مضمون کے اہم نکات
علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ عقائد کے اختلافات کو تاریخی تناظر میں دیکھا جائے اور ان کے دلائل کو امانتداری سے نقل کیا جائے۔ زیرِ نظر مضمون میں ہم امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے حوالے سے مرجئیت کے انتساب پر ایک تحقیقی و تفصیلی تجزیہ پیش کرتے ہیں، جس میں قدیم و جدید محدثین، فقہاء اور عقائد کی کتابوں کے مستند حوالہ جات شامل ہیں۔
🔹 مرجئہ فرقہ اور امام ابو حنیفہ کا تعلق
🔴 شیخ عبد القادر جیلانیؒ اپنی مشہور کتاب "الغنیة لطالبي طريق الحق” میں مرجئہ کے بارہ فرقوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وأما المرجئة ففرقها اثنتا عشرة فرقة:
الجهمية، الصالحية، الشمرية، اليونسية، اليونانية، النجارية، الغيلانية، الشبيبية، الحنفية، المعاذية، المريسية، الكرامية.وأما الحنفية: فهم أصحاب أبي حنيفة النعمان بن ثابت، زعم أن الإيمان هو المعرفة والإقرار بالله ورسوله وبما جاء من عنده جملة، على ما ذكره البرهوتي في كتاب الشجرة.
اور جہاں تک مرجئہ فرقے کا تعلق ہے، تو ان کے بارہ (12) فرقے ہیں:
-
جہمیہ،
-
صالحیہ،
-
شمریہ،
-
یوسفیہ،
-
یونانیہ،
-
نجاریہ،
-
غیلانیہ،
-
شبیبیہ،
-
حنفیہ،
-
معاذیہ،
-
مریسیہ،
-
کرامیہ۔
اور جہاں تک حنفیہ(مرجئہ کے ایک فرقہ) کا تعلق ہے:
وہ ابو حنیفہ نعمان بن ثابت کے اصحاب ہیں، جن کا یہ گمان ہے کہ ایمان معرفت (پہچان) اور اللہ، اس کے رسول، اور اس کی طرف سے نازل کردہ (دین) کا اجمالی طور پر اقرار کرنے کا نام ہے؛ جیسا کہ برہوتی نے اپنی کتاب "الشجرة” میں بیان کیا ہے۔
📌 نوٹ: یہ حوالہ محض ایک فرد واحد کی بات نہیں بلکہ دیگر علماء نے بھی یہی عبارت اسی طرح نقل کی ہے۔
🔹 "الغنیہ” کے اقتباس کی تصدیق دیگر محدثین سے
-
عبد الحی لکھنوی حنفیؒ (1304ھ) نے "الرفع والتكميل” میں یہی عبارت مکمل نقل کی:
وأما الحنفية فهم أصحاب أبي حنيفة… الخ
[الرفع والتكميل في الجرح والتعديل، ص 135]
-
محمد بن محمد عبدالحکیم الحنفی اور
-
علامہ محمد الحسینی الزبیدیؒ (1305ھ) نے بھی یہی قول الغنیہ سے نقل کیا ہے۔
🔹 ابو الحسن اشعریؒ کی "مقالات الإسلاميين” میں تصریح
🔴 امام ابو الحسن اشعریؒ (324ھ) نے اپنی معروف کتاب "مقالات الإسلاميين” میں امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کو مرجئہ کی نَویں شاخ قرار دیا:
والفرقة التاسعة من المرجئة أبو حنيفة وأصحابه، يزعمون أن الإيمان المعرفة بالله، والإقرار بما جاء من عند الله في الجملة دون التفسير، ولم يجعل أبو حنيفة شيئاً من الدين مستخرجاً إيماناً، وزعم أن الإيمان لا يتبعض ولا يزيد ولا ينقص.
مرجئہ کی نَویں جماعت ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کی ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ ایمان بس معرفت اور اجمالی اقرار کا نام ہے، اور نہ یہ ایمان بڑھتا ہے نہ گھٹتا ہے، اور نہ اس میں کوئی تفاضل (درجہ بندی) ہے۔
📌 خلاصہ: اوپر دی گئی واضح عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کے بعض اقوال اور ان کے پیروکاروں کے عقائد کا تعلق مرجئہ فرقہ سے جڑتا ہے۔ یہ نہ صرف عبد القادر جیلانیؒ بلکہ دیگر مستند اہلِ علم نے بھی تصریح سے بیان کیا ہے۔
🔴 غسان بن أبان، فرقہ غسانیہ اور مرجئیت کا پس منظر
🔹 غسانیہ فرقہ کا تعارف
فرقہ غسانیہ کو بعض حضرات نے شیخ عبد القادر جیلانیؒ کے اقوال کا مصداق بنانے کی کوشش کی، لیکن جب تاریخی و عقائدی پس منظر سے غسانیہ کا جائزہ لیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کا منہج امام ابو حنیفہؒ کے بعض اقوال سے گہری مشابہت رکھتا ہے۔
🔹 تقی الدین المقریزیؒ (845ھ) کا بیان
والغسانية: أتباع غسان بن أبان الكوفيّ، المنكر نبوّة عيسى عليه السّلام، وتلمذ لمحمد بن الحسن الشيباني، وزعم غسان أن الإيمان لا يزيد ولا ينقص، وعند أبي حنيفة رحمه الله الإيمان معرفة بالقلب وإقرار باللسان، فلا يزيد ولا ينقص كقرص الشمس.
