مضمون کے اہم نکات
اس مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ تدلیس کی وجہ سے معنعن (عن والی) روایت میں سماع/اتصال کا احتمال مجروح ہو جاتا ہے؛ چنانچہ امام شافعیؒ کے معروف اصول کی طرح امام احمد بن حنبلؒ سے بھی متعدد صریح نقول ملتی ہیں کہ جس راوی پر تدلیس کا الزام ہو، اس کی “عن” والی روایت محض اسی صورت قابلِ قبول ہوگی جب وہ سماع کی صراحت کرے (مثلاً: حدّثنی، أخبرنی، سمعت)—ورنہ امام احمدؒ کئی مقامات پر ایسے عنعنہ کو منقطع/غیر حجت قرار دیتے ہیں۔ اس مضمون کا مقصد انہی نصوص کی روشنی میں یہ واضح کرنا ہے کہ مدلس راوی کی معنعن روایت کے باب میں امام احمدؒ کا منہج اصولاً امام شافعیؒ کے موافق ہے اور یہ بات محض دعویٰ نہیں بلکہ متعدد جزئیات سے ثابت ہوتی ہے۔
تمہید: تدلیس، معنعن روایت اور محلِ نزاع
📌 تدلیس میں راوی بعض اوقات اپنے شیخ/مأخذ کو ایسے انداز میں ذکر کرتا ہے کہ سماع کی صراحت باقی نہیں رہتی، خصوصاً “عن” کے صیغے میں۔
📌 اسی لیے محدثین کے ہاں اصولی طور پر یہ بحث پیدا ہوتی ہے کہ مدلس کی معنعن روایت کب قبول ہوگی؟
📌 زیرِ بحث نکتہ یہ ہے کہ امام احمدؒ اپنے فتاویٰ/اقوال اور تطبیقات میں بار بار یہ بتاتے ہیں کہ:
✅ جہاں سماع کی صراحت ہو وہاں روایت مضبوط، اور جہاں تدلیس/عن عنہ ہو وہاں انقطاع کا اندیشہ غالب—لہٰذا احتیاط لازم ہے۔
اصل دلائل: امام احمد بن حنبلؒ کے اقوال و تطبیقات
① محمد بن اسحاق بن یسار (متوفی 150ھ) اور شرطِ سماع
حَدَّثَنِي الْخَضِرُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ: مَا تَقُولُ فِي مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ؟ قَالَ: هُوَ كَثِيرُ التَّدْلِيسِ جِدًّا، قُلْتُ لَهُ: فَإِذَا قَالَ: حَدَّثَنِي وَأَخْبَرَنِي فَهُوَ ثِقَةٌ؟
اردو ترجمہ:
خضر بن داؤد کہتے ہیں: احمد بن محمد نے کہا: میں نے ابو عبداللہ (امام احمد) سے پوچھا: محمد بن اسحاق کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ فرمایا: وہ بہت زیادہ تدلیس کرتے ہیں۔ میں نے عرض کیا: اگر وہ “حدّثنی/أخبرنی” کہہ دیں تو کیا وہ ثقہ شمار ہوں گے؟ (یعنی پھر روایت معتبر ہوگی؟)
(الضعفاء الكبير للعقيلي)
وضاحت:
یہاں امام احمدؒ نے اصل مسئلہ (کثرتِ تدلیس) واضح کیا اور ساتھ ہی یہ اصول کھولا کہ صراحتِ سماع کے ساتھ روایت کا وزن بدل جاتا ہے۔
مزید اسی مفہوم کی تائید:
فيما كتب إلى قال نا الأثرم قال قلت لأبي عبد الله ما تقول في محمد بن إسحاق؟ قال هو كثير التدليس جدا فكان احسن حديثه عندي ما قال اخبرني وسمعت.
