مضمون کے اہم نکات
یہ مضمون اس اعتراض کا علمی و منہجی جواب ہے جو بعض معترضین امام ابن ماجہ القزوینیؒ پر امام ابن الجوزیؒ کی ایک سخت تنقید کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ اصل نکتہ یہ ہے کہ سند کے ساتھ روایت نقل کر دینا (خصوصاً فضائل کے ابواب میں) لازماً اس بات کی دلیل نہیں بنتا کہ مصنف اس روایت کو صحیح سمجھتا ہے، نہ یہ کہ (معاذ اللہ) وہ “حدیث گھڑنے” یا “اہواء پرستی” کا مرتکب ہے۔ مزید یہ کہ ابن الجوزیؒ کی کتاب “الموضوعات” میں کسی روایت کا آ جانا بذاتِ خود “موضوع” ہونے کی قطعی سند نہیں؛ ائمۂ حفاظ نے ابن الجوزیؒ پر “الموضوعات” میں تسامح کی نشان دہی کی ہے، اور اسی حدیث کے بارے میں بعد کے ناقدین نے اسے کم از کم منکر/ضعیف قرار دے کر “موضوع” کے حکم سے احتراز کیا ہے۔
پس منظر: قزوین کے فضائل والی روایت اور محلِ نزاع
① سنن ابن ماجہ میں روایت (باب: فضل قزوین)
كِتَابُ الْجِهَادِ
بَابُ ذِكْرِ الدَّيْلَمِ، وَفَضْلِ قَزْوِينَ
2780 – حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَسَدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ قَالَ: أَنْبَأَنَا الرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمُ الْآفَاقُ،وَسَتُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مَدِينَةٌ يُقَالُ لَهَا قَزْوِينُ، مَنْ رَابَطَ فِيهَا أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، كَانَ لَهُ فِي الْجَنَّةِ عَمُودٌ مِنْ ذَهَبٍ، عَلَيْهِ زَبَرْجَدَةٌ خَضْرَاءُ، عَلَيْهَا قُبَّةٌ مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ، لَهَا سَبْعُونَ أَلْفَ مِصْ رَاعٍ مِنْ ذَهَبٍ، عَلَى كُلِّ مِصْرَاعٍ زَوْجَةٌ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ»
اردو ترجمہ:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “عنقریب تم پر اطراف کے علاقے فتح ہوں گے، اور تم ایک شہر بھی فتح کرو گے جسے قزوین کہا جائے گا۔ جو شخص وہاں چالیس دن یا چالیس رات (سرحد پر) پہرہ دے/مورچہ بند رہے، اس کے لیے جنت میں سونے کا ایک ستون ہوگا، اس پر سبز زمرد ہوگا، اس پر سرخ یاقوت کا گنبد ہوگا، اس کے ستر ہزار سونے کے دروازے ہوں گے، اور ہر دروازے پر حورالعین میں سے ایک زوجہ ہوگی۔”
سنن ابن ماجہ – ابن ماجہ قزوینی // جلد ۴ // صفحہ ۱۶۰ // رقم ۲۷۸۰ // طبع اعتقاد پبلیکیشن ھاؤس دہلی ھندوستان۔
مختصر توضیح:
یہی روایت محلِ بحث ہے۔ بعض محققین نے اس کی سند پر “موضوع/بہت کمزور” کا کلام کیا؛ جبکہ زیرِ نظر جواب کا مرکزی موضوع یہ ہے کہ اگر کسی روایت میں ضعف ہو بھی تو اس سے امام ابن ماجہؒ کی عدالت مجروح نہیں ہوتی، اور نہ ابن الجوزیؒ کی سخت عبارت سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ ابن ماجہؒ (معاذ اللہ) کذب کے مرتکب تھے۔
اعتراض کا خلاصہ: ابن الجوزیؒ کی سخت تنقید سے غلط نتیجہ نکالنا
معترض کا استدلال یہ ہے کہ ابن الجوزیؒ نے “الموضوعات” میں اس روایت کو ذکر کر کے امام ابن ماجہؒ پر یہ اعتراض کیا کہ انہوں نے ایسی روایت اپنی سنن میں کیوں درج کی، اور اسے (معترض کے فہم کے مطابق) “اہواء پرستی” یا “کذب کے مصداق” ہونے تک لے گیا۔
یہاں علمی طور پر دو باتیں جدا کرنا ضروری ہے:
✅ (۱) روایت کا درجہ (ضعیف/منکر/موضوع) کیا ہے؟
✅ (۲) مصنف کی عدالت اور اس کے منہجِ تصنیف کا درست فہم کیا ہے؟
اکثر غلطی یہیں ہوتی ہے کہ (۱) کا حکم بلا دلیل (۲) پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔
جواب بمع دلائل و شواہد
① محض سند کے ساتھ روایت نقل کر دینا مصنف پر لازم نہیں کرتا کہ وہ اس کی صحت کا دعویٰ کرے
حافظ ابن حجر نے لکھا:
بل أكثر المحدثين في الإعصار الماضية من سنة مائتين وهلم جرا إذا ساقوا الحديث بإسناده اعتقدوا أنهم برؤا من عهدته والله أعلم.
اردو ترجمہ:
بلکہ دو سو ہجری کے بعد اور اس کے بعد کے ادوار میں اکثر محدثین جب کسی حدیث کو اس کی سند کے ساتھ بیان کر دیتے تھے تو وہ یہ سمجھتے تھے کہ وہ اس حدیث کی ذمہ داری (یعنی صحت/ضعف کا بار) سے بری ہو گئے۔ واللہ اعلم۔
(لسان الميزان)
مختصر توضیح:
اس اصول کی روشنی میں امام ابن ماجہؒ کا کسی روایت کو سند کے ساتھ ذکر کر دینا یہ معنی نہیں رکھتا کہ انہوں نے لازماً اس کی صحت کی “تصدیق” کر دی۔ سنن/مصنفات میں بہت سی روایات نقل کی جاتی ہیں، پھر ائمۂ نقد و علل انہیں جانچتے ہیں۔
② ابن الجوزیؒ کی “الموضوعات” میں کسی روایت کا درج ہونا قطعی طور پر “موضوع” ہونے کی دلیل نہیں
علامہ جلال الدین سیوطی نے ابن الجوزی کی کتاب الموٖضوعات کے بارے میں لکھا:
قدیم اور جدید حفاظ نے لکھا کہ ابن الجوزی کی الموضوعات میں بہت تساہل ہوا ہے، انہونےبہت ساری ضعیف اور بعض حسن و صحیح حدیثوں کو اپنی اس کتاب میں شامل کردیا ہے، جبھی تو میرا شیخ حافظ ابن حجر نے فرمایا ہے کہ ابن الجوزی نےالموضوعات میں اور حاکم نیسابوری نے المستدرک میں تساہل کرکےان دونون کتابوں کےنفع کو معدوم کردیا ہے۔
( تعقبات السيوطي على موضوعات ابن الجوزي )
مزید صراحت:
دوسری جگہ علامہ سیوطی نے لکھا:
[كتاب الموضوعات لابن الجوزي وبعض المآخذ عليه]
(وَقَدْ أَكْثَرَ جَامِعُ الْمَوْضُوعَاتِ فِي نَحْوِ مُجَلَّدَيْنِ، أَعْنِي أَبَا الْفَرَجِ بْنَ الْجَوْزِيِّ، فَذَكَرَ) فِي كِتَابِهِ (كَثِيرًا مِمَّا لَا دَلِيلَ عَلَى وَضْعِهِ، بَلْ هُوَ ضَعِيفٌ) ، بَلْ وَفِيهِ الْحَسَنُ، بَلْ وَالصَّحِيحُ، وَأَغْرَبُ مِنْ ذَلِكَ أَنَّ فِيهَا حَدِيثًا مِنْ ” صَحِيحِ مُسْلِمٍ ” كَمَا سَأُبَيِّنُهُ.
اردو ترجمہ:
ابن الجوزیؒ نے “الموضوعات” میں بہت کثرت کی؛ اور اپنی کتاب میں بہت سی ایسی روایات ذکر کر دیں جن کے موضوع ہونے پر کوئی دلیل نہیں، بلکہ وہ محض ضعیف ہیں؛ بلکہ اس میں حسن بھی ہے، بلکہ صحیح بھی، اور اس سے بھی زیادہ عجیب یہ کہ اس میں صحیح مسلم کی حدیث بھی آ گئی ہے، جیسا کہ میں واضح کروں گا۔
(تدریب الراوی)
مختصر توضیح:
جب ائمۂ حفاظ کی یہ صراحت موجود ہو کہ “الموضوعات” میں ضعیف/حسن/صحیح تک روایات داخل ہو گئی ہیں، تو صرف “ابن الجوزیؒ نے موضوعات میں ذکر کیا” کہہ کر کسی روایت کو لازماً موضوع قرار دینا یا اسی سے مصنف پر حملہ کرنا درست نہیں۔
③ اسی حدیث کے بارے میں بعد کے ناقدین کا رخ: “منکر/ضعیف” — لازمًا “موضوع” نہیں
علامہ محمد بن عراق الکنانی نے ابن الجوزی کا رد کرتے ہوئے لکھا:
يَقْتَضِي أَن الحَدِيث عِنْده لَيْسَ بموضوع.
(12) [حَدِيثٌ] سَتُفْتَحُ عَلَيْكَ الآفَاقُ وَسَتُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مَدِينَةٌ يُقَالُ لَهَا قَزْوِينُ مَنْ رَابَطَ فِيهَا أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً كَانَ لَهُ فِي الْجَنَّةِ عَمُودٌ مِنْ ذَهَبٍ عَلَى زَبَرْجَدَةٍ خَضْرَاءَ عَلَيْهَا قُبَّةٌ مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ لَهَا سَبْعُونَ أَلْفَ مِصْرَاعٍ عَلَى كُلِّ مِصْرَاعٍ زَوْجَةٌ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ (ابْن مَاجَه) من حَدِيث أنس وَفِيه دَاوُد بن المحبر وَهُوَ الْمُتَّهم بِهِ (تعقب) بِأَن الْحَافِظ الْمزي قَالَ فِي التَّهْذِيب حَدِيث مُنكر لَا يعرف إِلَّا من رِوَايَة دَاوُد وَالْمُنكر من قسم الضَّعِيف وَهُوَ مُحْتَمل فِي الْفَضَائِل.
اردو ترجمہ (خلاصہ):
اس سے مقتضیٰ ہوتا ہے کہ یہ حدیث (اس ناقد کے نزدیک) موضوع نہیں۔ یہ حدیث ابن ماجہ نے انسؓ سے روایت کی، اس میں داود بن المحبر ہے اور اسی پر الزام ہے۔ اس پر تعقب یہ کیا گیا کہ حافظ مِزّی نے “التہذیب” میں کہا: یہ حدیث منکر ہے، اور داود کی روایت کے سوا معروف نہیں۔ اور “منکر” ضعیف کی قسم ہے، اور (ضعیف) فضائل میں محتمل ہو سکتی ہے۔
(تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة)
مختصر توضیح:
یہاں دو اہم باتیں نکلتی ہیں:
✅ (۱) ناقد نے اس حدیث کو منکر/ضعیف کے خانے میں رکھا، اور “موضوع” کے دعوے میں قطعیت سے احتراز کیا۔
✅ (۲) اگر روایت کا مدار کسی راوی پر ہے تو اس کا محل یہی ہے کہ اس پر نقدِ رجال اور نقدِ متن کے اصول کے مطابق گفتگو کی جائے، نہ یہ کہ اسے “مصنف کی اہواء” بنا کر عدالت پر حملہ کر دیا جائے۔
④ ابن الجوزیؒ کے بعض سخت احکام پیش کرنے میں ان کی تصنیفی لغزشیں: حافظ ذہبیؒ کی تنبیہ
حافظ ذہبی نے ابن الجوزی کے بارے میں لکھا:
وكان كثير الغلط فيما يصنفه فإنه كان يفرغ من الكتاب ولا يعتبره. قلت: نعم، له وهم كثير في تواليفه يدخل عليه الداخل من العجلة والتحويل إلى مصنف آخر ومن أن جُل علمه من كتب صحف ما مارس فيها أرباب العلم كما ينبغي.
اردو ترجمہ:
وہ اپنی تصنیفات میں بہت غلطیاں کرتے تھے؛ کیونکہ کتاب سے فارغ ہو کر اس کا دوبارہ موازنہ/نظرِ ثانی نہیں کرتے تھے۔ (ذہبی کہتے ہیں:) ہاں، ان کی تالیفات میں بہت وہم ہے؛ اس کی وجہ عجلت، دوسری تصنیف کی طرف منتقل ہو جانا، اور یہ کہ ان کا بڑا علم کتابی صحیفوں سے تھا—جیسا کہ اس فن کے ارباب کے ساتھ عملاً ممارست ہونی چاہیے تھی، وہ ویسی نہ ہو سکی۔
(تذكرة الحفاظ)
مختصر توضیح:
اس سے مقصود ابن الجوزیؒ کی تنقیص نہیں، بلکہ اصولی تنبیہ ہے کہ ان کے بعض سخت فیصلے/عبارات کو حتمی حجت بنا لینا درست نہیں—خصوصاً جب دوسرے حفاظ نے انہی پر تسامح کی نشاندہی کی ہو۔
⑤ داود بن المحبر الطائي کے بارے میں مختلف اقوال: “کذاب” کا حکم قطعی نہیں سمجھا جاتا
معترض کا مرکزی زور اس بات پر ہے کہ سند میں داود بن المحبر ہے، لہٰذا روایت ساقط ہے اور پھر (معاذ اللہ) ابن ماجہؒ پر بھی الزام لازم آتا ہے۔ جبکہ منقول مواد میں خود ائمۂ رجال کے متعدد اقوال درج ہیں:
(الف) یحییٰ بن معینؒ سے منقول:
يحيى بن معين : ما زال معرفا بالحديث، يكتب الحديث، وترك الحديث ثم ذهب فصحب قوما من المعتزلة فأفسدوه، وهو ثقة، ومرة: ليس بكذاب، ومرة: كان يخطئ كثيرا ويصحف إلا أنه كان ثقة
اردو ترجمہ (خلاصہ):
یحییٰ بن معینؒ سے مختلف اقوال منقول ہیں: وہ حدیث میں معروف تھا، حدیث لکھتا تھا… (پھر حالات کا ذکر)… ایک جگہ “ثقہ” کہا، ایک جگہ “کذاب نہیں” کہا، اور ایک جگہ کہا کہ وہ بہت غلطی اور تصحیف کرتا تھا، تاہم (بعض تعبیرات میں) اسے ثقہ کہا گیا۔
(تذكرة الحفاظ)
(ب) ابن عدیؒ سے منقول:
أبو أحمد بن عدي الجرجاني : كان يخطئ ويصحف الكثير وفي الأصل أنه صدوق
اردو ترجمہ:
وہ بہت غلطی اور تصحیف کرتا تھا، مگر اصل میں وہ صدوق تھا۔
(ج) ابو داود سجستانیؒ سے منقول:
أبو داود السجستاني : ثقة شبه الضعيف
اردو ترجمہ:
وہ ثقہ ہے، مگر ضعف سے مشابہ (یعنی اس میں کمزوری کا شائبہ) ہے۔
مختصر توضیح:
ان منقولات کا کم از کم نتیجہ یہ ہے کہ داود بن المحبر کے بارے میں کلام متنوع ہے۔ لہٰذا کسی ایک سخت تعبیر کو لے کر یہ کہنا کہ “ابن ماجہؒ نے کذاب سے احتجاج کیا، لہٰذا وہ مجروح ہیں” — یہ منہجاً درست نہیں۔
مزید یہ کہ کمزور راوی سے روایت نقل کرنا (بالخصوص فضائل/ترغیب کے باب میں) اور چیز ہے، اور کمزور راوی سے عقائد و احکام میں حجت قائم کرنا دوسری چیز۔
⑥ ابن الجوزیؒ کے اپنے تعریفی کلمات: ابن ماجہؒ کی علمی حیثیت
1792- مُحَمَّد بن يزيد، أبو عَبْد اللَّهِ بن ماجة مولى ربيعة [3] .