غسانیہ وہ لوگ ہیں جو غسان بن أبان کو ماننے والے تھے۔ وہ حضرت عیسیٰؑ کی نبوت کے منکر اور محمد بن حسن الشیبانی کے شاگرد تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ ایمان نہ بڑھتا ہے اور نہ گھٹتا۔ امام ابو حنیفہؒ کا بھی یہی قول تھا کہ ایمان دل سے معرفت اور زبان سے اقرار ہے اور یہ سورج کے قرص کی طرح ہوتا ہے، نہ کم ہوتا ہے نہ زیادہ۔
📚 حوالہ: [المواعظ والاعتبار، المقریزی، ج1، ص 231]
🔹 ابو الحسن اشعریؒ کی مزید وضاحت
فَأَمَّا غسان وأكثر أصحاب أبي حنيفة فإنهم يحكون عن أسلافهم أن الإيمان هو الإقرار والمحبة لله والتعظيم له والهيبة منه وترك الاستخفاف بحقه، وأنه لا يزيد ولا ينقص.
غسان اور امام ابو حنیفہ کے اکثر اصحاب اپنے اسلاف سے یہ روایت کرتے ہیں کہ ایمان صرف اقرار، محبت الٰہی، تعظیم اور اللہ کے خوف کا نام ہے، اور یہ نہ بڑھتا ہے نہ گھٹتا۔
📚 حوالہ: [مقالات الإسلاميين، ابو الحسن اشعری، ص 142]
🔹 امام شہرستانیؒ (548ھ) کا بیان
الغسانية: أصحاب غسان الكوفي. زعم أن الإيمان هو المعرفة بالله تعالى وبرسوله، والإقرار بما أنزل الله، وبما جاء به الرسول في الجملة دون التفصيل، والإيمان لا يزيد ولا ينقص.
غسانیہ، غسان الکوفی کے ماننے والے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ ایمان صرف معرفت اور اجمالی اقرار ہے اور اس میں نہ زیادتی ہوتی ہے نہ کمی۔
📚 حوالہ: [الملل والنحل، شہرستانی، ج1، ص 152]
🔹 نتیجہ
🔸 فرقہ غسانیہ کے افکار اور امام ابو حنیفہ کے بعض اقوال میں حیرت انگیز مشابہت ہے۔
🔸 غسان، امام محمد بن حسن الشیبانی کا شاگرد تھا۔
🔸 اس کی نسبت امام ابو حنیفہ کی طرف اکثر محدثین نے کی، جیسے ابو الحسن اشعریؒ، شہرستانیؒ اور مقریزیؒ۔
📌 لہٰذا مرجئیت کا الزام امام ابو حنیفہؒ پر من گھڑت یا بغض پر مبنی نہیں، بلکہ معتبر تاریخی اور عقائدی مصادر میں اس کا ثبوت موجود ہے۔
🔴 عبد القاہر بغدادی، ابن عبدالبر، اور دیگر محدثین کی تصریحات
🔹 عبد القاہر بغدادی (429ھ) کی تحریر
عبد القاہر بن طاہر التميمی البغدادی اشعری العقیدہ تھے۔ انہوں نے "الفرق بين الفرق” میں مرجئہ فرقے کا ذکر کرتے ہوئے امام ابو حنیفہ کے نظریہ کو واضح کیا:
غسان المرجئ قال: الإيمان يزيد ولا ينقص.
وأبو حنيفة قال: الإيمان هو المعرفة، ولا يزيد ولا ينقص، ولا يتفاضل الناس فيه.
غسان مرجئی کا عقیدہ یہ تھا کہ ایمان بڑھتا ہے، کم نہیں ہوتا۔
جبکہ امام ابو حنیفہ کا عقیدہ تھا کہ ایمان محض معرفت ہے، نہ بڑھتا ہے نہ گھٹتا اور سب لوگ ایمان میں برابر ہیں۔
📚 حوالہ: [الفرق بين الفرق، عبد القاهر البغدادی، ص 202]
🔴 عبد القاہر اشعری تھے اور مرجئہ کی توجیہ کی کوشش کرتے ہوئے امام ابو حنیفہ کے نظریہ کو "ثابت” کرنے کے لیے غسان کو مخالف دکھانے کی کوشش کی، لیکن وہ بھی یہ مانتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ ایمان میں زیادتی و کمی کے قائل نہ تھے۔
🔹 ابن عبدالبر الاندلسیؒ (463ھ) کا موقف
ابن عبدالبر نے "التمهيد” اور "جامع بيان العلم” جیسی کتب میں امام ابو حنیفہ کے مرجئہ سے تعلق پر مختلف مقامات پر بحث کی ہے۔
وَنُسِبَ إِلَى أَبِي حَنِيفَةَ الْإِرْجَاءُ، وَقَدْ أَخَذَهُ عَنْ حَمَّادٍ، وَحَمَّادٌ عُيِّبَ بِهِ.
امام ابو حنیفہ کی طرف ارجاء (مرجئیت) منسوب ہے، اور یہ عقیدہ انہوں نے اپنے استاد حماد بن ابی سلیمان سے حاصل کیا، جس پر (مرجئیت) کی وجہ سے اعتراض بھی کیا گیا۔
📚 حوالہ: [جامع بيان العلم وفضله، ابن عبد البر، ج2، ص 163]
🔹 ابن عبدالبر نے "التمهيد” میں مزید لکھا:
وَحُكِيَتْ هَذِهِ الْمَقَالَةُ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ وَسَائِرِ الْمُرْجِئَةِ.
أن تارك الصلاة مؤمن مستكمل الإيمان إذا كان مقراً غير جاحد.
یہ قول امام ابو حنیفہ اور دیگر مرجئہ سے منقول ہے کہ جو شخص نماز ترک کرے لیکن اس کا اقرار کرے اور اس کا منکر نہ ہو، وہ کامل مومن ہے۔
📚 حوالہ: [التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد، ابن عبدالبر، ج9، ص 245]
🔴 یہ صریح مرجئی نظریہ ہے، جس کے مطابق عمل ایمان کا جزو نہیں۔
🔹 امام ابن حبانؒ کی تنقید
ابن حبان نے ایک مشہور مرجئی راوی "غسان بن الأرقم” کو "الضعفاء والمتروكين” میں ذکر کرتے ہوئے لکھا:
غسان بن الأرقم بن كلاب الحنفي من أهل اليمامة، كنيته أبو روح، يروي العجائب.