اردو ترجمہ:
اثرَم کہتے ہیں: میں نے ابو عبداللہ (امام احمد) سے محمد بن اسحاق کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: وہ بہت زیادہ تدلیس کرتے ہیں؛ اور میرے نزدیک اس کی بہترین (زیادہ قابلِ اعتماد) حدیث وہ ہے جس میں وہ “أخبرنی” اور “سمعت” کہہ کر سماع کی صراحت کرے۔
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم)
نتیجۂ دلیل:
امام احمدؒ کے نزدیک مدلس کے باب میں معیارِ قبول “عن” نہیں بلکہ تصریحِ سماع ہے۔
② ابن جریج (عبدالمالک بن عبدالعزیز المکی، متوفی 150ھ) اور “قال/أخبرت” بمقابلہ “أخبرنی/سمعت”
فقال هكذا رواه ابن عياش إنما رواه ابن جُرَيج فقال، عَن أبي وإنما هُوَ، عَنْ أَبِيهِ ولم يسمعه من أبيه وليس فيه عائشة،
اردو ترجمہ:
(امام احمد کے حکم کا خلاصہ یہ ہے کہ) ابن عیاش نے اسے یوں روایت کیا، حقیقت یہ ہے کہ ابن جریج نے اسے “عن أبی” کہا، حالانکہ صحیح “عن أبیہ” ہے؛ اور اس نے اپنے والد سے یہ نہیں سنا، نیز اس میں عائشہؓ (کا ذکر) بھی نہیں۔
(الكامل في ضعفاء الرجال ابن عدي)
مزید صراحت:
قال الأثرم عن أحمد بن حنبل: "إذا قال ابن جريج: قال فلان، وقال فلان، وأُخبرتُ، جاء بمناكير، وإذا قال: أخبرني، وسمعت فحسبک بہ
اردو ترجمہ:
اثرَم امام احمد سے نقل کرتے ہیں: جب ابن جریج “قال فلان” اور “أُخبرت” (مجھے خبر دی گئی) کہے تو وہ منکر روایات لے آتا ہے؛ اور جب وہ “أخبرنی” اور “سمعت” کہے تو وہی کافی ہے (یعنی روایت مضبوط ہو جاتی ہے)۔
(سؤالات أبى بكر الأثرم لأحمد بن حنبل)
اور بھی زیادہ دو ٹوک معیار:
[220] سَمِعت أَحْمد يَقُول إِذا قَالَ ابْن جريج أَخْبرنِي فِي كل شَيْء فَهُوَ صَحِيح
اردو ترجمہ:
میں نے امام احمد کو کہتے سنا: جب ابن جریج ہر چیز میں “أخبرنی” کہہ دے تو وہ صحیح ہے۔
الكتاب: سؤالات أبي داود للإمام أحمد بن حنبل في جرح الرواة وتعديلهم
المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (المتوفى: 241هـ)
نتیجۂ دلیل:
امام احمدؒ کے نزدیک ابن جریج جیسے مدلس کے ہاں قبول کی بنیاد “أخبرنی/سمعت” ہے، اور “قال/أخبرت” کے صیغے نکارت/انقطاع کا دروازہ کھولتے ہیں۔
③ ہشیم بن بشیر (متوفی 183ھ) اور تدلیس کو “ریبہ” کہنا
28 – وَقَالَ التَّدْلِيس من الرِّيبَة وَذكر هشيما فَقَالَ كَانَ يُدَلس تدليسا وحشا وَرُبمَا جَاءَ بالحرف الَّذِي لم يسمعهُ .
فيذكره فِي حَدِيث آخر إِذا انْقَطع الْكَلَام يوصله
اردو ترجمہ:
امام احمد نے فرمایا: تدلیس شک و شبہ (ریبہ) کا کام ہے۔ پھر ہشیم کا ذکر کیا اور فرمایا: وہ نہایت شدید (وحشیانہ) انداز کی تدلیس کرتا تھا، کبھی ایسا لفظ بھی لے آتا جو اس نے سنا نہیں ہوتا؛ پھر دوسری حدیث میں جہاں کلام ٹوٹ جائے، اسے جوڑ دیتا (یعنی اتصال کا گمان پیدا کرتا)۔
الكتاب: من كلام أحمد بن حنبل في علل الحديث ومعرفة الرجال
المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (المتوفى: 241هـ)
مزید تطبیقی حکم (عدمِ سماع کی صراحت):
2153 – سَمِعت أَبِي يَقُول حَدَّثَنَا هُشَيْم عَن أبي هَاشم عَن أبي مِجْلَزٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ عَن أَبِي سَعِيد الْخُدْرِيّ قَالَ إِذَا تَوَضَّأَ الرَّجُلُ فَقَالَ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ قَالَ أَبِي لَمْ يَسْمَعْهُ هُشَيْمٌ مِنْ أَبِي هَاشِمٍ
اردو ترجمہ:
(اس سند کے بارے میں) امام احمد نے فرمایا: ہشیم نے یہ بات ابو ہاشم سے نہیں سنی۔