ولد سنة تسع ومائتين، ورحل إلى مكة، والبصرة، والكوفة، وبغداد، والشام، ومصر، والري، وسمع الكثير، وصنف: السنن، والتاريخ، والتفسير، وكان عارفا بهذا الشأن
اردو ترجمہ:
محمد بن یزید، ابو عبداللہ ابن ماجہ… 209ھ میں پیدا ہوئے، مکہ، بصرہ، کوفہ، بغداد، شام، مصر، رَے وغیرہ کے اسفار کیے، بہت سماع کیا، “سنن”، “تاریخ” اور “تفسیر” جیسی کتابیں تصنیف کیں، اور اس فن کے شناسا/ماہر تھے۔
(المنتظم في تاريخ الملوك والأمم)
مختصر توضیح:
یہاں خود ابن الجوزیؒ ابن ماجہؒ کی علمی خدمت اور فنّی معرفت کا اعتراف کر رہے ہیں۔ لہٰذا اسی ابن الجوزیؒ کی ایک جگہ کی سخت عبارت کو بنیاد بنا کر ابن ماجہؒ کی عدالت گرانا—خود ابن الجوزیؒ کے مجموعی کلام کے بھی خلاف پڑتا ہے۔
خلاصۂ تحقیق
✅ (۱) سنن ابن ماجہ میں قزوین کے فضائل والی روایت سنداً محلِ نظر ہو سکتی ہے (یہ بحث الگ ہے)، مگر مصنف کی عدالت پر حملہ درست نہیں۔
✅ (۲) محدثین کا منہج رہا ہے کہ وہ اسناد کے ساتھ روایات لاتے، اور بعد میں ائمۂ نقد ان پر حکم لگاتے؛ اس نقل سے مصنف “کذاب” قرار نہیں پاتا۔
✅ (۳) ابن الجوزیؒ کی “الموضوعات” میں کچھ روایات کے بارے میں تسامح کی صراحت حفاظ نے کی ہے؛ لہٰذا صرف وہاں درج ہونا “قطعی موضوع” نہیں بناتا۔
✅ (۴) بعد کے ناقدین نے اسی روایت کو کم از کم منکر/ضعیف کے دائرے میں رکھ کر “موضوع” کے دعوے میں احتیاط کی ہے۔
✅ (۵) داود بن المحبر کے بارے میں منقول اقوال میں اختلاف پایا جاتا ہے، اس لیے “کذاب” کا فیصلہ مطلق بنا کر ابن ماجہؒ پر چسپاں کرنا درست نہیں۔
✅ (۶) ابن الجوزیؒ نے خود ابن ماجہؒ کو “عارفٌ بهذا الشأن” کہہ کر ان کی علمی حیثیت تسلیم کی ہے۔
نتیجہ (Conclusion)
اس بحث کا حاصل یہ ہے کہ ابن الجوزیؒ کی سخت عبارت سے یہ نتیجہ نکالنا کہ امام ابن ماجہؒ (معاذ اللہ) “کذب کے مصداق” یا “اہواء پرستی” کے مرتکب تھے—یہ علمی طور پر درست نہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ زیرِ بحث روایت قابلِ نقد ہے؛ اور یہی کام محدثین نے کیا بھی ہے۔ مگر ضعیف روایت کی تخریج کو مصنف کی عدالت پر قدح بنا دینا نہ منہجِ حدیث کے مطابق ہے اور نہ ائمۂ حفاظ کے عمومی تعامل کے۔
اہم حوالوں کے سکین








