مضمون کے اہم نکات
قرآن مجید اور عقیدہ اُلوہیت مسیح علیہ السلام
① مسیحی جہاں سیدنا عیسی علیہ السلام کے ابن اللہ ہونے کا نظریہ رکھتے ہیں، وہاں انہیں تثلیث کا ایک جز بھی مانتے ہیں جبکہ قرآن مجید اس کی کھلے الفاظ میں تردید کرتا ہے۔ فرمانِ باری تعالی ہے:
﴿لَّقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ ۘ وَمَا مِنْ إِلَٰهٍ إِلَّا إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۚ وَإِن لَّمْ يَنتَهُوا عَمَّا يَقُولُونَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾
”بلا شبہ وہ لوگ کافر ہو چکے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں سے تیسرا ہے۔ حالانکہ اللہ تو صرف وہی اکیلا ہے اور اگر یہ لوگ اپنی باتوں سے باز نہ آئے تو ان میں سے جن لوگوں نے کفر کیا، انہیں ضرور دکھ دینے والا عذاب ہوگا ۔“
(5-المائدة:73)
دوسرے مقام پر اللہ تعالٰی اور مسیح علیہ السلام کے مابین اتحاد و حلول کی نفی کرتے ہوئے فرمایا:
﴿لَّقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ۚ قُلْ فَمَن يَمْلِكُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا إِنْ أَرَادَ أَن يُهْلِكَ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ۗ وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾
”یقیناً ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا کہ مسیح ابن مریم ہی اللہ ہے۔ آپ ان سے پوچھئے کہ: اگر اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم کو اور اس کی والدہ کو اور جو کچھ بھی زمین میں ہے، ان سب کو ہلاک کر دینا چاہے تو کس کی مجال ہے کہ وہ اللہ کو اس کے ارادہ سے روک سکے ؟ اور جو کچھ آسمانوں، زمین اور ان کے درمیان ہے، سب اللہ ہی کی ملکیت ہے۔ وہ جو کچھ چاہتا ہے، پیدا کرتا ہے، اور اللہ ہر چیز پر ہمیشہ سے قدرت رکھنے والا ہے۔ “
(5-المائدة:17)
② ان کے ابن اللہ ہونے کی قرآن کریم نے یوں نفی کی ، فرمایا:
﴿وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَٰنُ وَلَدًا . لَّقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا. تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا . أَن دَعَوْا لِلرَّحْمَٰنِ وَلَدًا .وَمَا يَنبَغِي لِلرَّحْمَٰنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا.﴾
”اور انہوں نے کہا، رحمان اولا د رکھتا ہے۔ البتہ یقیناً تم ایک بہت بھاری بات (گناہ) تک آپہنچے ہو۔ قریب ہیں آسمان اس (بات) سے پھٹ جائیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گر پڑیں۔ اس (بات) پر کہ انہوں نے رحمان کے لیے اولاد کا دعوی کیا اور رحمان کے لائق نہیں کہ وہ کسی کو اولاد بنائے ۔“
(19-مريم:88 تا 92)
قرآن نے مزید کہا ہے:
﴿مَا كَانَ لِلَّهِ أَن يَتَّخِذَ مِن وَلَدٍ ۖ سُبْحَانَهُ ۚ إِذَا قَضَىٰ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ﴾
” اللہ تعالیٰ کو یہ شایاں نہیں کہ کسی کو اپنی اولاد بنائے وہ (ایسی باتوں سے ) پاک ہے۔ جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو بس یہ کہہ دیتا ہے کہ ہو جا، تو وہ ہو جاتی ہے۔“
(19-مريم:35)
③ سیدنا مسیح علیہ السلام کی بغیر باپ کے معجزانہ پیدائش کو الوہیت مسیح کی دلیل سمجھنے والوں کا یوں رد ہے کہ اس طرح تو اللہ تعالی نے جناب آدم علیہ السلام کو بغیر ماں اور باپ کے اور جو اسلام الله عليها کو آدم سے بغیر ماں کے پیدا کیا ہے۔ دراصل وہ جب کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو اسے كن ( ہو جا) کہتا ہے تو وہ فيكون ہو جاتا ہے۔ چنانچہ قرآن میں ہے:
﴿إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ ۖ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ﴾
”بلا شبہ اللہ کے ہاں عیسی کی مثال آدم جیسی ہے جسے اللہ نے مٹی سے پیدا کیا پھر اسے حکم دیا کہ ہو جا تو وہ ہو گیا۔“
(3-آل عمران:59)
یہاں اللہ تعالٰی نے واضح کیا ہے کہ آدم علیہ السلام کو مٹی سے بنا دیا حالانکہ انسانی بدن سے اس کا ظاہری لحاظ سے کوئی تعلق نہیں تو کیا وہ ایک عورت سے بچہ پیدا نہیں کر سکتا جس کا بدن بھی انسانی ہے؟
④ ایسے ہی الوہیت مسیح اور الوہیت مریم کی تردید ان الفاظ میں کر کے ان دونوں کو اس سے بری الذمہ قرار دیا۔ اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:
﴿وَإِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَٰهَيْنِ مِن دُونِ اللَّهِ ۖ قَالَ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ ۚ إِن كُنتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ ۚ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ ۚ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ﴾
” اور جب اللہ فرمائے گا کہ اے عیسی ابن مریم ! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا مجھے اور میری ماں کو بھی خدا بنا لو؟ تو وہ جواب میں عرض کرے گا کہ سبحان اللہ میرا یہ کام نہ تھا کہ وہ بات کہتا جس کے کہنے کا مجھے حق نہ تھا، اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی، تو آپ کو ضرور علم ہوتا، آپ جانتے ہیں جو کچھ میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو کچھ آپ کے نفس میں ہے، بے شک تو ہی سب سے بڑھ کر غیب جاننے والا ہے۔“
(5-المائدة:116)
اللہ تعالٰی نے مزید فرمایا:
﴿فَلَمَّا أَحَسَّ عِيسَىٰ مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ أَنصَارِي إِلَى اللَّهِ ۖ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ اللَّهِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ .رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ﴾ .
” پھر جب عیسی نے ان میں کفر محسوس کیا تو کہا: اللہ کی راہ میں کون میرا مددگار ہے گا ؟ حواریوں نے کہا: ہم اللہ کی راہ میں مددگار ہیں۔ ہم اللہ پر ایمان لائے اور تو گواہ رہے کہ ہم فرمانبردار ہیں۔ اسے ہمارے رب ہم اس پر ایمان لائے جو تو نے نازل کیا اور ہم نے رسول کی پیروی کی ہے چنانچہ ہمیں گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔ “
(3-آل عمران:52،53)
اس آیت میں آنے والا آخری لفظ الشهدين امت محمدیہ کے لیے بولا گیا ہے کیونکہ انہوں نے یہود و نصاری پر حجت قائم کر کے حضرت عیسی علیہ السلام کو الزامات سے بری کروایا، نیز انہیں توحید باری تعالیٰ کی دعوت دے کر شرک سے دور کرنے کی کوشش کی ہے۔
⑤ اللہ تعالٰی نے الوہیت مسیح کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ ایک انسان اور بشر تھے ، انہیں بھی دیگر انسانوں کی طرح عوارض لاحق ہوتے تھے۔ یعنی کھاتے پیتے اور قضائے حاجت کرتے، غم زدہ، پریشانی اور دکھ کا بھی اظہار کرتے تھے اور ایسی صفات کا حامل الہ اور معبود نہیں ہو سکتا۔
اللہ تعالٰی نے اپنی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
﴿وَهُوَ يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ﴾
”وہ کھلاتا ہے اور اسے کوئی نہیں کھلاتا ۔ “
(6-الأنعام:14)
جبکہ عیسی علیہ السلام کے حوالے سے آیا ہے:
﴿مَّا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ ۖ كَانَا يَأْكُلَانِ الطَّعَامَ ۗ انظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الْآيَاتِ ثُمَّ انظُرْ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ﴾
مسیح ابن مریم ایک رسول ہی تھے، جن سے پہلے کئی رسول گزر چکے ہیں اور اس کی والدہ راست باز تھی۔ وہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ دیکھئے ہم ان کے لیے کیسے واضح دلائل پیش کر رہے ہیں پھر غور کیجیے کہ یہ لوگ کدھر بہکائے جارہے ہیں؟
(5-المائدة:75)
◈ جناب مسیح علیہ السلام خدا نہیں از روئے بائبل :
بائبل دو حصوں پر مشتمل ہے، پہلے کو عہد قدیم اور دوسرے کو عہد جدید کہا جاتا ہے۔ پہلا حصہ یہود اور مسیحیوں دونوں کے ہاں معتبر گردانا جاتا ہے جبکہ دوسرا حصہ فقط مسیحیوں کے ہاں تسلیم شدہ ہے۔ جناب مسیح علیہ السلام کے حالات اور ان کی تعلیم کا تذکرہ اسی دوسرے حصہ میں ہے، جس کو سرسری نظر سے پڑھتے ہی عیسی علیہ السلام کی انسانیت و بشریت واضح ہو جاتی ہے:
➊ انجیل متی کی ابتدا یوں ہوتی ہے: یسوع مسیح ابن داود این ابرہام کا نسب نامہ
(انجیل متی 1 : 1 )
➋ جناب مسیح علیہ السلام کا پیدائش کے آٹھویں دن ختنہ ہوا۔
(انجیل لوقا 21:2)
➌ جناب مسیح علیہ السلام کو پیدائش کے بعد بادشاہ قتل کرنا چاہتا تھا لیکن ان کے والدین انہیں لے کر مصر کی طرف بھاگ گئے اور جب تک وہ بادشاہ زندہ رہا، ڈر کے مارے وہیں چھپے رہے۔
(انجیل متی : باب 2 )
➍ عام انسانوں کی طرح جسم اور عقل دونوں لحاظ سے آہستہ آہستہ بڑھنے لگے ۔
(انجیل لوقا 40:2 )
➎ لوگوں کو جب تعلیم دینے لگے تو اُن کی عمر تیس برس تھی ۔
(انجیل لوقا 3 : 23)
➏ جناب مسیح علیہ السلام کی چالیس دن تک شیطان آزمائش کرتا رہا۔
(انجیل لوقا 4 : 1-2 )
➐ سفر کی وجہ سے انہیں تھکاوٹ ہو جاتی تھی اور پیاس بھی لگتی تھی، چنانچہ اسے مٹانے کے لیے ایک مرتبہ کنویں پر بھی گئے لیکن پانی پلانے والا کوئی نہ تھا تو انہوں نے یہودی ہونے کے باوجود سامری (یہ بھی یہودیوں کا ہی ایک فرقہ ہے لیکن ان میں چونکہ غیر یہودی قوموں کی آمیزش ہو گئی۔ ان کا قبلہ الگ اور موسیٰ علیہ السلام کے بعد کسی نبی کو نہیں مانتے، نیز تورات کی پانچ کتابوں کے علاوہ کسی اور کتاب کو نہیں مانتے اس لیے عام یہودیوں نے ان سے مکمل جدائی اختیار کی ہوئی ہے۔) عورت کو پانی پلانے کا کہا حالانکہ یہودی ان سے کوئی برتاؤ نہیں رکھتے تھے۔
(انجیل یوحنا 4: 6تا 9 )
➑ لعزر (نامی شخص) کی موت پر جناب عیسی علیہ السلام کے آنسو بہنے لگے۔(انجیل یوحنا 11 : 35 ) ایک مرتبہ شہر کو دیکھ کر بھی روئے ۔
(انجیل لوقا 41:19)
➒ ایک مرتبہ عیسی علیہ السلام نے فرمایا: اب میری جان گھبراتی ہے، پس میں کیا کہوں؟
(انجیل یوحنا 12 : 27)
➓ انا جیل کے مطابق پکڑے جانے سے قبل جناب مسیح علیہ السلام نہایت غمگین اور بے قرار تھے چنانچہ لکھا ہے:
اس وقت یسوع ان کے ساتھ گتسمنی نامی ایک جگہ میں آیا اور اپنے شاگردوں سے کہا: یہیں بیٹھے رہنا جب تک کہ میں وہاں جا کر دعا کروں۔ اور پطرس اور زبدی کے دونوں بیٹوں کو ساتھ لے کر غمگین اور بے قرار ہونے لگا ۔ اس وقت اس نے ان سے کہا: میری جان نہایت غمگین ہے یہاں تک کہ مرنے کی نوبت پہنچ گئی ہے۔ تم یہاں ٹھہرو اور میرے ساتھ جاگتے رہو۔ پھر ذرا آگے بڑھا اور منہ کے بل گر کر یوں دعا کی کہ اے میرے باپ! اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھے سے ٹل جائے تو بھی نہ جیسا میں چاہتا ہوں بلکہ جیسا تو چاہتا ہے، ویسا ہی ہو۔
(انجیل متی 36:26-39)
⓫ واضح الفاظ میں اقرار کیا: ” میں اپنے آپ سے کچھ نہیں کر سکتا، جیسا سنتا ہوں عدالت کرتا ہوں، اور میری عدالت راست ہے کیونکہ میں اپنی مرضی نہیں بلکہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی چاہتا ہوں۔
(انجیل یوحنا 5: 30)
⓬ زندگی کے آخری دن جناب عیسی علیہ السلام نے اپنے دوبارہ آنے کے وقت سے لاعلمی کا اظہار کر کے اپنی بشریت و انسانیت دوٹوک الفاظ میں عیاں کر دی، فرمانے لگے:
لیکن اس دن یا اس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا، نہ آسمان کے فرشتے ، نہ بیٹا مگر باپ۔
(انجیل مرقس 32:13)
⓭ حضرت مسیح علیہ السلام کے حوالے سے پولوس نے خوب لکھا ہے:
”اس نے اپنی بشریت کے دنوں میں زور زور سے پکار کر اور آنسو بہا بہا کر اسی سے دعا ئیں اور التجائیں کہیں جو اس کو موت سے بچا سکتا تھا اور خدا ترسی کے سبب سے اس کی سنی گئی ۔ “
(عبرانیوں کے نام خط 5 : 7)
”موت سے خود نہیں بچ سکتے بلکہ کوئی دوسری ذات ہے جس سے دعا کرتے تھے ۔“
” لیکن صلیب کے اوپر جان دینے لگے تو پکارنے لگے: ایلی ایلی لما شبقتنی اے میرے خدا! اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا ؟ “
(انجیل متی 46:27)
سید نا عیسیٰ علیہ السلام کس سے دعا کرتے تھے؟ کس نے دعا قبول نہیں کی اور گلے شکوے کس سے تھے؟ کیا ایک خدا دوسرے خدا سے یہ باتیں کر رہا تھا؟ فيا للعجب
⓮ جناب عیسی علیہ السلام نے سیدنا یحیی علیہ السلام ( یوحنا) سے بپتسمہ لیا۔
(انجیل متی 3 : 13 )
جبکہ بائبل ہی بتاتی ہے کہ یہ بپتسمہ گناہوں سے معافی کے لیے ہوتا تھا۔
(انجیل مرقس 4:1)
⓯ ایک خاتون اپنے دو بیٹوں کو لے کر جناب مسیح علیہ السلام کی خدمت میں آئی اور درخواست کی:
میرا ایک بیٹا تیری بادشاہی میں تیرے داہنی طرف اور دوسرا بائیں طرف بیٹھے تو جناب مسیح نے دو ٹوک الفاظ میں فرمایا: اپنے دائیں یا بائیں کسی کو بٹھانا میرا کام نہیں مگر جن کے لیے میرے باپ کی طرف سے تیار کیا گیا، ان ہی کے لیے ہے۔