📚 حوالہ: [المجروحين، ابن حبان، ج2، ص 80]
🔴 ابن حبان نے اس راوی کو ضعیف اور عجیب احادیث بیان کرنے والا قرار دیا، جو مرجئہ نظریہ کے ساتھ منسوب تھا اور "الحنفی” بھی تھا۔
📌 خلاصہ:
-
مرجئیت کا تصور امام ابو حنیفہ کے اقوال میں واضح نظر آتا ہے۔
-
ان کے اساتذہ، شاگرد اور بعد کے پیروکار بھی اسی نظریہ پر قائم رہے۔
-
ابن عبدالبر اور عبد القاہر بغدادی جیسے مؤرخین نے اس نظریے کو ان سے منسوب کیا اور صراحت سے بیان کیا کہ امام صاحب ایمان کی زیادتی و کمی کے قائل نہ تھے۔
🔴 محدثینِ کرام کا امام ابو حنیفہ کے مرجئہ نظریے پر تبصرہ
🔹 امام محمد بن اسماعیل البخاریؒ کا مؤقف
نعمان بن ثابت أبو حنيفة الكوفي… كان مرجئًا، سكتوا عن رأيه وحديثه.
امام ابو حنیفہ مرجئی تھے۔ محدثین نے ان کی رائے اور حدیث سے خاموشی اختیار کی۔
📚 حوالہ: [التاريخ الكبير للبخاري، ج8، ص 81]
📌 امام بخاریؒ کے نزدیک "سکوت عن حدیثه” یعنی محدثین نے ان سے روایت نہیں لی کیونکہ وہ مرجئیت کے قائل تھے۔
🔹 امام احمد بن حنبلؒ کا موقف
استتاب أصحاب أبي حنيفة أبا حنيفة مرتين أو ثلاثًا، وكان سفيان شديد القول في الإرجاء والرد عليهم.
امام ابو حنیفہ سے ان کے اصحاب نے دو یا تین بار توبہ کروائی، اور امام سفیان ثوری ارجاء کے رد میں بہت سخت تھے۔
📚 حوالہ: [العلل ومعرفة الرجال، امام احمد بن حنبل، ج2، ص 5052]
🔹 امام یحییٰ بن معینؒ کا واضح موقف
الإيمان يزيد وينقص، وهو قول وعمل.
سَمِعتُ يحيى يقول: الإيمان قول وعمل، يزيد وينقص.
ایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے، اور یہ قول و عمل دونوں کا نام ہے۔
📚 حوالہ: [تاريخ ابن معين، رواية الدوري، ج2، ص 2280، 4937]
🔴 جبکہ امام ابو حنیفہ کا نظریہ اس کے برعکس تھا کہ ایمان نہ بڑھتا ہے نہ گھٹتا۔
🔹 امام یحییٰ بن سعید القطانؒ کی شہادت
قال يحيى: ما أدركتُ أحدًا من أصحابنا إلا على الاستثناء، وقال: الإيمان قول وعمل.
میں نے اپنے تمام اصحاب کو یہی کہتے سنا کہ ایمان قول اور عمل دونوں کا نام ہے، اور اسمیں کمی بیشی ہوتی ہے۔
📚 حوالہ: [الشريعة، للآجري، ج2، ص 280]
🔹 امام ابن المبارکؒ کا تبصرہ
سأل رجل: هل كان في أبي حنيفة من الهوى شيء؟ قال: نعم، الإرجاء.
کسی شخص نے پوچھا: کیا ابو حنیفہ کسی بدعت میں مبتلا تھے؟ تو امام ابن المبارک نے فرمایا: ہاں، وہ مرجئی تھے۔
📚 حوالہ: [المعرفة والتاريخ، للفسوي، ج1، ص 398]
📌 امام عبداللہ بن المبارکؒ اہل سنت کے امام شمار ہوتے ہیں، ان کا یہ تبصرہ بہت قوی شہادت ہے۔
🔹 سفیان الثوریؒ کا رویہ
امام سفیان الثوری، جو امام ابو حنیفہ کے ہم عصر تھے، فرماتے ہیں:
خلاف ما بيننا وبين المرجئة ثلاث: نقول: الإيمان قول وعمل وهم يقولون: الإيمان قول ولا عمل.
ہمارے اور مرجئہ کے درمیان تین فرق ہیں: ہم کہتے ہیں ایمان قول اور عمل دونوں ہے، اور وہ کہتے ہیں صرف قول ہے، عمل نہیں۔
📚 حوالہ: [صفة النفاق، الفريابي، ص 87]
🔴 امام سفیان الثوری نے ارجاء کے حاملین سے سلام تک ترک کر دیا تھا۔
📚 حوالہ: [المعرفة والتاريخ، للفسوي، ج2، ص 177]
🔹 امام ابو اسحاق الفزاریؒ کی سخت کلامی
سمعت أبا حنيفة يقول: إيمان أبي بكر الصديق وإيمان إبليس واحد.
