امام ابن قیم کی عبارت سے دیوبندی مغالطہ کہ امام شافعی تقلید شخضی کے قائل تھے
مرتب کردہ: ابو حمزہ سلفی
مضمون کے اہم نکات

یہ مضمون اس دعوے کی علمی جانچ ہے کہ امام شافعیؒ “تقلید” کے قائل تھے اور اُن سے “قلتُه تقليداً لفلان” جیسی نسبتیں تقلیدِ شخصی کے اثبات میں پیش کی جا سکتی ہیں؛ اسی نسبت کو بنیاد بناکر بعض حضرات (دیوبندی مصنف) نے حافظ زبیر علی زئیؒ پر یہ الزام رکھا کہ “تقلید جہلا کے لیے ہے” جیسی بات سے گویا امام شافعیؒ کو جاہلوں کی صف میں لا کھڑا کیا گیا۔ اس حصے میں ہم واضح کریں گے کہ:

  1. تقلیدِ شخصی (Blind Personal Taqlid) اور تقلیدِ غیر شخصی/اتباعِ دلیل میں اصولی فرق ہے؛

  2. امام شافعیؒ کے نصوصِ صحیحہ تقلیدِ شخصی کی نفی اور اتباعِ سنت/دلیل کی صریح تأکید کرتے ہیں؛

  3. “قلتُه تقليداً لعمر/عثمان/عطاء” جیسی منسوبات اگر کہیں ہوں بھی تو وہ تقلیدِ غیر شخصی/اتباعِ اثر کے باب میں ہیں، نہ کہ کسی ایک امام کی مسلسل شخصی تقلید کے؛ ان منسوبات کی سند بھی مفقود/غیر مُحَرّرة ہے؛

  4. ابن القیمؒ نے جس “تقليدٍ واجبٍ” کا ذکر کیا، اُس سے مراد عارضی، غیر شخصی رجوع ہے جب نص حاضر نہ ہو—نہ کہ مستقل شخصی تقلید۔ اسی عبارت کو کاٹ کر تقلیدِ شخصی کے ثبوت میں پیش کرنا تحریف ہے۔

اصولی فرق: تقلیدِ شخصی کیا ہے اور اتباع/تقلیدِ غیر شخصی کیا ہے؟

  • تقلیدِ شخصی: ایک خاص امام/شیخ کا قول دلیلِ شرعی کے قائم مقام بناکر ہمیشہ اسی کی پیروی کرنا، خواہ مضبوط دلیل سامنے آجائے—یہی اہلِ حدیث کے نزدیک مردود ہے۔

  • اتباع/تقلیدِ غیر شخصی: نص یا اس کے اظہر اہلِ علم کی عارضی خبر/فتویٰ/اثر پر دلائل کی حد تک اعتماد؛ نص واضح ہوتے ہی فوراً رجوع—اسی کو ائمہ “إذا صح الحديث فهو مذهبي” سے واضح کرتے ہیں۔

امام شافعیؒ کے اقوالِ صریحہ — تقلیدِ شخصی کی نفی اور اتباعِ حدیث کا وجوب

امام شافعیؒ کے اقوال میں تقلیدِ شخصی کا نہ صرف کوئی تصور نہیں بلکہ اُن کے ہر قول میں “اتباعِ سنت” اور “ترکِ تقلید” کی واضح تعلیم موجود ہے۔ ذیل میں وہ تمام معتبر و مسند نصوص درج ہیں جن سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے۔

1️⃣ “میری تقلید نہ کرو؛ صحیح حدیث مقدم ہے”

عربی متن:
«كُلُّ مَا قُلْتُ، وَكَانَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ خِلَافُ قَوْلِي مِمَّا يَصِحُّ، فَحَدِيثُ النَّبِيِّ ﷺ أَوْلَى، وَلَا تُقَلِّدُونِي
ترجمہ:
“میں نے جو بھی بات کہی ہو اور وہ رسول اللہ ﷺ کی صحیح حدیث کے خلاف ہو تو نبی ﷺ کی حدیث ہی مقدم ہے، اور میری تقلید نہ کرو۔”

📚 آداب الشافعي ومناقبه لابن أبي حاتم (327ھ) بسندٍ صحيحٍ عن حرملة بن يحيى۔

وضاحت:
یہ قول تقلیدِ شخصی کے بطلان کی بنیاد ہے۔ امام شافعیؒ نے اپنے قول کو حجت نہیں بلکہ حدیثِ صحیح کو معیارِ شرع قرار دیا۔ یہی اتباعِ دلیل کا اصول ہے، جس پر اہلِ حدیث کا اجماع ہے۔

