہبی کا یہ اصول فقرہ نمبر 1میں گزر چکا ہے کہ ضعیف راویوں سے تدلیس کرنے والے کی معنعن روایت مردود ہوتی ہے لہذا ثابت ہوا کہ حافظ ذہبی کے نزدیک سفیان ثوری کی عن والی روایت مردود ہوتی ہے اور یہ کہ وہ طبقہ ثالثہ کے مدلس تھے۔
⑰ امام یحییٰ بن معین نے سفیان ثوری کو تدلیس کرنے والے (مدلس) قرار دیا۔
دیکھئے کتاب الجرح والتعدیل (4/225 وسندہ صحیح) اور الکفایة (ص 361 وسندہ صحیح) امام یحییٰ بن معین سے مدلس کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا اس کی روایت حجت ہوتی ہے یا جب وہ حدثنا و أخبرنا کہے تو؟ انھوں نے جواب دیا: لا يكون حجة فيما دلس وہ جس (روایت) میں تدلیس کرے (یعنی عن سے روایت کرے تو) وہ حجت نہیں ہوتی۔ (الكفاية للخطيب ص 362 وسندہ صحیح)
⑱ حافظ ابن الصلاح الشہرزوری الشافعی نے سفیان ثوری، سفیان بن عیینہ، اعمش، قتادہ اور ہشیم بن بشیر کو مدلسین میں ذکر کیا پھر یہ فیصلہ کیا کہ مدلس کی غیر مصرح بالسماع روایت قابل قبول نہیں ہے۔ دیکھئے مقدمة ابن الصلاح (علوم الحدیث ص 99 مع التقييد والإيضاح للعراقي، نوع: 12)
⑲ حافظ ابن کثیر نے ابن الصلاح کے قاعدہ مذکورہ کو برقرار رکھا اور عبارت مذکورہ کو اختصار کے ساتھ نقل کیا۔ دیکھئے اختصار علوم الحدیث (مع تعلیق الألباني ج 1 ص 174)
⑳ حافظ ابن الملقن نے بھی ابن الصلاح کی عبارت مذکورہ کو نقل کیا اور کوئی جرح نہیں کی۔ دیکھئے المقتع في علوم الحدیث (ص 157/1، 158)
㉑ موجودہ دور کے مشہور عالم اور ذہبی عصر علامہ شیخ عبدالرحمن بن یحیی المعلمي الیمانی المکی رحمہ اللہ نے ترک رفع یدین والی روایت (عن عاصم بن كليب عن عبدالرحمن بن الأسود عن علقمة عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه) کو معلول قرار دیتے ہوئے پہلی علت یہ بیان کی کہ سفیان (ثوری) تدلیس کرتے تھے اور کسی سند میں ان کے سماع کی تصریح نہیں ہے۔
دیکھئے التنكيل بمافی تانیب الكوثري من الأباطيل (ج 2 ص 20)
تنبیہ: علامہ یمانی رحمہ اللہ کی اس بات کا جواب آج تک کوئی نہیں دے سکا۔ نہ کسی نے اس حدیث میں سفیان ثوری کے سماع کی تصریح ثابت کی اور نہ معتبر متابعت پیش کی ہے۔ یہ لوگ جتنا بھی زور لگا لیں ترک رفع یدین والی روایت عن سے ہی ہے۔
یاد رہے کہ اس سلسلے میں کتاب العلل للدارقطني کا حوالہ بے سند ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔
㉒ موجودہ دور کے ایک مشہور عالم شیخ عبدالعزیز بن عبد اللہ بن باز رحمہ اللہ نے سفیان ثوری رحمہ اللہ کو مدلس قرار دیا اور غیر صحیحین میں ان کی معنعن روایت کو معلول قرار دیا۔ دیکھئے کتاب: احکام و مسائل (تصنیف حافظ عبدالمنان نورپوری ج 1 ص 245)
ان دلائل و عبارات کے بعد آل تقلید (آل دیوبند و آلِ بریلوی) کے بعض حوالے پیش خدمت ہیں:
㉓ سرفراز خان صفدر دیوبندی کڑمنگی نے ایک روایت پر سفیان ثوری کی تدلیس کی وجہ سے جرح کی ہے۔ دیکھئے خزائن السنن (2/77)
㉔ محمد شریف کوٹلوی بریلوی نے سفیان ثوری کی ایک روایت پر جرح کرتے ہوئے کہا: اور سفیان کی روایت میں تدلیس کا شبہ ہے۔ (فقہ الفقیہ ص 134)
㉕ ماسٹر امین اوکاڑوی دیوبندی نے ایک روایت پر سفیان ثوری کی تدلیس کی وجہ سے جرح کی۔ دیکھئے مجموعہ رسائل (طبع قدیم 3/331) اور تجلیات صفدر (5/470)
㉖ محمد عباس رضوی بریلوی نے لکھا ہے: یعنی سفیان مدلس ہے اور یہ روایت انہوں نے عاصم بن کلیب سے عن کے ساتھ کی ہے اور اصول محدثین کے تحت مدلس کا عنعنہ غیر مقبول ہے جیسا کہ آگے انشاء اللہ بیان ہوگا۔ (مناظرے ہی مناظرے ص 249)