(انجیل متی 20: 20 23)
⓰ کسی نے جناب عیسی علیہ السلام کو کہا: اے نیک استاد ! تو فرمانے لگے :
”تو مجھے کیوں نیک کہتا ہے؟ کوئی نیک نہیں مگر ایک یعنی خدا “
(انجیل مرقس 10 : 8 ، لوقا 19:18)
◈ ایک اور انداز سے الوہیتِ مسیح کا تجزیہ:
مسیحیوں کے نزدیک خدا اور مسیح یسوع (عیسی علیہ السلام ) ایک ہی ہیں لہذا انہی مذکورہ حوالہ جات میں اگر لفظ یسوع اور مسیح کی جگہ ”خدا“ رکھ کر پڑھیں تو خدا تعالٰی کا تصور عجیب صورت اختیار کر جائے گا: تجربہ شرط ہے۔ مثلاً
خدا کا نسب نامہ ، کا ختنہ ہوا، خدا گھبرا گیا، خدا تین دن تک مرا رہا، خدا کو بھوک لگی، خدا کو قیامت کا علم نہیں، خدا بے اختیار ہے، خدا رو پڑا، وغیره وغیره (نعوذ بالله من ذالك)
◈ خدا اور مسیح میں فرق:
پچھلے حوالہ جات سے واضح ہو رہا ہے کہ جناب عیسی علیہ السلام خدا ہر گز نہیں تھے بلکہ ایک انسان اور بشر تھے عیسائیت کی ہی معتبر کتب میں مزید باتیں ملاحظہ فرمائیں جن سے ذاتِ الہ اور سیدنا عیسی علیہ السلام میں فرق واضح ہوتا ہے:
➊ موجودہ مسیحیت کا اصل بانی پولوس ہے۔ اس نے کھلے الفاظ میں لکھا:
” خدا ایک ہے اور خدا اور انسان کے بیچ میں درمیانی بھی ایک یعنی مسیح یسوع جو انسان ہے۔ “
(تيمتهس 5:2 )
➋ مسیحیوں کا نظریہ ہے کہ باپ، بیٹا اور روح القدس تثلیت کے تین اقانیم اور اجزا ہیں۔ باپ سے مراد اللہ تعالی اور بیٹے سے جناب عیسی علیہ السلام ، جبکہ روح القدس کے تعین میں اختلاف ہے۔ بہر حال اس پر سب متفق ہیں کہ یہ تینوں ایک دوسرے کی جگہ نہیں لے سکتے یعنی جو باپ ہے، وہ بیٹا نہیں اور جو بیٹا ہے وہ باپ نہیں اسی طرح روح القدس ہے۔(تفصیل کے لیے میرا کتا بچہ دیکھیں : ”تثلیت : حقیقت کے آئینے میں“ زیر طبع ) یہ نظریہ بھی بتاتا ہے کہ خدا اور یسوع میں فرق ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پولوس نے یسوع کو خدا کے برابر نہیں بلکہ کم رتبہ دیا ہے جیسا کہ حوالہ ابھی گزرا ہے۔ پولوس کا ایک قول یہ بھی ہے:
”ہمارے نزدیک تو ایک ہی خدا ہے یعنی باپ جس کی طرف سے سب چیزیں ہیں اور ہم اسی کے لیے ہیں اور ایک ہی خداوند ہے یعنی یسوع مسیح جس کے وسیلے سے سب چیزیں موجود ہوئیں اور ہم بھی اسی کے وسیلہ سے ہیں ۔
( کرنتھیوں 6:8)
اگر یسوع بھی خدا یا خدا کے برابر ہوتا تو اس کا تذکرہ الگ نہ کیا جاتا اور نہ ہی اسے وسیلہ قرار دیا جاتا۔
➌ خدا کے لیے لفظ باپ اور یسوع کے لیے لفظ بیٹا بھی واضح کرتا ہے کہ دونوں میں فرق ہے، ذات کے اعتبار سے بھی اور زمانے کے لحاظ سے بھی کیونکہ باپ پہلے اور بیٹا بعد میں ہوتا ہے۔ اگر دونوں کی حیثیت برابر یا دونوں ایک چیز ہیں تو یہ تقدیم و تاخیر چہ معنی دارد؟
➍ انجیل یوحنا میں یوں لکھا ہے:
باپ بیٹے سے محبت رکھتا ہے اور اس نے سب چیزیں اس کے ہاتھ میں دے دی ہیں۔
(انجیل یوحنا 3: 35)
اگر دونوں برابر ہیں تو کون کس سے محبت رکھتا ہے اور کس نے کس کو اختیار دیا ہے؟
➎ آگے جا کر لکھا ہے:
میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ بیٹا آپ سے کچھ نہیں کر سکتا سوائے اس کے جو باپ کو کرتے دیکھتا ہے … باپ کسی کی عدالت بھی نہیں کرتا بلکہ اس نے عدالت کا سارا کام بیٹے کے سپرد کیا ہے… میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ جو میرا کلام سنتا اور میرے بھیجنے والے کا یقین کرتا ہے … اسے عدالت کرنے کا بھی اختیار بخشا اس لیے کہ وہ آدم زاد ہے… میں اپنے آپ سے کچھ نہیں کر سکتا ، جیسا سنتا ہوں، عدالت کرتا ہوں اور میری عدالت راست ہے کیونکہ میں اپنی مرضی نہیں بلکہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی چاہتا ہوں ۔
(انجیل یوحنا 19:5-30)
➏ جناب عیسی علیہ السلام کا فرمان یوں مذکور ہے:
”کیونکہ میں نے کچھ اپنی طرف سے نہیں کہا بلکہ باپ جس نے مجھے بھیجا، اسی نے مجھ کو حکم دیا ہے کہ کیا کہوں اور کیا بولوں اور میں جانتا ہوں کہ اس کا حکم ہمیشہ کی زندگی ہے پس جو کچھ میں کہتا ہوں جس طرح باپ نے مجھ سے فرمایا ہے اسی طرح کہتا ہوں۔“
(انجیل یوحنا 12 : 49-50)
➐ اللہ تعالی کے حوالے سے لکھا ہے:
”نہ تو خدا بدی سے آزمایا جا سکتا ہے اور نہ وہ کسی کو آزماتا ہے ۔ “
(یعقوب کا خط 1 : 13 )
جبکہ دوسری طرف جناب مسیح علیہ السلام کے حوالے سے پولوس لکھتا ہے:
” وہ (مسیح یسوع) سب باتوں میں ہماری طرح آزمایا گیا تو بھی بے گناہ رہا ۔“
(عبرانیوں کے نام خط 15:4)
بائبل مزید صراحت کرتی ہے کہ چالیس روز تک حضرت مسیح علیہ السلام کی شیطان آزمائش کرتا رہا۔
(انجیل مرقس 1 : 13)
➑ خدا کو کسی نے کبھی نہیں دیکھا۔(انجیل یوحنا 1 : 18) مسیح علیہ السلام کو یہودیوں سے مخاطب ہو کر اللہ تعالی کے حوالے سے فرماتے ہیں:
”تم نے نہ کبھی اس کی آواز سنی ہے اور نہ اس کی صورت دیکھی ۔ “
(انجیل ہو 37:5)
جبکہ مسیح علیہ السلام کو یہ لوگ روز دیکھتے تھے اور آواز سنتے تھے۔
➒ پولوس نے لکھا:
وہ (یسوع مسیح) گناہوں کو دھو کر عالم بالا پر کبریا کی داہنی طرف جا بیٹھا اور فرشتوں سے اسی قدر بزرگ ہو گیا جس قدر اس نے میراث میں ان سے افضل نام پایا ۔
(عبرانیوں کے نام خط 1 : 3-4 )
اگر مسیح ہی خدا ہے تو پولوس کو فرشتوں سے افضل کہنے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا خدا تعالیٰ کی افضلیت کے بارے میں کوئی شک کر سکتا ہے؟
مزید یہ کہ وہ کس کبریا کی داہنی طرف جا بیٹھا ؟ آیا کوئی شخص خود اپنی داہنی طرف بیٹھ سکتا ہے؟
انجیل مرقس میں بھی یوں لکھا ہے: غرض خداوند یسوع ان سے کلام کرنے کے بعد آسمان پر اٹھایا گیا اور خدا کی داہنی طرف بیٹھ گیا۔
(انجیل مرقس 19:16)
➓ پولوس لکھتا ہے : ہاں وہ (صحیح) کمزوری کے سبب سے مصلوب ہوا لیکن خدا کی قدرت کے سبب سے زندہ ہے۔
(2 – کرنتھیوں 4:13)
اللہ تعالیٰ نہ تو کمزور ہو سکتا ہے اور نہ ہی اسے کوئی صلیب دے سکتا ہے۔
⓫ خدا کو کسی سے دعا مانگنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہر چیز تو اس کے پاس ہے۔ جبکہ حضرت مسیح علیہ السلام دعا مانگا کرتے تھے اور بڑی عاجزی سے۔ چنانچہ لکھا ہے: ”وہ جنگلوں میں الگ جا کر دعا کیا کرتا تھا۔ “
(انجیل لوقا 5 : 16)
دوسری جگہ یوں لکھا ہے : پھر وہ (مسیح) سخت پریشانی میں مبتلا ہو کر اور بھی دل سوزی سے دعا کرنے لگا اور اس کا پسینہ گویا خون کی بڑی بڑی بوندیں ہو کر زمین پر ٹپکتا تھا۔
(انجیل لوقا 22 : 44)
پولوس نے جناب مسیح علیہ السلام کے متعلق کس قدر واضح لکھا ہے: اس نے اپنی بشریت کے دنوں میں زور زور سے پکار کر اور آنسو بہا بہا کر اسی سے دعائیں اور التجائیں کیں جو اس کو موت سے بچا سکتا تھا اور خدا ترسی کے سبب سے اس کی سنی گئی ۔
(عبرانیوں کے نام خط 7:5)
⓬ اللہ تعالٰی ہر چیز کا علم رکھتا ہے، کوئی ذرہ بھی اس سے مخفی نہیں جبکہ حضرت مسیح علیہ السلام کو تو یہ بھی علم نہیں کہ دوبارہ وہ دنیا میں کب آئیں گے، چنانچہ فرماتے ہیں:
اس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا، نہ آسمان کے فرشتے ، نہ بیٹا مگر باپ ۔
( انجیل مرقس 32:13 )
⓭ اللہ تعالٰی نہ تو کسی کا محتاج ہے اور نہ اس کو بھوک و پیاس لگتی ہے۔ جبکہ مسیح علیہ السلام کے حوالے سے لکھا ہے:
اور جب صبح کو پھر شہر کو جا رہا تھا، اسے بھوک لگی اور راہ کے کنارے انجیر کا ایک درخت دیکھ کر اس کے پاس گیا اور پتوں کے سوا اس میں کچھ نہ پا کر اس سے کہا کہ آئندہ تجھ میں کبھی پھل نہ لگے اور انجیر کا درخت اسی دم سوکھ گیا۔
(انجیل متی 18:21-19) مزید دیکھیں : گذشتہ عنوان کا نمبر 7
⓮ خدا تعالٰی اگر سو جائے تو ظاہر ہے دنیا جہاں پر اس کا کنٹرول ختم ہو جائے گا، اس لیے نیند آنا یا اونگھنا اس کی شان کے منافی ہے، بائبل یہی کہتی ہے جیسا کہ لکھا ہے:
تیرا محافظ اونگھنے کا نہیں، دیکھ اسرائیل کا محافظ نہ اونگھے گا نہ سوئے گا ، خداوند تیرا محافظ ہے۔
(زبور 3:121-5)
جبکہ جناب مسیح علیہ السلام کے متعلق آتا ہے کہ وہ کشتی میں گدی پر سو ر ہے تھے اور ایسا گہرا ہوئے کہ بڑی آندھی چلی کشتی پانی سے بھر گئی، پھر بھی بیدار نہ ہوئے ، شاگردوں نے انہیں اٹھایا۔
(انجیل مرقس 4: 37-38)
⓯ ہر نیکی کا مبدا اللہ تعالیٰ ہی ہے، ہر خوبی اس کے لیے سزاوار ہے جبکہ مسیح علیہ السلام نے اپنے آپ کو نیک کہنے سے لوگوں کو منع کر دیا تھا، جیسا کہ انجیل مرقس (انجیل مرقس 18:10 ) میں لکھا ہوا ہے۔
⓰ اللہ تعالیٰ کسی کی مرضی کا پابند نہیں جو چاہے کر گزرتا ہے جبکہ مسیح علیہ السلام کسی کی مرضی کے پابند تھے، خود اپنے چاہنے سے کچھ نہیں کر سکتے تھے، اس کے لیے پچھلے عنوان میں نمبر 15،13،11 دیکھیں۔
⓱ اللہ تعالیٰ کو موت نہیں آتی اور نہ اس کی شان کے لائق ہے جبکہ مسیح علیہ السلام تین دن تک مرے رہے اور پھر دوبارہ زندہ ہو گئے۔
⓲ اللہ تعالی لوگوں کو مصائب و پریشانی سے نجات دیتا ہے، نہ کہ خود کسی سے اس کا طالب ہوتا ہے جبکہ مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں:
اب میری جان گھبراتی ہے، پس میں کیا کہوں : اے باپ مجھے اس گھڑی سے بچا۔
(انجیل یوحنا 12 : 27 )پچھلے عنوان کا نمبر 13 بھی دیکھیں
⓳ اللہ تعالی کسی سے جھوٹا وعدہ نہیں کرتا اور نہ ہی مستقبل کے حوالے سے اس کی بتائی ہوئی بات غلط ہو سکتی ہے جبکہ بقول بائبل مسیح علیہ السلام اس معیار پر بھی پورے نہیں اترتے ، مثالیں ملاحظہ کرنے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ انبیاء علیہم السلام چونکہ اللہ تعالی کے چنیدہ افراد ہوتے ہیں اور ان کی طرف وحی آتی ہے، اس لیے ان کی کبھی نہ کوئی پیش گوئی جھوٹی ہوتی ہے اور نہ ہی وہ کسی سے جھوٹا وعدہ کرتے ہیں۔
درج ذیل حوالے محض دعوت فکر کے لیے بائبل سے پیش کیے جارہے ہیں ہمارا نظریہ اور ایمان اس کے مطابق نہیں کیونکہ ہم سیدنا عیسی علیہ السلام (مسیح) کو اللہ تعالیٰ کا سچا نبی اور رسول تسلیم کرتے ہیں:
● جناب مسیح نے قرب قیامت دنیا میں اپنے آنے کی بابت بتایا اور اس زمانے کی چند علامتیں بھی بتائیں ہیں اس کے ساتھ ایک پیش گوئی بھی واضح الفاظ میں کر دی کہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک یہ سب باتیں نہ ہو لیں، یہ نسل ہرگز تمام نہ ہوگی ۔
(انجیل مرقس 13 : 30)
اسی انجیل کے باب 9 میں لکھا ہے:
”اور اس (مسیح) نے ان (حاضرین اور شاگردوں ) سے کہا: میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو یہاں کھڑے ہیں، ان میں سے بعض ایسے ہیں کہ جب تک خدا کی بادشاہی کو قدرت کے ساتھ آیا ہوا نہ دیکھ لیں، موت کا مزا ہر گز نہ چکھیں گے ۔“
(انجیل مرقس 1:19)
تو کیا ایسا ہوا؟ ہرگز نہیں۔ اس نسل کو گزرے تقریبا دو ہزار سال ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوئی۔
● جناب مسیح علیہ السلام کو جب سولی دی گئی تو ان کے ساتھ دو مجرم اور بھی تھے، ایک نے جناب مسیح علیہ السلام کو طعنہ دیا تو دوسرے نے اس کو ڈانٹ دیا اور کہنے لگا: اے یسوع ! جب تو اپنی بادشاہی میں آئے تو مجھے یاد کرنا ۔ اس نے کہا: میں تجھ سے سچ کہتا ہوں کہ آج ہی تو میرے ساتھ فردوس میں ہوگا ۔
(انجیل لوقا 42:23-43 )
جبکہ پطرس کا کہنا ہے:
”وہ جسم کے اعتبار سے تو مارا گیا لیکن روح کے اعتبار سے زندہ کیا گیا، اس میں اس نے جا کر ان قیدی روحوں میں منادی کی ، جو اس اگلے زمانے میں نافرمان تھیں جب خدا نوح کے وقت میں تحمل کر کے ٹھہرا رہا تھا۔ “
(پطرس 3: 18 – 20)
یعنی حضرت مسیح علیہ السلام اپنی وفات کے دنوں میں گنہگار اور قیدی روحوں میں منادی کرنے کے لیے گئے تھے جو بہشت ہرگز نہیں تھی۔ لہذا اپنا وعدہ کہ آج ہی تو میرے ساتھ فردوس میں ہوگا، پورا نہ کر سکے۔
● سیدنا مسیح علیہ السلام نے اپنے متعلق کہا تھا کہ مرنے کے بعد تین دن اور تین راتوں تک میں قبر میں رہوں گا جیسا کہ یوناہ (یونس علیہ السلام ) نبی مچھلی کے پیٹ میں رہا، پھر میں زندہ ہو جاؤں گا ۔
(انجیل متی 12: 17,40 : 23 )
لیکن ایسا نہیں ہوا کیونکہ بائبل کے مطابق سبت سے پچھلے دن (جمعہ ) کے آخری پہر جناب مسیح علیہ السلام کی جان صلیب پر نکلی ، سورج غروب ہونے سے قبل ان کو دفنا دیا گیا، اور اتوار کی صبح جب خواتین قبر پر جاتی ہیں تو ان کی قبر کھلی ہوتی ہے اور ان کا زندہ ہونا مشہور ہو جاتا ہے۔
(انجیل متی 1:28 -7)
کسی بھی انداز سے شمار کر لیں، یہاں تین دن اور تین راتیں نہیں بنتے۔
● اپنے شاگردوں کے حوالے سے جناب مسیح علیہ السلام نے کہا:
” میری بھیڑیں میری آواز سنتی ہیں اور میں انہیں جانتا ہوں اور وہ میرے پیچھے پیچھے چلتی ہیں اور میں انہیں ہمیشہ کی زندگی بخشتا ہوں اور وہ ابد تک کبھی ہلاک نہ ہوں گی اور کوئی انہیں میرے ہاتھ سے چھین نہ لے گا۔ “
(انجیل یوحنا 10 : 27-29)
لیکن ان کے خاص الخواص بارہ شاگردوں میں سے بقول مسیحیوں کے ایک مرتد ہو گیا تھا جس نے حضرت عیسی علیہ السلام کو تیس روپوں کے عوض پکڑوایا تھا، اس کا نام” یہوداہ اسکر یوتی“ تھا۔(انجیل متی 3:27) سوال یہ ہے کہ اس کو جناب مسیح علیہ السلام سے کس نے چھینا تھا ؟
● ایک مرتبہ جناب مسیح علیہ السلام نے اپنے بارہ شاگردوں کو فرمایا:
”جب ابن آدم نئی پیدائش میں اپنے جلال کے تخت پر بیٹھے گا تو تم بھی جو میرے پیچھے ہو لیے ہو، بارہ تختوں پر بیٹھ کر اسرائیل کے بارہ قبیلوں کا انصاف کروگے ۔“
(انجیل متی 28:19 لوقا 22: 30 )
جب یہوداہ اسکر یوتی مرتد ہو گیا تو وہ کیسے تخت پر بیٹھے گا ؟
یہاں سوال کیا جاسکتا ہے کہ درج بالا پیش گوئیوں کے پورے نہ ہونے کے سبب اگر جناب مسیح علیہ السلام کی الوہیت کا رد ہوتا ہے تو دوسری طرف ان کی نبوت بھی تو ختم ہوتی ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ مسلمانوں کے نزدیک جناب مسیح علیہ السلام ایک نبی اور رسول ہیں، لہذا ان کی کوئی بھی پیش گوئی غلط نہیں ہوسکتی۔ انہیں ہرگز جناب مسیح علیہ السلام نے بیان نہیں کیا، اگر کیا ہوتا تو زمین و آسمان توٹل سکتا تھا، ان کی کہی بات ضرور پوری ہوتی۔ یہ تو بعد کے زمانے میں شامل کی گئی جھوٹی باتیں ہیں، حقیقت کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں۔
◈ عقلی لحاظ سے اُلوہیت مسیح کی تردید :
➊ عہدہ جدید میں کئی مقامات پر جناب مسیح علیہ السلام کو نبی کہا گیا ہے اور نبی ہونا انسانیت کا خاصہ ہے نا کہ الہ کا۔ منطقی لحاظ سے اس کو ”دلیل استقرائی“ کہا جاتا ہے۔
➋ جناب مسیح علیہ السلام کی والدہ تھیں اور جس کی والدہ ہو، وہ الہ نہیں ہوسکتا کیونکہ جس میں نا توالد و تناسل ہو وہ محتاج بھی ہوتا ہے اور کبھی نہ کبھی ہلاکت سے دو چار ہو کر رہے گا۔ جبکہ ذات الہ ان چیزوں سے مبرا اور پاکیزہ ہوتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ بقول بائبل جناب مسیح محتاج بھی تھے اور ایک وقت آیا جب بقول بائبل ان کی زندگی ختم ہوئی۔
➌ توالد و تناسل بتاتا ہے کہ پیدا ہونے والا بچہ اپنی والدہ کی نسل سے ہو گا، کبھی گھوڑی کے پیٹ سے ہرن پیدا نہیں ہوا اور نہ ہی انسان کسی عورت نے کبھی گھوڑے کو جنم نہیں دیا۔
اسی طرح جناب مسیح علیہ السلام سیده مریم سلام الله علیها سے تولد ہوئے ، لہذا ان کی نسل بھی انسانی ہوگی نہ کہ کوئی دوسری، جیسا کہ بائبل کے مطابق سیدہ مریم سلام الله علیها کے اور بھی بیٹے اور بیٹیاں تھیں اور وہ انسان تھے۔
(انجیل متی 13 : 55-56)
➍ جناب مسیح کو بھوک اور پیاس لگتی تھی جو کہ مخلوق کا خاصہ ہے نا کہ خالق والہ کا۔
( حوالہ گزر چکا ہے۔ )
➎ انسانوں کی اصلاح کے لیے وہ نمونہ ہونا چاہیے تھا جس کی پیروی انسان کر سکے ، اور اس کے روحانی مقام تک پہنچ سکے، لہذا اگر خدا انسان کے روپ میں آئے گا تو انسانوں کے لیے اس کی روحانیت تک پہنچنا محال ہو گا۔
◈ جناب مسیح کا خود کے بارے میں دعوائے نبوت نہ کہ دعوائے اُلوہیت !
① قرآن مجید نے تو واضح الفاظ میں مسیح علیہ السلام کے رسول ہونے کی صراحت کی ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
﴿مَّا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ ۖ كَانَا يَأْكُلَانِ الطَّعَامَ ۗ انظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الْآيَاتِ ثُمَّ انظُرْ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ﴾
”مسیح ابن مریم ایک رسول ہی تھے، جن سے پہلے کئی رسول گزر چکے ہیں اور اس کی والدہ راست باز تھی۔ وہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ دیکھئے ہم ان کے لیے کیسے واضح دلائل پیش کر رہے ہیں پھر غور کیجیے کہ یہ لوگ کدھر بہکائے جارہے ہیں؟“
(5-المائدة:75)
② یہ مکالمہ بھی قرآن مجید نے بیان کیا ہے:
﴿وَإِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَٰهَيْنِ مِن دُونِ اللَّهِ ۖ قَالَ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ ۚ إِن كُنتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ ۚ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ ۚ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ . مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْتَنِي بِهِ أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ ۚ وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ ۖ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أَنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنتَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ .﴾
” جب (قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: اے عیسی ابن مریم! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر مجھے اور میری والدہ کو الہ بنا لو ۔ حضرت عیسی جواب دیں گے: اے اللہ ! تو پاک ہے، میں ایسی بات کیونکر کہہ سکتا ہوں جس کے کہنے کا مجھے حق نہ تھا، اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی تو تجھے ضرور اس کا علم ہوتا۔ کیونکہ جو کچھ میرے دل میں ہے وہ تو تو جانتا ہے لیکن جو تیرے نفس میں ہے وہ میں نہیں جان سکتا۔ تو تو چھپی ہوئی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔ میں نے تو انہیں صرف وہی کچھ کہا تھا جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی اور جب تک میں ان میں موجود رہا، ان پر نگراں رہا۔ پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو پھر تو ہی ان پر نگران تھا۔ اور تو تو ساری چیزوں پر شاہد ہے۔“
(5-المائدة:116،117)
③ سیدہ مریم سلام اللہ علیہا کو فرشتے نے بیٹے کی خوشخبری سنائی تو ساتھ یہ اعلان بھی تھا:
﴿وَرَسُولًا إِلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ﴾
”پھر (وہ) بنی اسرائیل کی طرف رسول ہو گا ۔“
(3-آل عمران:49)
بائبل کا عہد جدید بھی اس پر گواہی دیتا ہے، چنانچہ لکھا ہے:
● حضرت عیسیٰ نے فرمایا: اور ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خداے واحد اور برحق کو اور یسوع مسیح کو جسے تو نے بھیجا ہے، جانیں ۔
انجیل یوحنا 3:17
اس اردو کی جب ہم عربی دیکھتے ہیں تو یوں لکھی ہوئی ملتی ہے:
والحياة الأبدية أن يعرفوك أنت الإله الحق وحدك ويعرفوا يسوع المسيح الذى أرسلته
Arabic Bible.GNA 083
اس عبارت سے حسب ذیل باتیں اخذ ہوتی ہیں۔
(الف) اگر حضرت مسیح علیہ السلام خود ہی خدا تھے تو یہ بات کس سے کر رہے تھے؟
(ب) آپ مبعوث ( بھیجے گئے ) تھے اور یہ اظہر من الشمس ہے کہ بھیجنے والا اور بھیجا گیا دونوں میں فرق ہوتا ہے۔
(ج) تثلیث اور اقانیم کے متعلق حضرت عیسی علیہ السلام ہرگز کچھ نہ جانتے تھے۔
(د) حضرت عیسی علیہ السلام نے الوہیت کا دعوئی ہرگز نہیں کیا کیونکہ انہوں نے الہ حقیقی ہونے کی نسبت دوسری ذات کی طرف فرمائی ہے نہ کہ اپنی طرف۔
④ پس یسوع نے کہا کہ جب تم ابن آدم کو اونچے پر چڑھاؤ گے تو جانو گے کہ میں وہی ہوں اور اپنی طرف سے کچھ نہیں کرتا بلکہ جس طرح باپ نے مجھے سکھایا، اسی طرح یہ باتیں کہتا ہوں اور جس نے مجھے بھیجا وہ میرے ساتھ ہے، اس نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا کیونکہ میں ہمیشہ وہی کام کرتا ہوں جو اسے پسند آتے ہیں، جب وہ یہ باتیں کہہ رہا تھا تو بہتیرے اس پر ایمان لائے ۔
(انجیل یوحنا 8: 28-30)
کوئی بھی انسان تعصب کی عینک اتار کر بتا سکتا ہے کہ یہ جملے سن کر ایمان لانے والوں کا ایمان کیسا ہوگا؟
حضرت عیسی علیہ السلام بذات خود خدا اور مدعی الوہیت تھے؟ یا کہ الہ کوئی دوسرا ہے اور یہ اس کی طرف سے بھیجے گئے ایک رسول اور نبی تھے ؟
⑤ انجیل لوقا کا مصنف حضرت مسیح علیہ السلام کے حوالے سے نقل کرتا ہے کہ انھوں نے یسعیاہ نبی کا صحیفہ پڑھ کر یہودیوں کو سنایا: خدا کا روح مجھ پر ہے، اس لیے کہ اس نے مجھے غریبوں کو خوشخبری دینے کے لیے مسح کیا، اس نے مجھے بھیجا ہے کہ قیدیوں کو رہائی اور اندھوں کو بینائی پانے کی خبر سناؤں، کچلے ہوؤں کو آزاد کروں اور خداوند کے سال مقبول کی منادی کروں، پھر وہ کتاب بند کر کے اور خادم کو واپس دے کر بیٹھ گیا اور جتنے عبادت خانے میں تھے، سب کی آنکھیں اس پر لگی تھیں۔ وہ ان سے کہنے لگا کہ آج یہ نوشتہ تمہارے سامنے پورا ہوا ہے اور سب نے اس پر گواہی دی ۔
(انجیل لوقا 4 : 18-22)
جناب مسیح علیہ السلام نے یسعیاہ نبی کی یہ پیشین گوئی اپنے حق میں قرار دی ہے، جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک نبی اور رسول تھے ، نہ کہ خدا تھے۔
مزید تائید ایسے ہوتی ہے کہ یسعیاہ نبی کی کتاب آج بھی بائبل میں موجود (دیکھیں 1:61-2) ہے اور اس سے ملتی جلتی عبارت موجود ہے لیکن کسی یہودی نے یہ نہیں سمجھا کہ جس پر یہ صادق آئے گی، وہ خدا ہو گا۔
⑥ کسی بیوہ کا اکلوتا بیٹا مر گیا تو حضرت عیسی علیہ السلام نے اس کو ( اللہ تعالیٰ کے حکم سے ) زندہ کیا، آگے لکھا ہے:
”سب پر دہشت چھا گئی اور وہ خدا کی تمجید کر کے کہنے لگے کہ ایک بڑا نبی ہم میں برپا ہوا ہے اور خدا نے اپنی امت پر توجہ کی ہے اور اس کی نسبت یہ خبر سارے یہودیہ اور تمام گرد و نواح میں پھیل گئی ۔ “
(انجیل لوقا 7 : 16 – 17)
اتنا بڑا معجزہ دیکھنے کے باوجود حاضرین نے انھیں خدا نہیں بلکہ نبی سمجھا اور تمام علاقے میں بھی یہ بات معروف ہو گئی۔ ایسے موقع پر حضرت عیسی علیہ السلام واضح کر سکتے تھے کہ میں خدا ہوں اور تم مجھے نبی سمجھ رہے ہو۔
ان کی خاموشی کونسی بات بتا رہی ہے؟ ہر زیرک شخص سمجھ سکتا ہے۔
⑦ معاشرے میں ان کی شہرت بطور نبی تھی، اس کی تائید یوں بھی ہوتی ہے کہ ایک فریسی( یہودیوں کا کٹر فرقہ ) یہودی نے حضرت عیسی علیہ السلام کو دعوت پر بلایا، کھانے پر بیٹھے تو ایک بد چلن عورت آکر ان کے قدموں میں گر پڑی، روئی، اور آنسوؤں سے بھیگے ہوئے جناب مسیح علیہ السلام کے پاؤں کو اپنے بالوں سے پونچھا اور ان پر عطر ڈالا اور بہت چوما۔ آگے لکھا ہے: اس کی دعوت کرنے والا فریسی یہ دیکھ کر اپنے جی میں کہنے لگا: اگر یہ شخص نبی ہوتا تو جانتا کہ جو اسے چھوتی ہے، وہ کون اور کیسی عورت ہے کیونکہ وہ بد چلن ہے۔
(انجيل لوقا 36:7-39 )
جناب مسیح کا دعوئی الوہیت کا ہوتا تو اس فریسی یہودی کو ان کے الہ ہونے میں شک گزرنا چاہیے تھا، نہ کہ نبی ہونے پر۔
⑧ عہد جدید میں سیدنا عیسی علیہ السلام کے مرنے اور پھر جینے کا تذکرہ ہے، دو آدمی آپس میں باتیں کرتے جارہے تھے ، ان میں سے ایک ان کا پیروکار تھا اور اس کا نام کلیپاس تھا، حضرت مسیح علیہ السلام خود زندہ ہونے کے بعد ان کے پاس آکھڑے ہوتے ہیں اور ان سے ان کی آپسی باتوں کے متعلق پوچھا تو انھوں نے اس سے کہا: یسوع ناصری کا ماجرا جو خدا اور ساری امت کے نزدیک کام اور کلام میں قدرت والا نبی تھا۔
(انجیل لوقا 13:24 -20)
کلیپاس کے پیروکار ہونے کی صراحت بائبل کی مطالعاتی اشاعت والوں نے کی ہے۔
(تفسیر بائبل بنام مطالعاتی اشاعت میں 1919)، ناشر بائبل سوسائٹی پرانی انار کلی ، لاہور
واضح ہوا کہ جناب مسیح علیہ السلام کے ساتھ واقعہ صلیب کے بعد تک بھی ان کے پیروکار انہیں ایک نبی ورسول کی حیثیت سے ہی جانتے اور مانتے تھے۔
⑨ جناب عیسی علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک فقیر پیدائشی اندھے کی بینائی لوٹائی تو بعد میں اس کو فریسی یہودیوں کے پاس لے جایا گیا ، انھوں نے پھر اس اندھے سے کہا کہ اس نے جو تیری آنکھیں کھولیں تو اس کے حق میں کیا کہتا ہے؟ اس نے کہا: وہ نبی ہے۔
(انجیل یوحنا 9 : 17)
بعد میں اس آدمی اور یہودیوں کے مابین جناب عیسی علیہ السلام کے سچے ہونے پر مناظرہ ہوا تو اس نے اپنی بینائی کو بطور دلیل پیش کرتے ہوئے کہا:
دنیا کے شروع سے کبھی سننے میں نہیں آیا کہ کسی نے جنم کے اندھے کی آنکھیں کھولی ہوں، اگر یہ شخص خدا کی طرف سے نہ ہوتا تو کچھ نہ کر سکتا ۔
(انجیل یوحنا 9 : 32-33)
واضح ہوا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے پیروکاروں اور یہودیوں کے مابین بحث مباحثہ بھی دعوی نبوت پر ہوتا تھا ، نہ کہ دعوئی اُلوہیت پر۔
⑩ اور جب وہ یروشلیم میں داخل ہوا تو سارے شہر میں ہل چل پڑ گئی اور لوگ کہنے لگے : یہ کون ہے؟ بھیٹر کے لوگوں نے کہا: یہ گلیل کے ناصرۃ کا نبی یسوع ہے۔
(انجیل متی 10:21 -11)
اس موقع پر جناب عیسی علیہ السلام کے ساتھ ان کے شاگرد بھی تھے لیکن نہ تو انھوں نے اور نہ ہی کسی شاگرد نے اس پر کوئی تنقید کی۔
⑪ تقریبا پانچ ہزار افراد کو معجزہ کے طور پر تھوڑا سا کھانا پورا ہو گیا تو وہ لوگ جناب مسیح علیہ السلام اور ان کے شاگردوں کی موجودگی میں کہنے لگے:
پس جو نبی دنیا میں آنے والا تھا، فی الحقیقت یہی ہے۔
(انجیل یوحنا 14:6 )
⑫ حضرت عیسی علیہ السلام نے جب دیکھا کہ ان کے علاقے ناصرۃ کے لوگ ان کے معجزات دیکھنے کے باوجود ان پر ایمان نہیں لائے تو فرمانے لگے :
نبی اپنے وطن اور اپنے گھر کے سوا اور کہیں بے عزت نہیں ہوتا ۔
(انجيل متى 57:13)
⑬ جناب عیسی علیہ السلام کو آ کر جب بعض فریسیوں نے ڈرایا کہ یہاں سے بھاگ جا کیونکہ ہیرودیس تمہیں قتل کرنا چاہتا ہے تو انھوں نے جواب دیا: اس لومڑی سے کہہ دو کہ دیکھ میں آج اور کل بدروحوں کو نکالتا اور شفا بخشنے کا کام انجام دیتا رہوں گا اور تیسرے دن کمال کو پہنچوں گا مگر آج اور کل اور پرسوں اپنی راہ پر چلنا ضرور ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ نبی پر یروشلیم سے باہر ہلاک ہو۔
(انجیل لوقا 13 : 31-34 )
⑭ اپنے شاگردوں کو فرمانے لگے :
جو تم کو قبول کرتا ہے وہ مجھے قبول کرتا ہے اور جو مجھے قبول کرتا ہے وہ میرے بھیجنے والے کو قبول کرتا ہے۔ جو نبی کے نام سے نبی کو قبول کرتا ہے، وہ نبی کا اجر پائے گا۔
(انجیل متی 40:10-41)
⑮ جناب عیسی علیہ السلام اپنے معجزات کے سبب معاشرے میں کافی مشہور ہو گئے یہاں تک کہ ہیرودیس بادشاہ تک ان کے چرچے پہنچ گئے۔ ان معجزوں کی وجہ سے لوگوں میں کیا چہ مگوئیاں ہوتی تھیں، ملاحظہ فرمائیں:
اور ہیرودیس بادشاہ نے اس (مسیح) کا ذکر سنا کیونکہ اس کا نام مشہور ہو گیا تھا اور اس نے کہا کہ یوحنا بپتسمہ دینے والا مردوں میں سے جی اُٹھا ہے، اس لیے اس سے معجزے ظاہر ہوتے ہیں، مگر بعض کہتے تھے کہ ایلیاہ ہے بعض یہ کہ نبیوں میں سے کسی کی مانند ایک نبی ہے مگر ہیرودیس نے سن کر کہا کہ یوحنا ( یحیی ) جس کا سر میں نے کٹوایا، وہی جی اٹھا ہے ۔
(انجیل مرقس 6: 14-16)
یہ ایک فطری بات ہے کہ کسی بھی انسان کا روحانی مرتبہ زیادہ سے زیادہ نبی تک جا سکتا ہے، اس لیے تمام لوگ جناب مسیح علیہ السلام کو نبی کی مانند یا نبی ہی خیال کرتے تھے۔ کسی ایک انسان نے بھی ان کی زندگی میں ان کو خدا نہیں سمجھا۔
⑯ ایک عورت کو حضرت عیسی علیہ السلام نے جب اس کی مخفی زندگی کا چہرہ کروایا تو کہنے لگی : مجھے معلوم ہوتا ہے کہ تو نبی ہے ۔
(انجیل یوحنا 19:4)
مسیح علیہ السلام نے اس عورت کو غلط نہیں کہا اور نہ ہی اس کی تصحیح کرتے ہوئے، اپنے آپ کو خدا بتایا۔
⑰ عید کے آخری دن عیسی علیہ السلام نے لوگوں کو تبلیغ کی تو ان کی باتیں سن کر وہاں موجود لوگوں نے ان کی حیثیت متعین کرنے میں اختلاف کیا۔ لکھا ہے: پس بھیٹر میں سے بعض نے یہ باتیں سن کر کہا: بے شک یہی وہ نبی ہے، اوروں نے کہا: یہ مسیح ہے اور بعض نے کہا: کیوں؟ کیا مسیح گلیل سے آئے گا ؟ کیا کتاب مقدس میں یہ نہیں آیا کہ مسیح داود کی نسل اور بیت لحم کے گاؤں سے آئے گا، جہاں داود تھا، پس لوگوں میں اس کے سبب اختلاف ہوا، اور ان میں سے بعض اس کو پکڑنا چاہتے تھے مگر کسی نے اس پر ہاتھ نے ڈالا۔
(انجیل یوحنا 40:7-44)
عیسی علیہ السلام اگر خدا ہوتے تو ایسے موقع پر اپنی حیثیت واضح کر کے لوگوں کا اختلاف دور کر سکتے تھے لیکن ایسا نہیں کیا معلوم ہوا ان کی حکمت بھری گفتگو سن کر لوگ انہیں نبی اور مسیح ہی خیال کرتے تھے، نہ کہ خدا۔
◈ مسیحی ردّ عمل
یہ اور اس طرح کے دیگر دلائل جب پیش کیے جاتے ہیں تو مسیحی حضرات ان کا جواب یوں دیتے ہیں:
جناب مسیح علیہ السلام کی دو حیثیتیں ہیں: ایک انسانی (ناسوت) دوسری الوہی (لاہوت)! آپ ایک کامل انسان بھی ہیں اور کامل خدا بھی ، لہذا یہ جتنے بھی دلائل ہیں، ان سب میں ان کی انسانیت کا روپ ہے یعنی بطور انسان یہ کام ان سے صادر ہو ئے ۔
جواب: ➊ اصل جواب سے پہلے یہ حوالہ فائدہ سے خالی نہیں ہو گا کہ 325 ء کی ”نقایہ کونسل“ میں ہی کلیسیا نے فیصلہ صادر کر دیا تھا کہ نجات دہندہ (مسیح) کی ذات بابرکات میں خدائی اور انسانی اوصاف کاملیت کے ساتھ موجود ہیں۔(مسلم سوالات مسیحی جوابات ص 56 از کریمپین ٹرال، طبع اول 2012 ، ناشرینی مسیفہ یا افیئرز لاہور) معلوم ہوا کہ ابتدا سے ہی مسیحی لوگ جناب عیسی علیہ السلام کی حیثیت میں مختلف، اعتقاد رکھتے تھے، اسی لیے تو ان کو سرکاری طور پر اس کا اعلان کرنا پڑا، مزید یہ کہ آج تک عیسائیوں میں ایسے فرقے چلے آتے ہیں جو ان کی صرف ایک حیثیت یعنی انسانی کے قائل ہیں، ان کو خدا تسلیم نہیں کرتے جیسا کہ یونی ٹیرین فرقہ ہے۔ اگر دو حیثیتوں والا نظریہ حقیقی ہوتا تو ابتدا سے لے کر آج تک دو ہزار سال گزرنے کے باوجود اختلافی نہ رہتا۔
➋ جناب مسیحی نے کبھی اپنی دو حیثیتوں کا دعوئی نہیں کیا یہ تو مدعی سست اور گواہ چست والا معالمہ ہے۔
بلکہ اس کے برخلاف بائبل واضح اور صاف الفاظ میں خدا تعالیٰ کا یہ قول نقل کرتی ہے:
” میری شفقت موجزن ہے، میں اپنے قہر کی شدت کے مطابق عمل نہیں کروں گا۔ میں ہرگز افراہیم کو ہلاک نہ کروں گا، کیونکہ میں انسان نہیں ، خدا ہوں ۔ “
(ہوسیع 9:11 )
مزید لکھا ہے:
”خدا انسان نہیں کہ جھوٹ بولے اور نہ وہ آدم زاد ہے کہ اپنا ارادہ بدلے ۔“
(گنتی 19:23 )
یعنی خدا کی دو حیثیتیں ہو ہی نہیں سکتیں۔
➌ مسیحی حضرات نے ان دو حیثیتوں کو تجسیم کی اصطلاح پہنائی ہوئی ہے جس کے حوالے سے عیسائی سکالر کہتے ہیں: ذات الہی کے دوسرے اقنوم ( بیٹے ) نے جسم اختیار کیا۔ آگے جا کر رقم طراز ہیں:
”اگر اس عقیدے کو عہد عتیق کے توحید پرستی کے پس منظر میں دیکھا جائے تو کفر نظر آتا ہے اور کٹر یہودی یہی نظریہ رکھتے تھے ۔ “
قاموس الکتاب از ایف ایس خیر اللہ ( مسیحی سکالر ): 234 235 ، ناثر سیمی اشاعت خانہ فیروز پور روڈ لاہور، طبع نہم، 2008ء
حضرت عیسی علیہ السلام نے یہودیوں کے سامنے جب اللہ تعالٰی اور خود کو ایک کہا تو یہودی پتھر اٹھا کر انہیں سنگسار کرنے لگے، تو عیسی علیہ السلام نے پوچھا: میں نے تم کو باپ کی طرف سے بہتیرے اچھے کام دکھائے ہیں، ان میں سے کسی کام کے سبب سے مجھے سنگسار کرتے ہو؟ یہودیوں نے اسے جواب دیا کہ اچھے کام کے سبب سے نہیں بلکہ کفر کے سبب سے تجھے سنگسار کرتے ہیں اور اس لیے کہ تو آدمی ہو کر اپنے آپ کو خدا بناتا ہے۔ یسوع نے انہیں جواب دیا کہ تمہاری شریعت میں یہ نہیں لکھا ہے کہ
” میں نے کہا تم خدا ہو؟ جبکہ اس نے انہیں خدا کہا جن کے پاس خدا کا کلام آیا۔“
( انجیل یوحنا 30:10-35)
یہ دو حیثیتیں واضح کرنے کا موقع تھا لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ وضاحت کر دی کہ اگر میں اپنے آپ کو اور خدا کو ایک کہتا ہوں تو یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے پہلے انبیاء کو اللہ تعالٰی نے خدا کہا۔ اگر سیدنا مسیح علیہ السلام کی دو حیثیتیں ہیں تو پھر پہلے انبیا بھی اس قبیل سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ کوئی مسیحی اسے تسلیم کرنے کو تیار نہیں ۔
معلوم ہوا کہ جناب عیسی علیہ السلام کے حوالے سے جو بعض ایسے ہم کلمات آئے ہیں، ان سے ہرگز ان کی الوہی حیثیت مترشح نہیں ہوتی ، یہ مسیحی حضرات کا تحکم اور سینہ زوری ہے۔
➍ اگر جناب مسیح علیہ السلام کی دو حیثیتیں تھیں تو سولی پر جس نے جان دی تھی وہ کون تھا؟ جسے مارا گیا، منہ پر تھوکا گیا، کانٹوں کا تاج پہنایا گیا وہ کون تھا؟ اگر انسان (ناسوت) تھا تو یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ ابن اللہ نے ہمارے گناہوں کے کفارے میں جان دی، پھر اس نظریے کو ترک کر دینا چاہیے۔
دریں صورت ماننا پڑے گا کہ جناب مسیح علیہ السلام پر ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب وہ محض انسان تھے، ان کی الوہی حیثیت ختم تھی۔ اور اگر کہا جائے کہ یہ ابن اللہ ( لاہوت ) تھا، خدائی حیثیت تھی تو کیا خدا اتنا کمزور ہو سکتا ہے؟ اور کیا خدا کو موت آسکتی ہے؟ آیا خدا کے منہ پر کوئی تھوک سکتا ہے؟ خدا اتنا عاجز و درماندہ ہوسکتا ہے؟
➎ ان تمام بائبلی حوالہ جات سے پیچھا چھڑانے کے لیے مسیحیوں کا سیدنا مسیح علیہ السلام کی دو حیثیتوں کو ماننا، ہر مذکورہ بات میں جاری نہیں ہوتا کیونکہ کئی ایسی باتیں ہیں جن کا تعلق (ناسوت ) جسم سے ہے ہی نہیں۔
مثلا انھوں نے اپنے دوبارہ آنے کے وقت سے لاعلمی کا اظہار کیا۔
انجیر کے درخت کو دور سے دیکھ کر پہچان نہ سکے کہ پھل ہے کہ نہیں ؟
”اور یسوع حکمت اور قد و قامت میں اور خدا اور انسان کی مقبولیت میں ترقی کرتا گیا ۔“
(انجیل لوقا 52:2 )
جسم کبھی علم اور بے علمی سے متصف ہوتا ہے؟ نیز کیا جسم بھی کبھی حکیم و دانا ہوا ہے؟
اسی طرح جناب مسیح علیہ السلام کا خوف زدہ ہونا غم زدہ ہونا، مضطرب ہونا کیا ان کا تعلق جسم سے ہے؟
➏ جناب مسیح علیہ السلام کا دو حیثیتیں تسلیم کرنا یعنی لاہوتی (الوہی) اور ناسوتی (بشری ) تقاضا کرتا ہے کہ یہ ایک ہی وقت میں خالق بھی ہوں اور مخلوق بھی ہوں، رازق بھی ہوں اور مرزوق بھی ہوں غنی بھی ہوں اور محتاج بھی ہوں کامل بھی ہوں اور ناقص بھی ہوں، ہر چیز کو جاننے والے بھی ہوں اور جاہل بھی ہوں ، قدیم بھی ہوں اور حادث بھی ہوں ۔ کیا یہ محال نہیں ؟ اور کیا کوئی عقل مند ایسی نا ممکن چیز کو تسلیم کر لے گا؟
بالفرض اگر کوئی کہہ دے کہ یہ دونوں حیثیتیں اکٹھی طاری نہیں ہوتی تھیں تو اس کا جواب یوں ہے:
جناب مسیح علیہ السلام پر جب ناسوتی (انسانی) کیفیت ہوتی تھی وہ اس وقت خدائی صفات سے خالی ہوتے تھے، یعنی کوئی وقت ایسا بھی ان پر آتا تھا جب وہ خدائی صفات سے عاری ہوتے تھے۔
کیا خدا ایسا ہوتا اور ہوسکتا ہے ؟
یہ اعتراضات ملاحظہ کرنے کے بعد عیسائیوں کی طرف سے یہ جواب آتا ہے کہ ناممکنات اشیا کا اجتماع مخلوق میں محال ہے، خدا میں نہیں ۔ تو اس کا جواب یہ ہے:
(الف) اس طرح تو پھر ہر مذ ہب والا سچا ہے خواہ اس کا تعلق ہندومت سے ہو یا یونانی بت پرستی سے کیونکہ انھوں نے اپنے دیوتاؤں کے حوالے سے جو دیو مالائی داستانیں گھڑی ہوئی ہیں وہ بھی درست قرار پاتی ہیں، نیز مسیحیوں کی طرح تثلیث ہی کیا پھر تو ہزاروں خداؤں کا تصور بھی صحیح ہوا۔
کوئی مسیحی اس کو اپنے ہی اصولوں کے مطابق تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے؟ ہرگز ایسا کوئی نہیں ملے گا ۔
جس سے معلوم ہوا کہ ان کی طرف سے آنے والا درج بالا جواب حقیقت کے خلاف ہے۔
(ب) اللہ تعالیٰ کی قدرت گو کہ غیر محدود اور مطلق ہے لیکن اس کا تعلق عقلی لحاظ سے ممکن اشیا سے ہے، نہ کہ غیر ممکن سے مثلاً: انہی مسیحی لوگوں سے ہم پوچھتے ہیں کہ آیا اللہ تعالی اپنے جیسا کوئی دوسرا خدا پیدا کر سکتا ہے؟ اگر وہ کہیں جی ہاں تو ہم پوچھیں گے یہ تو مخلوق ہو گا ، وہ اللہ کے برابر اور اس جیسا کیسے ہو گیا؟
اگر وہ مخلوق ہے تو الہ نہیں اگر الہ ہے تو مخلوق نہیں۔
کیا یہاں بھی درج بالا اصول لاگو ہو سکتا ہے؟
(ج) ایک اور انداز سے کیا اللہ تعالٰی اپنی مخلوق میں سے کسی کو اپنی خدائی اور اختیارات سے باہر کر سکتا ہے؟
اگر جواب ہاں میں ہے تو مطلب ہوا کہ اللہ تعالی کی بادشاہی اختیارات اور طاقت ایک خاص حد اور علاقے تک ہے۔ اور اگر جواب نفی میں ہے تو معلوم ہوا کہ قدرت الہی کا تعلق عقلی لحاظ سے محال اور ناممکن چیزوں سے نہیں۔
(د) ملحدین اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ اللہ تعالی ایسا پتھر بنا سکتا ہے جس کو وہ خود بھی نہ اٹھا سکے؟
مسیحی کیا جواب دیں گے؟ اگر جواب ہاں میں دیا جائے تو اللہ تعالٰی کی کمزوری ثابت ہوتی ہے اور اگر نفی میں جواب ہو تو اللہ تعالی کی قدرت میں نقص لازم آتا ہے۔
لا محالہ یہی کہا جائے گا کہ اللہ تعالی کی قدرت و طاقت لا انتہا ہے۔ یہ چیز اس میں نقص ثابت کرتی ہے، اس لیے اس کی شان کے لائق ہی نہیں لہذا وہ کسی چیز سے عاجز نہیں آسکتا، اور اس کا عاجز نہ آنا اس کی کمال قدرت و طاقت پر دلالت کرتا ہے۔
اس طرح اللہ تعالٰی نہ تو بھولتا ہے اور نہ ہی کوئی چیز اس سے چھپ سکتی ہے۔
مسیحی لوگوں کے بقول یہ محال اشیا اللہ تعالی میں پائی جانی چاہئیں۔ نعوذ باللہ من ذلک!
خلاصہ:
انا جیل نے جناب مسیح علیہ السلام میں بشری کمزوری واضح کی ہے جو اللہ تعالی کی شان کے لائق ہرگز نہیں، لہذا ان کمزوریوں کے با وصف حضرت مسیح علیہ السلام خدا نہیں ہو سکتے۔
بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات ذاتی ہیں، ان میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔
چنانچہ لکھا ہے: ”کیوں کہ میں خداوند لا تبدیل ہوں ۔“
(ملاکی 6:3 )
یعقوب کے خط میں ہے: ”اے میرے پیارے بھائیو! فریب نہ کھانا، ہر اچھی بخشش اور ہر کامل انعام اوپر سے ہے اور نوروں کے باپ کی طرف سے ملتا ہے جس میں نہ کوئی تبدیلی ہو سکتی ہے اور نہ گردش کے سبب سے اس پر سایہ پڑتا ہے۔ “
(یعقوب کا خط 1 : 16-17 )
ایک افسردہ دل خدا تعالیٰ کو مخاطب ہو کر کہتا ہے :
”تو ان کو لباس کی مانند بدلے گا اور وہ بدل جائیں گے، پر تو لا تبدیل ہے۔ “
(زبور 27:102)