امام سفیان ثوری اور طبقہ ثالثہ کی تحقیق
سوال : سفیان ثوری رحمہ اللہ کی تدلیس اور معنعن روایت کے بارے میں ، آپ کے نزدیک راجح قول کیا ہے؟ (تنویر حسین شاہ، ہری پور)
جواب : سفیان ثوری کے بارے میں راجح یہی ہے کہ وہ ثقہ امام اور امیر المومنین فی الحدیث ہونے کے ساتھ مدلس بھی ہیں اور آپ ضعفاء وغیر ہم سے تدلیس کرتے تھے لہذا آپ کی غیر صحیحین میں معنعن روایت ، عدم متابعت و عدم تصریح سماع کی صورت میں ضعیف و مردود ہوتی ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا انھیں طبقہ ثانیہ میں شمار کرنا صحیح نہیں بلکہ وہ طبقہ ثالثہ کے فرد ہیں ، جیسا کہ حاکم نیشاپوری نے انھیں طبقہ ثالثہ میں ذکر کیا ہے۔ (معرفة علوم الحدیث ص 106، جامع التحصیل ص 99 نور العینین طبع جدید ص 138)
حافظ ابن حبان رحمہ اللہ نے فرمایا:
وأما المدلسون الذين هم ثقات وعدول فإنا لا نحتج بأخبارهم إلا ما بينوا السماع فيما رووا مثل الثوري والأعمش و أبى إسحاق وأضرابهم …..
اور ایسے مدلس راوی جو ثقہ و عادل تھے تو ہم ان کی احادیث سے حجت نہیں پکڑتے سوائے اس کے کہ وہ تصریح سماع کریں جو انھوں نے روایت کیا ہے، مثلاً ثوری، اعمش ، ابو اسحاق اور ان جیسے دوسرے۔ ( الاحسان ج 1ص90، دوسر انسخوص 161، واللفظ له )
یہی تحقیق راجح اور صحیح ہے اور راقم الحروف نے اسے ہی نور العینین اور التاسیس فی مسئلة التدلیس ( مطبوعہ ماہنامہ الحدیث:33) میں اختیار کیا ہے۔
یاد رہے کہ عبدالرشید انصاری صاحب کے نام میرے ایک خط (1408/8/19ھ ) میں سفیان ثوری کے بارے میں یہ لکھا گیا تھا کہ
”طبقہ ثانیہ کا مدلس ہے جس کی تدلیس مصر نہیں ہے۔ “(جرابوں پر مسح ص 40)
میری یہ بات غلط ہے، میں اس سے رجوع کرتا ہوں لہذا اسے منسوخ و کالعدم سمجھا جائے ، عینی حنفی لکھتے ہیں کہ وسفيان من المدلسين والمدلس لا يحتج بعنعنته إلا أن يثبت سماعه من طريق آخر اور سفیان (ثوری) مدلسین میں سے ہیں اور مدلس کی عنعنہ والی روایت سے حجت نہیں پکڑی جاتی الا یہ کہ دوسریسند سے سماع کی تصریح ثابت ہو جائے۔ (عمدۃ القاری 112/2) ( 11 / محرم 1424ھ ، 15/ مارچ 2003ء)
تنبیہ: یہ سوال و جواب ماہنامہ شہادت اسلام آباد (اپریل 2003 ص 39) میں بھی شائع ہوا تھا۔ اب کچھ اصلاح کے ساتھ اسے دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔ (2/ اگست 2007ء)
(ماہنامہ الحدیث حضرو : 42 ص 27 تا 29)