معلوم ہوا کہ رضوی وغیرہ کے نزدیک سفیان ثوری طبقہ ثالثہ کے مدلس تھے۔
㉗ شیر محمد مماتی دیوبندی نے سفیان ثوری کی ایک روایت کے بارے میں لکھا ہے: اور یہاں بھی سفیان ثوری مدلس عنعنہ سے روایت کرتا ہے۔ (آئینہ تسکین الصدور ص 92) سرفراز صفدر پر رد کرتے ہوئے شیر محمد مذکور نے کہا:
مولانا صاحب خود ہی از راہ کرم انصاف فرمائیں کہ جب زہری ایسے مدلس کی معنعن روایت صحیح تک نہیں ہو سکتی تو سفیان بن سعید ثوری ایسے مدلس کی روایت کیونکر صحیح ہو سکتی ہے جب کہ سفیان ثوری بھی یہاں عنعنہ سے روایت کر رہے ہیں۔ (آئینہ تسکین الصدور ص 90)
معلوم ہوا کہ شیر محمد مماتی کے نزدیک سفیان ثوری اور امام زہری دونوں طبقہ ثالثہ کے مدلس تھے۔
㉘نیموی تقلیدی نے سفیان ثوری کی بیان کردہ آمین والی حدیث پر یہ جرح کی کہ ثوری بعض اوقات تدلیس کرتے تھے اور انھوں نے اسے عن سے بیان کیا ہے۔ دیکھئے آثار السنن کا حاشیہ (ص 194 تحت ح 384)
㉙ محمد تقی عثمانی دیوبندی نے سفیان ثوری پر شعبہ کی روایت کو ترجیح دیتے ہوئے کہا:
”سفیان ثوری اپنی جلالت قدر کے باوجود کبھی کبھی تدلیس بھی کرتے ہیں…“ (درس ترمذی ج 1 ص 521)
㉚ حسین احمد مدنی ٹانڈوی دیوبندی کا نگریسی نے آمین والی روایت کے بارے میں کہا: اور سفیان تدلیس کرتا ہے۔ الخ (تقریر ندی اردو ص 391 ترتیب محمد عبدالقادر قاسمی دیوبندی)
اس طرح کے اور بھی بہت سے حوالے ہیں مثلاً:
احمد رضا خان بریلوی نے شریک بن عبد اللہ القاضی (طبقہ ثانیہ 2/56) کے بارے میں (بطورِ رضامندی) لکھا کہ
تہذیب التہذیب میں کہا کہ عبدالحق اشبیلی نے فرمایا: وہ تدلیس کیا کرتا تھا۔ اور ابن القطان نے فرمایا: وہ تدلیس میں مشہور تھا ۔ (فتاوی رضویہ ج 24 ص 239)
معلوم ہوا کہ احمد رضا خان کے نزدیک طبقات کی تقسیم صحیح نہیں ہے۔
تنبیہ: محدثین کرام کا مشہور قاعدہ ہے کہ صحیحین میں مدلسین کا عنعنہ (عن عن کہنا) سماع پر محمول ہے۔
اس پر رد کرتے ہوئے احمد رضا خان نے کہا: یہ محض اندھی تقلید ہے اگر چہ ہم حسن ظن کے منکر نہیں تاہم تخمین (اٹکل پچو سے کچھ کہنا) بالکل صاف بیان کرنے کی طرح نہیں ہو سکتا۔ (فتاوی رضویہ ج 24 ص 239)
عرض ہے کہ یہ اندھی تقلید اور تخمین نہیں بلکہ امت کے صحیحین کو تلقی بالقبول کی وجہ سے جلیل القدر علماء نے یہ قاعدہ بیان کیا ہے کہ صحیحین میں مدلسین کا عنعنہ سماع (یا متابعات) پر محمول ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھئے روایات المدلسین في صحیح البخاري (تصنیف: ڈاکٹر عواد حسین الخلف) اور روایات المدلسين في صحیح مسلم (تصنیف: عواد حسین الخلف)
یہ دونوں کتابیں دار البشائر الإسلامية بیروت لبنان سے شائع ہوئی ہیں۔
ان دلائل مذکورہ اور آل تقلید کے حوالوں سے ثابت ہوا کہ حافظ ابن حجر العسقلانی کا امام سفیان ثوری کو مدلسین کے طبقہ ثانیہ میں ذکر کرنا غلط ہے اور صحیح صرف یہ ہے کہ (سفیان ثوری رحمہ اللہ) طبقہ ثالثہ کے مدلس تھے، جن کی عن والی روایت، غیر صحیحین میں عدم سماع اور معتبر متابعت کے بغیر ضعیف ہوتی ہے۔
تنبیہ: ہماری اس بحث سے قطعاً یہ نتیجہ نہ نکالا جائے کہ ہم طبقہ ثالثہ کے علاوہ مدلسین کے عن والی روایات کو حجت سمجھتے ہیں بلکہ مذکورہ دلائل سے ان لوگوں کی غلط فہمی دور کرنا مقصود ہے جو امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کو طبقہ ثانیہ کا مدلس کہہ کر ان کی عن والی روایات کو صحیح قرار دینے پر مصر ہیں۔ مزید دلائل اور توضیح آئندہ صفحات پر ملاحظہ فرمائیں۔
حافظ ابن حجر کی طبقاتی تقسیم
بعض لوگ حافظ ابن حجر العسقلانی کی طبقات المدلسین کی طبقاتی تقسیم پر بضد ہیں۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ حافظ ابن حجر نے سفیان ثوری اور سفیان بن عیینہ دونوں کو ایک ہی طبقے (طبقہ ثانیہ) میں اوپر نیچے ذکر کیا ہے۔
سفیان بن عیینہ نے ایک حدیث عن جامع بن أبى راشد عن أبى وائل قال حذيفة… أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا اعتكاف إلا فى المساجد الثلاثة: المسجد الحرام ومسجد النبى صلى الله عليه وسلم ومسجد بيت المقدس… بیان کی ہے، جس کا مفہوم درج ذیل ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین مسجدوں کے علاوہ اعتکاف نہیں ہوتا: مسجد حرام، مسجد النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسجد اقصیٰ بیت المقدس۔ (دیکھئے شرح مشکل الآثار للطحاوی201/7 ح 2771، السنن الکبری للبیہقی 4/316، سیر اعلام النبلاء للذہبی 15/81 و قال الذہبی: صحیح غریب عال منجم الاسماعيلي: 326)
سفیان بن عیینہ سے اسے تین راویوں محمود بن آدم المروزي، ہشام بن عمار اور محمد بن الفرج نے روایت کیا ہے اور یہ سب صدوق (سچے راوی) تھے۔
جامع بن ابی راشد ثقہ فاضل تھے۔ (دیکھئے تقریب التہذیب: 887 وھو من رجال الستة)
ابو وائل شقیق بن سلمہ ثقہ تھے۔ (دیکھئے تقریب التہذیب: 2816 وھو من رجال الستة ومن المخضرمين)
یہ روایت سفیان بن عیینہ کی تدلیس (عن) کی وجہ سے ضعیف ہے۔ جو لوگ سفیان بن عیینہ کے عنعنہ کو صحیح سمجھتے ہیں یا حافظ ابن حجر کے طبقہ ثانیہ میں مذکورین کی معنعن روایات کی حجیت کے قائل ہیں، انھیں چاہیے کہ وہ تین مساجد مذکورہ کے علاوہ ہر مسجد میں اعتکاف جائز ہونے کا انکار کر دیں۔ دیدہ باید!
شیخ البانی اور طبقاتی تقسیم
شیخ محمد ناصر الدین الألباني رحمہ اللہ کا تدلیس کے بارے میں عجیب و غریب موقف تھا۔ وہ سفیان ثوری اور اعمش وغیرہما کی معنعن روایات کو صحیح سمجھتے تھے، جبکہ حسن بصری (طبقہ ثانیہ عند ابن حجر 2/40) کی معنعن روایات کو ضعیف قرار دیتے تھے۔
مثلاً دیکھئے ارواء الغلیل (2/288 ح 505)
بلکہ شیخ البانی نے ابو قلابہ (عبد اللہ بن زيد الجرمی/ طبقہ اولی عند ابن حجر 1/15) کی معنعن حدیث پر ہاتھ صاف کر لیا۔ البانی نے کہا:
إسناده ضعيف لعنعنة أبى قلابة وهو مذكور بالتدليس…
اس کی سند ابو قلابہ کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہے اور وہ (ابو قلابہ) تدلیس کے ساتھ مذکور ہے… (حاشیہ صحیح ابن خزیمہ ج 3 ص 268 تحت ح 2043)
حافظ ابن حجر نے حسن بن ذکوان (3/70) قتادہ (3/92) اور محمد بن عجلان (3/89) وغیرہم کو طبقہ ثالثہ میں ذکر کیا ہے جبکہ شیخ البانی ان لوگوں کی احادیث معنعنہ کو حسن یا صحیح کہنے سے ذرا بھی نہیں تھکتے تھے۔ دیکھئے صحیح ابي داود (33/1 ح 8 سنن ابی داؤو تحقیق الألباني11 رواية الحسن بن ذكوان) اور الصحیحہ (202/4 ح 1647 ، رواية قتادة) اور الصحیحہ (3/110 ح1110، رواية ابن عجلان)
معلوم ہوا کہ البانی صاحب کسی طبقاتی تقسیم مدلسین کے قائل نہیں تھے بلکہ وہ اپنی مرضی کے بعض مدلسین کی معنعن روایات کو صحیح اور مرضی کے خلاف بعض مدلسین (یا ابرياء من التدليس) کی معنعن روایات کو ضعیف قرار دیتے تھے۔ اس سلسلے میں ان کا کوئی اصول یا قاعدہ نہیں تھا لہذا تدلیس کے مسئلے میں ان کی تحقیقات سے استدلال غلط و مردود ہے۔
مولانا عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ (اہل حدیث) نے ابراہیم نخعی (طبقہ ثانیہ 2/35) کی عن والی روایت پر جرح کی اور کہا: اس کی سند میں ابراہیم نخعی مدلس ہیں، حافظ (ابن حجر) نے انھیں طبقات المدلسین میں سفیان ثوری کے طبقے میں ذکر کیا ہے اور انھوں نے اسے اسود سے عن کے ساتھ روایت کیا ہے لہذا نووی کے نزدیک یہ اثر کس طرح صحیح ہو سکتا ہے؟ (ابکار الأسناد ص 14 مترجمہ، دوسرا نسخہ تحقیق ابن عبدالعظیم ص 436)
اس سے معلوم ہوا کہ اہل حدیث علماء کے نزدیک بھی یہ طبقاتی تقسیم قطعی اور ضروری نہیں ہے بلکہ دلائل کے ساتھ اس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔
◈آل تقلید اور طبقاتی تقسیم
عینی، کرمانی، قسطلانی اور نووی وغیرہم کے حوالے گزر چکے ہیں کہ وہ حافظ ابن حجر کے طبقہ ثانیہ کے مدلسین کی معنعن روایات پر بھی جرح کرتے تھے لہذا ثابت ہوا کہ یہ لوگ حافظ ابن حجر العسقلانی کی طبقاتی تقسیم کے قائل نہیں تھے، ورنہ ایسا کبھی نہ کرتے۔
نیموی تقلیدی نے سعید بن ابی عروبہ (طبقہ ثانیہ 2/50) کو کثیر التدلیس قرار دے کر کہا کہ اس نے یہ روایت عن سے بیان کی ہے۔ (دیکھئے آثار السنن کا حاشیہ ص 186 تحت ح 550)
سرفراز خان صفدر تقلیدی دیوبندی کڑمنگی نے ابو قلابہ (طبقہ اولی 1/15) کو غضب کا مدلس قرار دے کر ان کی معنعن روایت پر جرح کی ہے۔
دیکھئے احسن الکلام (طبع دوم ج 2 ص 111، دوسرا نسخہ ج 2 ص 127)
محمد شریف کوٹلوی بریلوی، عباس رضوی بریلوی اور امین اوکاڑوی دیوبندی وغیرہم کے حوالے اس مضمون میں گزر چکے ہیں۔
ثابت ہوا کہ آل تقلید بھی یہ طبقاتی تقسیم صحیح تسلیم نہیں کرتے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ جب فائدہ اور مرضی ہو تو بعض لوگ طبقات المدلسین کے طبقات سے استدلال بھی کر لیتے ہیں اور اگر مرضی کے خلاف ہو تو ان طبقات کو پس پشت پھینک دیتے ہیں۔
فائدہ: امام شافعی نے یہ اصول سمجھایا ہے کہ جو شخص صرف ایک دفعہ بھی تدلیس کرے تو اس کی وہ روایت مقبول نہیں ہوتی جس میں سماع کی تصریح نہ ہو۔ (دیکھئے الرسالہ ص 379، 380)
باقی ائمہ ثلاثہ (مالک، احمد اور ابو حنیفہ) سے اس اصول کے خلاف کچھ بھی ثابت نہیں ہے لہذا جو لوگ ائمہ اربعہ اور چار مذاہب کے ہی برحق ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں، غور کریں کہ تدلیس کے مسئلے میں ائمہ اربعہ کو چھوڑ کر وہ کس راستے پر جا رہے ہیں؟!
⟐ بعض شبہات کے جوابات
امام سفیان ثوری کی تدلیس کے سلسلے میں بعض الناس بعض اعتراضات اور شبہات بھی پیش کرتے رہتے ہیں، ان کے مسکت اور دندان شکن جوابات درج ذیل ہیں:
➊ اگر کوئی کہے کہ آپ حافظ ابن حجر وغیرہ کی طبقات المدلسین کی طبقاتی تقسیم سے متفق نہیں ہیں، جیسا کہ آپ نے ماہنامہ الحدیث: 33 (ص 55) وغیرہ میں لکھا ہے اور دوسری طرف آپ کہتے ہیں کہ سفیان ثوری اور اعمش کو طبقہ ثانیہ میں ذکر کرنا غلط ہے اور صحیح یہ ہے کہ یہ دونوں طبقہ ثالثہ کے مدلسین میں سے تھے۔ کیا یہ اضطراب نہیں ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارے نزدیک، جن راویوں پر تدلیس کا الزام ہے، ان کے صرف دو طبقے ہیں:
طبقہ اولیٰ: وہ جن پر تدلیس کا الزام باطل ہے اور تحقیق سے ثابت ہو چکا ہے کہ وہ مدلس نہیں تھے مثلاً امام ابو قلابہ اور امام بخاری وغیرہما۔ [ایسے راویوں کی معنعن روایت صحیح ہوتی ہے۔]
طبقہ ثانیہ: وہ جن پر تدلیس کا الزام صحیح ہے اور ان کا تدلیس کرنا ثابت ہے مثلاً قتادہ، سفیان ثوری، اعمش اور ابن جریج وغیرہم۔
ایسے راویوں کی ہر معنعن روایت (صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے علاوہ دوسری کتابوں میں) عدم متابعت اور عدم شواہد کی صورت میں ضعیف ہوتی ہے، چاہے انھیں حافظ ابن حجر وغیرہ کے طبقہ اولیٰ میں ذکر کیا گیا ہو یا طبقہ ثانیہ میں۔
یہ تو ہوئی ہماری اصل تحقیق اور دوسری طرف جب میں نے کسی راوی مثلاً امام سفیان ثوری اور اعمش وغیرہما کو طبقہ ثالثہ میں ذکر کیا ہے تو یہ صراحت ان لوگوں کے لیے بطور الزام کی گئی ہے جو مروجہ طبقاتی تقسیم پر کلیتا یقین رکھتے ہیں، بلکہ اس تقسیم کا اندھا دھند دفاع بھی کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اس صراحت کا یہ مقصد ہے کہ اگر آپ مروجہ طبقاتی تقسیم کو قطعی اور یقینی سمجھتے ہیں تو پھر سن لیں! کہ یہ راوی طبقہ اولیٰ یا ثانیہ میں سے نہیں بلکہ طبقہ ثالثہ میں سے ہیں اور یہی راجح ہے لہذا یہ اضطراب نہیں بلکہ ایک ہی بات ہے جسے دو عبارتوں میں بیان کر دیا گیا ہے۔
➋ اگر کوئی کہے کہ آپ نے کئی سال پہلے خود ایک دفعہ سفیان ثوری کو طبقہ ثانیہ میں لکھ دیا تھا۔ (دیکھئے کتاب: جرابوں پر مسح ص 40 میں آپ کا خط نوشتہ 1408/8/19ھ)
تو اس کا جواب یہ ہے کہ کافی عرصہ پہلے میں یہ اعلان بھی شائع کرا چکا ہوں کہ ”میری یہ بات غلط ہے، میں اس سے رجوع کرتا ہوں لہذا اسے منسوخ و کالعدم سمجھا جائے“ (ماہنامہ شہادت اسلام آباد مطبوعہ اپریل 2003، جز رفع الیدین ص 26)
لہذا منسوخ اور رجوع شدہ بات کا اعتراض باطل ہے۔( نیز دیکھئے ماہنامہ الحدیث: 42 ص 28) واللفظ له۔
➌ اگر کوئی کہے کہ ”آپ نے صرف حاکم نیشاپوری پر اعتماد کر کے سفیان ثوری کو طبقہ ثالثہ میں ذکر کیا ہے۔“
تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات غلط ہے، بلکہ میں نے متعدد دلائل (مثلاً ضعیف راویوں سے تدلیس کرنے) کی رو سے سفیان ثوری کو طبقہ ثالثہ میں ذکر کیا ہے اور ان میں سے زیادہ دلائل تو اسی مضمون میں موجود ہیں، جو آپ کے ہاتھوں میں ہے۔
اسی طرح حافظ ابن حبان، عینی حنفی اور ابن الترکمانی حنفی وغیرہم کے نزدیک سفیان ثوری طبقہ ثالثہ میں سے تھے، جیسا کہ اس مضمون میں باحوالہ ثابت کر دیا گیا ہے۔
تنبیہ: اگر کسی محدث کا کوئی قول بطور تائید پیش کیا جائے تو بعض چالاک قسم کے لوگ اس محدث کے دوسرے اقوال پیش کر کے یہ پروپیگنڈا شروع کر دیتے ہیں کہ آپ ان اقوال کو کیوں نہیں مانتے۔
عرض ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات ہمیشہ واجب التسلیم اور حق ہے لیکن آپ کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ اس کی ہر بات ہمیشہ واجب التسلیم اور حق ہو بلکہ دلائل کے ساتھ اس امتی شخص سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور ایسا کرنا جرم نہیں ہے لہذا حاکم نیشاپوری وغیرہ کو دوسرے مقامات پر اگر غلطیاں لگی ہوں تو ان سے اختلاف کرنا ہر صاحب فہم مسلمان کا حق ہے۔
➍ اگر کوئی کہے کہ حاکم وغیرہ نے سفیان ثوری کی بہت سی روایات کو صحیح قرار دیا ہے۔ مثلاً دیکھئے ایک شخص کی کتاب: رفع یدین کے موضوع پر .. نور العینین کا محققانہ تجزیہ (ص 41، 42)
تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ صحیح مقرر شدہ قاعدے سے اور اصول حدیث کے خلاف ہونے کی وجہ سے غلط یا تساہل ہے۔
یاد رہے کہ حاکم وغیرہ پر متساہل ہونے کا بھی الزام ہے۔ مثلاً دیکھئے حافظ ذہبی کا رسالہ: ذكر من يعتمد قوله فى الجرح والتعديل اور دیگر کتب۔
➎ اگر کوئی کہے کہ آپ نے امام شافعی رحمہ اللہ پر تدلیس کے مسئلے میں اعتماد کیا ہے، حالانکہ ان کا قول جمہور کے خلاف ہے۔!
