امامت کے احکام: امام کی اہلیت، ترجیحی ترتیب اور ذمہ داریاں

فونٹ سائز:
قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل نماز کے احکام ومسائل:جلد 01: صفحہ 186
مضمون کے اہم نکات

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
امامت کے احکام

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نماز کی امامت ایک عظیم دینی ذمہ داری ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود امامت فرمائی، پھر خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین نے اس منصب کو سنبھالا اور بہترین انداز میں ادا کیا۔

امامت کی فضیلت

امامت کی فضیلت کے بارے میں کئی احادیث وارد ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"روزقیامت تین قسم کے آدمی کستوری کے ٹیلوں پر ہوں گے ان میں سے ایک وہ شخص ہو گا جس نے قوم کی امامت کی اور وہ اس (امام ) سے خوش تھے۔” [(ضعیف) جامع الترمذی البروالصلۃ باب ماجاء فی فضل المملوک الصلح حدیث 1086۔]

ایک دوسری روایت میں ہے:

"وله مثل أجر من صلى معه”
"امام کو اتنا ہی اجر ملے گا جتنا اس کے پیچھے نماز پڑھنے والوں کو ملے گا۔” [سنن النسائی الاذان باب رفع الصوت بالاذان حدیث 647۔ومسند احمد :4/284۔]

بعض صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کیا کرتے تھے:

"اجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِي”
"مجھے میری قوم کا امام بنا دیجیے۔” [سنن ابی داؤد الصلاۃ باب اخذ الاجر علی التاذین حدیث 531۔]

یہ اس لیے تھا کہ وہ امامت کی فضیلت اور اجر کو جانتے تھے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج بہت سے طلبہ امامت کی ذمہ داری قبول کرنے میں شوق نہیں رکھتے بلکہ گریز کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سستی اور خیر میں رغبت کی کمی ہے، اور یہ شیطان کی طرف سے نیکی سے دور رکھنے کی کوشش ہے۔ طلبہ کو چاہیے کہ خوشی اور محنت سے اس ذمہ داری کو قبول کریں اور اجرِ عظیم پائیں۔ دینی طلبہ دوسروں کے مقابلے میں امامت اور دیگر صالح اعمال کے زیادہ حق دار ہیں۔

جب کسی شخص میں امامت کی تمام اہلیت موجود ہو تو وہ دوسروں پر مقدم ہے، بلکہ اگر کوئی دوسرا اہل فرد موجود نہ ہو تو اس کے لیے یہ ذمہ داری ادا کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔

امامت کی اہلیت اور ترتیب

① قراءتِ قرآن میں سب سے بہتر

امامت کا سب سے زیادہ حق دار وہ ہے جو قرآن مجید زیادہ اچھی قراءت کر سکے، مخارجِ حروف کا علم رکھتا ہو، ادائیگی میں فاش غلطی نہ کرتا ہو، اور تکلف کے بغیر قواعدِ قراءت ملحوظ رکھتا ہو۔ ساتھ ہی اسے نماز کے مسائل—شرائط، ارکان، واجبات اور نواقض—کا علم بھی ہو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ”
"لوگوں کی امامت وہ کرائے جو سب سے زیادہ قرآن مجید پڑھا ہو۔” [صحیح مسلم المساجد باب من احق بالامامۃ؟ حدیث :673۔ وصحیح البخاری الاذان باب امامۃ العبدوالمولی قبل حدیث 692۔]

احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ امامت میں مقدم وہ ہوگا جو قرآن بہتر پڑھتا ہو اور نماز کے مسائل جانتا ہو۔ عہدِ نبوی میں جس کے پاس قرآن زیادہ ہوتا، وہ دینی مسائل میں بھی زیادہ فقیہ ہوتا تھا۔

② علمِ دین میں زیادہ عالم

اگر قراءت میں سب برابر ہوں تو امامت کا حق دار وہ ہوگا جو دین اور سنت کے علم میں زیادہ ماہر ہو، کیونکہ اس میں قراءت اور فقہ دونوں خوبیاں جمع ہو جاتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

"فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ”
"اگر قراءت میں برابر ہوں تو سنت یعنی علمِ دین کا زیادہ عالم امامت کا مستحق ہے۔” [صحیح مسلم المساجد باب من احق بالامامۃ؟ حدیث :673۔]

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نماز میں پیش آنے والے مسائل غیر محدود ہیں، اور نمازی کو فقہی رہنمائی کی ضرورت قراءت کے مقابلے میں زیادہ پڑتی ہے۔

③ ہجرت میں قدیم ہونا

اگر قراءت اور علم میں سب برابر ہوں تو جس کی ہجرت زیادہ قدیم ہو وہ مقدم ہوگا:

"فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً”
"جب قراءت و فقہ میں برابر ہوں تو اس شخص کو امام بنایا جائے جس کی ہجرت زیادہ قدیم ہے۔” [صحیح مسلم المساجد باب من احق بالامامۃ؟ حدیث :673۔]

ہجرت سے مراد کفر و شرک کے ماحول کو چھوڑ کر اسلامی ماحول میں منتقل ہونا ہے۔

④ عمر میں بڑا ہونا

اگر قراءت، فقہ اور ہجرت میں سب برابر ہوں تو عمر میں بڑا شخص امامت کا زیادہ حق دار ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

"تم میں سے بڑا شخص تمھارا امام ہے۔” [صحیح البخاری الاذان من قال مؤذن فی السفر مؤذن واحد حدیث:628۔وصحیح مسلم المساجد باب من احق بالامامۃ؟ حدیث :674۔]

اس کی وجہ یہ ہے کہ بڑی عمر اسلام میں فضیلت کا سبب ہے، عموماً خشوع بڑھ جاتا ہے اور دعا کی قبولیت کی امید بھی زیادہ ہوتی ہے۔

ترتیب کی جامع دلیل

سیدنا ابو مسعود بدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ، فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ سِلْمًا وفي رواية فَأَكْبَرُهُمْ سِنًّا ، وَلَا يَؤُمَّنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ، وَلَا يَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ”
"(اولاً) وہ شخص قوم کی امامت کرائے جو سب سے زیادہ قرآن مجید پڑھا ہوا ہے، اگر قراءت میں برابر ہوں تو پھر جو شخص سنت یعنی دین کا فہم زیادہ رکھتا ہو، اگر فہم میں برابر ہوں تو جس کی ہجرت قدیم ہو، اگر ہجرت میں برابر ہوں تو جس کا اسلام مقدم ہو۔” [صحیح مسلم المساجد باب من احق بالامامۃ؟ حدیث :673۔]

ایک روایت میں "ایمان” کے بجائے "عمر” کا ذکر آیا ہے، یعنی جس کی عمر زیادہ ہو۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب و سنت کے علم والے کو ترجیح دی، اگر علم میں برابر ہوں تو عملِ صالح میں جو بڑھ کر ہو وہ مقدم ہوگا، اور اختیار کے ساتھ عمل میں سبقت کرنے والا “مہاجر” عمر رسیدہ پر ترجیح پائے گا۔ [مجموع الفتاوی لشیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ 23/386۔]

کچھ مزید حقوق جن کی وجہ سے امامت میں ترجیح ہوگی

یہاں کچھ اور صفات و اعتبارات بھی ہیں جن کی بنا پر بعض لوگوں کو امامت میں حاضرین پر ترجیح دی جائے گی، اگرچہ حاضرین میں کوئی افضل بھی موجود ہو:

① مسجد کا مقرر امام (جب وہ اہلیت رکھتا ہو) موجود ہو تو کسی اور کو مصلیٰ پر کھڑا ہونا مناسب نہیں، الا یہ کہ مقرر امام اجازت دے۔
② گھر کا مالک اگر اہلیت رکھتا ہو تو گھر میں امامت اسی کا حق ہے، مگر یہ کہ وہ کسی اور کو اجازت دے۔
③ سلطان (ملک کا سربراہ) یا اس کا نائب موجود ہو اور اہلیت رکھتا ہو تو امامت میں وہ مقدم ہوگا، مگر یہ کہ وہ اجازت دے دے۔

