مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

امام داود و ترمذی کی روایت لا تنسنا کا ضعفِ سند

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

درج ذیل روایت بلحاظ سند کیسی ہے؟
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
استأذنت النبى صلى الله عليه وسلم فى العمرة، فأذن لي، وقال: لا تنسنا يا أخي من دعائك
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت مرحمت فرمائی اور فرمایا: میرے بھائی! ہمیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔
(سنن أبي داود: 1498، سنن الترمذي: 3562، سنن ابن ماجه: 2894)

جواب:

سند ضعیف ہے۔ عاصم بن عبید اللہ سیء الحفظ ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔
❀ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
كان سيئ الحفظ كثير الوهم فاحش الخطأ فترك من أجل كثرة خطئه
یہ سیء الحفظ، کثیر الوہم اور فاحش الخطا راوی ہے، بہت زیادہ خطا کرنے کی وجہ سے اسے ترک کر دیا گیا۔
(كتاب المجروحين: 127/2)
اسباط بن محمد کی سفیان ثوری رحمہ اللہ سے روایت میں کلام ہے۔
❀ امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
كان يخطئ عن سفيان
اسباط جب سفیان ثوری رحمہ اللہ سے روایت کرے، تو خطا کرتا ہے۔
(تاريخ الدوري: 49/4)
سفیان ثوری رحمہ اللہ کا عنعنہ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