تو جواباً عرض ہے کہ امام شافعی کا یہ فیصلہ کہ مدلس کی معنعن روایت ضعیف اور غیر مقبول ہوتی ہے، جمہور کے خلاف نہیں بلکہ جمہور محدثین کے موافق ہے جس پر ہمارا یہ مضمون بھی گواہ ہے جس میں زیادہ حوالے صرف سفیان ثوری کے بارے میں پیش کر دیئے گئے ہیں اور اصول حدیث کی کتابیں بھی اس کی مؤید ہیں، علمائے تحقیق و تخریج اور اختلافی مسائل پر لکھنے والوں کی تحریروں سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔
➏ اگر کوئی کہے کہ امام شافعی نے خود اپنی کتابوں میں مدلسین مثلاً سفیان بن عیینہ اور سفیان ثوری سے معنعن روایتیں کی ہیں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ مجرد روایت لینا یا بیان کرنا تصحیح نہیں ہوتی لہذا جو شخص اسے تصحیح سمجھ بیٹھا ہے تو وہ اپنی اصلاح کر لے۔
بطور فائدہ عرض ہے کہ سفیان بن عیینہ سے امام شافعی کی تمام روایات سماع پر محمول ہیں۔ دیکھئے النکت للزركشي (ص 189) اور الفتح المبین (ص 42)
سفیان ثوری سے امام شافعی کی معنعن روایات کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ امام شافعی ان روایات کو صحیح سمجھتے تھے۔ ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ کتاب الام وغیرہ سے امام شافعی کی وہ روایت مع مکمل سند و متن پیش کریں، جس میں سفیان ثوری کا تفرد ہے، روایت معنعن ہے اور امام شافعی نے اسے سندہ صحیح یا سندہ حسن فرمایا ہے۔ اگر ایسا نہیں تو پھر یہ اعتراض باطل ہے۔
➐ اگر کوئی کہے کہ سفیان ثوری کی بہت سی روایات کتب حدیث میں عن کے ساتھ موجود ہیں مثلاً صحیح بخاری، صحیح مسلم، صحیح ابن خزیمہ، صحیح ابن حبان، سنن ابی داود، سنن ترمذی، مسند احمد اور مسند ابی یعلی وغیرہ۔
تو اس کا جواب یہ ہے کہ کتب حدیث کے تین طبقات ہیں:
اول: صحیح بخاری اور صحیح مسلم
ان دونوں کتابوں کو امت کی تلقی بالقبول حاصل ہے لہذا ان دو کتابوں میں مدلسین کی روایات سماع، متابعات اور شواہد معتبرہ کی وجہ سے صحیح ہیں۔
دوم: صحیح ابن خزیمہ اور صحیح ابن حبان وغیرہما
ان کتابوں کو تلقی بالقبول حاصل نہیں لہذا ان کے ساتھ اختلاف کیا جا سکتا ہے مثلاً صحیح ابن خزیمہ میں سینے پر ہاتھ باندھنے والی روایت صرف سفیان ثوری کے عن کی وجہ سے ضعیف ہے اور مول بن اسماعیل پر جمہور محدثین بشمول امام یحییٰ بن معین کی توثیق کے بعد اعتراض مردود ہے۔ دیکھئے میرا مضمون: ”اثبات التعدیل في توثیق مؤمل بن اسماعیل“ (علمی مقالات ج 1 ص 417-427)
سوم: سنن ابی داود، سنن ترمذی، مسند ابی یعلی اور مسند احمد وغیرہ
ان کتابوں کے مصنفین نے اپنی کتابوں کے بارے میں صحیح ہونے کا دعویٰ نہیں کیا لہذا ان کتابوں میں مجرد روایت کی بنا پر یہ کہنا غلط ہے کہ صاحب کتاب نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
ایک شخص نے ان کتابوں میں سے بعض روایات کی تخریج کر کے یہ دعویٰ کر دیا ہے کہ یہ روایتیں ان کے نزدیک صحیح ہیں، حالانکہ یہ دعویٰ بالکل جھوٹ ہے۔
انہی کتابوں میں اہل حدیث کی مستدل بہت سی روایات موجود ہیں تو کیا وہ شخص یہ تسلیم کرتا ہے کہ یہ تمام روایتیں ان کتابوں کے مصنفین کے نزدیک صحیح ہیں؟
➑ بعض الناس نے امام شافعی اور جمہور محدثین کے خلاف یہ قاعدہ بنایا ہے کہ اگر راوی کثیر التدلیس ہو تو اس کی معنعن روایت ضعیف ہوگی اور اگر قلیل التدلیس ہو تو اس کی روایت صحیح ہوگی۔
عرض ہے کہ یہ قاعدہ غلط ہے، جیسا کہ اس مضمون کے بیس سے زیادہ حوالوں سے ثابت ہے۔
امام ابن المدینی کا قول کہ لوگ سفیان ثوری کی روایات میں یحییٰ بن سعید القطان کے محتاج ہیں، اس کی واضح دلیل ہے کہ سفیان ثوری کثیر التدلیس تھے، ورنہ لوگوں کا محتاج ہوتا کیسا ہے؟ غالباً یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کے عالم مسفر بن غرم الله الدمیینی نے لکھا ہے: و تدليسه كثير اور سفیان ثوری کی تدلیس بہت زیادہ ہے۔ (التدليس في الحديث ص 266)