2154 – حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي إِيَاسٍ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ فِي الْحَوَالاتِ إِذَا تُوِيَتْ قَالَ لَيْسَ عَلَى مَالِ مُسْلِمٍ تَوًى سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ وَلَمْ يَسْمَعْ هُشَيْمٌ مِنْ خُلَيْدٍ شَيْئا
اردو ترجمہ:
امام احمد نے فرمایا: ہشیم نے خلید سے کچھ بھی نہیں سنا۔
الكتاب: العلل ومعرفة الرجال
المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (المتوفى: 241هـ)
نتیجۂ دلیل:
امام احمدؒ صرف “راوی مدلس ہے” کہہ کر نہیں رکتے بلکہ سماع کی نفی کر کے روایت میں انقطاع کو واضح کرتے ہیں—یہی منہج امام شافعیؒ کے اصولی موقف کی تائید ہے۔
④ الاعمش (سلیمان بن مہران، متوفی 148ھ) اور “لم يسمعه” کی تصریحات
2155 – حَدثنِي أبي قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْم عَن الْأَعْمَش عَن أَبِي وَائِل عَن عَبْد اللَّه قَالَ كُنَّا لَا نَتَوَضَّأ من الموطي سَمِعت أَبِي يَقُول هَذَا لم يسمعهُ هُشَيْم من الْأَعْمَش وَلَا الْأَعْمَش سَمعه من أَبِي وَائِل
اردو ترجمہ:
امام احمد نے فرمایا: یہ روایت ہشیم نے اعمش سے نہیں سنی، اور نہ ہی اعمش نے اسے ابو وائل سے سنا۔
الكتاب: العلل ومعرفة الرجال
المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (المتوفى: 241هـ)
اسی باب میں عمومی اشارہ:
حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ زِيَادٍ عَنْ أَحْمَدَ [1] قَالَ: —–. ثُمَّ قَالَ: قَدْ دَلَّسَ قَوْمٌ. ثُمَّ ذَكَرَ الْأَعْمَشَ.
اردو ترجمہ:
فضل بن زیاد امام احمد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: بعض لوگوں نے تدلیس کی؛ پھر انہوں نے اعمش کا ذکر کیا۔
الكتاب: المعرفة والتاريخ
المؤلف: يعقوب بن سفيان بن جوان الفارسي الفسوي، أبو يوسف (المتوفى: 277هـ)
اور ایک اور مقام پر تطبیق:
1871 – سَمِعْتُ أَحْمَدَ، يَقُولُ: هُشَيْمٌ لَمْ يَسْمَعْ حَدِيثَ أَبِي صَالِحٍ «الْإِمَامُ ضَامِنٌ» مِنَ الْأَعْمَشِ،
اردو ترجمہ:
میں نے امام احمد کو کہتے سنا: ہشیم نے “الْإِمَامُ ضَامِنٌ” والی حدیث ابو صالح سے اعمش کے واسطے سے نہیں سنی۔
الكتاب: مسائل الإمام أحمد رواية أبي داود السجستاني
المؤلف: أبو داود سليمان بن الأشعث بن إسحاق بن بشير بن شداد بن عمرو الأزدي السَِّجِسْتاني (المتوفى: 275هـ)
نتیجۂ دلیل:
امام احمدؒ سماع کی تحقیق کو معیار بناتے ہیں، اور جہاں سماع ثابت نہ ہو وہاں روایت کے اتصال کو تسلیم نہیں کرتے۔
⑤ بقیہ بن الولید (متوفی 197ھ) اور “حدثنا” کے باوجود اشکال
2005 – ذَكَرْتُ لِأَحْمَدَ حَدِيثَ بَقِيَّةَ عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَتَيْنِ»
, قَالَ: يَقُولُ فِيهِ: حَدَّثَنَا، يَعْنِي: بَقِيَّةَ، قُلْتُ: لَا يُنْكِرُونَ أَنْ يَكُونَ سَمِعَهُ، قَالَ: هَذَا أَبْطَلُ بَاطِلٍ
اردو ترجمہ:
میں نے امام احمد کے سامنے بقیہ کی یہ حدیث ذکر کی… امام احمد نے فرمایا: اس میں “حدّثنا” کہتا ہے (یعنی بقیہ)۔ میں نے کہا: لوگ یہ انکار نہیں کرتے کہ ممکن ہے اس نے سنا ہو۔ امام احمد نے فرمایا: یہ تو سراسر باطل میں سے سب سے زیادہ باطل ہے۔
الكتاب: مسائل الإمام أحمد رواية أبي داود السجستاني
المؤلف: أبو داود سليمان بن الأشعث بن إسحاق بن بشير بن شداد بن عمرو الأزدي السَِّجِسْتاني (المتوفى: 275هـ)
وضاحت:
یہاں اشارہ یہ بنتا ہے کہ امام احمدؒ صرف لفظ “حدّثنا” دیکھ کر مطمئن نہیں ہوتے؛ بلکہ راوی کے تدلیسی اسلوب اور سماع کی واقعی حیثیت کو بھی جانچتے ہیں۔
⑥ داود بن الزبرقان (متوفی 180ھ) اور “یکذب” نہیں مگر “یدلس”
2265 – وسئل عن داود بن الزبرقان؟
قال: إنما كتبت عنه حديثًا. وقال: ما أراه يكذب، ولكن كان يدلس.
