مضمون کے اہم نکات
یہ مضمون ایک جھوٹے بہتان کی علمی جانچ ہے جس میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی طرف قبرِ نبویﷺ یا منبر کو چھونے اور بوسہ دینے کے جواز کی نسبت کی جاتی ہے۔
اصل نقلِ روایت (منسوب قول)
① عربی متن (النقل):
3243 – سَأَلْتُهُ عَنِ الرَّجُلِ يَمَسُّ مِنْبَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَتَبَرَّكُ بِمَسِّهِ وَيُقَبِّلُهُ وَيَفْعَلُ بِالْقَبْرِ مِثْلَ ذَلِكَ أَوْ نَحْوَ هَذَا يُرِيدُ بِذَلِكَ التَّقَرُّبَ إِلَى اللَّهِ جَلَّ وَعَزَّ فَقَالَ: لَا بَأْسَ بِذَلِكَ۔
حوالہ: (العلل ومعرفة الرجال)
② متنِ مترجم:
امام عبداللہ بن احمد بن حنبل رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے والدِ ماجد سے پوچھا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے منبر کو چھو کر تبرک حاصل کرے، اسے بوسہ دے اور قبر کے ساتھ بھی ایسا ہی کرے—اگر وہ اس سے اللہ کا قرب چاہتا ہو—تو آپ نے فرمایا: اس میں حرج نہیں۔
حوالہ: (العلل ومعرفۃ الرجال: 2/294، ت: 3243)
مجموعی تحقیقی جواب (تقویمِ نسبت)
❖ یہ نسبت شاذ، مرجوع اور غیر مفتی بہ ہے؛ کیونکہ امام احمد کے دیگر اوثق ناقلین (فرزندِ اکبر صالح، اور دو ثقہ تلامذہ: ابو بکر الأثرم، اسحاق بن منصور المروزی) سے اس کے خلاف صریحات منقول ہیں۔ بعد کے ائمۂ حنابلہ نے بھی تَمسُّ القبر وتقبیلہ کو بدعت قرار دے کر اس نسبت کی نفی کی ہے۔ ذیل میں تسلسل سے نصوص ملاحظہ ہوں:
شواہدِ رجوع و نفی (حنابلہ کے صریح متون)
① روایتِ صالح بن احمد (فرزندِ فقہ و قضاء)
عربی متن:
مسائل فی الزیارة
1340 – … وَلَا يَمَسُّ الْحَائِطَ وَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى الرُّمَّانَةِ وَمَوْضِعِ الَّذِي جَلَسَ فِيهِ النَّبِيُّ ﷺ وَلَا يُقَبِّلُ الْحَائِطَ۔
حوالہ: (مسائل الإمام أحمد بن حنبل، روایة ابن أبی الفضل صالح [203–266ھ])
ترجمہ:
مدینہ میں داخل ہونے والا قبر کی دیوار نہ چھوئے، نہ منبر کی وہ گول لاکھڑی (الرمانہ) پکڑے جس پر حضور ﷺ ہاتھ رکھتے تھے، نہ اس جگہ پر ہاتھ رکھے جہاں آپ ﷺ بیٹھے تھے، اور نہ دیوار کو بوسہ دے۔
تقویم:
یہ صریح منع امام احمد کے فرزندِ اوثق ناقل سے ہے؛ لہٰذا منسوب جواز مرجوح ٹھہرا۔
② روایتِ اسحاق بن منصور المروزی (ثقہ تلمیذ)
عربی متن:
[1619] قلتُ: يَسْتَلِمُ الأركانَ كُلَّهَا؟
قال: لا، إلا اليماني والحجر. قال إسحاق: هكذا هو.
حوالہ: (مسائل الإمام أحمد بن حنبل وإسحاق بن راهویہ)
ترجمہ:
میں نے پوچھا: کیا طواف میں تمام اراکین کا استلام کیا جائے؟ فرمایا: نہیں، صرف رکنِ یمانی اور حجرِ اسود۔ اسحاق کہتے ہیں: حکم یہی ہے۔
تقویم:
استلام/تقبیل صرف دو شعائرِ منصوصہ تک خاص ہے؛ اس کے عموم سے قبر/منبر/دیگر جگہیں خارج ہیں۔
③ روایتِ ابو بکر الأثرم (ثقہ تلمیذ)
عربی متن:
ونقل الأثرم: قلتُ لأبي عبد الله: قبرُ النبي ﷺ يُمَسُّ ويُتَمَسَّحُ به؟
فقال: ما أعرفُ هذا. قلتُ: فالمنبر؟ قال: أما المنبر فنعم قد جاء فيه.