میں نے ابو حنیفہ کو یہ کہتے سنا کہ ابو بکر صدیقؓ اور ابلیس کا ایمان ایک جیسا ہے (یعنی معرفت و اقرار)۔
📚 حوالہ: [تاريخ بغداد، للخطیب، ج13، ص 451]
📌 یہ جملہ مرجئیت کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے کہ اعمال کا کوئی دخل ایمان میں نہیں ہے۔
📌 خلاصہ:
-
محدثین کے اقوال امام ابو حنیفہ کے مرجئہ عقیدہ کی واضح نفی کرتے ہیں۔
-
امام بخاری، ابن معین، احمد بن حنبل، سفیان ثوری اور ابن المبارک جیسے جلیل القدر محدثین نے ان کے عقیدہ پر اعتراض کیا۔
-
بعض نے ان سے روایت ترک کر دی، بعض نے انہیں "مرجئی” کہا، اور بعض نے ان سے توبہ کروائی۔
🔴 اہلِ سنت کا عقیدہ ایمان اور مرجئہ کے خلاف علمائے کرام کا مؤقف
🔹 اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک ایمان کی تعریف
اہلِ سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ:
الإيمان قول وعمل، يزيد بالطاعة، وينقص بالمعصية.
ایمان قول اور عمل کا مجموعہ ہے، طاعت سے بڑھتا ہے اور معصیت سے گھٹتا ہے۔
یہی موقف محدثین، فقہاء اور سلف صالحین کا رہا ہے۔
🔹 امام ابو داود سجستانیؒ کا "باب فی رد الإرجاء”
سنن ابو داود میں امام ابو داود نے باقاعدہ باب قائم کیا:
📗 باب فی رد الإرجاء
اور اس میں وہ حدیث لائے:
الإيمان بضع وسبعون شعبة، أفضلها قول: لا إله إلا الله، وأدناها إماطة الأذى عن الطريق، والحياء شعبة من الإيمان.
ایمان ستر سے زائد شعبوں پر مشتمل ہے، ان میں افضل "لا الٰہ الا اللہ” کہنا ہے، اور ادنیٰ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا ہے، اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔
📚 حوالہ: [سنن أبو داود، باب فی رد الإرجاء، حدیث: 4676]
🔸 یہ حدیث واضح طور پر مرجئہ کے رد میں ہے کیونکہ وہ ایمان کو صرف "قول” سمجھتے ہیں، جبکہ حدیث عمل کو بھی ایمان کا حصہ قرار دیتی ہے۔
🔹 ابو داود نے باب قائم کیا:
📗 باب الدليل على زيادة الإيمان ونقصانه
اس میں وہ حدیث لائے:
ما رأيت من ناقصات عقل ولا دين أغلب لذى لب منكن…
ونقصان الدين فَإِنَّ إِحْدَاكُنَّ تُفْطِرُ رَمَضَانَ وَتُقِيمُ أَيَّامًا لَا تُصَلِّي.
📘 ترجمہ:
نبی ﷺ نے فرمایا: میں نے عورتوں سے زیادہ کسی کو ناقص عقل و دین نہیں پایا۔ دین کا نقصان یہ ہے کہ وہ رمضان میں روزہ چھوڑتی ہیں اور ایامِ حیض میں نماز نہیں پڑھتیں۔
📚 حوالہ: [سنن أبو داود، حدیث: 4679، 4680]
🔸 حدیث واضح کرتی ہے کہ ایمان و دین میں کمی و زیادتی ہوتی ہے، جو کہ مرجئہ کے عقیدہ کی مخالفت ہے۔
🔹 امام ابو عبید قاسم بن سلامؒ کی شہادت
ما ابتُدِعت في الإسلام بدعة أعزّ على أهلها من هذا الإرجاء.
اسلام میں کوئی بدعت ایسی نہیں جو اس قدر اپنے ماننے والوں کے دلوں کو عزیز ہو جتنی ارجاء (مرجئیت)۔
📚 حوالہ: [كتاب الإيمان، ابو عبيد قاسم بن سلام، ص 117]
🔹 امام ابو حیان الاندلسیؒ (745ھ) کا عقیدہ
مذهب مالك والشافعي أن الإيمان يزيد وينقص، وأما أبو حنيفة فذهب إلى أنه لا يزيد ولا ينقص.
امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک ایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے، جبکہ ابو حنیفہ کے نزدیک ایمان میں نہ زیادتی ہے نہ کمی۔
📚 حوالہ: [البحر المحيط، ابو حيان، ج1، ص 276]
🔹 امام ابو نصر السجزيؒ (444ھ) کا عقیدہ
وكل من زعم أن الإيمان لا يزيد ولا ينقص، فهو مرجيء، وبعضهم جهمي.
جو یہ کہے کہ ایمان نہ بڑھتا ہے نہ گھٹتا، وہ مرجئی ہے، اور بعض (اس قسم کے) جہمی بھی ہوتے ہیں۔
📚 حوالہ: [رسالة السجزي، ص 104]
🔹 علامہ بر بهاریؒ (329ھ) کا فیصلہ کن قول
من قال: الإيمان قول وعمل، يزيد وينقص، فقد خرج من الإرجاء كله أوله وآخره.
جس نے کہا کہ ایمان قول و عمل کا مجموعہ ہے اور یہ بڑھتا اور گھٹتا ہے، تو وہ ارجاء (مرجئیت) کے آغاز و انجام دونوں سے نکل چکا۔
📚 حوالہ: [شرح السنة، للبر بهاري، ص 64]
🔹 امام زہریؒ (124ھ) کا تبصرہ
ما ابتُدعت في الإسلام بدعة أعزّ على أهلها من هذا الإرجاء.
اسلام میں سب سے زیادہ محبوب اور گمراہ کن بدعت ارجاء ہے۔
📚 حوالہ: [كتاب الإيمان، ابو عبيد قاسم بن سلام]
📌 خلاصہ:
-
اہلِ سنت کے نزدیک ایمان قول و عمل کا مجموعہ ہے، اور اس میں کمی بیشی ہوتی ہے۔
-
مرجئہ کے نزدیک ایمان صرف اقرار یا معرفت کا نام ہے، اور اسمیں نہ کمی ہے نہ زیادتی۔
-
اس بدعت کے خلاف محدثین نے باب باندھے، کتابیں لکھیں، حتیٰ کہ نماز تک کے عدمِ جواز کا فتویٰ دیا۔
🔴 امام ابو حنیفہ کے شاگرد، مرجئیت کی ترویج اور اس پر ائمہ کا رد
🔹 امام ابو حنیفہ کے شاگرد اور مرجئہ عقیدہ
امام ابو حنیفہ کے کئی شاگرد مرجئہ عقیدہ کے حامل تھے، جن پر محدثین نے تنقید کی اور بعض کو ضعیف یا متروک قرار دیا۔
🔹 ابو مطیع بلخی – شاگردِ امام ابو حنیفہ
أبو مطيع الحكم بن عبد الله البلخي عيب عليه الإرجاء، وسموه المرجئ، أخذ عن أبي حنيفة.
ابو مطیع بلخی پر ارجاء (مرجئیت) کی وجہ سے اعتراض کیا گیا، اور انہیں مرجئی کہا گیا۔ انہوں نے ابو حنیفہ سے علم حاصل کیا تھا۔
📚 حوالہ: [الإرشاد في معرفة علماء الحديث، ابو يعلى الخلیلی، ص 255]
📌 امام ابو حنیفہ سے منسوب ارجاء کا یہ سلسلہ ان کے شاگردوں کے ذریعے بھی پھیلا۔
🔹 امام ابن إدریس الاودی (192ھ) کا تبصرہ
استتيب أبو حنيفة مرتين، وقال: كذب من زعم أن الإيمان لا يزيد ولا ينقص.
ابو حنیفہ سے دو مرتبہ توبہ کروائی گئی، اور (ابن ادریس نے) فرمایا: وہ جھوٹا ہے جو کہے کہ ایمان میں کمی بیشی نہیں ہوتی۔
📚 حوالہ: [منتقى حديث أبي بكر الأنباري، ص 97]
📌 اس سے واضح ہوتا ہے کہ مرجئہ عقیدہ کو امام ابو حنیفہ سے منسوب کیا گیا تھا اور ان سے اس پر توبہ کروائی گئی۔
🔹 شریک بن عبد الله النخعی (177ھ) کا بیان
استتيب أبو حنيفة من كفره مرتين، من كلام جهم ومن الإرجاء.
ابو حنیفہ کو دو بار کفر سے توبہ کروائی گئی؛ ایک مرتبہ جہم کے کلام (جہمیہ عقیدہ) اور دوسری بار مرجئیت کی وجہ سے۔
📚 حوالہ: [السنة، لعبد الله بن أحمد، حدیث: 309]
🔹 حماد بن زید (179ھ) کا مؤقف
سألتُ حماد بن زيد عن أبي حنيفة، فقال: إنما ذاك يُعرف بالخصومة في الإرجاء.
میں نے حماد بن زید سے ابو حنیفہ کے بارے میں پوچھا، تو فرمایا: وہ صرف ارجاء کے مسئلے میں جھگڑنے کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔
📚 حوالہ: [السنة، لعبد الله بن أحمد، حدیث: 304]
📌 یعنی ابو حنیفہ کی شہرت ارجاء کے دفاع میں مناظرے کرنے کے سبب تھی۔
🔹 سفیان الثوری کا سخت رد
كان سفيان شديد القول في الإرجاء، وكان لا يسلم على حماد بن أبي سليمان لما صار مرجئًا.
سفیان ثوری ارجاء کے رد میں بہت سخت تھے، حتیٰ کہ جب حماد بن ابی سلیمان مرجئی ہو گئے تو انہوں نے ان سے سلام کرنا چھوڑ دیا۔
📚 حوالہ: [المعرفة والتاريخ، يعقوب الفسوي، ج2، ص 177]
🔹 امام یزید بن ہارونؒ (206ھ) کا فتویٰ
من كان داعية إلى الإرجاء فإن الصلاة خلفه تُعاد.
جو شخص مرجئیت کی دعوت دیتا ہے، اس کے پیچھے پڑھی گئی نماز کو دہرایا جائے گا۔
📚 حوالہ: [شرح أصول اعتقاد أهل السنة، للالكائي، ج5، ص 912]
📌 یہ شدید فتویٰ مرجئیت کو دین میں بدترین بدعت ثابت کرتا ہے۔
📌 خلاصہ:
-
امام ابو حنیفہ کے بعض اقوال اور شاگرد مرجئیت کے قائل تھے۔
-
محدثین نے ان کی مرجئیت پر سخت رد کیا اور بعض سے توبہ کروائی گئی۔
-
ائمہ اہل سنت جیسے سفیان ثوری، یزید بن ہارون، ابن ادریس اور دیگر نے مرجئہ کے پیچھے نماز پڑھنے سے بھی منع کیا۔
🔴 فقہ حنفی کی بنیادی کتب میں ایمان کا نظریہ – الفقہ الاکبر، النسفی، الزبیدی وغیرہ سے اقتباسات
🔹 "الفقہ الأکبر” میں ایمان کا نظریہ
کتاب "الفقه الأكبر” جو امام ابو حنیفہ کی طرف منسوب ہے، اس میں ایمان کے متعلق یہ تصریح ملتی ہے:
الإيمان هو الإقرار والتصديق، وإيمان أهل السماء والأرض لا يزيد ولا ينقص.
ایمان اقرار اور تصدیق کا نام ہے، اور آسمان و زمین کے سب ایمان والوں کا ایمان نہ بڑھتا ہے نہ گھٹتا۔
📚 حوالہ: [الفقه الأكبر، مطبوع مع الشرح الميسر، ص 23]
📌 یہ قول واضح مرجئہ عقیدہ کی نمائندگی کرتا ہے، جس میں ایمان کو صرف "اقرار و تصدیق” تک محدود کر دیا گیا ہے اور عمل کو خارج کر دیا گیا۔
🔹 ابو المعین النسفی الماتریدی (508ھ)
حنفی اصول کلام کے اہم نمائندہ ابو المعین النسفی لکھتے ہیں:
قال الإمام أبو حنيفة رحمه الله تعالى: الإيمان لا يزيد ولا ينقص.
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایمان نہ بڑھتا ہے نہ گھٹتا۔
📚 حوالہ: [بحر الكلام في أصول الدين، ص 120]
📌 یہ نظریہ اہل سنت کے اس اجماعی عقیدہ کے خلاف ہے جس کے مطابق ایمان میں زیادتی و کمی ہوتی ہے۔
🔹 امام ابو حیان الاندلسی (745ھ)
امام ابو حیان بھی امام ابو حنیفہ کے اس نظریہ کی تصریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وقيل: لا يقبل الزيادة والنقصان، وهو مذهب أبي حنيفة.
بعض کا قول ہے کہ ایمان میں اضافہ و کمی نہیں ہوتی، اور یہ امام ابو حنیفہ کا مذہب ہے۔
📚 حوالہ: [البحر المحيط، ج1، ص 276]
🔹 امام الزبیدیؒ (1305ھ) کی تصریح
امام الزبیدی، جو "تاج العروس” کے مؤلف ہیں، انہوں نے "إتحاف السادة المتقين” میں تصریح کی:
وذهب أبو حنيفة وأصحابه إلى أن الإيمان لا يزيد ولا ينقص.
امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کا موقف یہ تھا کہ ایمان میں کمی و زیادتی نہیں ہوتی۔
📚 حوالہ: [إتحاف السادة المتقين، الزبيدي، ج2، ص 130]
🔹 غسان بن أبان کی عقیدہ میں تطبیق
جیسے کہ پہلے ذکر ہو چکا، غسان، جو امام محمد بن حسن الشیبانی کا شاگرد تھا، اس نے بھی یہی کہا:
الإيمان لا يزيد ولا ينقص… كقرص الشمس.
ایمان نہ بڑھتا ہے نہ گھٹتا، سورج کے قرص کی طرح ہے۔
📚 حوالہ: [المواعظ والاعتبار، للمقريزي، ج1، ص 231]
📌 گویا مرجئیت کا یہ عقیدہ فقہ حنفی کے اندر کئی طبقات میں رائج رہا۔
🔹 امام ابو داود سجستانیؒ کا رد
جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا، امام ابو داود نے باب قائم کیا:
باب الدليل على زيادة الإيمان ونقصانه.
📘 اس میں متعدد صحیح احادیث نقل کی گئیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایمان میں اضافہ و کمی ہوتی ہے، اور یہی اہل سنت کا عقیدہ ہے۔
📌 خلاصہ:
-
فقہ حنفی کی بنیادی کتب جیسے "الفقہ الأکبر”، "بحر الكلام”، "إتحاف السادة” وغیرہ میں واضح طور پر ایمان کے نہ بڑھنے نہ گھٹنے کا عقیدہ موجود ہے۔
-
یہ اہل سنت کے اجماعی عقیدہ سے صریح انحراف ہے۔
-
اس عقیدہ کو نہ صرف امام ابو حنیفہ سے منسوب کیا گیا بلکہ ان کے پیروکاروں نے اس کی ترویج بھی کی۔
🔴 مرجئہ کے نماز و اعمال سے متعلق عقائد اور ان پر ائمہ کا رد
🔹 مرجئہ کا عقیدہ: عمل ایمان کا حصہ نہیں
مرجئہ کا بنیادی عقیدہ یہ تھا کہ ایمان صرف "معرفت” یا "اقرار” کا نام ہے، عمل کا ایمان سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے نزدیک:
تارکِ عمل، اگر معرفت و اقرار رکھتا ہے تو وہ مؤمنِ کامل ہے۔
📌 اس نظریے کے مطابق:
-
نماز، روزہ، زکات، حج — یہ سب ایمان کا حصہ نہیں
-
جو ان اعمال کو چھوڑ دے مگر دل میں تصدیق رکھے، وہ بھی کامل مومن ہے
🔹 ابن عبدالبرؒ کی وضاحت
وأما أهل البدع فإن المرجئة قالت: تارك الصلاة مؤمن مستكمل الإيمان إذا كان مقراً غير جاحد ومصدقاً غير مستكبر، وحُكيت هذه المقالة عن أبي حنيفة وسائر المرجئة.
جہاں تک اہل بدعت کا تعلق ہے تو مرجئہ کا عقیدہ ہے کہ جو شخص نماز چھوڑ دے لیکن منکر نہ ہو، وہ کامل ایمان والا ہے۔ یہ قول امام ابو حنیفہ اور تمام مرجئہ سے منقول ہے۔
📚 حوالہ: [التمهيد لما في الموطأ، ابن عبدالبر، ج9، ص 245]
🔹 ابن رجب حنبلیؒ کا اشاریہ
المرجئة يخرجون العمل من مسمى الإيمان، ويجعلونه شرطاً في الكمال لا في الحقيقة.
مرجئہ عمل کو ایمان کے مفہوم سے خارج کرتے ہیں، اور اسے کمال کا درجہ دیتے ہیں، نہ کہ ایمان کی حقیقت کا۔
📚 حوالہ: [جامع العلوم والحكم، ابن رجب، ص 126]
🔹 سفیان الثوریؒ کی وضاحت
نحن نقول: الإيمان قول وعمل، وهم يقولون: الإيمان قول ولا عمل.
ہم کہتے ہیں ایمان قول و عمل دونوں کا نام ہے، اور مرجئہ کہتے ہیں ایمان صرف قول ہے، عمل نہیں۔
📚 حوالہ: [صفة النفاق وذم المنافقين، للفريابي، ص 87]
🔹 عطاء بن السائبؒ اور سلف کا غصہ
ما رأيت إبراهيم على أحد من أصحاب الأهواء أشدّ منه على أصحاب الإرجاء.
میں نے ابراہیم النخعی کو کسی بدعتی فرقہ پر اتنا سخت نہ پایا جتنا وہ مرجئہ پر تھے۔
📚 حوالہ: [شرح مذاهب أهل السنة، ابن شاهين، ص 203]
🔹 امام بر بهاریؒ کا کلام
من قال: الإيمان قول وعمل، يزيد وينقص، فقد خرج من الإرجاء كله أوله وآخره.
جس نے کہا ایمان قول و عمل کا نام ہے اور وہ بڑھتا اور گھٹتا ہے، وہ مرجئہ کے فتنے سے مکمل طور پر بری ہو چکا۔
📚 حوالہ: [شرح السنة، للبر بهاري، ص 64]
🔹امام زہریؒ: مرجئہ کا بدترین فتنہ
ما ابتُدعت في الإسلام بدعة أعزّ على أهلها من هذا الإرجاء.
اسلام میں سب سے زیادہ محبوب اور خطرناک بدعت جو اپنے ماننے والوں کو عزیز ہے، وہ "ارجاء” (مرجئیت) ہے۔
📚 حوالہ: [كتاب الإيمان، ابو عبيد قاسم بن سلام، ص 117]
📌 خلاصہ:
-
مرجئہ نے عمل کو ایمان سے جدا کر دیا
-
اس عقیدہ کا نتیجہ یہ نکلا کہ ترکِ صلوٰۃ، زکات، حج و روزہ کرنے والا بھی "مومنِ کامل” سمجھا جانے لگا
-
اس کے خلاف تمام ائمہ دین، محدثین اور فقہائے اہل سنت نے شدید رد کیا
🔴 امام ذہبیؒ، ابن کثیرؒ اور دیگر مؤرخین کی شہادتیں – مرجئیت پر تحقیقی آراء
🔹 امام شمس الدین الذہبیؒ (748ھ) کا مؤقف
قلت: الإرجاء مذهب لعدة من جلة العلماء، لا ينبغي التحامل على قائله.
میں (ذہبی) کہتا ہوں: ارجاء ایک ایسا مسلک ہے جسے کئی جلیل القدر علماء نے اپنایا، اس لیے اس کے قائل پر سختی نہیں کرنی چاہیے۔
📚 حوالہ: [ميزان الاعتدال، الذهبي، ج3، ص 245]
🔴 لیکن یہ قول ان کے ابتدائی دور کا ہے۔
🔹 امام ذہبی کا مؤقف بعد از تحقیق
امام ذہبی نے مرجئہ عقیدے کی مزید تحقیق کے بعد اسے اہل بدعت کے ساتھ شمار کیا:
وأما طوائف من أهل الأهواء من الخوارج والمرجئة والمعتزلة والجهمية…
اور وہ تمام گروہ جو اہلِ اہواء میں شمار ہوتے ہیں جیسے خوارج، مرجئہ، معتزلہ اور جہمیہ…
📚 حوالہ: [مسألة الإيمان وما يتعلق بها، الذهبي]
🔸 آخر میں امام ذہبی نے یہ کہہ کر براءت کا اظہار کیا:
نبرأ إلى الله من الهوى والبدع، ونحب السنة وأهلها.
ہم اللہ کے حضور نفس پرستی اور بدعت سے براءت کا اعلان کرتے ہیں، اور سنت و اہل سنت سے محبت رکھتے ہیں۔
📌 خلاصہ: امام ذہبی نے مرجئہ کو "اہل البدع” اور "اہل الأهواء” میں شمار کیا۔
🔹 حافظ ابن کثیرؒ (774ھ) کی تصریح
الشيخ عبد القادر الجيلي… وقد صنف كتاب الغنية وفتوح الغيب، وفيهما أشياء حسنة، وذكر فيهما أحاديث ضعيفة وموضوعة.
شیخ عبد القادر جیلانیؒ نے "الغنیة” اور "فتوح الغیب” تصنیف کیں، ان میں بہت سی اچھی باتیں بھی ہیں، اور بعض ضعیف اور موضوع احادیث بھی ذکر کی ہیں۔
📚 حوالہ: [البداية والنهاية، ابن كثير، ج12، ص 251]
📌 امام ابن کثیر نے الغنیة کو شیخ عبد القادر کی تصنیف مانا اور اس کی نسبت درست قرار دی۔
🔹 زین الدین ابن رجبؒ (795ھ)
ابن رجب نے مرجئہ کے خلاف پوری کتاب "جامع العلوم والحكم” میں عقائد اہل سنت کی وضاحت کی اور ارجاء کو بدعت قرار دیا۔
المرجئة لا يدخلون العمل في مسمى الإيمان.
مرجئہ عمل کو ایمان کے مفہوم میں داخل نہیں کرتے۔
📚 حوالہ: [جامع العلوم والحكم، ص 126]
🔹 امام حافظ العراقیؒ (795ھ)
وله (عبد القادر الجيلاني) كتاب "الغنية” المشهور، قال فيه: وهو بجهة العلو مستوٍ على العرش.
شیخ عبد القادر جیلانیؒ کی مشہور کتاب "الغنیة” میں وہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ عرش پر بلندی کے ساتھ مستوی ہے۔
📚 حوالہ: [ذيل طبقات الحنابلة، ابن رجب، ج2، ص 123]
🔸 یہ تصریح اس بات کا ثبوت ہے کہ "الغنیة” پر تحریف کا الزام جھوٹا ہے۔
🔹 حافظ احمد بن علی الخطیب البغدادیؒ (463ھ)
انہوں نے بھی "تاریخ بغداد” میں ابو حنیفہ، ان کے شاگردوں اور ان پر محدثین کے اعتراضات کو مفصل بیان کیا ہے، جیسے:
سمعْتُ أبا إسحاق الفزاري يقول: سمعتُ أبا حنيفة يقول: إيمان أبي بكر وإبليس واحد…
میں نے امام ابو اسحاق الفزاری کو کہتے سنا: میں نے امام ابو حنیفہ کو کہتے سنا کہ ابوبکر صدیقؓ اور ابلیس کا ایمان ایک جیسا ہے۔
📚 حوالہ: [تاريخ بغداد، للخطیب، ج13، ص 451]
📌 خلاصہ:
-
امام ذہبی، ابن کثیر، ابن رجب اور دیگر اکابر محدثین و مؤرخین نے مرجئہ عقائد کو بدعت قرار دیا۔
-
امام ابو حنیفہ کے بعض اقوال، شاگردوں اور معتقدین کی وجہ سے مرجئیت کا نظریہ فقہ حنفی کے ابتدائی طبقات میں موجود رہا۔
-
"الغنیة” کو نہ صرف صحیح السند قرار دیا گیا بلکہ اس کی تحریف کے الزام کو باطل بھی قرار دیا گیا۔
🔴 مرجئیت پر مکمل خلاصہ، امام ابو حنیفہ کا موقف اور اہل السنۃ والجماعۃ کا اجماعی عقیدہ
🔹 اجماعی خلاصہ: امام ابو حنیفہ اور مرجئیت
☑ امام ابو حنیفہؒ کا عقیدہ تھا:
-
ایمان صرف معرفت و اقرار کا نام ہے
-
ایمان نہ بڑھتا ہے، نہ گھٹتا
-
عمل ایمان سے خارج ہے
📌 یہی نظریہ مرجئہ کا بنیادی عقیدہ ہے۔
📚 دلائل کی روشنی میں:
-
امام عبد القادر جیلانیؒ نے "الغنیۃ” میں الحنفیہ کو مرجئہ فرقوں میں شمار کیا
-
ابو الحسن اشعری، شہرستانی، مقریزی، ابن عبدالبر، اور دیگر محدثین نے یہی وضاحت کی
-
امام بخاری، ابن معین، ابن المبارک، احمد بن حنبل، سفیان ثوری، ابن ادریس، ابو اسحاق الفزاری جیسے محدثین نے امام ابو حنیفہ کے عقائد پر سخت تنقید کی
-
ان سے مرجئیت پر دو بار توبہ کروائی گئی
-
ان کے بعض شاگردوں کو مرجئی داعی قرار دیا گیا
-
بعض شاگردوں جیسے ابو مطیع بلخی کے پیچھے نماز دہرائے جانے کا فتویٰ دیا گیا
🔹 اہل السنۃ والجماعۃ کا موقف
اہل سنت والجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے:
📌 عقیدہ:
الإيمان قولٌ وعمل، يزيد بالطاعة، وينقص بالمعصية.
ایمان قول و عمل دونوں کا نام ہے، طاعت سے بڑھتا ہے، گناہ سے گھٹتا ہے۔
📚 اس پر اجماع:
-
سفیان ثوری
-
امام مالک
-
امام شافعی
-
امام احمد بن حنبل
-
یحییٰ بن معین
-
یزید بن ہارون
-
عبداللہ بن ادریس
-
ابو عبید قاسم بن سلام
-
ابن رجب
-
ابن تیمیہ
-
ابن القیم
-
امام ذہبی
🔹 مرجئہ کے گمراہ فرقہ ہونے پر اجماع
✅ متفق علیہ:
-
مرجئہ عمل کو ایمان سے خارج کرتے ہیں
-
مرجئہ ایمان میں زیادتی و کمی کے قائل نہیں
-
مرجئہ تارکِ عمل کو بھی "مومنِ کامل” کہتے ہیں
-
یہ نظریہ اہلِ سنت سے انحراف ہے
-
ائمہ نے اس پر شدید تنقید کی
-
مرجئہ کے پیچھے نماز پڑھنا بھی مکروہ یا باطل کہا گیا
🔴 نتیجہ اور اختتام
📌 مرجئیت کوئی معمولی اختلافی فقہی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ایمان کے بنیادی مفہوم میں تحریف ہے۔
📌 امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ میں بڑے امام ہوں گے، لیکن ایمان کے باب میں ان کا نظریہ اہل سنت کے اجماع کے خلاف تھا۔
📌 اسی لیے سلف صالحین نے ان کے مرجئہ نظریے پر خاموشی اختیار نہیں کی، بلکہ رد، فتویٰ، ترکِ روایت، ترکِ سلام، اور نصیحت کے ساتھ اصلاح کی کوشش کی۔
✅ ہمارا منہج
-
ہم اہلِ سنت ہیں، ایمان کو قول و عمل کا مجموعہ مانتے ہیں
-
جو مرجئہ کے عقیدہ کو دین سمجھتا ہے، ہم اس سے بری ہیں
-
جو شخص اجماعی عقائد سے ٹکراتا ہے، ہم اس کے علم و فقہ کی عظمت کے باوجود اس کی غلطی پر پردہ نہیں ڈالتے
📎 یہ مضمون تحقیق، حوالہ جات، اور علمی دیانت کے اصول پر مبنی ہے۔ اگر کوئی شخص اس پر تنقید کرے، تو اس کا رد علمی اسلوب میں دیا جائے، جذباتی نہیں۔
📌 تمام حوالہ جات، اصل عربی اقتباسات، اور مراجع مکمل شامل کیے گئے ہیں تاکہ قاری خود تحقیق کر سکے۔
📘 اللہ ہمیں حق بات پر قائم رکھے، باطل سے بچائے، اور ایمان کی صحیح سمجھ نصیب فرمائے۔
