ان امور پر دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

"وَلَا يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي سُلْطَانِهِ وَلَا يُجْلَسُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ”
"کوئی شخص کسی دوسرے کی سلطنت میں اس کی اجازت کے بغیر امامت نہ کرائے، اور نہ اس کے گھر میں اس کی عزت کی جگہ پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھے۔” [صحیح مسلم المساجد باب من احق بالامامۃ ؟ حدیث :673وسنن ابی داؤد الصلاۃ باب من احق بالامامۃ حدیث :582۔]

امام خطابی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مالکِ مکان امامت کا زیادہ حق دار ہے، بشرطیکہ وہ قراءت اور دینی علم رکھتا ہو۔ [معالم السنن شرح سنن ابی داؤد للامام الخطابی 1/145تحت حدیث 190۔]

اسی طرح سلطان کا مقرر کردہ امام یا اس کا نائب یا اہلِ مسجد جس پر متفق ہوں، امامت میں زیادہ حق دار ہے کیونکہ یہ خاص عہدہ ہے۔ ان کی موجودگی میں دوسرے کا مصلیٰ پر کھڑا ہونا بدگمانی اور نفرت کا سبب بن سکتا ہے۔

امامت کا مقام و مرتبہ اور دین میں اس کی حیثیت

گزشتہ گفتگو سے واضح ہوتا ہے کہ امامت اسلام میں شرف اور بلند مقام رکھتی ہے۔ نماز کا امام (صرف دو رکعت کا امام نہیں) دینی قائد ہوتا ہے۔ امامت خیر و نیکی میں سبقت کا ذریعہ ہے، جماعت سے وابستہ رکھنے اور امیر کی اطاعت میں معاون ہے۔ امامت کے ذریعے مساجد آباد رہتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے دعا کے ضمن میں یہ مضمون بھی ذکر فرمایا ہے:

﴿ وَالَّذينَ يَقولونَ رَبَّنا هَب لَنا مِن أَزو‌ٰجِنا وَذُرِّيّـٰتِنا قُرَّةَ أَعيُنٍ وَاجعَلنا لِلمُتَّقينَ إِمامًا ﴿٧٤﴾﴾
"اور وہ لوگ جو یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیز گاروں کا پیشوا بنا۔” [الفرقان 25۔74۔]

حقیقت میں نماز کی امامت دین کی امامت ہے، بالخصوص جب امام وعظ و نصیحت میں بھی اپنی توانائیاں صرف کرتا ہو تو وہ اللہ کی طرف بلانے والوں میں شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَمَن أَحسَنُ قَولًا مِمَّن دَعا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صـٰلِحًا وَقالَ إِنَّنى مِنَ المُسلِمينَ ﴿٣٣﴾﴾
"اور اس سے زیادہ اچھی بات والا کون ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک کام کرے اور کہے کہ میں یقیناً مسلمانوں میں سے ہوں۔” [حم السجدہ 41۔33۔]

اسی لیے امامت کی ذمہ داری سے وہی شخص زیادہ اعراض کرتا ہے جو محروم نصیب ہو۔ "ولاحول ولاقوة الا بالله”

جو شخص امامت کا مستحق نہیں

امامت بہت بڑی دینی ذمہ داری ہے۔ جیسے اہلیت کی صفات ضروری ہیں، ویسے ہی یہ بھی ضروری ہے کہ امام ان عیوب و نقائص سے پاک ہو جو منصبِ امامت کے شایانِ شان نہیں۔

فاسق کو امام بنانا

فاسق کو امام مقرر کرنا ہرگز درست نہیں۔ فاسق وہ ہے جو شرک کے علاوہ کبیرہ گناہوں کے ارتکاب سے تقویٰ و استقامت کے دائرے سے نکل جائے۔

فسق کی دو قسمیں ہیں:

فسقِ عملی: زنا، چوری، شراب نوشی وغیرہ کبیرہ گناہ۔
فسقِ اعتقادی: عقائد میں خرابی، جیسے رافضہ، معتزلہ اور جہمیہ کے عقائد میں بگاڑ۔