اردو ترجمہ:
امام احمد سے داود بن الزبرقان کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: میں نے اس سے صرف ایک حدیث لکھی۔ اور فرمایا: میں اسے جھوٹا نہیں سمجھتا، لیکن وہ تدلیس کرتا تھا۔
مسائل ابن هانئ للامام احمد
ابو یعقوب اسحاق بن ابراہیم بن ہانی ثقفی نیشاپوری ( 218ھ – 275ھ) )
نتیجۂ دلیل:
امام احمدؒ کے نزدیک کبھی راوی صدق میں کمزور نہیں ہوتا، لیکن تدلیس بذاتِ خود روایت کی قبولیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔
⑦ حفص بن غیاث (متوفی 196ھ) اور صریح حکمِ تدلیس/عدمِ سماع
1941 – سَمِعت أبي يَقُول فِي حَدِيث حَفْص عَن الشَّيْبَانِيّ عَن عَبْد اللَّه بْن عتبَة سُئِلَ عَن امْرَأَة تزوجت وَلها ولد رَضِيع قَالَ لَا ترْضِعه وَإِن مَاتَ
قَالَ أَبِي هَذَا مِمَّا لم يسمعهُ حَفْص من الشَّيْبَانِيّ كَانَ يدلسه لَيْسَ فِيهِ شكّ والْحَدِيث حَدَّثَنِي بِهِ أَبِي سَمعه من حَفْص
اردو ترجمہ:
امام احمد نے فرمایا: یہ ان روایات میں سے ہے جو حفص نے شیبانی سے نہیں سنیں؛ وہ اس میں تدلیس کرتا تھا، اس میں کوئی شک نہیں۔ (اور) یہ حدیث مجھے میرے والد نے بیان کی، انہوں نے اسے حفص سے سنا تھا۔
الكتاب: العلل ومعرفة الرجال
المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (المتوفى: 241هـ)
نتیجۂ دلیل:
یہ صریح تطبیق ہے کہ امام احمدؒ مدلس کے عنعنہ کو عدمِ حجیت کی طرف لے جاتے ہیں، اور سماع کی نفی سے روایت کو مجروح کرتے ہیں۔
⑧ ابو اشھب (جعفر بن حیان، متوفی 185ھ) اور “حدّثنی” بمقابلہ “قال/ذكر”
حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ زِيَادٍ عَنْ أَحْمَدَ [1] قَالَ: —–قَالَ:
كَانَ أَبُو أَشْهَبَ يُدَلِّسُ إِلَّا أَنَّهُ فِي كِتَابِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ يُبِينُ إِذَا كَانَ سَمَاعًا قَالَ: حَدَّثَنِي، وَإِذَا لَمْ يَكُنْ [قَالَ] قَالَ أَبُو الزِّنَادِ، ذَكَرَ أَبُو الزِّنَادِ، قَالَ فُلَانٌ.
اردو ترجمہ:
امام احمد نے فرمایا: ابو اشھب تدلیس کرتا تھا، مگر ابراہیم بن سعد کی کتاب میں وہ واضح کر دیتا ہے: اگر سماع ہو تو “حدّثنی” کہتا ہے، اور اگر سماع نہ ہو تو “قال أبو الزناد/ذكر أبو الزناد/قال فلان” جیسے صیغے لاتا ہے۔
الكتاب: المعرفة والتاريخ
المؤلف: يعقوب بن سفيان بن جوان الفارسي الفسوي، أبو يوسف (المتوفى: 277هـ)
نتیجۂ دلیل:
امام احمدؒ نے یہاں بھی تصریحِ سماع کو امتیازی معیار کے طور پر نمایاں کیا۔
⑨ محمد بن المنکدر (متوفی 130ھ) اور سماع کی نفی
٥. قال ابن هاني: سألته عن حديث جابر بن عبد الله: أكلت مع النبي صلى الله عليه وسلم خبزاً ولحماً فقال أبو عبد الله: محمد بن المنكدر لم يسمعه من جابر، إنما هو حديث محمد بن عقيل، عن جابر، رواه ابن المنكدر، عن ابن عقيل، عن جابر
اردو ترجمہ:
ابن ہانی کہتے ہیں: میں نے امام احمد سے جابرؓ والی حدیث کے بارے میں پوچھا… تو امام احمد نے فرمایا: محمد بن المنکدر نے یہ جابر سے نہیں سنا؛ بلکہ یہ محمد بن عقیل کی جابر سے روایت ہے، جسے ابن المنکدر نے ابن عقیل کے واسطے سے جابر سے روایت کیا۔
( مسائل الإمام أحمد ـ برواية ابن هانئ)
نتیجۂ دلیل:
امام احمدؒ یہاں بھی سماع کی نفی کر کے روایت کے ظاہری اتصال کو قبول نہیں کرتے۔
⑩ مبارک بن فضالہ (متوفی 164ھ) اور “کان یدلس” کی صراحت
1480 – سُئِلَ أبي عَن مبارك وَالربيع بن صبيح فَقَالَ مَا أقربهما مبارك وَهِشَام جَالِسا الْحسن جَمِيعًا عشر سِنِين وَكَانَ الْمُبَارك يُدَلس
اردو ترجمہ:
امام احمد سے مبارک اور ربیع کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: وہ دونوں قریب ہیں… مبارک اور ہشام دس برس حسن (بصری) کے ساتھ بیٹھتے رہے، اور مبارک تدلیس کرتا تھا۔
الكتاب: العلل ومعرفة الرجال
المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (المتوفى: 241هـ)
مزید:
حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ زِيَادٍ عَنْ أَحْمَدَ [1] قَالَ: كَانَ مُبَارَكٌ [2] يُرْسِلُ إِلَى الْحَسَنِ [3] . قِيلَ: تَدَلَّسَ؟ قَالَ: نَعَمْ
اردو ترجمہ:
امام احمد نے فرمایا: مبارک حسن کی طرف ارسال کرتا تھا۔ پوچھا گیا: کیا وہ تدلیس کرتا تھا؟ فرمایا: ہاں۔
الكتاب: المعرفة والتاريخ
المؤلف: يعقوب بن سفيان بن جوان الفارسي الفسوي، أبو يوسف (المتوفى: 277هـ)
نتیجۂ دلیل:
یہ بھی اسی اصول کی تائید ہے کہ تدلیس کی موجودگی میں صراحتِ سماع کے بغیر روایت محتاط/مجروح ہو جاتی ہے۔
⑪ سعید بن ابی عروبہ اور متعدد شیوخ سے عدمِ سماع
2465 – حَدثنِي أبي قَالَ لم يسمع سَعِيد بْن أَبِي عرُوبَة من الحكم بْن أبي عتيبة(الحكم بن عتيبة الكندي) وَلَا من حَمَّاد(حماد بن أبي سليمان الأشعري) وَلَا من عَمْرو بْن دِينَار(عمرو بن دينار الجمحي) وَلَا من هِشَام بْن عُرْوَة(هشام بن عروة الأسدي) وَلَا من إِسْمَاعِيل بن أبي خَالِد وَلَا من عُبَيْد اللَّه بْن عُمَر وَلَا من أَبِي بشر وَلَا من زَيْد بْن أسلم وَلَا من أأبي الزِّنَاد قَالَ أَبِي وَقد حدث عَن هَؤُلَاءِ كلهم وَلم يسمع مِنْهُم شَيْئا
اردو ترجمہ:
امام احمد نے فرمایا: سعید بن ابی عروبہ نے حکم بن ابی عتیبہ، حماد، عمرو بن دینار، ہشام بن عروہ، اسماعیل بن ابی خالد، عبید اللہ بن عمر، ابو بشر، زید بن اسلم اور ابو الزناد وغیرہ میں سے کسی سے سماع نہیں کیا؛ حالانکہ اس نے ان سب سے روایتیں بیان کی ہیں، مگر ان سے کچھ نہیں سنا۔
الكتاب: العلل ومعرفة الرجال
المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (المتوفى: 241هـ)
نتیجۂ دلیل:
یہ امام احمدؒ کے سخت معیارِ اتصال کی واضح مثال ہے: محض روایت کرنا کافی نہیں، سماع ثابت ہونا ضروری ہے۔
⑫ عمر بن علی المقدمی (متوفی 190ھ) اور تدلیس میں “سب سے زیادہ مشکل”
1020- سمعتُ أَبا داود يقول: بلغني عن أحمد قال: ما أعياني أحد في التدليس ما أعياني عُمر بن علي المُقدمي.
اردو ترجمہ:
میں نے ابو داود کو کہتے سنا: مجھے امام احمد سے یہ بات پہنچی کہ تدلیس کے معاملے میں مجھے جتنا عمر بن علی المقدمی نے تھکایا/مشکل میں ڈالا، کسی نے نہیں ڈالا۔
(سؤالات الآجري لأبي داود)
نتیجۂ دلیل:
امام احمدؒ کے ہاں تدلیس صرف نظری بحث نہیں بلکہ عملی طور پر روایت کے باب میں انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے۔
⑬ ابو حرۃ (واصل بن عبدالرحمن، متوفی 152ھ) اور “صاحب تدلیس”
• وقال الفضل بن زياد، عن أحمد. قال: كان أبو حرة صاحب تدليس.
اردو ترجمہ:
فضل بن زیاد امام احمد سے نقل کرتے ہیں: ابو حرۃ تدلیس کرنے والا تھا۔
الكتاب: المعرفة والتاريخ
المؤلف: يعقوب بن سفيان بن جوان الفارسي الفسوي، أبو يوسف (المتوفى: 277هـ)
مزید:
• وقال سؤالاته المروذي: قال: أحمد بن حنبل:
كان أبو حرة صاحب تدليس عن الحسن إلا أن يحيى روى عنه ثلاثة أحاديث يقول في بعضها: حدثنا الحسن، منها حديث سعد بن هشام، حديث عائشة في الركعتين. «سؤالاته» ( ) .
اردو ترجمہ:
(مروذی کے سوالات میں ہے کہ) امام احمد نے فرمایا: ابو حرۃ حسن (بصری) سے تدلیس کرتا تھا، مگر یحییٰ نے اس سے تین احادیث روایت کیں جن میں بعض میں وہ “حدّثنا الحسن” کہتا ہے… (وغیرہ)
«سؤالاته» ( ) .
نتیجۂ دلیل:
امام احمدؒ یہاں بھی “حدّثنا” جیسی تصریح کو امتیازی حیثیت دے رہے ہیں—یعنی جہاں تصریح ہو وہاں معاملہ مختلف ہو جاتا ہے۔
⑭ یحییٰ بن ابی کثیر اور سماع کی تحدید
وقال عبد الله: قلت لأبي: علي بن المبارك، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي ميونة، عن أبي هريرة، جاءت امرأه إلى النبي صلى الله عليه وسلم -، قد طلقها زوجها. قال: لا أرى يحيى سمعه إلا من هلال بن أسامة، عن أبي ميمونة.
اردو ترجمہ:
عبداللہ کہتے ہیں: میں نے اپنے والد (امام احمد) سے کہا… امام احمد نے فرمایا: میں نہیں سمجھتا کہ یحییٰ نے اسے ہلال بن اسامہ کے واسطے کے سوا ابو میمونہ سے سنا ہو۔
الكتاب: العلل ومعرفة الرجال
المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (المتوفى: 241هـ)
نتیجۂ دلیل:
امام احمدؒ ایک ہی روایت کے اندر اصل سماع کے رخ کو متعین کرتے ہیں—یہی وہ احتیاط ہے جو مدلس/معنعن کے باب میں مطلوب ہے۔
⑮ عمر بن علی اور تدلیس کی عمومی نسبت
3934 – سَمِعت أبي ذكر عمر بن عَليّ فَأثْنى عَلَيْهِ خيرا وَقَالَ كَانَ يُدَلس
اردو ترجمہ:
میں نے اپنے والد (امام احمد) کو عمر بن علی کا ذکر کرتے سنا، انہوں نے اس کی تعریف کی اور فرمایا: وہ تدلیس کرتا تھا۔
الكتاب: العلل ومعرفة الرجال
المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (المتوفى: 241هـ)
نتیجۂ دلیل:
یہاں بھی واضح ہے کہ تدلیس کی نسبت کے بعد روایت کے باب میں تصریحِ سماع کی ضرورت پیدا ہوتی ہے۔
⑯ الحجاج بن ارطاۃ (متوفی 150ھ) اور تدلیس کی نسبت
3935 – وَسمعت أبي يَقُول حجاج سمعته يَعْنِي حَدِيثا آخر قَالَ أبي كَذَا كَانَ يُدَلس
اردو ترجمہ:
میں نے اپنے والد (امام احمد) کو کہتے سنا… پھر فرمایا: وہ اسی طرح تدلیس کیا کرتا تھا۔
الكتاب: العلل ومعرفة الرجال
المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (المتوفى: 241هـ)
نتیجۂ دلیل:
تدلیس کا حکم لگانا بذاتِ خود اس بات کی دلیل ہے کہ امام احمدؒ معنعن پر غیر مشروط اعتماد نہیں کرتے۔
⑰ میمون بن موسی (متوفی 160ھ) اور “حدثنا الحسن” نہ کہنا
3450 – قلت لَهُ مَيْمُون بن مُوسَى المرئي قَالَ مَا أرى بِهِ بَأْس وَكَانَ يُدَلس وَكَانَ لَا يَقُول حَدثنَا الْحسن
اردو ترجمہ:
میں نے (امام احمد سے) میمون بن موسی کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: مجھے اس میں کوئی حرج نظر نہیں آتا، مگر وہ تدلیس کرتا تھا، اور وہ “حدّثنا الحسن” نہیں کہا کرتا تھا۔
الكتاب: العلل ومعرفة الرجال
المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيبani (المتوفى: 241هـ)
نتیجۂ دلیل:
“حدّثنا” کی عدم موجودگی (بالخصوص جہاں سماع متوقع ہو) امام احمدؒ کے نزدیک تنبیہ ہے۔
⑱ علی بن غراب (متوفی 184ھ) اور صدق کے ساتھ تدلیس
5318 – سَأَلت أبي عَن عَليّ بن غراب الْمحَاربي فَقَالَ لَيْسَ لي بِهِ خبر سَمِعت مِنْهُ مَجْلِسا وَاحِدًا وَكَانَ يُدَلس وَمَا أرَاهُ إِلَّا كَانَ صَدُوقًا
اردو ترجمہ:
میں نے اپنے والد (امام احمد) سے علی بن غراب کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: مجھے اس کی (زیادہ) خبر نہیں، میں نے اس سے صرف ایک مجلس سنی؛ وہ تدلیس کرتا تھا، اور میرے نزدیک وہ صدوق ہی تھا۔
الكتاب: العلل ومعرفة الرجال
المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني (المتوفى: 241هـ)
نتیجۂ دلیل:
یہاں اصول واضح ہے: صدق اپنی جگہ، مگر تدلیس اپنی جگہ اثر رکھتی ہے—لہٰذا معنعن میں احتیاط لازم۔
⑲ ابو قتادہ اور “أظن” کے ساتھ تدلیس کا اندیشہ
1533 – وَقَالَ أبي أَظن أَبَا قَتَادَة كَانَ يُدَلس وَالله أعلم
اردو ترجمہ:
امام احمد نے فرمایا: میرا گمان ہے کہ ابو قتادہ تدلیس کیا کرتے تھے، واللہ اعلم۔
الكتاب: العلل ومعرفة الرجال
المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيبani (المتوفى: 241هـ)
نتیجۂ دلیل:
یہ “اندیشہ” بھی اسی احتیاط کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ جہاں تدلیس کا احتمال ہو، وہاں عنعنہ کو غیر مشروط نہ لیا جائے۔
⑳ سفیان الثوری (متوفی 161ھ) اور امام احمدؒ کا عملی معیار
⑳-ا) یحییٰ بن سعید القطان کی شرط:
318 – قَالَ أبي قَالَ يحيى بن سعيد مَا كتبت عَن سُفْيَان شَيْئا إِلَّا قَالَ حَدثنِي أَو حَدثنَا إِلَّا حديثين
اردو ترجمہ:
امام احمد نے (اپنے والد/راوی کے واسطے سے) یحییٰ بن سعید سے نقل کیا: میں نے سفیان سے کچھ بھی نہیں لکھا مگر وہ “حدّثنی/حدّثنا” کہتا تھا، سوائے دو حدیثوں کے۔
الكتاب: العلل ومعرفة الرجال
المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيبani (المتوفى: 241هـ)
⑳-ب) “جامع سفیان” کے بارے میں سخت کراہت:
1582 – حَدثنَا قَالَ سَمِعت ابي وَذكر وضع كتب——وَعَابَ وضع الْكتب وَكَرِهَهُ كَرَاهِيَة شَدِيدَة وَكَانَ ابي يكره جَامع سُفْيَان وينكره ويكرهه كَرَاهِيَة شَدِيدَة وَقَالَ من سمع هَذَا من سُفْيَان وَلم ارْمِ يصحح لأحد سَمعه من سُفْيَان وَلم يرض ابي ان يسمع من اُحْدُ حَدِيثا
اردو ترجمہ:
(مفہوماً) امام احمدؒ نے (حدیث کے علاوہ) کتابیں وضع کرنے کو ناپسند کیا، اور “جامع سفیان” کو سخت ناپسند کیا… اور فرمایا: جس نے یہ سفیان سے سنا، میں اس کے لیے تصحیح/توثیق کی طرف مائل نہیں… (وغیرہ)
(مسائل أحمد بن حنبل رواية ابنه عبد الله)
⑳-ج) عمل کے باب میں ترجیح:
1779 – سَمِعْتُ أَحْمَدَ، وَقَالَ لَهُ رَجُلٌ ” جَامِعُ سُفْيَانَ نَعْمَلُ بِهِ؟ قَالَ: عَلَيْكَ بِالْآثَارِ ".
اردو ترجمہ:
میں نے امام احمد کو سنا: ایک شخص نے کہا “جامع سفیان” پر عمل کریں؟ فرمایا: تم پر آثار (نصوص/روایات) لازم ہیں۔
(سؤالات أبي داود سليمان بن الأشعث السجستاني صاحب السنن)
⑳-د) “جامع” کے سماع کی نفی اور راوی پر حکم:
3605 – سمعته يَقُول كتبنَا عَن غَسَّان بن عبيد الْموصِلِي قدم علينا هَهُنَا وَكَانَ قد سمع من سُفْيَان فَكتبت مِنْهَا أَحَادِيث وخرقت حَدِيثه مذ حِين وَإِنَّمَا كَانَ سمع من سُفْيَان شَيْئا يَسِيرا وَأنكر أَن يكون سمع الْجَامِع من سُفْيَان
اردو ترجمہ:
امام احمدؒ نے فرمایا: ہم نے غسان بن عبید موصلی سے لکھا… پھر میں نے اس کی حدیث پھاڑ دی… اس نے سفیان سے بہت تھوڑا سنا تھا، اور اس بات کا انکار کیا گیا کہ اس نے سفیان سے “الجامع” سنا ہو۔
(العلل ومعرفة الرجال)
نتیجۂ دلیل (⑳):
یہ مجموعہ اس بات کو مضبوط کرتا ہے کہ امام احمدؒ کے نزدیک معتبر وہی ہے جس میں سماع کی صراحت ہو؛ اور جن مجموعات/روایات میں معنعن/غیر مصرح سماع کی کثرت کا اندیشہ ہو، وہاں وہ سخت احتیاط اور نکیر فرماتے ہیں۔
حاصلِ بحث: ان نصوص سے کیا اصول ثابت ہوتا ہے؟
✅ پیش کردہ تمام آثار کا مشترک نکتہ یہ ہے کہ امام احمدؒ:
مدلس کی نشان دہی کرتے ہیں،
پھر سماع کی صراحت کو معیار بناتے ہیں،
اور جہاں سماع ثابت نہ ہو وہاں صراحتاً فرماتے ہیں: “لم يسمعه” یا کم از کم انقطاع/نکارت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
📌 یہی وہ جوہر ہے جسے اہلِ علم “مدلس کی معنعن روایت” کے باب میں امام شافعیؒ کے اصول کے موافق قرار دیتے ہیں: تصریحِ سماع کے بغیر قبولیت نہیں (خصوصاً جب تدلیس ثابت/غالب ہو)۔
نتیجہ (Conclusion)
📌 ان تمام جزئی دلائل کی روشنی میں مندرجہ ذیل بات واضح ہوتی ہے:
امام احمد بن حنبلؒ کا منہج یہ نہیں کہ “راوی مدلس ہے مگر پھر بھی اس کا عنعنہ بلا شرط قبول ہے”؛ بلکہ متعدد مقامات پر وہ مدلس کے عنعنہ کو سماع کی تصریح کے بغیر قابلِ اعتماد نہیں سمجھتے، اور عملاً یہی معیار اختیار کرتے ہیں کہ “حدثنی/أخبرنی/سمعت” ہو تو روایت مضبوط، ورنہ اتصال محلِ نظر۔
✅ لہٰذا مجموعی طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ مدلس کی معنعن روایت کے باب میں امام احمدؒ کی تطبیقات امام شافعیؒ کے اصولی موقف کے قریب تر ہیں۔
اہم حوالہ جات کے سکین















