الیاس گھمن صاحب کے رفع یدین نہ کرنے کے دلائل کا جواب

فونٹ سائز:
یہ اقتباس محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمه الله کی کتاب نور العینین فی اثبات رفع الیدین عند الرکوع و بعدہ فی الصلٰوۃ سے ماخوذ ہے۔

الیاس گھمن صاحب کے رفع یدین نہ کرنے کا جواب

محمد الیاس گھمن صاحب دیوبندی نے ایک اشتہار شائع کیا ہے:
نماز میں رفع یدین نہ کرنے کے دلائل!
اس اشتہار میں گھمن صاحب نے اپنے زعم میں دس دلائل پیش کیے ہیں، ان مزعومہ دلائل میں سے ایک ”دلیل“ بھی اپنے مدعا پر صحیح نہیں اور نہ امام ابو حنیفہ سے ان مزعومہ دلائل کے ساتھ استدلال درست ہے۔
درج ذیل تحقیقی مضمون میں ان گھمنی دلائل کو ذکر کر کے ان کا جواب پیش خدمت ہے:
الیاس گھمن صاحب کے رفع یدین نہ کرنے کے دلائل کا جواب – Screenshot_1
گھمن صاحب نے اپنی پہلی ”دلیل“ میں سورہ مومنون کی دو پہلی آیات لکھی ہیں، جن میں (رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد والے) ترک رفع الیدین کا نام ونشان تک نہیں اور پھر سیدنا بن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنہما کا حوالہ پیش کیا گیا ہے، حالانکہ یہ تفسیر سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی ثابت نہیں بلکہ اس کا مرکزی راوی محمد بن مروان السدی الصغیر کذاب ہے اور باقی سند بھی سلسلۃ الکذب ہے۔
آل دیوبند کے ”شیخ الاسلام “محمد تقی عثمانی دیوبندی نے فتویٰ دیتے ہوئے لکھا ہے:
رہے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سو اگر چہ وہ باتفاق مفسرین کے امام ہیں، لیکن اول تو ان کی تفسیر کتابی شکل میں کسی صحیح سند سے ثابت نہیں ہے، آج کل ”تنویر المقباس“ کے نام سے جو نسخہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف منسوب ہے اس کی سند سخت ضعیف ہے، کیونکہ یہ نسخہ محمد بن مروان السدی الصغیر عن الکلبی عن ابی صالح کی سند سے ہے، اور اس سلسلہ سند کو محدثین نے” سلسلۃ الکذب“ قرار دیا ہے۔ (فتاوی عثمانی ج 1 ص 215)
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے میری کتاب تحقیقی مقالات (ج 3 ص 410-408، 505-503) اور نور العینین (طبع جدید ص 238-246)
اس موضوع اور من گھڑت کتاب کے مقابلے میں یہ ثابت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔
(دیکھیے جزء رفع الیدین للبخاری: 21، اور نور العینین ص 246)
الیاس گھمن صاحب کے رفع یدین نہ کرنے کے دلائل کا جواب – Screenshot_2
اس روایت کی سند دو وجہ سے ضعیف ہے:
اول: امام سفيان بن سعید بن مسروق الثوری رحمہ اللہ ثقہ عابد ہونے کے ساتھ مدلس بھی تھے، جیسا کہ حسین احمد مدنی دیوبندی نے کہا:
اور سفيان تدلیس کرتا ہے۔ الخ (تقریر ترمذی اردو ص 391 ،ترتیب محمد عبد القادر قاسمی دیوبندی)
ابن الترکمانی حنفی نے ایک روایت کے بارے میں لکھا ہے:
الثوري مدلس و قد عنعن.
ثوری مدلس ہیں اور انھوں نے یہ روایت عن سے بیان کی ہے۔ (الجوہر النقی ج 8 ص 362)
امام سفيان ثوری کو ماسٹر امین اوکاڑوی نے بھی مدلس قرار دیا ہے۔ (دیکھیے تجلیات صفدر ج 5 ص 470)
یہ روایت عن سے ہے اور اصولِ حدیث کا مشہور مسئلہ ہے کہ مدلس کی عن والی روایت ضعیف ہوتی ہے۔ (مثلاً دیکھیے نزھۃ النظر شرح نخبۃ الفکر ص 66 مع شرح الملا علی القاری ص 419)
دوم : اس روایت کو جمہور محدثین نے ضعیف، خطا اور وہم وغیرہ قرار دیا ہے، جن میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں:
عبد اللہ بن المبارک، شافعی، احمد بن حنبل، ابو حاتم الرازی، دارقطنی، ابن حبان، ابو داود السجستانی، بخاری، عبدالحق اشبیلی، حاکم نیشاپوری اور بزار وغیرہم۔ (دیکھیے نور العینین ص 130-134)
الیاس گھمن صاحب کے رفع یدین نہ کرنے کے دلائل کا جواب – Screenshot_3
امام ابو نعیم سے لے کر امام ابو حنیفہ تک اس روایت کے سارے راوی: ابوالقاسم بن بالوی النیسابوری، بکر بن محمد بن عبد اللہ الحبال الرازی علی بن محمد بن روح بن ابی الحرش المصیصی، محمد بن روح اور روح بن ابی الحرش (چھ کے چھ) سب مجہول ہیں، لہذا یہ سند مردود ہے۔ (دیکھیے مسند ابی حنیفہ لابی نعیم الاصبہانی ص 156، ارشیف ملتقی اہل الحدیث عدد 4 ج 1 ص 926 تحقیقی مقالات ج 3 ص 123)
تنبیہ: گھمن صاحب نے روایت مذکورہ میں سنن ابی داود (ج 1 ص 116) کا بھی حوالہ دیا ہے، حالانکہ سنن ابی داود میں امام ابو حنیفہ کی طرف منسوب یہ روایت قطعاً موجود نہیں، بلکہ ساری سنن ابی داود میں ابو حنیفہ کا نام ونشان تک موجود نہیں۔
سنن ابی داود میں سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب دوسری روایت دو سندوں سے موجود ہے، جس کی ایک سند میں یزید بن ابی زیاد جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف راوی ہے اور دوسری سند میں محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلی جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔ (دیکھیے تحقیقی مقالات ج 3 ص 123)
معلوم نہیں کہ دیوبندیوں کی ”قسمت“ میں اتنی زیادہ ضعیف، مردود اور موضوع روایات کیوں ہیں یا انھیں ایسی روایات جمع کرنے اور ان سے استدلال کا والہانہ جنون ہے؟!
صحیح احادیث کو چھوڑ کر ضعیف و مردود روایات کی طرف جانے والے آل تقلید کسی زعم باطل میں اہل حدیث کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں؟
اعلان: اگر الیاس گھمن صاحب اور ان کے جعلی ذہبئی دوران سب مل کر امام ابو حنیفہ کی طرف منسوب یہ روایت اس سند کے ساتھ سنن ابی داود سے حوالہ نکال کر پیش کر دیں تو ان کے نام صحیحین اور سنن اربعہ کا تحفہ روانہ کر دیا جائے گا۔ ہمت کریں!
الیاس گھمن صاحب کے رفع یدین نہ کرنے کے دلائل کا جواب – Screenshot_4
اس استدلال میں الیاس گھمن صاحب نے سات غلطیاں کی ہیں:
اول: جس نسخے کا حوالہ دیا گیا ہے وہ حبیب الرحمن اعظمی دیوبندی کا شائع کردہ نسخہ ہے، جبکہ ملک شام سے مسند حمیدی کا جو نسخہ شائع کیا گیا ہے اس میں یہ عبارت نہیں بلکہ رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد والے رفع یدین کا اثبات ہے۔ (دیکھیے مسند حمیدی ج 1 ص 515-626)
دوم: مسند حمیدی کے قدیم قلمی نسخوں میں یہ عبارت موجود نہیں، بلکہ رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد والے رفع یدین کا اثبات ہے۔ (دیکھیے نور العینین ص 70-71)
سوم: امام سفيان بن عیینہ رحمہ اللہ کی یہی روایت صحیح مسلم میں رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد والے رفع یدین کے اثبات سے موجود ہے۔ (دیکھیے صحیح مسلم: 390)
چہارم: اس حدیث کے مرکزی راوی سفيان بن عیینہ رحمہ اللہ سے رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع یدین باسناد صحیح ثابت ہے۔ (دیکھیے سنن ترمذی: 256 تحقیق احمد شاکر رحمہ اللہ)
پنجم: المستخرج لابی نعیم الاصبہانی میں یہی حدیث امام حمیدی کی سند سے رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع یدین کے اثبات سے موجود ہے۔ (دیکھیے ج 2 ص 12)
مزید تفصیل کے لیے نور العینین (ص 64-76) کا مطالعہ مفید ہے۔
ششم: مسند ابی عوانہ والے مطبوعہ نسخے سے واو رہ گئی ہے اور صحیح مسلم میں واو موجود ہے، جس سے رفع یدین کا اثبات ہوتا ہے۔ (دیکھیے نور العینین ص 76-81)
ہفتم: مسند ابی عوانہ کے قلمی نسخے میں ”و“ موجود ہے، جس سے دیوبندی استدلال کا لک ٹوٹ جاتا ہے۔ (دیکھیے نور العینین ص 78-79)
مسند حمیدی اور مسند ابی عوانہ کے محرف نسخوں سے گھمنی استدلال کے مقابلے میں عرض ہے کہ صحیح بخاری اور دوسری کتابوں سے ثابت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔
حدیث السراج اور المخلصیات وغیرہ کتب حدیث سے ثابت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے جلیل القدر فقیہ بیٹے امام سالم بن عبد اللہ المدنی التابعی رحمہ اللہ بھی رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔ کیا گھمن صاحب اور ان کی ساری پارٹی امام سالم بن عبد اللہ بن عمر رحمہ اللہ سے ترک رفع یدین باسناد صحیح یا حسن لذاتہ ثابت کر سکتے ہیں؟!
الیاس گھمن صاحب کے رفع یدین نہ کرنے کے دلائل کا جواب – Screenshot_5الیاس گھمن صاحب کے رفع یدین نہ کرنے کے دلائل کا جواب – Screenshot_6
اس صحیح حدیث میں رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد والے رفع یدین کا ذکر نہیں، بلکہ محمود حسن دیوبندی ”اسیر مالٹا“ نے کہا:
”باقی اذناب خیل کی روایت سے جواب دینا بروئے انصاف درست نہیں کیونکہ وہ سلام کے بارے میں ہے کہ صحابہ فرماتے ہیں کہ ہم بوقت سلام نماز اشارہ بالید بھی کرتے تھے۔ آپ نے اس کو منع فرما دیا۔“ (الورد الشذی ص 63، تقریرات 65)
محمد تقی عثمانی دیوبندی نے کہا: لیکن انصاف کی بات یہ ہے کہ اس حدیث سے حنفیہ کا استدلال مشتبہ اور کمزور ہے ۔ (درس ترمذی 36/2)
ثابت ہوا کہ محمود حسن اور تقی عثمانی دونوں کے نزدیک الیاس گھمن صاحب بے انصاف ہیں۔
الیاس گھمن صاحب کے رفع یدین نہ کرنے کے دلائل کا جواب – Screenshot_7
صحیح بخاری کی اس حدیث میں رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع یدین کے ترک کا کوئی ذکر نہیں اور محمد قاسم نانوتوی (بانی مدرسہ دیوبند) نے لکھا ہے:
”مذکور نہ ہونا معدوم ہونے کی دلیل نہیں ہے … جناب مولوی صاحب معقولات کے طور پر تو اتنا ہی جواب بہت ہے کہ عدم الاطلاع یا عدم الذکر عدم الشے پر دلالت نہیں کرتا۔“ (ہدیۃ الشیعہ ص 199-200)
فائدہ: صحیح بخاری والی روایت دوسری سند سے سنن ابی داود اور سنن ترمذی وغیرہما میں رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد والے رفع یدین کے اثبات سے موجود ہے اور یہ سند صحیح ہے۔ والحمد للہ
الیاس گھمن صاحب کے رفع یدین نہ کرنے کے دلائل کا جواب – Screenshot_8
اس روایت کی سند میں محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف راوی ہے۔ (دیکھیے فیض الباری ج 3 ص 168)
ضعیف راویوں کی ضعیف و مردود روایات سے استدلال کرنا الیاس گھمن جیسے لوگوں کا ہی کام ہے۔
الیاس گھمن صاحب کے رفع یدین نہ کرنے کے دلائل کا جواب – Screenshot_9
یہ روایت کئی وجہ سے ضعیف و مردود ہے، مثلاً:
➊ اس کا بنیادی راوی محمد بن جابر جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف و مجروح ہے۔
حافظ ہیثمی نے فرمایا: وهو ضعيف عند الجمهور
(نور العینین ص 153، مجمع الزوائد 5/191)
➋ جمہور محدثین نے خاص اس روایت پر جرح کی مثلاً اہل سنت کے مشہور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ روایت منکر ہے۔
(کتاب العلل 1/144 رقم 701)
➌ الیاس گھمن صاحب نے روایت مذکورہ میں امام بیہقی کا حوالہ بھی لکھا ہے اور اسی حوالے میں امام بیہقی نے محمد بن جابر پر جرح نقل کر رکھی ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے نور العینین (ص 151-154)
الیاس گھمن صاحب کے رفع یدین نہ کرنے کے دلائل کا جواب – Screenshot_10
مدونہ کبری نا قابل اعتبار اور بے سند مروی کتاب ہے اور مسند زید اہل سنت کی کتاب نہیں بلکہ زیدی شیعوں کی من گھڑت کتاب ہے، لہذا یہ دونوں حوالے غلط اور مردود ہیں۔
تنبیہ: ابوبکر انہشالی والی روایت جو دوسری کتابوں میں ہے، وہ اس کے وہم وخطا کی وجہ سے ضعیف ہے۔ (دیکھیے نور العینین ص 165)
الیاس گھمن صاحب کے رفع یدین نہ کرنے کے دلائل کا جواب – Screenshot_11
مصنف ابن ابی شیبہ والی یہ روایت قاری ابوبکر بن عیاش رحمہ اللہ کے وہم وخطا کی وجہ سے ضعیف ہے اور دو وجہ سے مردود ہے:
● امام احمد بن حنبل، امام یحیی بن معین اور امام دار قطنی نے اس روایت کو وہم اور باطل وغیرہ قرار دیا اور کسی ایک قابل اعتماد محدث نے اس کی تصحیح نہیں کی اور اگر کسی چھوٹے سے محدث سے ثابت بھی ہو جائے تو جمہور کے مقابلے میں مردود ہے۔
● بہت سے ثقہ راویوں اور صحیح و حسن لذاتہ سندوں سے ثابت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نماز میں رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے، جن میں سے ان کے چند شاگردوں کے حوالے درج ذیل ہیں:
امام نافع المدنی رحمہ اللہ، امام محارب بن دثار الکوفی رحمہ اللہ، امام طاؤس بن کیسان الیمانی رحمہ اللہ، امام سالم بن عبد اللہ بن عمر المدنی رحمہ اللہ اور امام ابوالزبیر الکی رحمہ اللہ۔ (دیکھیے نور العینین ص 159)
ثقہ راویوں کے خلاف وہم و خطا والی روایت منکر و مردود ہوتی ہے۔
قارئین کرام! آپ نے دیکھ لیا کہ الیاس گھمن صاحب اور آل دیوبند کے پاس ترک رفع الیدین قبل الرکوع و بعدہ کی ایک صحیح یا حسن لذاتہ روایت نہیں ہے۔

◈رفع یدین پر خیر القرون میں مسلسل عمل:

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ نماز میں کھڑے ہوتے تو کندھوں تک رفع یدین کرتے، رکوع کرتے وقت بھی آپ اسی طرح کرتے تھے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اسی طرح کرتے تھے۔ (صحیح بخاری ج 1 ص 102 ح736، صحیح مسلم: 390)
اس حدیث کے راوی سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ شروع نماز، رکوع سے پہلے، رکوع کے بعد اور دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوتے تو رفع یدین کرتے تھے اور فرماتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ (صحیح بخاری: 739، شرح السنة للبغوی 3/21 ح 560 وقال: هذا حدیث صحیح)
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس حدیث کے راوی ان کے جلیل القدر بیٹے امام سالم بن عبد اللہ بن عمر رحمہ اللہ بھی شروع نماز، رکوع کے وقت اور رکوع سے اٹھنے کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔ (حدیث السراج 34/2-35 ح 115، وسنده صحیح)
و ما علينا إلا البلاغ
(21 نومبر 2011ء سرگودھا)