قيل لأبي عبد الله: إنهم يُلصِقون بطونَهم بجدار القبر.
وقيل له: رأيتُ من أهل العلم من أهل المدينة لا يَمَسُّون ويقومون ناحيةً فيُسلِّمون.
قال أبو عبد الله رحمه الله: نعم، وهكذا كان ابن عمر يفعل.
وهذه الرواية تدل على أنه ليس بسنة وضع اليد على القبر.
حوالہ: (المسائل الفقهية من كتاب الروايتين والوجهين، للقاضي أبي يعلى)
ترجمہ و نکتہ:
قبر کو چھونے/ملنے کے بارے میں فرمایا: “میں اس کو نہیں جانتا” (یعنی سنت نہیں)؛ منبر کے بارے میں ثابت ہونا تسلیم کیا۔ پھر اہلِ مدینہ کے طریق نقل کیے کہ قبر کو نہیں چھوتے بلکہ ایک طرف کھڑے ہو کر سلام کرتے؛ اور یہی ابنِ عمر کا عمل تھا۔ قاضی ابو یعلی لکھتے ہیں: اس سے واضح ہوا کہ قبر پر ہاتھ رکھنا سنت نہیں۔
④ تصریحِ قاضی ابو یعلی ابن الفراء
عربی متن:
وهذه الرواية تدل على أنه ليس بسنة وضع اليد على القبر.
حوالہ: (المسائل الفقهية من كتاب الروايتين والوجهين)
ترجمہ:
یہ روایات صراحت کرتی ہیں کہ قبر پر ہاتھ رکھنا سنت نہیں۔
⑤ فتویٰ ابنِ قدامہ الحنبلی
عربی متن:
[فصل: التمسح بحائط قبر النبي ﷺ وتقبيله]
(2749) ولا يُستحبُّ التمسحُ بحائطِ قبر النبي ﷺ ولا تقبيله۔
حوالہ: (المغنی لابن قدامة)
ترجمہ:
قبرِ نبوی کی دیوار کو مس کرنا اور چومنا مستحب نہیں۔
⑥ علاء الدین المرداوی الحنبلی
عربی متن:
الثَّانِيَةُ: لا يُستحبُّ تمسُّحُهُ بقبره ﷺ على الصحيح من المذهب۔
حوالہ: (الإنصاف في معرفة الراجح من الخلاف)
ترجمہ:
صحیح مذہب کے مطابق قبرِ نبوی سے تمسح مستحب نہیں؛ سلام سنت ہے۔
⑦ شرف الدین الحجاوی (أبو النجا)
عربی متن:
ولا يتمسح ولا يمسُّ قبرَ النبي ﷺ ولا حائطَه، ولا يُلصِقُ به صدرَه، ولا يقبِّلُه۔
حوالہ: (الإقناع في فقه الإمام أحمد بن حنبل)
ترجمہ:
قبرِ نبوی اور اس کی دیوار کا مسح/مس، سینہ چپکانا اور بوسہ دینا—سب ممنوع۔
⑧ منصور بن یونس البہوتی
عربی متن:
(ولا يتمسح ولا يمس قبر النبي ﷺ ولا حائطه ولا يلصق به صدره ولا يقبله)
أي: يُكره ذلك لِما فيه من إساءة الأدب والابتداع۔
حوالہ: (كشاف القناع عن متن الإقناع)
ترجمہ:
یہ سب کام بدعت اور خلافِ ادب ہونے کے سبب مکروہ ہیں۔
⑨ مرعی بن یوسف الکرمی الحنبلی
عربی متن:
وأما تقبيلُ القبور والتمسُّحُ بها فهو بدعةٌ باتفاق۔
حوالہ: (شفاء الصدور في زيارة المشاهد والقبور)
ترجمہ:
قبروں کو چومنا اور ان سے تمسح کرنا—اتفاقاً بدعت ہے۔
الزامی جوابات اور مزید شواہد
الزامی جواب 01 — فتاویٰ عالمگیری (اجماعِ احناف)
❖ پانچ سو احناف علماء کی تالیف فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
عربی متن:
ولا يمسح القبر ولا يقبله فإن ذلك من عادة النصارى۔
حوالہ: (الفتاوى الهندية)
ترجمہ:
"قبر کو نہ چھوا جائے اور نہ بوسہ دیا جائے، کیونکہ یہ نصاریٰ کی عادات میں سے ہے۔”
الزامی جواب 02 — احمد رضا بریلوی کا اعتراف
❖ خود احمد رضا خان بریلوی نے لکھا:
"عوام کے لئے قبروں کو بوسہ دینا منع ہی احوط ہے، ہمارے علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ مزارِ اکابر سے کم از کم چار ہاتھ کے فاصلے پر کھڑا ہو۔ پھر تقبیل (چومنے) کی کیا سبیل؟”
حوالہ: (فتاویٰ رضویہ، جلد 9، ص 529)
عبداللہ بن احمد پر متشدد اقوال (احناف و کوثری)
❖ بعض احناف علماء نے خود عبداللہ بن احمد پر طعن کیے:
-
کوثری نے کہا: "وہ کذاب تھے، روایت میں مضطرب اور گمراہ تھے۔” (معاذ اللہ)
-
ظہور حسینی حنفی نے لکھا کہ وہ "احناف کے خلاف متعصب اور بدعتی فرقے کی طرف منسوب” ہیں۔ (تلامذہ امام اعظم ابو حنیفہ کا محدثانہ مقام۔)
-
بریلوی مصنف اسد المداری نے ان کو "بدعتی” کہا۔ (سکین نیچے لگا دیا ہے)
❖ جب خود احناف و بریلوی حضرات عبداللہ بن احمد کو ناقابلِ اعتماد ٹھہراتے ہیں، تو انہی کی منفرد روایت پر دلیل قائم کرنا علمی دیانت کے خلاف ہے۔
اہلِ حنابلہ کا متفقہ موقف
❖ امام احمد کے فرزند صالح، شاگردانِ ثقہ (الأثرم، اسحاق المروزی)، اور بعد کے حنابلہ (ابن قدامہ، مرداوی، بہوتی، حجاوی، کرمی وغیرہ) سب کا مؤقف یہی ہے کہ:
-
قبر کو چھونا، بوسہ دینا، سینہ چپکانا سب بدعت ہیں۔
-
سنت صرف سلام عرض کرنا ہے۔
❖ لہٰذا عبداللہ بن احمد کی منفرد روایت شاذ، مرجوع اور غیر مفتی بہ ہے۔
الزامی جواب 2 — ابو حنیفہ کا قول (ابن حبان کی نقل)
❖ امام ابن حبان نے نقل کیا:
عربی متن:
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ بِهَمَذَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَاهَانَ، عَنْ بْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ: حَدَّثْتُ أَبَا حَنِيفَةَ بِحَدِيثٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، فَقَالَ: بَلْ عَلَى هَذَا۔
حوالہ: (المجروحين من المحدثين لابن حبان)
ترجمہ:
سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں: میں نے امام ابو حنیفہ کے سامنے نبی کریم ﷺ کی حدیث پیش کی تو انہوں نے کہا: "اس پر پیشاب کر دو” (معاذ اللہ)۔
سند کی حیثیت
-
الفضل بن حسین: ثقہ حافظ (ابن حجر: فقیہ حافظ)۔
-
یحییٰ بن عبداللہ بن ماہان: صدوق (امام حاکم: رجال ثقہ)۔
❖ یہ قول اگرچہ ثقہ رجال سے مروی ہے، لیکن چونکہ اس پر عمل نہ کسی حنفی نے کیا، نہ اس کو مفتی بہ مانا، اس لیے شاذ اور مرجوع قرار پایا۔
تقابل
اسی طرح امام احمد کی طرف منسوب جواز والی روایت بھی:
-
منفرد،
-
خلافِ جمہور،
-
اور غیر مفتی بہ ہے۔
پس دونوں مثالوں سے واضح ہے کہ منفرد و شاذ اقوال کو دین میں حجت نہیں بنایا جا سکتا۔
خلاصہ و نتیجہ
❖ امام احمد کی طرف منسوب قبر و منبر کے بوسے کا جواز شاذ اور مرجوع ہے۔
❖ امام کے فرزند صالح، تلامذہ اثری و مروزی، اور متواتر حنبلی متون سب اس کے خلاف ہیں۔
❖ احناف و بریلوی مصادر میں بھی قبروں کے بوسے سے منع اور اسے نصاریٰ کی عادت قرار دیا گیا ہے۔
❖ لہٰذا اہلِ سنت والجماعت کا اجماعی منہج یہی ہے کہ:
-
قبروں کو چھونا، بوسہ دینا، سینہ لگانا سب بدعت اور ممنوع ہے۔
-
سنت صرف قبر کے سامنے سلام کرنا ہے، جیسا کہ صحابہ و سلف سے منقول ہے۔
اہم حوالوں کے سکین


