تنبیہ: مسفر مذکور کا اہل حدیث یا غیر مقلد ہونا صراحتا ثابت نہیں ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ ان کا کیا مسلک ہے؟
ابوزرعہ ابن العراقی نے کہا: مشهور بالتدليس یعنی سفیان ثوری تدلیس کے ساتھ مشہور ہیں۔ (کتاب المدلسین: 21)
➒ اگر کوئی کہے کہ حافظ العلائی وغیرہ نے سفیان ثوری کو طبقہ ثانیہ میں لکھا ہے، جن کی تدلیس کو اماموں نے محتمل (قابل برداشت) قرار دیا ہے۔ (دیکھئے جامع التحصیل ص 113) تو اس کا جواب یہ ہے کہ حافظ العلائی نے زہری (3/102) حمید الطویل (3/71) ابن جریج (3/83) اور ہشیم بن بشیر (3/11) کو بھی اسی طبقہ ثانیہ میں ثوری کے ساتھ ذکر کیا ہے، حالانکہ ان سب کو حافظ ابن حجر نے طبقہ ثالثہ میں ذکر کیا ہے۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ سے ابن جریج کی تدلیس (معنعن روایت) کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا:
يتجنب تدليسه فإنه وحش التدليس، لا يدلس إلا فيما سمعه من مجروح… ان کی تدلیس (عن والی روایت) سے اجتناب کرنا (یعنی سختی سے بچنا) چاہیے کیونکہ ان کی تدلیس وحشت ناک ہے، وہ صرف مجروح سے ہی تدلیس کرتے تھے… (سوالات الحاکم للدارقطني: 265)
امام احمد بن صالح المصری نے فرمایا کہ اگر ابن جریج سماع کی تصریح نہ کریں تو اس (روایت) کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ (تاریخ عثمان بن سعید الدارمي: 10)
ہشیم بن بشیر کے بارے میں ابن سعد نے کہا: وما لم يقل فيه أخبرنا فليس بشئ ”جس میں وہ سماع کی تصریح نہ کریں تو وہ کچھ چیز نہیں ہے۔“ (طبقات ابن سعد 7/313)
معلوم ہوا کہ جس طرح ابن جریج اور ہشیم کو طبقہ ثانیہ میں ذکر کرنا غلط ہے، اسی طرح سفیان ثوری، سفیان بن عیینہ اور اعمش کو بھی طبقہ ثانیہ میں ذکر کرنا غلط ہے۔
➓ اگر کوئی کہے کہ ایک شخص نے آپ کی کتاب: نور العینین کے رد میں ایک کتاب: محققانہ تجزیہ لکھی ہے۔
تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس کتاب میں صاحب کتاب نے ترک رفع یدین والی روایت میں سفیان ثوری کے سماع کی تصریح پیش نہیں کی اور نہ معتبر متابعت ثابت کی ہے۔ اس کتاب میں سفیان ثوری کی تدلیس (معنعن روایت) کا دفاع کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے، جو کہ ہمارے اس تحقیقی مضمون کی رو سے باطل ہے۔
اس شخص نے حدیث کی کتابوں میں سے سفیان ثوری کی بہت سی معنعن مرویات پیش کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ محدثین کرام سفیان ثوری کی معنعن روایات کو حجت سمجھتے تھے، حالانکہ یہ تاثر باطل ہے اور اس طرح کی مرویات کتب احادیث سے ہر مدلس راوی کی پیش کی جا سکتی ہیں، جنھیں نہ بریلوی حضرات تسلیم کرتے، نہ دیوبندی اور نہ حنفی حضرات تسلیم کرتے ہیں۔ ایسا طریقہ کار کبھی اختیار نہیں کرنا چاہیے، جس کی وجہ سے تمام مدلسین کی تمام معنعن روایات صحیح قرار دی جائیں اور علم تدلیس فضول ہو جائے۔
ایک شخص نے امام دارقطنی کی کتاب العلل (5/171، 173 رقم 804) سے ابوبکر النہشلی اور عبداللہ بن ادریس کی متابعات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، حالانکہ یہ حوالہ بالکل بے سند ہونے کی وجہ سے مردود ہے اور دنیا کی کسی کتاب میں صحیح یا حسن لذاتہ سند کے ساتھ ابوبکر النہشلی یا عبداللہ بن ادریس کی روایت مذکورہ میں لفظی یا معنوی (مفہوماً) متابعت ثابت نہیں ہے۔
بعض الناس نے لکھا ہے:
امام دارقطني رحمه الله نے حدث به الثوري عنه کے لفظ لکھے۔ جس سے امام سفیان ثوری رحمہ اللہ سے صیغہ تحدیث ثابت ہوتے ہیں۔ (محققانہ تجزیہ ص 92)
یہ استدلال دو وجہ سے مردود ہے:
● امام دارقطنی کی پیدائش سے بہت عرصہ پہلے امام سفیان ثوری فوت ہو گئے تھے لہذا یہ قول بے سند ہے۔
● حدث به الثوري عنه کا مطلب یہ ہے کہ ثوری نے اس سے حدیث بیان کی ہے لہذا اس سے سماع کہاں سے ثابت ہو گیا؟ اس میں سماع کی تصریح ہی نہیں لیکن بعض الناس ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سبحان اللہ!
ایک شخص نے امام سفیان ثوری کی معنعن حدیث کے دس (10) شواہد بنانے کی کوشش کی ہے جن میں نمبر 1 سے نمبر 9 تک سب موقوف و مقطوع روایات اور ضعیف و مردود ہیں۔ ابراہیم نخعی مدلس تھے لہذا سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے (جو ان کی پیدائش سے پہلے وفات پا گئے تھے) ان کی ہر روایت مردود ہے، چاہے انھوں نے ایک جماعت (مجہولین) سے ہی سنا ہو۔
عبدالرزاق، حماد بن ابی سلیمان، ابن عیینہ سفیان ثوری اور ابراہیم نخعی سب مدلس تھے لہذا ان کی معنعن روایات مردود کے حکم میں ہیں۔ آخری روایت میں محمد بن جابر جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف تھا۔ حماد اور ابراہیم دونوں مدلس تھے اور روایت معنعن ہے۔
مختصر یہ کہ یہ سب شواہد مردود ہیں اور بات سفیان ثوری کی تدلیس میں ہی پھنسی ہوئی ہے۔
اب آخر میں صاحب محققانہ تجزیہ (فیصل خان بریلوی) کے پانچ جھوٹ باحوالہ اور رد پیش خدمت ہیں:
① سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب روایت مذکورہ کے بارے میں اس شخص نے طحاوی حنفی کی کتاب شرح معانی الآثار (1/154، 1/224) سے تصحیح نقل کی (محققانہ تجزیہ ص 122)، حالانکہ طحاوی نے اس روایت کو صراحتا صحیح نہیں کہا لہذا یہ طحاوی پر جھوٹ ہے۔
② روایت مذکورہ کے بارے میں اس شخص نے حافظ ابن حجر کی کتاب الدرایہ (1/150) سے نقل کیا: "صحیح” (محققانہ تجزیہ ص 133)
یہ کالا جھوٹ ہے۔
③ یہ روایت مذکورہ کے بارے میں اس شخص نے مولانا عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ کی تعلیقات سلفیہ (123) سے نقل کیا: ”صحیح“ (محققانہ تجزیہ ص 125)
مولانا عطاء اللہ نے اس حدیث کو قطعاً صحیح نہیں کہا بلکہ ابوالحسن سندھی کا حاشیہ نقل کر کے اس کا حرف لکھ دیا ہے (دیکھئے تعلیقات سلفیہ ص 123، حاشیه 4) لہذا عبارت مذکورہ میں صاحب تجزیہ نے مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ پر جھوٹ بولا ہے۔
④ صاحب محققانہ تجزیہ نے کہا:
کہ امام شافعی رحمہ اللہ کا بعد والا قول بھی یہی ہے کہ ان دونوں حضرات سے (حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) ترک رفع یدین ثابت ہے۔ (محققانہ تجزیہ ص 107) یہ بالکل کالا جھوٹ ہے۔
⑤ صاحب تجزیہ نے کہا: زبیر علی زئی صاحب امام بزار رحمہ اللہ پر جرح کرتے ہیں اور ان کی توثیق کے قائل نہیں ہیں۔ لہذا ان کا قول کیسے پیش کر سکتے ہیں۔ (محققانہ تجزیہ ص 115)
یہ جھوٹ ہے کیونکہ میرے نزدیک امام بزار ثقہ یخطی اور صدوق حسن الحدیث ہیں اور متعدد مقامات پر میں نے ان کی بیان کردہ احادیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
مثلاً دیکھئے علمی مقالات (ج 1 ص 112)
ماہنامہ الحدیث: 23 میں بھی آخر میں خطیب بغدادی اور ابو عوانہ وغیرہما سے محدث بزار کا ثقہ و صدوق ہونا نقل کیا گیا ہے۔ (دیکھئے ص 30)
ان کے علاوہ اس شخص کے اور بھی بہت سے جھوٹ ہیں مثلاً مسند احمد میں مجرد روایت کی وجہ سے امام احمد بن حنبل سے ”احتج بہ“ نقل کرنا، وغیرہ۔
دیکھئے محققانہ تجزیہ (ص 122)
اس شخص کی جہالتیں بھی بہت زیادہ ہیں۔ مثلاً:
”حدث به الثوري عنه“ کو سماع پر محمول کرنا۔ (تجزیہ ص 92)
اور یہ کہنا کہ ”ویسے بھی ثم لا يعود کے بغیر بھی احناف کا دعویٰ ثابت ہوتا ہے۔“ (تجزیہ ص 119)
حالانکہ اس ضعیف روایت میں ثم لا يعود اور اس کے مفہوم کی زیادت باطل ثابت ہو جائے تو بریلویوں دیوبندیوں کا دعویٰ اور اس کی بنیاد ہی ختم ہو جاتی ہے، ساری عمارت دھڑام سے گر جاتی ہے اور بھٹہ بیٹھ جاتا ہے۔
خلاصۃ التحقیق: ہمارے اس مدلل اور تحقیقی مضمون میں ثابت کر دیا گیا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یا ان کی طرف منسوب ترک رفع یدین والی روایت میں سفیان ثوری مدلس ہیں جو طبقہ ثالثہ کے مدلس ہیں لہذا ان کی یہ معنعن روایت ضعیف و مردود ہے۔
دنیا کی کسی کتاب میں روایت مذکورہ میں امام سفیان ثوری کے سماع کی تصریح موجود نہیں اور نہ کوئی معتبر متابعت کہیں موجود ہے۔
اہل ایمان کو چاہیے کہ ضد و عناد کو چھوڑ کر حق کو تسلیم کریں اور اسی میں دونوں جہانوں کی کامیابی ہے۔ وما علينا إلا البلاغ (12/ستمبر 2009ء، 21 رمضان 1430ھ)