ایسے شخص پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِن جاءَكُم فاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنوا … ﴿٦﴾﴾
"اے مسلمانو! اگر تمھیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو۔” [الحجرات6/69۔]

اس آیت کی روشنی میں نماز کی شرائط و احکام کے معاملے میں فاسق پر اعتماد ممکن نہیں، کیونکہ وہ دوسروں کے لیے بری مثال بن جاتا ہے اور دینی ذمہ داری دینے میں بہت سی خرابیاں پوشیدہ ہیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

"لا تَؤُمَّنَّ امْرَأَةٌ رَجُلاً وَلا يَؤُمَّ أَعْرَابِيٌّ مُهَاجِرًا وَلا يَؤُمَّ فَاجِرٌ مُؤْمِنًا إِلا أَنْ يَقْهَرَهُ بِسُلْطَانٍ يَخَافُ سَيْفَهُ وَسَوْطَهُ "
"کوئی عورت مرد کی، اعرابی مہاجر کی، اور فاجر شخص مومن کی امامت نہ کرائے، سوائے اس کے کہ وہ قوت و غلبہ سے مجبور کر دے اور اس کی طرف سے ظلم کا خوف ہو۔” [(ضعیف) سنن ابن ماجہ اقامۃ الصلوات باب فی فرض الجمعۃ حدیث:1081۔]

حدیث کے الفاظ "فاجر شخص مومن کی امامت نہ کرائے” محلِ شاہد ہیں۔

فاسق کے پیچھے نماز پڑھنا ممنوع ہے، لہٰذا طاقت و اختیار ہوتے ہوئے اسے امام بنانا درست نہیں۔ حکام پر لازم ہے کہ فاسق کو امام مقرر نہ کریں۔ فاسق کے پیچھے نماز کی صحت میں بھی علماء کا اختلاف ہے، اس لیے لوگوں کو اس فتنے سے بچانا چاہیے۔

عاجز شخص کی امامت

جو شخص رکوع، سجدہ یا بیٹھنے سے عاجز ہو اسے امام بنانا درست نہیں، الا یہ کہ مقتدی بھی انہی ارکان یا شرط سے عاجز ہوں۔ اسی طرح کھڑے ہونے سے عاجز شخص کا تندرست کی امامت کرانا درست نہیں، مگر یہ کہ وہ مسجد کا مقرر امام ہو اور شفا کی امید ہو، تو اس کی اقتدا میں نماز جائز ہے، اور ایسی صورت میں مقتدی بیٹھ کر نماز ادا کریں گے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے:

"صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاكٍ، فَصَلَّى جَالِسًا وَصَلَّى وَرَاءَهُ قَوْمٌ قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ، فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ، فَارْفَعُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا”
"ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکلیف کی حالت میں گھر میں بیٹھ کر نماز شروع کی، صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین آپ کے پیچھے کھڑے تھے تو آپ نے انھیں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ نماز کے بعد فرمایا: امام اقتدا کے لیے بنایا جاتا ہے، جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو، اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔” [صحیح البخاری الاذان باب جعل الامام لیؤتم بہ حدیث 688وصحیح مسلم الصلاۃ باب آئمام الماموم بالامام حدیث: 412۔]

اگر امام کسی کو اپنا نائب بنا دے جو کھڑے ہو کر نماز پڑھائے تو یہ زیادہ بہتر ہے، اور اختلاف سے بھی بچاؤ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امامت کے لیے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نائب مقرر کیا تھا۔ [صحیح البخاری الاذان باب حد المریض ان یشہد الجماعۃ حدیث:664۔]

الغرض! دونوں صورتوں کا جواز ثابت ہے۔

معذورِ طہارت (سلسل البول وغیرہ) کی امامت

جو شخص ایسی بیماری میں مبتلا ہو کہ اس کا وضو برقرار نہیں رہتا، مثلاً: سلسل البول یا ہوا خارج ہونے کا مرض، تو اس کی امامت درست نہیں، کیونکہ اس کی نماز میں تندرست کے مقابلے میں ایسا خلل ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں۔ اس کی نماز اپنی مجبوری کی وجہ سے درست ہے، مگر تندرست مقتدیوں کی امامت درست نہیں، الا یہ کہ مقتدی بھی اسی عذر میں مبتلا ہوں۔ [اس سلسلے میں دوسرا موقف یہ ہے کہ ایسے شخص کے پیچھے تندرست شخص کی نماز درست ہے کیونکہ جب اس کی اپنی نماز درست ہے تو مقتدی کی نماز بھی درست ہے۔ دیکھیے تمام المنۃ للا لبانی ص 280۔ولسیل الجرار للشو کانی 1/247۔255۔(ع۔د)]

امام کی بے وضو/نجاست والی حالت کا حکم

اگر کسی نے ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھی جو بے وضو تھا یا اس کے بدن/کپڑے/جائے نماز پر نجاست تھی، اور دونوں کو نماز کے اختتام تک خبر نہ ہوئی، تو مقتدی کی نماز درست ہوگی، جبکہ امام کی نہیں۔ حدیث میں وارد ہے:

"جب کوئی جنبی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ دوبارہ نماز پڑھے جبکہ مقتدی کی نماز مکمل اور صحیح ہے۔” [(ضعیف) جداً) سنن الدارقطنی 1/362۔363۔حدیث 1352۔1353۔]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ خلفائے راشدین نماز کے بعد کبھی جنابت کے آثار دیکھتے تو خود اعادہ کر لیتے، مگر لوگوں کو اعادہ کا حکم نہ دیتے۔ [سنن الدارقطنی: 1/363۔حدیث 1356۔1357۔مجموع الفتاوی لشیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ 23/369۔]

اگر امام یا مقتدی کو نماز کے دوران عدمِ طہارت یا نجاست کا علم ہو جائے تو ہر ایک کی نماز باطل ہوگی۔ [بعض علماء کی رائے کے مطابق مقتدیوں کی نماز باطل نہ ہو گی باقی رہا امام تو وہ کسی کو اپنا نائب بنا دے جو نماز مکمل کرائے اور خود الگ ہو جائے۔”]

ان پڑھ/غلط قراءت کرنے والے کی امامت

ایسے شخص کی امامت درست نہیں جسے سورۃ فاتحہ صحیح طرح یاد نہ ہو، یا یاد ہو مگر فاش غلطیاں کرتا ہو، مثلاً:

◈ ( إِيَّاكَ) کے کاف پر زیر پڑھ دے
◈ (أَنْعَمْتَ) کی تا پر پیش لگا دے
◈ (اهْدِنَا) کے ہمزہ پر زبر پڑھ دے
◈ یا حرف کو دوسرے حرف سے بدل دے، جیسے "را” کو "غین” یا "لام” پڑھ دے
◈ یا "سین” کو "تا” یا "شین” پڑھ دے

ایسے ان پڑھ امام کی امامت صرف اسی جیسے لوگوں کے لیے درست ہوگی جو اس کی اصلاح نہ کر سکتے ہوں، کیونکہ دونوں برابر ہیں۔ لیکن اگر وہ اصلاح کر سکتا ہو اور کوشش نہ کرے تو نہ اس کی نماز درست ہے نہ مقتدی کی، کیونکہ وہ قدرت کے باوجود ایک رکن (قراءت) چھوڑ رہا ہے۔

جس امام کو لوگ معقول وجہ سے ناپسند کریں

اگر اکثر لوگ کسی امام کو معقول وجہ کی بنا پر ناپسند کرتے ہوں—مثلاً اس میں دینی کمزوریاں ہوں—تو اس کی امامت مکروہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"ثَلَاثَةٌ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ آذَانَهُمْ الْعَبْدُ الْآبِقُ حَتَّى يَرْجِعَ وَامْرَأَةٌ بَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَلَيْهَا سَاخِطٌ وَإِمَامُ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ”
"تین شخص ایسے ہیں کہ ان کی نماز ان کے کانوں سے اوپر نہیں جاتی: بھاگنے والا غلام جب تک واپس نہ آئے، وہ عورت جو رات اس حال میں گزارے کہ شوہر اس پر ناراض ہو، اور قوم کا وہ امام جسے وہ ناپسند کرتے ہوں۔” [جامع الترمذی الصلاۃ باب ماجاء فی من ام قوما وھم لہ کارھون حدیث :360۔]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جس امام کو لوگ دینی کمزوریوں کی وجہ سے ناپسند کریں—مثلاً جھوٹ، ظلم، جہالت یا بدعت—تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی، اور اگر کوئی بہتر متبادل موجود ہو تو پہلے کو معزول کرکے بہتر شخص کو امام مقرر کرنا ضروری ہے، بلکہ بہتر یہ ہے کہ وہ خود ہی الگ ہو جائے، ورنہ اس کی اپنی نماز قبول نہ ہوگی۔ [سنن ابی داؤد الصلاۃ باب الرجل یؤم القوم وھم لہ کارھون حدیث593۔ومجموع الفتاوی لشیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ 23/373۔]

شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ مزید لکھتے ہیں کہ اگر امام اور مقتدیوں کے درمیان شدید مسلکی اختلاف ہو تو وہ ان کی امامت نہ کرائے، کیونکہ جماعت کا مقصد جوڑنا ہے توڑنا نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

"لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ”
"نماز میں ایک دوسرے سے ہٹ کر (یا آگے پیچھے) کھڑے نہ ہوا کرو، ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا۔” [صحیح مسلم الصلاۃ باب تسویہ الصفوف وافامتھا حدیث :432۔]

البتہ اگر امام متدین ہو، کتاب و سنت کا حامل و عامل ہو اور لوگ اسی وجہ سے اسے ناپسند کرتے ہوں تو ایسے امام کے لیے امامت مکروہ نہیں، غلطی ناپسند کرنے والوں کی ہے۔

بہر حال امام اور مقتدیوں کے درمیان محبت و احترام ضروری ہے تاکہ تقویٰ و نیکی میں تعاون ہو۔ اگر خواہش پرستی اور شیطانی اغراض کی وجہ سے بغض پیدا ہو گیا ہو تو اسے ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ امام کی ذمہ داری ہے کہ مقتدیوں کے حقوق کا خیال رکھے، انھیں مشکل میں نہ ڈالے، اور جائز مطالبات کا احترام کرے۔ مقتدیوں کی ذمہ داری ہے کہ امام کے حقوق ادا کریں، اس کی عزت کریں۔

ہر انسان سے بھول چوک ہو جاتی ہے، اس لیے ایک دوسرے کو برداشت کرنا چاہیے اور ایسی معمولی کمزوری سے درگزر کرنا چاہیے جس سے دین و مروت میں خلل نہ آئے۔

وَمَن ذا الَّذي تُرضى سَجاياهُ كُلُّها
كَفى المَرءَ نُبلاً أَن تُعَدَّ مَعايِبُهْ

"بھلا ایسا کوئی شخص ہے جس کی تمام عادات و اطوار سے ہر شخص خوش ہو، کسی شخص کے بڑا ہونے کے لیے یہی بات کافی ہے کہ اس کے عیوب شمار کر لیے جائیں۔”

ہم اللہ تعالیٰ سے ہدایت اور توفیقِ خیر کی دعا کرتے ہیں۔

امام کی ذمہ داریاں

امام ضامن ہے، اس لیے نماز کے متعلق اس پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اگر وہ اسے خوش اسلوبی سے نبھائے تو اس میں بہت بڑی بھلائی ہے۔ امامت کی فضیلت معروف ہے، اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین نے اختیار کیا اور بہترین لوگوں کو منتخب فرمایا۔

حدیث میں ہے:

ثلاثة على كثبان المسك يوم القيامة
رجل أمَّ قوما وهم له راضون
"روز قیامت تین آدمی کستوری کے ٹیلوں پر ہوں گے۔ ایک وہ شخص جو قوم کا امام رہا اور وہ اس پر خوش تھے۔” [(ضعیف) جامع الترمذی البرو الصلہ باب ماجاء فی فضل المملوک الصالح حدیث:1086۔]

ایک روایت میں ہے:

"وله مثل أجر من صلى معه”
"امام کو اتنا اجر ملے گا جتنا اس کے پیچھے نماز پڑھنے والے مقتدیوں کو ملے گا۔” [سنن النسائی الاذان باب رفع الصوت بالاذان حدیث 647۔]

اگر کوئی اپنے آپ کو امامت کے لائق سمجھے تو وہ یہ ذمہ داری طلب بھی کر سکتا ہے۔ چنانچہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی:

"اجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِي ، قَالَ : ” أَنْتَ إِمَامُهُمْ ، وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِهِمْ "
"مجھے میری قوم کا امام مقرر کر دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج سے تو ان کا امام ہے، کمزوروں کا خیال رکھنا۔” [سنن ابی داؤد الصلاۃ باب اخذ الاجر علی التاذین حدیث 531۔]

اس کی تائید قرآن کی اس دعا سے بھی ہوتی ہے:

﴿وَاجعَلنا لِلمُتَّقينَ إِمامًا ﴿٧٤﴾﴾
"اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا۔” [الفرقان:25۔74۔]

جس پر امامت کی ذمہ داری ہو، اسے چاہیے کہ اسے اہمیت دے اور استطاعت کے مطابق حق ادا کرے۔ وہ مقتدیوں کے حالات کا خیال رکھے، انھیں دشواری میں نہ ڈالے، رغبت دلائے، نفرت نہ پیدا کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"إذا صلى أحدكم للناس فليخفف فإنه منهم الضعيف والسقيم والكبير وإذا صلى أحدكم لنفسه فليطول ما شاء”
"جب کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو تخفیف کرے، کیونکہ ان میں ضعیف، بیمار اور بوڑھے بھی ہوتے ہیں، اور جب اکیلا نماز پڑھے تو جتنی چاہے لمبی کرے۔” [صحیح البخاری الاذان باب اذا صلی لنفسہ فلیطول ما شاء حدیث703۔ وصحیح مسلم الصلاۃ باب امر الائمہ یتخفیف الصلاۃ فی تمام حدیث:467۔وسنن ابی داؤد حدیث 794۔795۔]

سیدنا ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے صحیحین میں ہے:

"يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ , فَمَنْ أَمَّ النَّاسَ فَلْيَتَجَوَّزْ ؛ فَإِنَّ خَلْفَهُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ "
"اے لوگو! تم میں سے بعض لوگ نفرت پیدا کرتے ہیں، جو شخص لوگوں کی امامت کرائے وہ اختصار کرے، کیونکہ اس کے پیچھے ضعیف، بوڑھے اور ضرورت مند ہوتے ہیں۔” [صحیح البخاری الاذان باب من شکا امامۃ اذا طول حدیث 704وصحیح مسلم الصلاۃ باب امر الائمہ یتخفیف الصلاۃ فی تمام حدیث:466۔]

ایک صحابی بیان کرتے ہیں:

"مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ قَطُّ أَخَفَّ صَلَاةً وَلَا أَتَمَّ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ”
"میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جیسی مختصر اور مکمل نماز پڑھی، ایسی نماز کسی اور کے پیچھے نہیں پڑھی۔” [صحیح البخاری الاذان باب من اخف الصلاۃ عند بکاء الصبی حدیث708۔وصحیح مسلم الصلاۃ باب امر الائمہ یتخفیف الصلاۃ فی تمام حدیث:469۔]

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ اپنائے وہ مقتدیوں کو نماز لمبی ہونے کی شکایت کا موقع نہیں دے گا۔ [فتح الباری شرح صحیح البخاری 2/260۔]

تخفیف سے مراد یہ ہے کہ نماز مختصر بھی ہو اور ارکان، واجبات اور سنن بھی مکمل ہوں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تھی۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ نماز مقتدیوں کی خواہش کے تابع ہو۔

بعض علماء کے نزدیک تخفیف کا مطلب یہ ہے کہ کمال کے ادنیٰ درجے پر اکتفا ہو، جیسے رکوع و سجدہ میں تین تسبیحات، لیکن اگر مقتدی متفق ہوں کہ لمبی نماز چاہتے ہیں تو قیام لمبا کرنے میں حرج نہیں، کیونکہ اب نفرت کا اندیشہ نہیں۔

