امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کا ثابت شدہ عقیدہ

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

کیا امام سفیان بن سعید ثوری رحمہ اللہ سے عقیدہ کے متعلق رسالہ ثابت ہے؟

جواب:

امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کا عقیدہ اہل سنت والجماعت والا ہے، عقیدہ اہل سنت پر ان کا ایک رسالہ ثابت ہے، ملاحظہ ہو۔
❀ امام شعیب بن حرب رحمہ اللہ (197ھ) بیان کرتے ہیں:
قلت لأبي عبد الله سفيان بن سعيد بن منذر الثوري: حدثني بحديث من السنة ينفعني الله تعالى به، فإذا وقفت بين يدي الله وسألني عنه فقال لي: من أين أخذت هذا؟ قلت: يا رب حدثني به سفيان الثوري فأخذته عنه، فأنجو أنا وتؤخذ أنت، فقال لي سفيان: يا شعيب، هذا توكيد و أى توكيد، أكتب بسم الله الرحمن الرحيم القرآن كلام الله غير مخلوق، منه بدأ وإليه يعود، ومن قال غير هذا فهو كافر، والإيمان قول وعمل ونية، يزيد وينقص، يزيد بالطاعة وينقص بالمعصية، ولا يجوز القول إلا بالعمل، ولا يجوز القول والعمل إلا بالنية، ولا يجوز القول والعمل والنية إلا بموافقة السنة
میں نے امام ابو عبد اللہ سفیان بن سعید بن منذر ثوری رحمہ اللہ سے عرض کیا: مجھے عقیدہ کے متعلق ایسی باتیں بیان فرمائیں جو میرے لیے نفع مند ثابت ہوں، جب مجھے اللہ کے سامنے کھڑا کیا جائے اور وہ مجھے عقیدہ کے متعلق پوچھے کہ یہ عقیدہ کہاں سے لیا؟ تو میں کہوں: میرے رب، مجھے یہ عقیدہ سفیان ثوری نے بیان کیا تھا، تو میں نے اسے اختیار کر لیا، تو میں نجات پا جاؤں اور آپ کا مواخذہ ہو! امام سفیان ثوری رحمہ اللہ نے مجھے فرمایا: اے شعیب! یہ تو تاکید ہے اور یہ کیسی تاکید ہے! چلیں لکھیں: بسم اللہ الرحمن الرحیم، قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، مخلوق نہیں، یہ اللہ کی طرف سے آیا ہے اور (قرب قیامت) اسی کی طرف لوٹ جائے گا، جو اس کے علاوہ عقیدہ رکھے، وہ کافر ہے۔ ایمان قول، عمل اور نیت کا نام ہے، اس میں کمی بیشی ہوتی ہے، اطاعت سے بڑھتا ہے اور گناہ سے کم ہوتا ہے، بغیر عمل کے قول کی کوئی حیثیت نہیں، نہ نیت (دل کی تصدیق) کے بغیر زبانی قول اور عمل کی حیثیت ہے، نیز قول، عمل اور نیت (دل کی تصدیق) اسی صورت میں قبول ہیں، جب وہ سنت کے موافق ہوں۔
شعیب بن حرب رحمہ اللہ کہتے ہیں، میں نے عرض کیا: ابو عبد اللہ (سفیان رحمہ اللہ کی کنیت)! سنت کی موافقت سے مراد کیا ہے؟ فرمایا: شیخین ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو (دوسرے صحابہ پر) مقدم کرنا۔ اے شعیب! میرا لکھوایا ہوا عقیدہ آپ کو اسی وقت فائدہ دے گا، جب آپ سیدنا عثمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کو انہی کے بعد والے صحابہ پر مقدم کریں گے۔ اے شعیب بن حرب! آپ کو میرا لکھوایا ہوا عقیدہ تبھی فائدہ دے گا، جب آپ کسی کے لیے جنتی یا جہنمی ہونے کی شہادت نہیں دیں گے، سوائے ان دس صحابہ کرام کے، جن کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنتی ہونے کی شہادت دی ہے، یہ سب قریشی ہیں۔ اے شعیب بن حرب! آپ کو میرا لکھوایا ہوا عقیدہ تبھی فائدہ دے گا، جب آپ موزوں پر مسح کے قائل ہوں گے، کہ (وضو کی حالت میں پہنے ہوں، تو) انہیں اتارنے کی ضرورت نہیں، مسح آپ کو پاؤں دھونے سے کافی ہو جائے گا۔ اے شعیب بن حرب! آپ کو میرا لکھوایا ہوا عقیدہ تبھی فائدہ دے گا، جب آپ کے نزدیک نماز میں آہستہ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا اونچی بسم اللہ پڑھنے سے افضل ہوگا۔ اے شعیب بن حرب! آپ کو میرا لکھوایا ہوا عقیدہ اسی وقت فائدہ دے گا، جب آپ اچھی، بری، میٹھی، کڑوی تقدیر پر ایمان لائیں گے، کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اے شعیب بن حرب! اللہ کی قسم! جو قدریہ کہتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ نے نہیں کہا، نہ فرشتوں نے کہا، نہ نبیوں نے کہا، نہ جنتی کہیں گے اور نہ جہنمی کہیں گے، بلکہ ان کے بھائی ابلیس لعین نے بھی نہیں کہا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَىٰ عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَىٰ سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَىٰ بَصَرِهِ غِشَاوَةً فَمَن يَهْدِيهِ مِن بَعْدِ اللَّهِ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ‎﴿٢٣﴾‏
(45-الجاثية:23)
بھلا جس نے اپنی خواہش کو ہی معبود بنا لیا ہو اور علم ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اسے گمراہ کر دیا ہو، اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی ہو، اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہو، اسے اللہ کے علاوہ کون ہدایت دے سکتا ہے، کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟
نیز فرمان الہی ہے:
وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللهُ
(الإنسان: 30)
تم نہیں چاہتے مگر یہ کہ اللہ چاہے۔
فرشتوں نے کہا:
قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ ‎﴿٣٢﴾‏
(2-البقرة:32)
اے اللہ! تو پاک ہے، ہمارے پاس وہی علم ہے، جو تو نے ہمیں سکھایا ہے، بلاشبہ تو ہی خوب جاننے والا اور حکمت والا ہے۔
موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:
إِنْ هِيَ إِلَّا فِتْنَتُكَ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَاءُ وَتَهْدِي مَنْ تَشَاءُ
(الأعراف: 155)
یہ فقط تیری آزمائش ہے، اس سے تو جسے چاہتا ہے، گمراہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے، ہدایت بخشتا ہے۔
نوح علیہ السلام نے فرمایا:
وَلَا يَنْفَعُكُمْ نُصْحِي إِنْ أَرَدْتُ أَنْ أَنْصَحَ لَكُمْ إِنْ كَانَ اللهُ يُرِيدُ أَنْ يُغْوِيَكُمْ هُوَ رَبُّكُمْ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
(هود: 34)
میں تمہیں نصیحت کرنا چاہوں، تو تمہیں میری نصیحت فائدہ نہیں دے سکتی، اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں گمراہ کرنے کا ارادہ کیا ہو، وہ تمہارا رب ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
شعیب علیہ السلام نے فرمایا:
وَمَا يَكُونُ لَنَا أَنْ نَعُودَ فِيهَا إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللهُ رَبُّنَا وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا
(الأعراف: 89)
ہمارے لیے یہ ممکن نہیں کہ ہم دوبارہ اس (کفر) میں لوٹ آئیں، سوائے اس کے کہ اللہ چاہے، وہ ہمارا رب ہے اور ہمارا رب علم کے اعتبار سے ہر شے کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔
اہل جنت کہیں گے:
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللهُ
(الأعراف: 43)
تمام تعریفات اس اللہ کے لیے ہیں، جس نے ہمیں اس کی ہدایت بخشی، اگر اللہ نے ہمیں ہدایت نہ دی ہوتی، تو ہم کبھی ہدایت نہ پاتے۔
جہنمی کہیں گے:
رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَالِّينَ
(المؤمنون: 106)
ہمارے رب! ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی، ہم گمراہ قوم تھے۔
اور قدریہ کے بھائی ابلیس نے بھی کہا تھا:
رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي
(الحجر: 39)
میرے رب! چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا۔
اے شعیب! میرا لکھوایا ہوا عقیدہ آپ کو اسی وقت فائدہ دے گا، جب آپ ہر نیک وبد کی اقتدا میں نماز پڑھنا جائز سمجھیں گے۔ حج اور جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔ حاکم وقت کے جھنڈے تلے صبر کریں، خواہ حکمران ظلم کرے یا عدل وانصاف سے کام لے۔
شعیب بن حرب رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سفیان ثوری رحمہ اللہ سے عرض کیا: ابو عبد اللہ! تمام نمازیں (نیک وبد کی اقتدا میں پڑھنی ہیں)؟ فرمایا: نہیں، صرف جمعہ اور عیدین، یہ نمازیں ہر امام کی اقتدا میں پڑھیے، البتہ باقی نمازوں میں آپ کو اختیار ہے کہ آپ اسی شخص کی اقتدا میں ادا کریں، جس پر آپ کو اعتماد ہے اور آپ اسے اہل سنت والجماعت میں داخل سمجھتے ہیں۔ شعیب بن حرب! اگر آپ کو اللہ کے سامنے روک لیا جائے اور اللہ اس عقیدے کے متعلق پوچھے، تو کہنا: مجھے یہ عقیدہ سفیان بن سعید ثوری نے بیان کیا ہے، اس کے بعد میرا اور میرے رب کا معاملہ ہے۔
(المُخَلِّصِيَّات للإمام المُخَلِّص: 3036، وسنده صحيح)
❀ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا ثابت عن سفيان
یہ عقیدہ امام سفیان ثوری رحمہ اللہ سے ثابت ہے۔
(تذكرة الحفاظ: 153/1)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️