مضمون کے اہم نکات
اس مضمون میں امام احمد بن حنبلؒ کی طرف منسوب اس روایت کا تحقیقی جواب پیش کیا جا رہا ہے جس میں منبرِ نبوی ﷺ کو چھونے/بوسہ دینے اور “قبر کے ساتھ بھی اسی طرح” کرنے کے بارے میں «لَا بَأْسَ» کا لفظ آیا ہے۔ مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ یہ نقل حنبلی مذہب کے راجح و مفتیٰ بہ موقف کے خلاف، شاذ/مرجوح قرار پاتی ہے؛ کیونکہ امام احمدؒ سے ان کے فقیہ بیٹے صالحؒ اور دو ثقہ شاگردوں (اسحاق بن منصور، ابو بکر الاثرم) کے ذریعے قبر کو چھونے/تمسّح/تقبیل کی نفی ثابت ہے، اور بعد کے جلیل القدر حنبلی فقہاء نے بھی اسے “بدعت/سوءِ ادب” کہہ کر منع کیا ہے۔
بنیادی روایت اور محلِ استدلال
① روایتِ عبداللہ بن احمد: منبر اور قبر کے بارے میں “لا بأس”
3243 – سَأَلته عَن الرجل يمس مِنْبَر النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ويتبرك بمسه ويقبله وَيفْعل بالقبر مثل ذَلِك أَو نَحْو هَذَا يُرِيد بذلك التَّقَرُّب إِلَى الله جلّ وَعز فَقَالَ لَا بَأْس بذلك
اردو ترجمہ:
عبداللہ بن احمد بن حنبلؒ کہتے ہیں: “میں نے (اپنے والد) امام احمدؒ سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا جو نبی ﷺ کے منبر کو چھوتا ہے، اس کے چھونے سے تبرک لیتا ہے، اسے بوسہ دیتا ہے، اور قبر کے ساتھ بھی اسی طرح یا اسی کے قریب کچھ کرتا ہے—اور اس سے اللہ تعالیٰ کا قرب چاہتا ہے—تو انہوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں۔”
الكتاب: العلل ومعرفة الرجال
(العلل ومعرفۃ الرجال : 294/2، رقم: 3243)
مختصر وضاحت:
یہی وہ عبارت ہے جسے بعض حضرات قبر کو چھونے/تقبیل کے جواز کے لیے بنیاد بناتے ہیں، مگر جب اسی امام احمدؒ سے زیادہ محفوظ اور زیادہ معروف طرق سے اس کے خلاف تصریحات موجود ہوں، تو اس نقل کی حیثیت “مرجوح/غیر مفتیٰ بہ” بنتی ہے۔
امام احمدؒ سے راجح روایات: قبر کو چھونے/چومنے کی نفی
② صالح بن احمد (فقیہ بیٹا) کی روایت: دیوار نہ چھوئے، نہ بوسہ دے
مسَائِل فِي الزِّيَارَة
1340 – وَقَالَ فِي الَّذِي يحجّ الْفَرِيضَة يبْدَأ بِمَكَّة قبل الْمَدِينَة فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلَّه يحدث بِهِ شَيْء فِي الَّذِي يدْخل الْمَدِينَة وَلَا يمس الْحَائِط وَيَضَع يَده على الرمانة وَمَوْضِع الَّذِي جلس فِيهِ النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم وَلَا يقبل الْحَائِط
اردو ترجمہ:
(صالح بن احمدؒ کے مطابق) جب کوئی مدینہ میں داخل ہو تو (قبر/حائط کے معاملے میں) دیوار کو نہ چھوئے، نہ (تبرکاً) ہاتھ رکھے، نہ نبی ﷺ کے بیٹھنے کی جگہ وغیرہ کو چھوئے، اور نہ دیوار کو بوسہ دے۔
الكتاب: مسائل الإمام أحمد بن حنبل رواية ابنه صالح (203هـ – 266هـ)
مختصر وضاحت:
یہ امام احمدؒ کے فقیہ و ثقہ بیٹے کی روایت ہے، جو قبر/حائط کے لمس و تقبیل کی نفی کو واضح کر رہی ہے۔
③ اسحاق بن منصور المروزی (ثقہ شاگرد) کی روایت: استلام صرف حجرِ اسود و رکنِ یمانی
[1619-] قلت: يستلم الأركان كلها؟
قال: لا، إلا اليماني والحجر. قال إسحاق: هكذا هو.
اردو ترجمہ:
اسحاق بن منصور کہتے ہیں: میں نے پوچھا: “کیا (طواف میں) تمام ارکان کا استلام کیا جائے؟” امام احمدؒ نے فرمایا: “نہیں، صرف رکن یمانی اور حجرِ اسود (کا استلام کیا جائے)۔” اسحاق نے کہا: “یہی طریقہ ہے۔”
الكتاب: مسائل الإمام أحمد بن حنبل وإسحاق بن راهويه
مختصر وضاحت:
جب استلام/لمس کے باب میں امام احمدؒ نے تحدید کر دی کہ صرف رکن یمانی و حجرِ اسود، تو (تبرکاً) دیگر مقامات—خصوصاً قبر—کو اس اصول کے خلاف کھول دینا راجح نہیں رہتا۔ ⚖️
④ ابو بکر الاثرم (ثقہ شاگرد) کی روایت: قبر کو چھونا “ما أعرف هذا”
ونقل الأثرم: قلت لأبي عبد الله: قبر النبي ـ صلى الله عليه وسلم يمس ويتمسح به؟ فقال: ما أعرف هذا.
قلت له: فالمنبر قال: أما المنبر فنعم قد جاء فيه.
قيل لأبي عبد الله: إنهم يلصقون بطونهم بجدار القبر.
وقيل له رأيت من أهل العلم من أهل المدينة لا يمسون ويقومون ناحية فيسلمون.
قال أبو عبد الله ـ رحمه الله ـ نعم، وهكذا كان ابن عمر يفعل.
وهذه الرواية تدل على أنه ليس بسنة وضع اليد على القبر.
اردو ترجمہ:
اثرم کہتے ہیں: میں نے ابو عبد اللہ (امام احمدؒ) سے پوچھا: “کیا قبرِ نبوی ﷺ کو چھوا جائے اور اس پر ہاتھ پھیر کر تبرک لیا جائے؟” تو فرمایا: “میں اس (عمل کو) نہیں جانتا۔”
میں نے پوچھا: “پھر منبر کا کیا حکم ہے؟” فرمایا: “منبر تو ہاں، اس بارے میں (اثر) آیا ہے۔”
اور جب عرض کیا گیا کہ لوگ قبر کی دیوار سے اپنے پیٹ چپکاتے ہیں… نیز یہ بھی عرض کیا گیا کہ اہلِ علم (اہلِ مدینہ) نہ چھوتے ہیں بلکہ ایک طرف کھڑے ہو کر سلام کہتے ہیں؛ تو امام احمدؒ نے فرمایا: “ہاں، اور ابن عمرؓ بھی اسی طرح کرتے تھے۔”
اور یہ روایت دلالت کرتی ہے کہ قبر پر ہاتھ رکھنا سنت نہیں۔
الكتاب: المسائل الفقهية من كتاب الروايتين والوجهين
المؤلف: القاضي أبو يعلى ابن الفراء (المتوفى: 458هـ)
مختصر وضاحت:
یہ نص بہت صریح ہے: قبر کے لمس/تمسّح کے بارے میں امام احمدؒ نے “ما أعرف هذا” فرمایا، اور اہلِ علمِ مدینہ کے عمل (سلام دور سے) کو درست قرار دیا۔ یہی راجح منہج ہے۔
⑤ قاضی ابو یعلی کا نتیجہ: قبر پر ہاتھ رکھنا سنت نہیں
وهذه الرواية تدل على أنه ليس بسنة وضع اليد على القبر.
اردو ترجمہ:
“یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ قبر پر ہاتھ رکھنا سنت نہیں۔”
الكتاب: المسائل الفقهية من كتاب الروايتين والوجهين
المؤلف: القاضي أبو يعلى ابن الفراء (المتوفى: 458هـ)
مختصر وضاحت:
حنبلی فقہ کے اہم مرتب نے اسی روایت سے واضح اصول نکالا کہ قبر پر ہاتھ رکھنا سنت نہیں۔
حنبلی فقہ میں بعد کے ائمہ کا راجح و مفتیٰ بہ موقف
⑥ ابن قدامہ: تمسّح و تقبیل مستحب نہیں
[فَصْلٌ التَّمَسُّحُ بِحَائِطِ قَبْرِ النَّبِيِّ وَتَقْبِيلُهُ]
(2749) فَصْلٌ: وَلَا يُسْتَحَبُّ التَّمَسُّحُ بِحَائِطِ قَبْرِ النَّبِيِّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – وَلَا تَقْبِيلُهُ،
اردو ترجمہ:
“قبرِ نبوی ﷺ کی دیوار کو (تبرکاً) مسح کرنا مستحب نہیں، اور نہ اس کو بوسہ دینا (مستحب ہے)۔”
الكتاب: المغني لابن قدامة
المؤلف: ابن قدامة الحنبلي (المتوفى: 620هـ)
مختصر وضاحت:
یہاں حنبلی مذہب کی فقہی تصریح سامنے آ جاتی ہے کہ تمسّح و تقبیل “استحباب” میں نہیں۔
⑦ مرداوی: “صحیح من المذہب” میں عدمِ استحباب
الثَّانِيَةُ: لَا يُسْتَحَبُّ تَمَسُّحُهُ بِقَبْرِهِ عَلَيْهِ أَفْضَلُ الصَّلَاةِ وَالسَّلَامِ عَلَى الصَّحِيحِ مِنْ الْمَذْهَبِ
اردو ترجمہ:
“(دوسرا مسئلہ) صحیح مذہب کے مطابق آپ ﷺ کی قبر کے ساتھ تمسّح کرنا مستحب نہیں۔”
الكتاب: الإنصاف في معرفة الراجح من الخلاف
المؤلف: علاء الدين المرداوي الحنبلي (المتوفى: 885هـ)
مختصر وضاحت:
“الصحيح من المذهب” کی تعبیر بتا رہی ہے کہ حنبلی مذہب میں راجح یہی ہے کہ قبر پر تمسّح نہ کیا جائے۔
⑧ حجاوی: نہ مسح، نہ لمس، نہ چمٹنا، نہ بوسہ
ولا يتمسح ولا يمس قبر النبي صلى الله عليه وسلم ولا حائطه ولا يلصق به صدره ولا يقبله
اردو ترجمہ:
“قبرِ نبوی ﷺ کو نہ مسح کیا جائے، نہ چھوا جائے، نہ اس کی دیوار کو؛ نہ اپنا سینہ اس کے ساتھ چپکایا جائے، اور نہ اسے بوسہ دیا جائے۔”
الكتاب: الإقناع في فقه الإمام أحمد بن حنبل
المؤلف: شرف الدين الحجاوي (المتوفى: 968هـ)
مختصر وضاحت:
یہ عبارت نفی کو بہت جامع انداز میں بیان کرتی ہے اور “زیارت” کے ادب کو واضح کرتی ہے۔
⑨ بہوتی: اس میں سوءِ ادب اور بدعت کا پہلو
قَالَ فِي الشَّرْحِ وَشَرْحِ الْمُنْتَهَى (وَلَا يَتَمَسَّحُ وَلَا يَمَسُّ قَبْرَ النَّبِيِّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – وَلَا حَائِطَهُ وَلَا يُلْصِقُ بِهِ صَدْرَهُ وَلَا يُقَبِّلَهُ) أَيْ: يُكْرَهُ ذَلِكَ لِمَا فِيهِ مِنْ إسَاءَةِ الْأَدَبِ وَالِابْتِدَاعِ
اردو ترجمہ:
“قبرِ نبوی ﷺ یا اس کی دیوار کو نہ مسح کیا جائے، نہ چھوا جائے، نہ سینہ چپکایا جائے، نہ بوسہ دیا جائے؛ یعنی یہ مکروہ ہے، کیونکہ اس میں بدادبی اور بدعت کا پہلو ہے۔”
الكتاب: كشاف القناع عن متن الإقناع
المؤلف: منصور بن يونس البهوتي (المتوفى: 1051هـ)
مختصر وضاحت:
حنبلی فقہ میں یہاں “مکروہ” کی علت بھی واضح کر دی گئی: سوءِ ادب اور بدعت۔
⑩ مرعی بن یوسف الکرمی: قبور کی تقبیل و تمسّح بدعت
وأمَّا تقبيلُ القبور، والتمسُّح بها، فهو بدعةٌ باتفاقِ
اردو ترجمہ:
“قبور کو بوسہ دینا اور ان پر تمسّح کرنا—یہ اتفاقاً بدعت ہے۔”
الكتاب: شفاء الصدور في زيارة المشاهد والقبور
المؤلف: مرعي بن يوسف الكرمي الحنبلي (المتوفى: 1033هـ)
مختصر وضاحت:
یہ حنبلی متون میں مسئلے کا واضح رخ ہے: تقبیل و تمسّح کو بدعت شمار کیا گیا۔
الزامی تائید: فقہِ احناف میں بھی قبر کے لمس و تقبیل کی نکیر
⑪ فتاویٰ ہندیہ: یہ نصاریٰ کی عادت ہے
وَلَا يَمْسَحُ الْقَبْرَ وَلَا يُقَبِّلُهُ فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَادَةِ النَّصَارَى
اردو ترجمہ:
“قبر کو نہ مسح کیا جائے اور نہ بوسہ دیا جائے، کیونکہ یہ نصاریٰ کی عادتوں میں سے ہے۔”
الكتاب: الفتاوى الهندية
مختصر وضاحت:
یہ عبارت اصولی طور پر بتاتی ہے کہ قبر کے لمس و تقبیل کو سلفی آدابِ زیارت میں شمار نہیں کیا گیا، بلکہ اس سے روکا گیا۔
⑫ بعض متاخر احناف کی احتیاطی تصریح
اردو نقل (جیسا منقول ہے):
“عوام کیلئے قبر کو بوسہ دینا منع ہی احوط ہے… مزارِ اکابر سے کم از کم چار ہاتھ کے فاصلے پر کھڑا ہو…”
حوالہ: فتاوٰی رضویہ، جلد 9، صفحہ 529
مختصر وضاحت:
یہ تنبیہ اس پہلو سے اہم ہے کہ “قبر کو بوسہ/لمس” کے باب میں خود حنفی مصادر میں بھی احتیاط اور نکیر کے کلمات پائے جاتے ہیں۔
شاذ روایت کی حیثیت اور راجح نتیجہ
⑬ عبداللہ بن احمد کی روایت کو راجح کے مقابلے میں کیسے سمجھا جائے؟
اہم بات یہ ہے کہ عبداللہ بن احمدؒ بذاتِ خود معروف محدّث ہیں؛ مگر فقہی استدلال میں اصول یہ ہے کہ جب ایک نقل، امام کے زیادہ محفوظ و معروف اقوال/عملی منہج اور مذہب کے راجح موقف کے خلاف پڑ جائے—خصوصاً جب وہ موقف امام کے فقیہ بیٹے صالحؒ اور ثقہ شاگردوں اسحاق بن منصور و اثرم کی صریح روایات، اور پھر صدیوں تک حنبلی فقہ کی معتبر کتابوں کی تصریحات سے مضبوط ہو—تو اس صورت میں اس ایک نقل کو “مرجوح/غیر مفتیٰ بہ” سمجھا جاتا ہے۔
مختصر نتیجہ:
قبرِ نبوی ﷺ کے قریب ادبِ زیارت یہی ہے کہ سلام پیش کیا جائے، دیوار/قبر کو نہ چھوا جائے، نہ مسح کیا جائے، نہ بوسہ دیا جائے—اور یہی حنابلہ کے ہاں راجح و مفتیٰ بہ موقف ہے۔
ضمنی اصولی مثال: سخت الفاظ کی نسبت میں احتیاط
⑭ ابن حبان کی روایت میں “بل” کا درست مفہوم
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ بِهَمَذَانَ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَاهَانَ عَن بن عُيَيْنَةَ قَالَ حَدَّثْتُ أَبَا حَنِيفَةَ بِحَدِيث عَن النَّبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فَقَالَ بَلْ عَلَى هَذَا
اردو ترجمہ:
سفیان بن عیینہ کے حوالے سے منقول ہے کہ میں نے ابو حنیفہ کے سامنے نبی ﷺ کی حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا: “بلکہ اسی پر (یعنی اسی کے مطابق)۔”
الكتاب: المجروحين من المحدثين والضعفاء والمتروكين (لابن حبان)
مختصر وضاحت:
یہاں عربی لفظ «بَلْ» (یعنی “بلکہ/بلکہ یہی”) ہے؛ اسے دوسرے معنی (غلط فہمی) کی طرف لے جانا درست نہیں۔ اس مثال سے اصولی فائدہ یہ نکلتا ہے کہ اہلِ علم کے اقوال و روایات نقل کرتے وقت الفاظ کی ضبطگی اور درست فہم ضروری ہے، ورنہ شدید غلط نتائج نکلتے ہیں۔
📌 نتیجہ
امام احمد بن حنبلؒ سے “قبر کو چھونے/تمسّح/تقبیل” کے باب میں راجح و مفتیٰ بہ موقف نفی کا ہے، جسے صالح بن احمدؒ، اسحاق بن منصورؒ اور ابو بکر الاثرمؒ کی روایات مضبوط کرتی ہیں، اور پھر ابن قدامہ، مرداوی، حجاوی، بہوتی اور مرعی کرمی جیسے اکابر حنبلی فقہاء کی صراحتیں اسے واضح کر دیتی ہیں۔ لہٰذا عبداللہ بن احمد کی روایت (3243) کو اسی مجموعی منہج کے مقابلے میں “شاذ/مرجوح” سمجھا جائے گا، اور ادبِ زیارت وہی ہوگا جو سلفِ اہلِ مدینہ اور حنبلی مذہب کی معتبر کتابوں میں منقول ہے۔
اہم حوالاجات کے سکین
