2️⃣ “جب صحیح حدیث آ جائے تو میں اپنے قول سے رجوع کرتا ہوں”

عربی متن:
«إِذَا صَحَّ الْحَدِيثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقُلْتُ قَوْلًا، فَأَنَا رَاجِعٌ عَنْ قَوْلِي، وَقَائِلٌ بِذَلِكَ
بسندٍ صحيح عن الحسن بن سعيد → زكريا الساجي → أحمد بن محمد المكي → أبو الوليد الجارودي → الشافعي۔

ترجمہ:
“جب رسول اللہ ﷺ سے صحیح حدیث ثابت ہو اور میں نے اس کے خلاف کچھ کہا ہو تو میں اپنی بات سے رجوع کرتا ہوں اور اسی حدیث کو اپنا قول بنا لیتا ہوں۔”

📚 حلية الأولياء (ابو نعيم الاصبهاني، 430ھ)

وضاحت:
یہ “تقلیدِ غیر شخصی” کا عین مفہوم ہے۔ امام شافعیؒ نصِ شرعی ظاہر ہوتے ہی رجوع کا اعلان کرتے ہیں، جو شخصی تقلید کے منافی ہے۔

3️⃣ “میری کتاب میں خلافِ سنت بات ہو تو چھوڑ دو”

عربی متن:
«إِذَا وَجَدْتُمْ فِي كِتَابِي خِلَافَ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقُولُوا بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَدَعُوا مَا قُلْتُ.»
ترجمہ:
“اگر تم میری کتاب میں سنتِ رسول اللہ ﷺ کے خلاف کوئی بات پاؤ تو میری بات کو چھوڑ کر سنتِ رسول ﷺ پر عمل کرو۔”

📚 ذم الكلام وأهله للهروي (481ھ) بسندٍ عن الربيع بن سليمان۔

وضاحت:
یہ تصریح امام شافعیؒ کے علمی منہج کو واضح کرتی ہے کہ ان کا ہر قول سنت کے تابع ہے۔ جس میں سنت کا خلاف واقع ہو، وہ باطل الاعتبار ہے۔

4️⃣ “میں کوئی ایسی حدیث روایت نہیں کرتا جس پر عمل نہ کرتا ہوں”

عربی متن:
«سُبْحَانَ اللَّهِ! أَرْوِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ شَيْئًا وَلَا آخُذُ بِهِ؟ مَتَى عَرَفْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ حَدِيثًا وَلَمْ آخُذْ بِهِ فَأَنَا أُشْهِدُكُمْ أَنَّ عَقْلِي قَدْ ذَهَبَ.»
ترجمہ:
“سبحان اللہ! کیا میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی بات روایت کروں اور اس پر عمل نہ کروں؟ جب بھی میں نبی ﷺ کی حدیث جانتا ہوں اور اس پر عمل نہیں کرتا تو میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میرا عقل زائل ہوگیا ہے!”

📚 آداب الشافعي ومناقبه (ابن أبي حاتم) بسندٍ صحيح عن الربيع بن سليمان۔

وضاحت:
یہ قول اتباعِ سنت کی انتہا ہے۔ امام شافعیؒ کے نزدیک حدیث کا علم بغیر عمل کے ناقابلِ تصور ہے، لہٰذا شخصی تقلید کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔

5️⃣ “ہر حدیث رسول ﷺ میرا قول ہے”

عربی متن:
«كُلُّ حَدِيثٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فَهُوَ قَوْلِي، وَإِنْ لَمْ تَسْمَعُوهُ مِنِّي.»
ترجمہ:
“رسول اللہ ﷺ کی ہر حدیث میرا قول ہے، اگرچہ تم نے اسے مجھ سے براہِ راست نہ سنا ہو۔”

📚 آداب الشافعي ومناقبه (327ھ) عن أبي ثور بإسناد صحيح۔

وضاحت:
یہ الفاظ امام شافعیؒ کے نظریۂ فقہ کی بنیاد ہیں—یعنی شریعت کی اصل حدیثِ صحیح ہے، نہ کہ امام یا مقلّد کا اجتہاد۔

6️⃣ “میری کتاب میں خلافِ قرآن و سنت بات ہو تو میں رجوع کرچکا ہوں”

عربی متن:
«فما وجدتم في كتبي هذه مما يخالف الكتاب والسنة فقد رجعت عنه.»
ترجمہ:
“میری کتابوں میں اگر کوئی بات قرآن و سنت کے خلاف پاؤ تو جان لو کہ میں اس سے رجوع کرچکا ہوں۔”

📚 تفسير الإمام الشافعي (204ھ)

وضاحت:
یہ تصریح بتاتی ہے کہ امام شافعیؒ کے نزدیک حق صرف نص میں ہے، اور خود اُن کا اجتہاد بھی قابلِ رد ہے جب وہ نص کے خلاف ہو۔

امام شافعی کی تمام عبارتوں کا خلاصہ:

  1. امام شافعیؒ نے بارہا اعلان کیا کہ ان کی تقلید ممنوع ہے، اور ہر صحیح حدیث ہی اُن کا مذہب ہے۔

  2. ان کے اقوال “ولا تقلدوني”، “إذا صح الحديث فهو مذهبي” اور “دعوا قولي” تقلیدِ شخصی کو باطل قرار دیتے ہیں۔

  3. اُن کے نزدیک فقیہ، محدث، صحابی یا تابعی — سب کے اقوال نص کے تابع ہیں، نص کے قائم مقام نہیں۔

  4. جو شخص امام شافعیؒ کے اس واضح منہج کے باوجود اُن سے تقلیدِ شخصی کا ثبوت تلاش کرے، وہ دراصل نصوصِ امام کی تحریف کر رہا ہے۔

ابنِ قیمؒ کی اصل عبارت، سیاق و سباق، اور دیوبندی حضرات کی تحریفِ نص کا جامع تجزیہ

اب ہم اصل تنازع کا علمی تجزیہ پیش کرتے ہیں:

ایک دیوبندی مصنف نے ابنِ قیمؒ کی ایک عبارت سے صرف ایک ٹکڑا کاٹ کر پیش کیا — “قلتُه تقليدًا لعطاء” — اور پھر دعویٰ کیا کہ:

“دیکھیے! امام شافعی تقلید کرتے تھے، لہٰذا غیر مقلدین (اہلِ حدیث) کا تقلید کو جہالت کہنا، امام شافعی کو جاہل ٹھہرانا ہے۔”

یہ طرزِ استدلال نہ صرف سندی طور پر باطل ہے بلکہ مفہوم میں بھی بدترین تحریف ہے۔ ذیل میں مکمل تجزیہ دلائل و حوالہ جات کے ساتھ ملاحظہ ہو۔

1️⃣ ابنِ قیمؒ کی اصل عبارت کیا ہے؟ (دیوبندی نے کیا کاٹا؟)

یہ عبارت “ابن القيم الجوزية: عصره ومنهجه وآراؤه في الفقه والعقائد والتصوف” (عبدالعظيم شرف الدين) میں ابنِ قیم سے منقول ہے۔
اصل عربی متن یوں ہے:

النصّ العربي الكامل:

«ذَكَرَ ابْنُ القَيِّمِ أَنَّ التَّقْلِيدَ ثَلاثَةُ أَضْرُبٍ:
تَقْلِيدٌ مَحْظُور، وَتَقْلِيدٌ مَسْنُون، وَتَقْلِيدٌ مُبَاح.

فَأَمَّا التَّقْلِيدُ المَحْظُورُ فَهُوَ تَقْلِيدُ مَنْ يَجِبُ اتِّبَاعُهُ فِي خِلَافِ مَا جَاءَ بِهِ الرَّسُولُ ﷺ،

وَأَمَّا التَّقْلِيدُ الْمُبَاحُ فَهُوَ تَقْلِيدُ مَنْ لَيْسَ قَوْلُهُ حُجَّةً مَعَ قُدْرَةِ الْمُقَلِّدِ عَلَى الِاسْتِدْلَالِ،

وَأَمَّا التَّقْلِيدُ الْوَاجِبُ:
فَهُوَ تَقْلِيدُ الْأَعْلَمِ عِنْدَ عَدَمِ الظَّفَرِ بِنَصٍّ مِنْ كِتَابٍ أَوْ سُنَّةٍ،
كَقَوْلِ الشَّافِعِيِّ: قُلْتُهُ تَقْلِيدًا لِعُمَرَ، وَقُلْتُهُ تَقْلِيدًا لِعُثْمَانَ، وَقُلْتُهُ تَقْلِيدًا لِعَطَاءٍ.»

(ماخذ: عبدالعظیم شرف الدین، ابن القیم الجوزیہ: عصره ومنهجه… ص 108)

ترجمہ (بغیر کمی و بیشی):

ابنِ قیمؒ نے تقلید کی تین قسمیں ذکر کی ہیں:

(1) حرام تقلید:
وہ ہے کہ کسی ایسے شخص کی تقلید کی جائے جس کی بات رسول اللہ ﷺ کی مخالفت میں ہو۔

(2) مباح تقلید:
وہ ہے جس شخص کی بات دلیل نہیں، مگر مقلِّد میں خود تحقیق کی قدرت ہو۔

(3) واجب تقلید:
وہ ہے کہ جب قرآن و سنت کا کوئی نص نہ مل سکے تو سب سے زیادہ علم رکھنے والے کی بات پر عمل کیا جائے،
جیسا کہ امام شافعی نے فرمایا: “میں نے یہ بات عمرؓ کی تقلید میں کہی، یہ بات عثمانؓ کی تقلید میں کہی، یہ بات عطاؒ کی تقلید میں کہی۔”

اس عبارت کی درست علمی توضیح

🔵 پہلی حقیقت: ابنِ قیمؒ یہاں “تقلیدِ شخصی” کا اثبات نہیں، ردّ بیان کر رہے ہیں

ابنِ قیمؒ نے تقلید کے تین درجے بیان کیے:

  1. تقلیدِ محظور (حرام):
    → رسول ﷺ کے مقابلے میں کسی کی تقلید کرنا۔
    → یہی “تقلیدِ شخصی” ہے جس کو ابنِ قیمؒ اور تمام سلف نے حرام کہا۔

  2. تقلیدِ مباح:
    → وہ وقت جب کسی کو دلائل جاننے کی قدرت ہو مگر سہولت کے لیے کسی کی بات لے لے—یہ بھی پسندیدہ نہیں۔

  3. تقلیدِ واجب:
    → یعنی غیر شخصی، عارضی رجوع:
    جب عام آدمی یا طالب علم کو نص نہ ملے، اور کسی عالم کا قول سامنے ہو، تو وقتی طور پر اس کی بات لے لے—
    لیکن نص ملتے ہی فوراً رجوع لازم ہے۔

یہی بات خود امام شافعی کے اقوال سے ثابت ہے:

“إذا وجدتم قولي يخالف الحديث فاضربوا بقولي الحائط.”
(اگر میری بات حدیث کے خلاف ہو تو میری بات دیوار پر مار دو)

لہٰذا ابنِ قیمؒ تقلیدِ واجب = نص کی عدم موجودگی میں وقتی علمی سہارا
اور تقلیدِ حرام = مستقل شخصی تقلید
سمجھاتے ہیں۔

🔵 دوسری حقیقت: دیوبندی نے ابنِ قیم کے تینوں اقسام میں سے صرف ایک جملہ کاٹ لیا

ابنِ قیمؒ کی عبارت میں تینوں قسمیں تھیں۔
دیوبندی نے صرف یہ حصہ کاٹا:

“قلتُه تقليداً لعطاء”

اور باقی سب حذف کردیا:

  • “تقلیدِ حرام”

  • “تقلیدِ مباح”

  • “تقلیدِ واجب = اجتہادی عارضی رجوع”
    بلکہ “عمرؓ” اور “عثمانؓ” کی تقلید کا ذکر بھی کاٹ دیا۔

یہ شدید علمی خیانت ہے۔

کیا امام شافعی “تقلیدِ شخصی” کرتے تھے؟

نہیں — اس کے 7 مضبوط دلائل

📌 دلیل 1 — وہ ایک وقت میں تین مختلف شخصیات کی بات لیتے تھے

  • عمرؓ

  • عثمانؓ

  • عطاؒ

اگر یہ “تقلیدِ شخصی” ہوتی تو ایک ہی شخص کی پیروی کرتے،
مگر یہاں یہ “استدلال بالاثر” ہے، یعنی غیر شخصی اتباع۔

📌 دلیل 2 — “قلتُه تقليداً” کی کوئی سند نہیں

امام شافعی سے یہ عبارت متصل سند کے ساتھ کہیں محفوظ نہیں۔
یہ زیادہ سے زیادہ فقہی نسبت ہے—حدیث یا اثر نہیں۔

📌 دلیل 3 — امام شافعی نے اپنی تقلید سے صریح منع فرمایا

«ولا تقلدوني»
"میری تقلید نہ کرو“
(آداب الشافعی، بسند صحیح)

