ساتویں صدی کے ائمہ اہل سنت
علامہ قرطبی رحمتہ اللہ (871 ھ) فرماتے ہیں:
لم ينكر أحد من السلف الصالح أنه استوى على عرشه، وإنما جهلوا كيفية الاستواء.
’’سلف صالحین میں سے کسی ایک نے بھی عرش پر مستوی ہونے کا انکار نہیں کیا، البتہ انھوں نے استوا کی کیفیت کو مجہول قرار دیا ہے۔‘‘
(تفسير القرطبي: 219/7)
شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمتہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
كل من قال: إن الله بذاته في كل مكان فهو مخالف للكتاب والسنة وإجماع هذه الأمة وأيمتها، مع مخالفته لما فطر الله عليه عباده، ولصريح المعقول، وللأدلة الكثيرة، وهؤلاء يقولون أقوالا متناقضة.
’’جو کہے کہ اللہ اپنی ذات کے اعتبار سے ہر جگہ ہے، وہ قرآن وسنت اور امت مسلمہ کے علما اور ائمہ دین کے اجماع کا مخالف ہے۔ ساتھ ساتھ وہ فطرت کی بھی مخالفت کرتا ہے کہ جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو پیدا کیا ہے۔ ایسا شخص صریح عقلی دلائل اور دیگر بہت سے دلائل کی بھی مخالفت کرتا ہے۔ ایسے لوگ متناقض باتیں کرتے ہیں۔‘‘
(مجموع الفتاوی: 230/5)
نیز فرماتے ہیں:
الحلول العام، وهو القول الذي ذكره أئمة أهل السنة والحديث عن طائفة من الجهمية المتقدمين، وهو قول غالب متعبدة الجهمية الذين يقولون: إن الله بذاته في كل مكان.
’’عام حلول (اللہ تعالیٰ کے ہر جگہ ہونے کا عقیدہ) وہ نظریہ ہے، جسے ائمہ اہل سنت والحدیث نے متقدمین جہمیہ کے ایک گروہ سے نقل کیا ہے۔ یہی عقیدہ ان جہمی صوفیہ کا ہے، جو کہتے ہیں کہ اللہ ہر جگہ ہے۔‘‘
(مجموع الفتاوی: 172/2)
جہمیہ کے جواب میں لکھتے ہیں:
إن الذين نقلوا إجماع السلف أو إجماع أهل السنة أو إجماع الصحابة والتابعين على أن الله فوق العرش بائن من خلقه لا يحصيهم إلا الله، وما زال علماء السلف يثبتون المباينة ويردون قول الجهمية بنفيها.
’’ان کی تعداد اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، جنھوں نے سلف یا اہل سنت یا صحابہ و تابعین کا اجماع نقل کیا ہے کہ اللہ عرش کے اوپر ہے، اپنی مخلوق سے جدا ہے۔ ہمیشہ سے علمائے سلف (خالق و مخلوق کے درمیان) جدائی کا اثبات کرتے رہے ہیں اور اس کی نفی پر مبنی جہمیوں کے قول کا رد کرتے رہے ہیں۔‘‘
(نقض تاسيس الجهمية: 531/2)
مزید لکھتے ہیں:
كذلك الجهمية على ثلاث درجات فشرها الغالية الذين ينفون أسماء الله وصفاته، وإن سموه بشيء من أسمائه الحسنى قالوا: هو مجان، فهو في الحقيقة عندهم ليس بحي ولا عالم ولا قادر ولا سميع ولا بصير ولا متكلم ولا يتكلم والدرجة الثانية من التجهم هو تجهم المعتزلة ونحوهم الذين يقرون بأسماء الله الحسنى في الجملة، لكن ينفون صفاته، وهم أيضا لا يقرون بأسماء الله الحسنى كلها على الحقيقة، بل يجعلون كثيرا منها على المجاز، وهؤلاء هم الجهمية المشهورون، وأما الدرجة الثالثة: فهم الصفاتية المثبتون المخالفون للجهمية، لكن فيهم نوع من التجهم، كالذين يقرون بأسماء الله وصفاته في الجملة، لكن يردون طائفة من أسمائه وصفاته الخبرية ، أو غير الخبرية ، ويتأولونها كما تأول الأولون صفاته كلها.
’’اسی طرح جہمیہ کے بھی تین درجات ہیں۔ ان میں سب سے شریر غالی حہمی ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے اسما و صفات کی نفی کرتے ہیں۔ اگر وہ کبھی اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے کوئی نام لیں بھی، تو اسے مجاز کہتے ہیں۔ در حقیقت ان کے نزدیک اللہ تعالٰی نہ زندہ ہے، نہ عالم ہے، نہ قادر ہے، نہ سمیع ہے، نہ بصیر ہے، نہ متکلم ہے، نہ کلام کرتا ۔ جہمیوں کا دوسرا درجہ وہ ہے، جو معتزلہ کے زیر اثر ہے۔ اس میں وہ لوگ شامل ہیں، جو فی الجملہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کا تو اقرار کرتے ہیں، لیکن صفات باری تعالٰی کے انکاری ہیں۔ پھر وہ اللہ تعالٰی کے تمام اسمائے حسنیٰ کو مبنی بر حقیقت بھی نہیں سمجھتے ، بلکہ ان میں اکثر کو مجاز پر محمول کرتے ہیں (یعنی ان کی تاویلات کرتے ہیں) یہی وہ لوگ ہیں، جو مشہور جہمی ہیں۔ تیسرے درجے میں وہ لوگ آتے ہیں، جو صفات باری تعالیٰ کا اثبات کرنے کے حوالے سے تو جہمیوں کے مخالف ہیں، لیکن ایک طرح سے وہ بھی جہمی ہیں کہ وہ اللہ کے اسما و صفات کا فی الجملہ اقرار تو کرتے ہیں، لیکن اس کے کئی اسما اور کئی خبری و غیر خبری صفات کو رد کرتے ہوئے ان میں وہی تاویلات کرتے ہیں، جو پہلے درجے والے جہمیوں نے تمام صفات میں کی تھیں ۔‘‘
(الفتاوی الکبری: 389/8)
مزید فرماتے ہیں:
أما القسم الرابع: فهم سلف الأمة وأيمتها: أئمة العلم والدين من شيوخ العلم والعبادة فإنهم أثبتوا وآمنوا بجميع ما جاء به الكتاب والسنة كله من غير تحريف للكلم أثبتوا أن الله تعالى فوق سمواته وأنه على عرشه بائن من خلقه وهم منه بائنون وهو أيضا مع العباد عموما بعلمه ومع أنبيائه وأوليائه بالنصر والتابيد والكفاية وهو أيضا قريب مجيب؛ ففي آية النجوى دلالة على أنه عالم بهم، وكان النبي صلى الله عليه وسلم يقول: اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل، فهو سبحانه مع المسافر في سفره ومع أهله في وطنه ولا يلزم من هذا أن تكون ذاته مختلطة بذواتهم كما قال: (محمد رسول الله والذين معة أي معه على الإيمان.
(ذات باری تعالیٰ کے بارے میں) چوتھی قسم کے لوگ امت مسلمہ کے اسلاف اور ائمہ دین وعلم ہیں۔ وہ کتاب وسنت میں جو کچھ بھی آیا ہے، اس پر بغیر کسی تحریف کے ایمان لائے ہیں اور اس کا اثبات کیا ہے۔ انھوں نے اس بات کا اثبات کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کے اوپر ہے اور وہ اپنے عرش پر مستوی اپنی مخلوق سے جدا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ عام لوگوں کے ساتھ اپنے علم کے اعتبار سے اور اپنے انبیا و اولیا کے ساتھ مدد، نصرت اور کفایت کے اعتبار سے بھی ہوتا ہے۔ وہ قریب اور مجیب بھی ہے۔ سورت مجادلہ کی آیت نمبر 7 میں یہ بات موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کا پورا پورا علم رکھتا ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دُعا پڑھا کرتے تھے:
(اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل)
’’اے اللہ ! تو سفر میں ساتھی اور گھر میں نائب ہے۔‘‘
(صحیح مسلم: 1362)
اللہ تعالیٰ سفر میں مسافر کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور اس کے وطن میں اس کے گھر والوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کی ذاتوں کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ اس کی دلیل یہ فرمانِ باری تعالی ہے:
محمد رسول الله، والذين معة .
’’محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں .‘‘
یہاں مراد یہ ہے کہ وہ لوگ جو ایمان کے اعتبار سے آپ کے ساتھ ہیں۔
(مجموع الفتاوی: 2315)
فرماتے ہیں:
القول بأن الله تعالى فوق العالم معلوم بالاضطرار من الكتاب والسنة وإجماع سلف الأمة بعد تدبر ذلك، كالعلم بالأكل والشرب في الجنة، والعلم بإرسال الرسل وإنزال الكتب، والعلم بأن الله بكل شيء عليم، وعلى كل شيء قدير، والعلم بأنه خلق السموات والأرض وما بينهما، بل نصوص العلو قد قيل: إنها تبلغ منين من المواضع، والأحاديث عن النبي صلى الله عليه وسلم والصحابة والتابعين متواترة موافقة لذلك.
’’اللہ کو کائنات سے بلند تسلیم کرنا کتاب وسنت اور غور وفکر کے بعد کیے گئے اجماع امت کے ساتھ ضروری طور پر معلوم ہے، جیسا کہ جنت میں کھانا پینا معلوم ہے اور جس طرح رسولوں کی بعثت، کتابوں کا نزول، اللہ کا ہر چیز کو جاننا اور ہر چیز پر قادر ہونا اور اس کے زمین و آسمان اور ان کے مابین تمام چیزوں کے خالق ہونے کا علم ہونا ضروری طور پر معلوم ہے، بلکہ کہا جاتا ہے کہ اللہ کے بلند ہونے کے متعلق دوسو سے زائد آیات ہیں۔ اس کے موافق احادیث اور آثار صحابہ وتابعین متواتر ہیں ۔‘‘
(در تعارض العقل والنقل: 26/7)
نیز فرماتے ہیں:
قد دخل فيما ذكرناه من الإيمان بالله الإيمان بما أخبر الله به في كتابه وتواتر عن رسوله صلى الله عليه وسلم وأجمع عليه سلف الأمة من أنه سبحانه فوق سمواته على عرشه علي على خلقه وهو سبحانه معهم أينما كانوا يعلم ما هم عاملون كما جمع بين ذلك في قوله: (هو الذي خلق السموت والأرض في ستة أيام ثم استوى على العرش يعلم ما يلج في الأرض وما يخرج منها وما ينزل من السماء وما يعرج فيها وهو معكم أين ما كنتم والله بما تعملون بصير) وليس معنى قوله: وهو معلم ، أنه مختلط بالخلق فإن هذا لا توجبه اللغة وهو خلاف ما أجمع عليه سلف الأمة وخلاف ما فطر الله عليه الخلق.
’’ہم نے اللہ پر ایمان کی بابت جو بات ذکر کی ہے، اس میں وہ بات بھی شامل ہے، جس کی خبر خود اللہ نے اپنی کتاب میں دی ہے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر ثابت ہے، امت کے اسلاف نے اس پر اتفاق بھی کیا ہے۔ وہ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر مستوی ہے اور اپنی مخلوق سے بلند ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہر جگہ اپنی مخلوق کے ساتھ بھی ہوتا ہے، اس طرح کہ وہ ان کے اعمال کو جانتا ہے۔ ان دونوں باتوں (استوی علی العرش اور مخلوق کے بارے میں علم) کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان میں جمع بھی کیا ہے:
هو الذي خلق السموت والأرض في ستة أيام ثم استوى على العرش يعلم ما يلج في الأرض وما يخرج منها و ما ينزل من السماء وما يعرج فيها وهو معكم أين ما كنتم والله بما تعملون بصير.
’’اللہ ہی وہ ، ذات ہے، جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر مستوی ہوا۔ وہ زمین میں داخل ہونے والی اور نکلنے والی اور آسمانوں سے اترنے والی اور ان میں چڑھنے والی ہر چیز کو جانتا ہے۔ تم جہاں بھی ہوتے ہو، وہ تمھارے ساتھ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے مخلوق کے ساتھ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مخلوق کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ اس معنی کا تقاضا لغت نہیں کرتی ، نیز یہ معنی اسلاف امت کے اجماع اور اس فطرت کے بھی خلاف ہے، جس پر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا ہے۔‘‘
(مجموع الفتاوىٰ: 177/3)
بیان تلبیس الجہمیہ میں اس کی صراحت کچھ یوں کی ہے:
القول بأن الله فوق العرش، هو مما اتفقت عليه الأنبياء كلهم، وذكر في كل كتاب أنزل على كل نبي أرسل، وقد اتفق على ذلك سلف الأمة وأئمتها.
’’اللہ تعالیٰ کے عرش پر ہونے کا عقیدہ ایسا نظریہ ہے، جس پر تمام انبیا متفق تھے اور ہر مرسل نبی پر جو کتاب نازل ہوئی، اس میں یہ نظریہ موجود تھا۔ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسلاف اور ائمہ بھی اس پر متفق ہیں۔‘‘
(بیان تلبيس الجهمية المعروف به نقض التأسيس: 9/2)