امام ابن دقیق العید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ فقہاء کا یہ کہنا کہ رکوع و سجدہ میں تین سے زیادہ تسبیحات نہ کہی جائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل کے خلاف نہیں کہ آپ کبھی تین سے زیادہ بھی کہتے تھے، کیونکہ صحابہ میں اجر کے حصول کا جذبہ بہت بلند تھا۔ [فتح الباری 2/199۔تحت الحدیث :702۔]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ امام قراءت و تسبیحات کو مسنون مقدار سے زیادہ نہ کرے، مگر حالات کے مطابق کبھی کبھار زیادہ وقت بھی لگایا جا سکتا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ایسا کرتے تھے۔ [الفتاوی الکبری ال بن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ الاختیارات العلمیہ باب صلاۃ الجماعۃ5/347۔]

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق قراءت کی مقدار میں احادیث کا اختلاف مختلف احوال کے اعتبار سے ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقتدیوں کی حالت دیکھتے، اگر لمبائی چاہتے تو لمبا کرتے، اور اگر اختصار چاہتے تو مختصر کر دیتے۔ کبھی بچہ روتا تو نماز مختصر کر دیتے، جیسا کہ روایات میں آیا ہے۔

امام کو اتنی جلدی نماز نہیں پڑھانی چاہیے کہ مقتدی امام کے ساتھ مسنون ارکان مثلاً سورۃ فاتحہ اور رکوع و سجدہ کی تسبیحات ادا نہ کر سکیں۔ قراءت ٹھہر ٹھہر کر کرے اور رکوع و سجدہ میں تسبیحات کا موقع دے۔

یہ بھی سنت ہے کہ امام پہلی رکعت لمبی کرے۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت لمبی کرتے تھے۔ [صحیح البخاری الاذان باب القراء فی الظہر حدیث: 759۔ وصحیح مسلم الصلاۃ باب القراء فی الظہر حدیث 451۔452۔]

جب امام رکوع میں ہو اور اسے محسوس ہو کہ کوئی شخص جماعت میں شامل ہو رہا ہے تو مستحب ہے کہ رکوع قدرے لمبا کر دے تاکہ وہ رکوع پا لے۔ سیدنا ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے:

"كَانَ يَقُومُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ حَتَّى لَا يُسْمَعَ وَقْعُ قَدَمٍ”
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی رکعت میں دیر تک کھڑے رہتے حتیٰ کہ جماعت میں شامل ہونے والوں کے قدموں کی آہٹ ختم ہو جاتی۔” [(ضعیف) سنن داؤد الصلاۃ باب القراء فی الظہر حدیث: 802۔ ومسند احمد 4/356فاضل مصنف رحمۃ اللہ علیہ نے جو دلیل پیش کی ہے اس سے ان کا رکوع لمبا کرنے کا دعوی ثابت نہیں ہو تا بلکہ قیام کرنا ثابت ہوتا ہے۔]

لیکن یہ تب ہے جب مقتدیوں پر انتظار بھاری نہ گزرے اور وقت بہت زیادہ لمبا نہ ہو، ورنہ ان کی رعایت مقدم ہوگی۔

الغرض! امام پر لازم ہے کہ مقتدیوں کے حالات اور مزاج کا لحاظ رکھے، کامل اور درست نماز پڑھائے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات پر عمل کرے۔ اس میں سب کے لیے خیر ہے۔

آج بعض ائمہ امامت کی ذمہ داری میں کوتاہی کرتے ہیں: اکثر غیر حاضر رہتے ہیں یا دیر سے آتے ہیں، جس سے نمازیوں میں پریشانی اور نفرت پیدا ہوتی ہے، اور امام کی سستی دوسروں کے لیے بھی دلیل بن جاتی ہے۔ ایسے امام کو سمجھانا چاہیے تاکہ باقاعدگی اختیار کرے، اور اگر اصلاح نہ کرے تو اسے منصبِ امامت سے معزول کر دینا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں وہ اعمال نصیب فرمائے جو اسے محبوب اور پسند ہوں۔ آمین!

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب