اللہ کہاں ہے؟
اہل سنت والجماعت کا اجماعی و اتفاقی عقیدہ ہے کہ اللہ اپنے عرش پر بلند ہے۔ اس پر قرآن، حدیث، اجماع اور فطرت دال ہیں۔
علامہ ابن ابی العز رحمتہ اللہ (792ھ) لکھتے ہیں:
’’اگر آپ احادیث رسول اور کلام سلف کو سنتے ہیں، تو اس میں اللہ تعالٰی کے (عرش پر) بلند ہونے کے بے شمار ثبوت ملیں گے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اللہ نے جب مخلوق پیدا کی تھی ، تو اسے اپنی ذات کے اندر پیدا نہیں کیا تھا، اللہ اس سے منزہ ومبرا ہے، کیونکہ وہ اکیلا و بے نیاز ہے۔ نہ اس نے کسی کو جنا ہے اور نہ وہ جنا گیا ہے، لہذا یہ بات طے ہے کہ اللہ نے مخلوق کو اپنی ذات سے خارج پیدا کیا ہے، اللہ قائم بالذات اور کائنات سے جدا ہے۔ اس صفت کے ساتھ اگر اللہ تعالیٰ اپنی ذات کی بلندی سے موصوف نہ ہو، تو معاملہ بالکل اس کے برعکس ہوگا (یعنی لازم آئے گا کہ وہ مخلوق سے جدا نہیں ہے)۔
اللہ تعالیٰ کی ذات کے اپنی مخلوق سے بلند اور اوپر ہونے کے تقریباً ہمیں قسم کے مختلف و محکم دلائل ہیں:
قرآن میں اللہ تعالٰی کے بلند ہونے کا بیان ہے اور اس کے لیے کلمہ بھی وہ استعمال کیا گیا ہے، جو بلندی پر دلالت کرتا ہے، جیسے من (جانب) ہے، فرمایا:
(يخافون ربهم من فوقهم) (النحل: 50)
’’وہ اپنے اوپر والے رب سے ڈرتے ہیں۔‘‘
ایسے کلمہ کے بغیر اللہ تعالیٰ کے بلند ہونے کا ذکر، جیسے فرمانِ الہی ہے:
(وهو القاهر فوق عبادة) (الأنعام: 18 ،61)
’’اور وہ اپنے بندوں کے اوپر حاکم ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ کی طرف (فرشتوں کے) چڑھنے کی صراحت فرمانِ الہی ہے:
(تعرج الملائكة والروح إليه) (المعارج: 4)
’’فرشتے اور روح الامین (جبریل) اس کی طرف چڑھتے ہیں۔‘‘
نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(يعرج الذين باتوا فيكم، فيسألهم…)
’’وہ فرشتے (آسمان کی طرف) چڑھتے ہیں، جنھوں نے تمھارے اندر رات گزاری ہوتی ہے، پھر اللہ ان سے پوچھتا ہے.‘‘
(صحيح البخاري: 7429، صحیح مسلم: 623)
اس کی طرف (اعمال کے) چڑھنے کی صراحت ، فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
(اليه يصعد الكلم الطيب) (فاطر: 10)
’’اسی کی طرف اچھے کلمات چڑھتے ہیں۔‘‘
اپنی کسی مخلوق کو اپنی طرف اٹھانے کی صراحت، اللہ تعالی کا فرمان ہے:
(بل رفعه الله إليه) (النساء: 158)
’’بلکہ انھیں (عیسی علیہ السلام کو) اللہ تعالٰی نے اپنی طرف اٹھا لیا۔‘‘
نيز فرمايا: (إنى متوفيك و رافعك إلى) (آل عمران: 55)
’’بیشک میں آپ کو پورا پورا لینے والا اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔‘‘
مطلق طور پر بلندی کا تذکرہ، جو ذات قدر، شرف وغیرہ تمام مراتب بلندی پر دلالت کرتی ہے، فرمایا:
(وهو العلي العظيم) (البقرة:255)
’’وہ بلند اور عظیم ہے۔‘‘
(وهو العلي الكبير) (سبا: 23)
’’وہ بلند اور بڑا ہے۔‘‘
(إنه علی حكيم) (الشورى: 51)
’’وہ بلند اور حکمت والا ہے۔‘‘
اس کی طرف سے کتاب (اوپر سے) نازل ہونے کی صراحت، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
(تنزيل الكتب من الله العزيز العليم) (غافر: 2)
’’کتاب کا نازل کیا جانا اللہ عزیز و علیم کی طرف سے ہے۔‘‘
(تنزيل الكتب من الله العزيز الحكيم) (الزمر: 1)
’’کتاب کا نازل کیا جانا اللہ عزیز وحکیم کی طرف سے ہے۔‘‘
(تنزيل من الرحمن الرحيم) (فصلت: 2)
’’کتاب کا نزول رحمن ورحیم ذات کی طرف سے ہے‘‘
(تنزيل من حكيم حمید)(فصلت: 42)
’’کتاب کا نزول حکیم وحمید ذات کی طرف سے ہے۔‘‘
(قل نزله روح القدس من ربك بالحق) (النحل: 102)
’’کہہ دیجیے کہیہ روح القدس نے آپ کے رب کی طرف سے حق کے ساتھ نازل کی ہے۔‘‘
(حم والكتب المبين إنا أنزلنه في ليلة مبركة إنا كنا منذرين فيها يفرق كل أمر حكيه أمرا من عندنا إنا كنا مرسلين) (الدخان: 1-5)
’’حم، کتاب مبین کی قسم ! ہم نے اسے مبارک رات میں نازل کیا، بے شک ہم ڈرانے والے ہیں۔ اس رات میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے. یہ ہماری طرف سے حکم ہے، بے شک ہم بھیجنے والے ہیں۔‘‘
یہ صراحت کہ وہ بعض مخلوقات کو اپنے قرب سے خاص کرتا ہے اور یہ صراحت کہ بعض مخلوقات دوسری مخلوقات کی نسبت اس کے زیادہ قریب ہیں، فرمایا:
(إن الذين عند ربك لا يستكبرون عن عبادته) (الاعراف: 208)
’’بلاشبہ وہ مخلوق، جو تیرے رب کے ہاں ہیں، عبادت الہی سے تکبر نہیں کرتی‘‘
(وله من في السبوت والأرض ومن عنده لا يستكبرون عن عبادته) (الأنبياء: 19)
’’آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے، سب اسی کا ہے اور جو مخلوق اللہ کے پاس ہے، وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتی ۔‘‘
اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کتاب کے بارے فرمایا، جو اللہ نے اپنے لیے لکھی ہے: إنه عنده فوق العرش
’’وہ عرش کے اوپر اس (اللہ تعالیٰ) کے پاس ہے۔‘‘
(صحيح البخاري: 7553، صحیح مسلم: 2751)
اس بات کی تصریح کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں میں ہے، اہل سنت مفسرین کے ہاں اس کی دو تفسیریں ہیں، اس سلسلہ میں ان کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ پہلی تفسیر یہ کہ کلمہ في (میں) علی (اوپر) کے معنی میں ہے (یعنی اللہ تعالیٰ آسمانوں کے اوپر عرش پر ہے) دوسری تفسیر یہ ہے کہ کلمہ السماء (آسمان) العلو (بلندی) کے معنی میں ہے (یعنی اللہ تعالی بلندی میں ہے) اسے کسی اور معنی پر محمول کرنا جائز نہیں۔
کلمہ علی (اوپر) کے ساتھ ملا کر خاص عرش پر مستوی ہونے کی تصریح، جو کہ سب مخلوقات سے بلند مخلوق ہے۔
اللہ کی طرف (اوپر کو) ہاتھ اٹھانے کی تصریح ، فرمانِ نبوی ہے:
إن الله يستحيي من عبده إذا رفع إليه يديه أن يردهما صفرا.
’’جب بندہ اللہ کی طرف اپنے دونوں ہاتھ اٹھا لیتا ہے، تو اللہ کو حیا آتی ہے کہ اس کے ہاتھ خالی لوٹا دے۔‘‘
(مسند البزار: 2510، المعجم الكبير للطبراني: 8130، المستدرك للحاكم: 535/1 ، صحيح، وصححه ابن حبان (88)، والحاكم ووافقه الذهبي)
تصریح کہ ہر رات اللہ آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتے ہیں۔ تمام لوگوں کے نزدیک یہ بات مسلّم ہے کہ نزول اوپر سے نیچے کی طرف ہوتا ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ کی طرف اشارہ فرمانا، جو اپنے رب کی ذات وصفات کو سب انسانوں سے بڑھ کر جانتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے بڑے اجتماع ’’حجۃ الوداع‘‘ کے موقع پر اور بڑے دن (حجتہ الوداع والے دن) اور عظیم جگہ (میدانِ عرفات) میں صحابہ کرام رضی الله عنه سے فرمایا:
«أنتم مسئولون عني ، فماذا أنتم قائلون؟»
’’تمھیں میرے متعلق پوچھا جائے گا، تو تمھارا کیا جواب ہو گا ؟‘‘
صحابہ نے جواب دیا: نشهد أنك قد بلغت وأديت ونصحت
’’ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے دین کی تبلیغ کر دی ہے، اسے پہنچا دیا ہے اور خیر خواہی کر دی ہے۔‘‘
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی مبارک آسمان کی طرف اٹھائی اور فرمایا، اے اللہ ! گواہ ہو جا!‘‘
(صحیح مسلم: 1218)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، جو سب سے بڑھ کر اللہ کو جانتے تھے، اپنی امت کے لیے سب سے بڑھ کر خیر خواہ تھے اور صحیح معنی بیان کرنے میں سب سے زیادہ فصیح تھے، ان کا کئی مرتبہ یہ سوال کرنا کہ أين الله؟ (اللہ کہاں ہے؟)
آپ صلى الله عليه وسلم کا اللہ کو آسمانوں کے اوپر ماننے والے کے حق میں یہ گواہی دینا کہ وہ مومن ہے۔
(صحیح مسلم: 537)
قرآن میں ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو بتایا کہ اللہ آسمانوں کے اوپر ہے، تو فرعون نے آسمان کی طرف چڑھنے کا ارادہ کیا تھا تا کہ وہ موسیٰ علیہ السلام کے الٰہ پر جھانکے، پھر ان کو جھوٹا ثابت کرے کہ وہاں کچھ نہیں ہے (معاذ اللہ)
چنانچہ اس نے کہا تھا:
(يها من ابن لي صرحا لعلى أبلغ الأسباب اسباب السموت فاطلع الی الہ موسیٰ وإني لأظنه كاذبا) (المؤمن: 38)
’’ہامان ! میرے لیے ایک بلند عمارت بنا، تا کہ میں آسمان کے راستوں تک پہنچ جاؤں، پھر میں موسیٰ کے الہٰ کی طرف جھانکوں اور بے شک میں تو اسے جھوٹا خیال کرتا ہوں۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم معراج والی رات بار بار موسیٰ علیہ السلام اور اللہ کے پاس جاتے رہے، اوپر اللہ تعالیٰ کی طرف جاتے ، پھر نیچے موسیٰ علیہ السلام کی طرف آتے۔
(صحيح البخاري: 3207 ، صحیح مسلم: 162)
کتاب وسنت میں جنتی لوگوں کے لیے اللہ کے دیدار کا ثبوت موجود ہے۔ فرمانِ نبوی ہے کہ جنتی اللہ تعالیٰ کو اس طرح دیکھیں گے، جیسے سورج اور چودہویں رات کے چاند کو دیکھتے ہیں، جبکہ اس کے آگے کوئی بادل نہ ہو، واضح بات ہے کہ وہ اوپر کو ہی دیکھیں گے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بينا أهل الجنة في نعيمهم، إذ سطع لهم نور ، فرفعوا رؤوسهم، فإذا الجبار جل جلاله قد أشرف عليهم من فوقهم، وقال: يا أهل الجنة سلام عليكم، ثم قرأ قوله تعالى: سلم قولا من رب رحيم (يس: 68)، ثم يتوارى عنهم وتبقى رحمته وبركته عليهم في ديارهم».
’’جنتی اپنی نعمتوں میں ہوں گے کہ اچانک ان کے لیے ایک نور چمکے گا، اپنے سر اٹھائیں گے، اللہ جل جلالہ ان کے اوپر سے ان پر جھانک رہا ہوگا اور فرمائے گا: اہل جنت! آپ پر سلامتی ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
(سلم قولا من رب رحيم) (یس: 58)
’’انھیں نہایت مہربان رب کی طرف سے سلام کہا جائے گا۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ ان سے چھپ جائے گا، لیکن اس کی رحمت و برکت ان کے گھروں میں باقی رہے گی۔
(سنن ابن ماجه ،184 مسند البزار ،2253 ، وسنده ،ضعیف، فيه الفضل بن عيسى الرقاشي، وهو منكر الحديث كما في التقريب: 5413، ولم نجده في مسند الإمام أحمد)
اللہ تعالٰی کی صفت فوقیت (اوپر ہونا) کا انکار تب ہی ہو سکتا ہے، جب جنت میں رویت باری تعالیٰ کا انکار کیا جائے۔ اسی لیے جہمیہ نے ان دونوں صفات کا انکار کیا ہے، جبکہ اہل سنت نے دونوں کا اقرار اور دونوں کی تصدیق کی ہے۔ جس نے رویت کی نفی اور علو کا انکار کیا ہے، وہ مذبذب ہو گیا ہے، نہ ادھر کا رہا، نہ ادھر کا۔
(باری تعالیٰ کے سب مخلوقات سے بلند ہونے کے) دلائل کی (بیس) اقسام ہیں۔ اگر ان کو پھیلایا جائے، تو یہ تقریباً ہزار دلیل بن جائے گی اور تاویل کرنے والے کو ہر ایک کا جواب دینا ہوگا، لیکن ان میں سے کچھ کا بھی جواب دینا اس کے بس کی بات نہیں ۔
(شرح العقيدة الطحاوية، ص 284-288)
حافظ ذہبی رحمتہ اللہ (748ھ) لکھتے ہیں:
قلت: مقاله السلف وأيمة السنة، بل والصحابة والله ورسوله والمؤمنين: إن الله عزوجل في السماء، وإن الله على العرش، وإن الله فوق سماواته، وإنه ينزل إلى السماء الدنيا، وحجتهم على ذلك النصوص والآثار، ومقالة الجهمية: إن الله تبارك في جميع الأمكنة، تعالى الله عن قولهم، بل هو معنا أينما كنا بعلمه، ومقاله متأخري المتكلمين: إن الله تعالى ليس في السماء ولا على العرش ولا في الأرض ، ولا داخل العالم، ولا خارج العالم، ولا هو بائن عن خلقه، ولا متصل بهم، وقالوا: جميع هذه الأشياء صفات الأجسام، والله تعالى منزه عن الجسم، قال لهم أهل السنة والأثر نحن لا نخوض في ذلك، ونقول ما ذكرناه اتباعا للنصوص …. فإن هذه السلوب نعوت المعدوم، تعالى الله جل جلاله عن العدم بل هو موجود متميز عن خلقه موصوف بما وصف به نفسه من أنه فوق العرش بلا كيف.
’’میں کہتا ہوں کہ سلف صالحین اور ائمہ سنت، بلکہ صحابہ کرام رضی الله عنه اللہ تعالی اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مؤمنوں کا کہنا ہے کہ اللہ بلندی میں اپنے عرش پر اور آسمانوں کے اوپر ہے، وہ آسمان دنیا کی طرف نزول بھی فرماتا ہے، ان کی اس بارے میں دلیل (قرآنی) نصوص اور (حدیثی) آثار ہیں۔ جہمیہ کا کہنا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہر جگہ ہے، ان کے اس قول سے اللہ بہت بلند ہے، دراصل ہم جہاں بھی ہوتے ہیں، وہ ہمارے ساتھ اپنے علم کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ متاخرین متکلمین نے کہا ہے کہ اللہ تعالٰی نہ آسمان کے اوپر ہے، نہ عرش پر، نہ زمین میں، نہ کائنات میں داخل نہ کائنات سے خارج، نہ اپنی مخلوق سے جدا اور نہ مخلوق سے متصل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تمام صفات ایک جسم کی ہیں اور اللہ تعالیٰ جسم سے منزہ ہے۔ اہل سنت والاثر (والجماعت) نے ان سے کہا ہے کہ ہم اس بارے میں زیادہ گہرائی میں نہیں جاتے اور جو ہم بیان کر چکے ہیں، نصوص کی اتباع میں ہمارا وہی قول ہے . یہ تو کوئی وجود نہ رکھنے والی چیز کا انداز ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ عدم سے بہت بلند ہے۔ وہ تو موجود اور اپنی مخلوق سے ممتاز ہے۔ ان تمام صفات سے موصوف ہے، جن سے اس نے خود کو موصوف کیا ہے، یعنی وہ بلا کیف عرش کے اوپر ہے۔‘‘
(مختصر العلو، ص 146-147)