مضمون کے اہم نکات
اس مضمون کا مقصد صحیح بخاری پر کیے جانے والے ایک معروف اعتراض کو علمی اصولوں کی روشنی میں واضح کرنا ہے۔ اعتراض یہ ہے کہ امام بخاریؒ نے ایک حدیث کی سند میں “ابن عمرؓ” لکھ دیا، حالانکہ بعض اہلِ علم کے نزدیک اس مقام پر “ابن عباسؓ” زیادہ محفوظ ہے؛ پھر اسی سے یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ (نعوذ باللہ) صحیح بخاری میں “فاحش غلطیاں” ہیں اور اس کتاب کی عظمت پر اعتماد “غلو” ہے۔
ہم اس تحریر میں یہ ثابت کریں گے کہ:
اس مقام پر اختلافِ روایت (ابن عمر/ابن عباس) پایا جاتا ہے، اور بعض اہلِ علم نے اسے سبقِ قلم/نسخے کی غلطی قرار دیا ہے۔
اس اختلاف کا وجود صحیح بخاری کی مجموعی صحت و امتیاز کو مجروح نہیں کرتا، کیونکہ یہ متن کے بنیادی معنی میں تبدیلی نہیں لاتا اور نہ ہی کتاب کی عمومی قبولیت کے اصول کو توڑتا ہے۔
“غلو” اور “تنقیص” دونوں انتہائیں ہیں؛ درست طریقہ یہ ہے کہ ائمہ کے اقوال کو ان کے سیاق اور اصولِ حدیث کے ساتھ سمجھا جائے۔
اصل اعتراض: بخاری میں “ابن عمرؓ” اور دیگر طرق میں “ابن عباسؓ”
معترض کا خلاصہ یہ ہے کہ صحیح بخاری میں ایک روایت اس سند سے آئی ہے جس میں “عن ابن عمر” ہے، جبکہ بعض دوسرے مصادر میں اسی سند و متن کے ساتھ “عن ابن عباس” ہے، اور بعض اہلِ علم نے “ابن عباس” کو “اصوب/محفوظ” کہا ہے۔
دلائل اور تحقیق: اقوالِ ائمہ ایک ایک کر کے
① صحیح بخاری میں حدیث کی روایت: “عن ابن عمر”
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ المُغِيرَةِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَأَيْتُ عِيسَى وَمُوسَى وَإِبْرَاهِيمَ، فَأَمَّا عِيسَى فَأَحْمَرُ جَعْدٌ عَرِيضُ الصَّدْرِ، وَأَمَّا مُوسَى، فَآدَمُ جَسِيمٌ سَبْطٌ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ الزُّطِّ»
اردو ترجمہ:
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہمیں اسرائیل نے خبر دی، کہا ہمیں عثمان بن مغیرہ نے خبر دی، مجاہد سے، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: “میں نے عیسیٰ، موسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام کو دیکھا؛ عیسیٰ سرخی مائل، گھنگریالے بالوں والے، چوڑے سینے والے تھے، اور موسیٰ گندم گوں، مضبوط جسم والے، سیدھے بالوں والے تھے گویا وہ زُط (ایک قوم) کے مردوں میں سے ہیں۔”
الكتاب: صحيح البخاري
رقم: 3438
(جیسا کہ فراہم کردہ متن میں مذکور ہے)
مختصر وضاحت:
یہ وہ اصل مقام ہے جس میں صحیح بخاری کے نسخوں میں “عن ابن عمر” آیا ہے، اور اسی سے اعتراض پیدا کیا گیا ہے۔
② ابن مندہ نے اسی متن کو “عن ابن عباس” کے ساتھ نقل کیا اور “الصواب” کی تصریح کی
… عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَأَيْتُ مُوسَى وَعِيسَى وَإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ …» … أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ … فَقَالَ: عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَالصَّوَابُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. رَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ
اردو ترجمہ:
(ابن مندہ کی روایت میں) مجاہد، ابن عباسؓ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “میں نے موسیٰ، عیسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام کو دیکھا…”
پھر ابن مندہ لکھتے ہیں: بخاری نے اسے محمد بن کثیر کے طریق سے نکالا اور “عن ابن عمر” کہا، جبکہ صحیح “عن ابن عباس” ہے، اور اسرائیل سے اسے ایک جماعت نے روایت کیا ہے۔
الكتاب: الإيمان لابن منده
المؤلف: أبو عبد الله محمد بن إسحاق بن محمد بن يحيى بن مَنْدَه العبدي (المتوفى: 395هـ)
رقم: 726
(جیسا کہ فراہم کردہ متن میں مذکور ہے)
مختصر وضاحت:
یہاں ابن مندہ نے “ابن عباس” والی روایت کو ترجیح دی اور صراحتاً کہا کہ بخاری میں یہاں “ابن عمر” آیا ہے لیکن “الصواب” ابن عباس ہے۔ یہ بات اس مسئلے کو علمی اختلاف کی صورت میں سامنے لاتی ہے، نہ کہ محض جذباتی الزام کی صورت میں۔
③ ابن حجرؒ (ہدی الساری/مقدمہ فتح الباری): متعدد ائمہ کے اقوال—اور “سبق القلم” کا امکان
قال أبو علي الجياني … قال : والمحفوظ فيه عن مجاهد عن ابن عباس .
قال أبو مسعود : أخطأ البخاري في قوله "عن ابن عمر” ، وإنما رواه محمد بن كثير عن إسرائيل بهذا الإسناد عن ابن عباس …
ويؤيد أنه من سبق القلم
اردو ترجمہ (خلاصہ/مفہوم):
ابو علی جیانی نے نقل کیا کہ اس باب میں محفوظ یہ ہے کہ مجاہد، ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں۔
اور ابو مسعود نے کہا کہ بخاری نے “عن ابن عمر” کہنے میں خطا کی، جبکہ اسی سند سے محمد بن کثیر نے اسے ابن عباسؓ ہی سے روایت کیا ہے، اور اسرائیل سے متعدد دیگر رواة نے بھی ابن عباسؓ ہی ذکر کیا ہے۔
پھر ابن حجرؒ نے تبصرہ کیا کہ اس سے یہ بات تقویت پاتی ہے کہ یہ سبقِ قلم (لکھنے میں لغزش) ہے۔
الكتاب: هدي الساري (مقدمہ فتح الباري)
المؤلف: ابن حجر العسقلاني
(جیسا کہ فراہم کردہ متن میں مذکور ہے)
مختصر وضاحت:
حافظ ابن حجرؒ نے اس مقام پر اہلِ علم کے کلام کی روشنی میں یہ احتمال بھی ذکر کیا کہ یہ کاتب/نسخہ/سبقِ قلم کی نوعیت کی غلطی ہو سکتی ہے۔ یہاں اصل اہم بات یہ ہے کہ ائمۂ حدیث نے مسئلے کو سائنسی انداز میں لیا: “محفوظ” کس کے ساتھ ہے، اور طرق کے تقابل سے کس طرف رجحان بنتا ہے۔
اعتراض کے چند غلط نتائج اور ان کی تصحیح
① “فاحش غلطی” کہنا علمی اسلوب نہیں
اس مقام پر زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ:
“ابن عمر/ابن عباس” کے تعین میں اختلاف ہے،
اور بعض کے نزدیک “ابن عباس” زیادہ محفوظ ہے،
اور ابن حجرؒ نے “سبقِ قلم” کا احتمال ذکر کیا۔
لیکن اسے “فاحش غلطی” کہہ کر صحیح بخاری کی علمی حیثیت گرانا غیر متوازن انداز ہے، کیونکہ یہ اختلاف راویِ صحابی کی تعیین میں ہے، حدیث کے بنیادی مضمون کی تکذیب یا انقلابِ معنی نہیں۔
② صحیح بخاری کی عظمت اور “غلو” میں فرق
یہ بات درست ہے کہ قرآن کے سوا کوئی کتاب معصوم نہیں۔ اہلِ سنت کے نزدیک بھی صحاحِ ستہ سمیت تمام کتبِ حدیث میں بعض مقامات پر
نسخوں کا اختلاف،
تعلیقات،
یا طرق کی ترجیح
جیسے مباحث پائے جاتے ہیں۔
مگر اسی سے یہ نتیجہ نکالنا کہ “لہٰذا بخاری پر اعتماد ہی ختم” یا “یہ کتاب عام انسانی کتابوں جیسی ہے” درست نہیں۔ صحیح بخاری کی امتیازی حیثیت اس کے عمومی معیارِ انتخاب، ضبط، اتصالِ اسانید، اور امت کی مجموعی قبولیت سے ثابت ہے؛ اور اسی قبولیت کے اندر محدثین نے بعض جزوی مقامات پر بحث بھی کی ہے۔
اہم اصولی نکتہ: زیادہ رواة والی سند خود بخود راجح نہیں
یہ بھی درست نہیں کہ “کم واسطوں والی سند (عالی)” ہمیشہ “زیادہ واسطوں والی (نازل)” پر مطلقاً مقدم ہوتی ہے۔
اصولِ حدیث میں ترجیح کے اسباب متعدد ہیں، مثلاً:
حفظ و ضبط
کثرتِ متابعات و شواہد
مخالفتِ ثقات
زیادہ محفوظ طریق
اسی لیے ابن مندہ نے “جماعة عن إسرائيل” کی بنیاد پر “ابن عباس” کو “اصوب” کہا (جیسا کہ اوپر نقل ہوا)۔ یعنی یہاں بحث “عالی/نازل” کے سادہ فارمولے سے نہیں بلکہ طرق کے تقابل سے متعلق ہے۔
نتیجہ
مندرجہ بالا تفصیل سے درج ذیل باتیں واضح ہوئیں:
١) صحیح بخاری میں حدیث (3438) کی سند میں “عن ابن عمر” آیا ہے، جبکہ ابن مندہ نے اسی کے مقابل “عن ابن عباس” نقل کر کے “الصواب” کی بات کہی۔
٢) حافظ ابن حجرؒ نے مقدمہ فتح الباری/ہدی الساری میں اس مقام پر اہلِ علم کے اقوال نقل کیے اور “سبق القلم” کے امکان کی طرف اشارہ کیا۔
٣) اس جزوی اختلاف سے صحیح بخاری کی مجموعی عظمت و قبولیت پر ضرب نہیں پڑتی، کیونکہ یہ علمی دنیا میں طرق کی ترجیح اور نسخہ جاتی اختلافات کے دائرے میں آتا ہے۔
٤) درست منہج یہ ہے کہ نہ تو صحیح بخاری کے بارے میں غیر علمی مبالغہ کیا جائے، اور نہ ہی چند جزوی مباحث کی بنیاد پر اسے ہدفِ تنقیص بنایا جائے؛ بلکہ ائمۂ حدیث کے طریقے کے مطابق دلائل، طرق اور اصول کے ساتھ بات کی جائے۔