📌 دلیل 4 — امام شافعی نص کی موجودگی میں فوری رجوع کرتے

یہ “تقلیدِ شخصی” کی نفی ہے۔

📌 دلیل 5 — ابنِ قیمؒ نے اسی عبارت کو تقلیدِ غیر شخصی کے باب میں لایا

دیوبندی کا یہ کہنا کہ یہ تقلیدِ شخصی ہے—
ابنِ قیمؒ سے صریح بغاوت ہے۔

📌 دلیل 6 — اگر امام شافعی نے کبھی کسی صحابی/تابعی کی بات لی بھی،

تو وہ اتباعِ اثر تھا،
نہ کہ کسی ایک امام کی مسلسل غلامی۔

📌 دلیل 7 — دیوبندی خود “تقلید غیر شخصی” کو “حرام” کہتے ہیں

  • رشید احمد گنگوہی:
    تقلیدِ غیر امام حرام ہے

  • تقی عثمانی:
    تقلیدِ غیر شخصی گمراہی ہے جو کفر تک لے جاتی ہے

[دونوں عبارتوں کے ثبوت نیچے سکین میں]

جبکہ ابنِ قیمؒ “تقلیدِ غیر شخصی” کو واجب کہہ رہے ہیں۔
دیوبندی نے اس بات پر مکمل پردہ ڈال دیا۔

خلاصہ کلام

  1. ابن قیمؒ کی عبارت تقلیدِ شخصی کو حرام اور غیر شخصی رجوع کو واجب قرار دیتی ہے۔

  2. “قلتُه تقليداً لعمر/عثمان/عطاء” سے مراد عارضی اتباعِ اثر ہے، نہ کہ تقلیدِ شخصی۔

  3. امام شافعی سے اس کا سندی ثبوت موجود نہیں۔

  4. دیوبندی نے عبارت کو تحریف کر کے پیش کیا۔

  5. امام شافعیؒ کے صریح اقوال تقلیدِ شخصی کی نفی کرتے ہیں۔

  6. اگر یہ “تقلید شخصی” ہوتی تو ایک ہی امام کی پیروی کرتے، نہ کہ تین الگ شخصیتوں کی۔

  7. “تقلید غیر شخصی” کو اہلِ حدیث جائز کہتے ہیں، اور وہی ابنِ قیمؒ کا موقف ہے—دیوبندی مکتب اسے “گمراہی” کہتا ہے۔

اہم حوالوں کے سکین اصل کتب سے

امام ابن قیم کی عبارت سے دیوبندی مغالطہ کہ امام شافعی تقلید شخضی کے قائل تھے – 01 امام ابن قیم کی عبارت سے دیوبندی مغالطہ کہ امام شافعی تقلید شخضی کے قائل تھے – 02 امام ابن قیم کی عبارت سے دیوبندی مغالطہ کہ امام شافعی تقلید شخضی کے قائل تھے – 03 امام ابن قیم کی عبارت سے دیوبندی مغالطہ کہ امام شافعی تقلید شخضی کے قائل تھے – 04 امام ابن قیم کی عبارت سے دیوبندی مغالطہ کہ امام شافعی تقلید شخضی کے قائل تھے – 05 امام ابن قیم کی عبارت سے دیوبندی مغالطہ کہ امام شافعی تقلید شخضی کے قائل تھے – 06 امام ابن قیم کی عبارت سے دیوبندی مغالطہ کہ امام شافعی تقلید شخضی کے قائل تھے – 07 امام ابن قیم کی عبارت سے دیوبندی مغالطہ کہ امام شافعی تقلید شخضی کے قائل تھے – 08 امام ابن قیم کی عبارت سے دیوبندی مغالطہ کہ امام شافعی تقلید شخضی کے قائل تھے – 09 امام ابن قیم کی عبارت سے دیوبندی مغالطہ کہ امام شافعی تقلید شخضی کے قائل تھے – 10 امام ابن قیم کی عبارت سے دیوبندی مغالطہ کہ امام شافعی تقلید شخضی کے قائل تھے – 11 امام ابن قیم کی عبارت سے دیوبندی مغالطہ کہ امام شافعی تقلید شخضی کے قائل تھے – 12 امام ابن قیم کی عبارت سے دیوبندی مغالطہ کہ امام شافعی تقلید شخضی کے قائل تھے – 13

 

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے